فرد قائم ربط ملت سے ہے !!

فرد قائم ربط ملت سے ہے!!! 

فرد قائم ربط ملت سے ہے


     
   لوک سبھا الیکشن کا بگل بچ چکا ہے بر سر اقتدار پارٹی نے جہاں ایک بار پھر سے حکومت بنانے کے لئے جی جان ایک کردیا ہے؛ وہیں اپوزیشن پارٹیاں بھی اس بار کوئی موقع ہاتھ سے گنوانا نہیں چاہتی ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ ایک دوسرے کے مخالفت میں وجود آنے والی پارٹیوں نے بھی اقتدار میں واپسی کے لئے اپنے آپسی انتشار کو بھلاکر بھاجپا بھگاؤنعرہ کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر آگئی ہیں؛ ووٹروں نے بھی اپنی پارٹیوں اپنے رہبروں کے لئے کام کرنے ووٹ کر نےاور اپنی قوم کا جھنڈا گاڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے؛ مگر سوچئے الیکشن کے اس ماحول میں ہم آپ کس مقام اور کس پوزیشن میں ہیں؛ ستر سالوں تک ہم ووٹ بینک کے طور پر استعمال ہوئے ؛ہر الیکشن میں سیکولر وادی پارٹیوں کا نعرہ اور جھنڈا لگایا مگر بابری سے لے کردادری تک بھاگلپورمیرٹھ ملیانہ ہاشم پورہ مظفر نگر سے لیکر الور تک خون میں سنی ہماری لاشیں ان سیکولر وادی سرکاروں نے ہمیں آپ کو تحفہ میں دیا!!! 

دوستوں!!! 

شکوہ ان سے نہیں ہے! 
گلہ اس بات کا نہیں کہ انہوں نے ہم سے انصاف نہیں کیا!! 
شکایت آپ سے ہے آپ نے کبھی اس پر دھیان دیا ایسا کیوں ہوا کبھی یہ سوچنے کی کوشش کی کہ ہندوستان کی سب سے پچھڑی قوم دلت راتوں رات دنیا کی سب سے معزز اور مشرف قوم سے آگے کیسے نکل گئی!! کبھی اس پر بھی توجہ دیا کہ آپ نے اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے وجود کو بچانے کے لئے کیا کیا!!! 

اگر اب تک نہیں سوچے ہو تو اب سوچنا سر جوڑ کے بیٹھنا اور اس پر دھیان دینا کہ آٹھ سو سال تک حکومت کرنے والی قوم کے ہاتھوں میں راتوں رات ان سیکولرزم کی دعویدار سرکاروں نے کٹورا کیسے تھما دیا!تنہائی میں اس سوال کا جواب ہر ایک تلاش کرے تو اس کا جواب ہر ایک کے سامنے یہی آئے گا کہ:
ان ستر سالوں میں ہم نے کچھ کیا یا نہیں ؛لیکن ایک کام بڑی محنت اور جفاکشی کے ساتھ کیا ہے؛ زندگی کے سارے میدان میں ہم کیوں نہ پیچھے رہ گئے ہوں ؛مگرتعلیمی سیاسی سماجی اور معاشرتی معاشی میدان میں قدم رکھنے والے اپنے ہی ایمانی بھائیوں کی ٹانگ جم کر کھینچنے کوشش کی ہے؛ اپنے ہی محسنوں کو دلال غدار سوداگر اور اس پر بھی جب پیٹ نہیں بھرا تو ہم نے شیطان اور ابلیس کے بھی صف میں کھڑا کردیا؛ اتنے پر بھی دلی جلن کی آگ نہیں بجھی تو اس صرف اس بنیاد پرکہ ہمارا نظریہ سامنے والے سے مختلف تھا اس کے بارے میں خارج ایمان ہونے کا فتوی تک دے ڈالا؛ جب کہ وقت اور حالات کا تقاضہ یہ تھا کہ ہم ایک امت ہوکر امت کے خلاف محاذ بنائے فتنوں کا مقابلہ کرتے؛ اپنے آپسی اختلاف اپنے گھر کے اندر رکھ کر باہر کی دنیا میں ہم ایک امت کی حیثیت سے دنیا کے سامنے آتے؛ مگر ستر سالوں سے ہر بار نیا زخم کھانے کے بعد بھی ہم نے اپنے اندر تبدیلی نہیں لائی؛ شاید ہماری تباہی کے من جملہ اسباب میں سے یہ بھی ایک بھاری سبب ہے اگر ہم نے آپ نے وقت رہتے اپنی حالت میں تبدیلی پیدا نہیں کی تو پھر حالات یہاں تک خراب ہوں گے کہ:

ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں!! 




            -:انتخاب وپیشکش:-
            محمد تنویر قاسمی
       ڈومریاگنج؛ سدھارتھ نگر

Comments