Ramzan aro Rozah dar ki kotahiyan ----رمضان اور روزہ داروں کی کچھ کوتاہیاں


 تیرہواں روزہ تیرہواں سبق:

janiye kya hai ramzan ki kotahiya jo ham karte hain
13th ramzan

بعض روزے دار دین سے ناواقفیت کے شکار ہوتے ہیں، نتیجتًا روزہ کے مفاسد سے بھی نا آشنا ہوتے ہیں، ایسے لوگوں کی ایک طویل فہرست ہے جو یہی نہیں جانتے کہ کِن کِن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتاہے؟ روزہ دار کے لیے کیا چیزیں مسنون ہیں؟ کیا چیزیں جائز ہیں؟ اور کیا چیزیں واجب اورحرام ؟
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ بِہ خَیْرًا یُفَقِّہْہُ فِي الدِّیْنِ‘‘ کہ اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتے ہیں اُس کو دین کی سمجھ عطا فرماتے ہیں، معلوم ہوا کہ جو لوگ دین کی سمجھ نہیں رکھتے اور نہ ہی دین کے متعلق کچھ دریافت کرتے ہیں ایسے لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیر کا ارادہ نہیں فرماتے ، جبکہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:’’فَا سْأَلُوْا أَہْلَ الذِّکْرِ إِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ‘‘۔ (النحل: ۴۳)
ترجمہ: سو اگر تم کو علم نہیں تو اہل علم سے پوچھے دیکھو۔ (بیان القرآن، ج: ۲/ ۳۳۳)
آیت کریمہ میں ’’أہل الذکر‘‘ سے مراد علماء ہیں، لہٰذا جو مسلمان بصیرت کے ساتھ اللہ کی عبادت اور دین پر عمل در آمدگی کا خواہاں ہو، اس کو چاہئے کہ دین سے متعلق جن باتوں سے ناواقف ہو، ان کے بارے میں جاننے والوں سے دریافت کرے اور دین میں سمجھ بوجھ پیدا کرے۔
بعض روزے دار بہت بڑے بڑے گناہوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں، نتیجتاً اُن کے روزے ضائع ہوجاتے ہیں اور ان کی شب بیداری کا اجر ختم ہوجاتاہے، اُن گناہوں میں سے ایک گناہ غیبت ہے، ما قبل میں اس کا تذکرہ آچکا ہے، اِسی طرح چغل خوری، فحش کلامی، استہزاء کرنا اور لعن وطعن وغیرہ گناہ زبان کے گناہوں میں شمار ہوتے ہیں۔
روزے داروں کی غلطیوں میں سے ایک غلطی سحری اور افطاری میں اسراف سے کام لینا ہے، چنانچہ اتنی زیادہ مقدار میں کھانے دسترخوان پر لگائے جاتے ہیں جو بڑی جماعتوں کے لیے کافی ہوجاتے ہیں، قسم قسم کے عمدہ، قیمتی، مہنگے، سستے ، کھٹے میٹھے اور نمکین کھانوں کی بھرمار ہوتی ہے، حالانکہ جب کھانے کی نوبت آتی ہے تو معمولی مقدار میں کھایا جاتا ہے، ما بقیہ ضائع ہوجاتاہے، پھینک دیا جاتاہے، جبکہ یہ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلاَ تُسْرِفُوْا إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ‘‘۔(الأعراف: ۲۱)
ترجمہ: اور خوب کھاؤ اور پیو اورحد سے مت نکلو بیشک اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتے حد سے نکل جانے والوں کو۔ (بیان القرآن، ج: ۲/ ۱۳)
ہر وہ چیز جو انسانی ضرورت سے خارج ہو وہ اسراف میں داخل ہے، اور اللہ تعالیٰ اس سے خوش بھی نہیں ہوتے، بلکہ وہ اس آیت کے مصداق بن جاتے ہیں: ’’وَلاَ تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا، إِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْا إِخْوَانَ الشَّیَاطِیْنِ، وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّہ کَفُوْرًا‘‘۔ (بنی اسرائیل: ۲۶)
ترجمہ: اور بے موقع مت اُڑانا بے شک بے موقع اڑانے والے شیطانوں کے بھائی بندے ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ (بیان القرآن،ج: ۲/ ۳۷۰)
’’وَالَّذِیْنَ إِذَا أَنْفِقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًا‘‘۔ (الفرقان: ۶۷)
ترجمہ: اور وہ جب خرچ کرنے لگتے ہیں تو نہ تو فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں اور ان کا خرچ کرنا اس کے درمیان اعتدال پر ہوتاہے۔ (بیان القرآن، ج: ۳/ ۲۲)
ماہِ رمضان میں باز ار، خریدنے والوں سے بھرے رہتے ہیں، ایک ایک آدمی اتنے زیادہ کھانے پینے کی چیزیں خریدتا ہے جو دسیوں خاندانوں کے لیے کافی ہوجاتی ہیں، جبکہ کتنے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو بھوک سے مرجاتے ہیں، انھیں روٹی کا ایک ٹکڑا بھی میسر نہیں ہوتا، وہ کھلی فضا میں سوتے ہیں، زمین اُن کے لیے فرش کا کام کرتی ہے اور آسمان لحاف کا۔
