رمضان جو دوسخا کا مظہر ہے Ramzan jood-o sakha ka mazhar hai


پانچواں روزہ ,پانچواں سبق
Ramzan jood-o sakha ka mazhar
5th Ramzan

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’وَمَا تُقَدِّمُوْا لِأَنْفُسِکُمْ مِنْ خَیْرٍ تَجِدُوْہُ عِنْدَ اللّٰہِ ہُوَ خَیْرًا وأعْظَمَ اَجْرًا‘‘۔ (المزمل: ۲۰)
ترجمہ: اور جو نیک عمل اپنے لیے آگے بھیج دوگے، اس کو اللہ کے پاس پہنچ کر اس سے اچھا اور ثواب میں بڑا پاؤ گے۔
مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ أَمْوَالَہُمْ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ، فِيْ کُلِّ سُنْبُلُۃٍ مِائَۃُ حَبَّۃٍ، وَاللّٰہُ یُضَاعِفُ لِمَنْ یَشَائُ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیٔمٌ‘‘۔ (البقرہ: ۲۶۰)
ترجمہ: جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں، ان کے خرچ کئے ہوئے مالوں کی حالت ایسی ہے جیسے ایک دانہ کی حالت، جس سے سات بالیں جمیں، ہر بال کے اندر سو دانے ہوں اور یہ افزونی خدا تعالیٰ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں، جاننے والے ہیں۔ (بیان القرآن، ج: ۱/ ۱۷۹)
حضرت ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور ماہِ رمضان میں حضرت جبرئیل علیہ السلام سے ملاقات کے بعد اس سخاوت کا تو کچھ اور ہی عالم ہوتاتھا، اِن دنوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت نفع بخش ہواؤں کے نفع سے بھی آگے بڑھ جاتی۔
روزہ کا تقاضہ ہے کہ بھوگوں کو کھانا کھلایا جائے، مسکینوں کو عطیہ دیا جائے اور غریبوں کو تحفہ سے نوازا جائے۔
ماہِ رمضان صدقہ، خیرات کرنے والوں کے لیے ایک بہترین موسم اور خرچ کرنے والوں کے لیے ایک ساز گار موقع ہے۔
شاعر کہتا ہے:
اگر اللہ نے آپ کو نوازا ہے تو اُس کے دیئے ہوئے مال میں سے کچھ خرچ کرو! کیونکہ مال تو ایک عارضی چیز ہے اور عمر بھی ختم ہی ہوجائے گی، مال کی حیثیت پانی کی ہے، اگر پانی کے بہنے کے راستوں کو بند کردیا جائے تو بدبو پیدا ہوجائے گی اور اگر پانی جاری ہے تو شیریں اور میٹھا پانی نصیب ہوگا۔
یقینا صدقہ، خیرات اور راہِ خدا میں خرچ کرنا بہت اچھی بات ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ہر صبح دو فرشتے ندا لگاتے ہیں، اُن میں سے ایک کہتا ہے، خدا یا! خرچ کرنے والوں کو بہترین بدلہ عطا فرما اور دوسرا کہتا ہے کہ روک کر رکھنے والوں کا مال تلف اور ضائع کردے۔
انسان جب بھی خرچ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ جسمانی اور قلبی سکون بھی عطا کرتے ہیں اور رزق میں وسعت وکشادگی بھی۔
ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ ’’صدقہ غلطیوں کو ختم کردیتا ہے جس طرح پانی آگ کو ختم کردیتا ہے، غلطیوں اور گناہوں کی دل میں سوزش، روح میں تپش اور زندگی میں ایس جلن اور چبھن ہوتی ہے جس کو صرف صدقہ ہی ختم کرسکتاہے، صدقہ گناہوں کو ختم کرکے دل کو سکون اور روح کو پاکیزگی وبالیدگی عطا کرتا ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:روز محشر میں ہر شخص اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے۔
کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ صدقہ کا بھی گھنا سایہ ہوگا، جس کے نیچے روزِ قیامت اللہ کے بندے سایہ حاصل کریں گے اور ہر شخص کا سایہ اس کے دنیاوی صدقہ کے برابر ہوگا۔
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ مال دار تھے، انھوں نے اپنا پورا مال، رب کی رضا کی خاطر صرف کردیا، تبوک کے لشکر کی تیاری کی، مسلمانوں کے لیے بئر رومہ کو خرید لیا اور صدقہ کرکے اللہ کی رضا کے امید وار بن گئے۔
حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ بھی بہت بڑے مال دار تھے، چنانچہ ایک مرتبہ سات سواونٹوں کا سامان مدینہ کے غرباء پر صدقہ کردیا۔
کتنے ہی روزہ دار ایسے ہوتے ہیں جنھیں روٹی کا ایک ٹکڑا، دودھ کا ایک گھونٹ اور کھجور کی ایک شِق بھی نہیں نصیب ہوتی۔
کتنے ہی روزہ دار ایسے ہوتے ہیں جنھیں رہنے کے لیے معمولی گھر اور سفر کے لیے معمولی سواری بھی میسر نہیں ہوتی۔
اور کتنے ہی روزہ دار ایسے ہوتے ہیں جنھیں افطار اور سحری کے لیے کچھ میسر نہیں ہوتا۔
جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: جس شخص نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو اُس کو بھی روزہ دار کے بقدر ہی اجر ملے گا اور روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی بھی نہ ہوگی۔
ماضی میں بہت سے اللہ کے نیک بندے ایسے تھے جو غرباء ومساکین کی ایک جماعت کے افطار کی ذمہ داری لے لیتے تھے تاکہ اللہ کی جانب سے زیادہ سے زیادہ اجر وثواب کے مستحق ہوسکیں۔
اسلاف کے زمانے میں مسجدوں میں پیشگی طورپر کھانے بھیج دئے جاتے تھے؛ چنانچہ کوئی روزہ دار بھوکا اور ضرورت مند نہیں رہتا تھا۔
کتنی عجیب بات ہے کہ انسان اپنے کھانے، پینے اور پہننے کے لیے جو کچھ بھی خرچ کرتا ہے، سب فنا ہوجائے گا، بقا تو صرف اسی مال کو ہوگا جو اللہ کی رضا کے لیے خرچ کیا جائے گا۔
قرآن کریم میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں:’’إِنْ تُقْرِضُوْا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا یُضَاعِفْہُ لَکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ، وَاللّٰہُ شَکُوْرٌ حَلِیْمٌ‘‘۔ (التغابن: ۱۷)
ترجمہ: اگر تم اللہ کو اچھی طرح قرض دو گے تو وہ اُس کو تمہارے لیے بڑھاتا چلا جاوے گا اور تمہارے گناہ بخشش دے گا اور اللہ بڑا قدر دان ہے، بڑا بُردبار ہے۔ (بیان القرآن، ج: ۳/ ۵۵۲)
روزہ دار انسان بھی اپنے عطیے اور خرچ کے ذریعے گویا اپنے رب کو قرض دیتا ہے تاکہ حاجت وضرورت، فقر ومسکنت اور سراپا خسارے کے دن کام آسکے۔
اگر کوئی روزہ دار کسی روزے دار کو ایک گھونٹ پانی یا دودھ پلاتاہے، ایک شق کھجور یا تھوڑا کھانا کھلاتا ہے، یا لباس اور پھل عطا رکرتا ہے تو گویا کہ اپنے لیے جنت کے راستہ کو ہموار کررہا ہے۔
یاد رکھئے! صدقہ کی طرح مال کی حفاظت اور زکوٰۃ کی طرح مال کا تزکیہ کہیں اور نہیں ہوسکتا۔
کتنے ہی مال دار، مال وجائداد، خزانے، محلات اور بلڈنگیں اسی دنیا میں چھوڑ کر سفرِ آخرت پر چلے گئے، لیکن یہ ساری چیزیں ان کے لیے محض حسرت وافسوس اور ندامت وشرمندگی کے سوا کچھ اور کام نہ کرسکیں، کیونکہ انھوں نے اپنا مال صحیح مصرف میں خرچ نہ کیا، جس کا نقصان کل روزِ قیامت میں اٹھانا پڑے گا۔
واللّٰہ المستعان



كتاب (ثلاثون درسا للصائمین ) كا اردو ترجمہ .
وصی اللہ سدھارتھ نگری 
 لجنۃ المؤلفین دیوبند


Comments