•  روزے کا ایک مقصد یہ ہوتاہے کہ کم کھانے کے ذریعے معدہ کو فاسد مادّوں سے خالی کردیا جائے، لیکن جو لوگ کھانے پینے کے معاملے میں اسراف کے شکار ہوتے ہیں، وہ بھلا یہ مقصد کیسے حاصل کرسکتے ہیں۔
•  کتنے ہی روزے دار ایسے ہوتے ہیں جو پورا پورا دن سوتے ہوئے گزار دیتے ہیں، یہ تو ایسے ہیں جیسے کہ انھوں نے روزہ رکھا ہی نہیں، کچھ لوگ تو صرف نماز کے وقت بیدار ہوتے ہیں اور پھر سوجاتے ہیں، اُن کا دن غفلت میں اور رات اِدھر اُدھر جاگ کر ختم ہوجاتی ہے۔
• روزے کی ایک حکمت یہ ہے کہ روزے دار اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے بھوک اور پیاس کی لذت سے دوچار ہو، لیکن جو لوگ دن بھر سوتے رہتے ہیں وہ تو اس رات سے محروم ہوجاتے ہیں۔
•  کچھ روزے دار تو ماہِ رمضان میں مختلف طرح کے کھیل کھیلتے ہیں جو کم از کم مکروہ تو ہوتے ہیں، حالانکہ وہ ان کھیلوں میں مشغول ہوکر انتہائی قیمتی اوقات کو فضول کاموں اور بے فائدہ امور میں ضائع کردیتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عَبَثًا وَأَنَّکُمْ إِلَیْنَا لاَ تُرْجَعُوْنَ‘‘۔ (المؤمنون: ۱۱۵)
ترجمہ: ہاں تو کیا تم نے یہ خیال کیا تھا کہ ہم نے تم کو یوں ہی مہمل پیدا کردیا ہے اور یہ کہ تم ہمارے پاس نہیں لائے جاؤ گے۔ (بیان القرآن، ج: ۲/ ۵۴۹)
دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’وَذرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَہُمْ لَعِبًا وَلَہْوًا وَغَرَّتْہُمُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا‘‘۔ (الأنعام: ۷۰)
ترجمہ: اور ایسے لوگوں سے بالکل کنارہ کش رہ جنھوں نے اپنے دین کو لہو ولعب بنا رکھا ہے اور دنیوی زندگی نے ان کو دھوکہ میں ڈال رکھا ہے۔ (بیان القرآن، ج: ۱/ ۵۵۹)
•  کچھ روزے دار تو اِس حد تک انتہا کردیتے ہیں کہ رات کے اوقات کو کھیل کود میں ختم کردیتے ہیں، جبکہ انھیں اس پر کوئی اجر نہیں ملتا، رات کی تاریکی میں انھیں دورکعت کی بھی توفیق نہیں ہوتی۔
• بعض روزے دار تو معمولی معمولی سبب اور نا قابل قبول اعذار کی بناء پر نماز باجماعت سے پیچھے رہ جاتے ہیں، حالانکہ یہ نفاق کی علامت ہے اور دل کے مردہ ہوجانے کی نشانی بھی۔
• کچھ لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جو ماہِ رمضان میں بھی قرآنِ کریم سے کوئی تعلق اور ربط نہیں پیدا کرپاتے، دوسری کتابیں تو پڑھتے ہیں، لیکن تلاوت کی توفیق نہیں ملتی۔
• کچھ لوگ اِس بابرکت مہینے میں بالکل صدقہ خیرات، نہیں کرتے، اور نہ ہی دوسرے لوگوں کو افطار کراتے ہیں، اُن کا دروازہ بند ہوتاہے اور ہاتھ بخیل ہوتاہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’مَا عِنْدَکُمْ یَنْفَدُوْ ما عِنْدَ اللّٰہِ بَاقٍ‘‘۔ (النحل: ۵۶)
ترجمہ: اور جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ دائم رہے گا۔ (بیان القرآن، ج: ۲/ ۳۴۷)
’’وَمَا تُقَدِّمُوْا لِأَنْفُسِکُمْ مِنْ خَیْرٍ تَجِدُوْہُ عِنْدَ اللّٰہِ ہُوَ خَیْرًا وأعظم أجرًا‘‘۔ (المزمل: ۲۰)
ترجمہ: اور جو نیک عمل اپنے لیے آگے بھیج دوگے اس کو اللہ کے پاس پہنچ کر اس سے اچھا اور ثواب میں بڑھا پاؤ گے۔
•  کچھ لوگ تو اتنی سستی برتتے ہیں کہ نماز تراویح ہی چھوڑ دیتے ہیں، حالانکہ زبان حال سے یہ کہتے ہیں کہ ! فرض نماز کی ادائیگی کافی ہے، جبکہ دنیا کے معاملے میں تھوڑے پر راضی نہیں ہوتے، بلکہ ضرورت سے زیادہ حاصل کرنے پر زور دیتے ہیں۔
•  کچھ لوگ ماہِ رمضان میں اپنے گھر والوں کو قسم قسم کے کھانے بنانے کا مکلف بنادیتے ہیں، اُن کو قرآنِ کریم سے غافل کردیتے ہیں، اللہ کے ذکر، اُس کی عبادت سے بھی دور کردیتے ہیں، حالانکہ اگر ضروریات پر اکتفا کرلیں تو عبادت کے لیے بہت وقت میسر ہوسکتا ہے۔
اللہم زدنا ولا تنقصنا، وأعطنا ولا نحرمنا، وأکرمنا ولا تہّنا وسامحنا واعف عنّا۔ آمین

Comments