شب قدرقرآن وحدیث کی روشنی میں Shabe Qadar Qur-an -o- Hadees ki roshni mein


شب قدرقرآن وحدیث کی روشنی میں


Shab-e Qadar Qur-an -o- Hadees ki roshni 


mein


Shabe Qadar Qur-an -o- Hadees ki roshni mein
Lailatul Qadr

✍محمدانورداؤدی ایڈیٹر روشنی"اعظم گڈہ،u.p 
_____________________________________



قارئین کرام!
آج بات ہوگی شب قدرکی قرآن کریم میں اسکاتعارف لیلةالقدر کےنام سےکرایاگیاہے 
لیلة کامعنی رات ہے
اورقدرکامعنی عظمت 
یعنی عظمت کی رات ،
قدرکاایک معنی 
تقدیروحکم بھی لیاجاتاہے یعنی اس رات میں تمام مخلوقات کےلئےجوکچھ تقدیرازلی میں لکھاہے
اس کاوہ حصہ فرشتوں کےحوالےکردیاجاتاہے جوایک سال تک پیش آنیوالاہوتاہے 

*سورہ قدرکےنزول کی وجہ*
امام قرطبی نےاس سورہ کےشان نزول کےبارے میں مختلف روایات نقل فرمائ ہیں 
ان میں سےایک یہ ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےبنی اسرائیل کےچارانبیاء حضرت ایوب ،حضرت زکریا،حضرت حِزقیل اورحضرت یوشع علیھم السلام کاذکرفرمایاکہ ان میں سےہرایک نےاسی اسی (80)سال تک اللہ کی عبادت کی اورکبھی آنکھ جھپکنےکےبرابربھی کوئ گناہ نہیں کیاتوصحابہ کوبڑاتعجب ہوا
اس موقع پراللہ تعالی نےیہ سورہ اتاری کہ تم میں سےاگرکوئ اس ایک رات میں عبادت کرےتواسےاسی سال سےزیادہ ثواب ملےگا

Shabe Qadar Qur-an -o- Hadees ki roshni mein   *( احکام القرآن )*

مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ نےمعارف القرآن میں ابن ابی حاتم کےحوالےسےایک روایت نقل کی ہےکہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےبنی اسرائیل کےایک مجاہدکاحال ذکرکیاجوایک ہزارمہینےسےمسلسل مشغول جہادرہاکبھی ہتھیارنہیں اتارے 
یہ سنکرمسلمانوں کوبڑاتعجب ہوا
تواس موقع پریہ سورہ نازل ہوئ -

تفسیرمظہری میں ہےکہ شب قدرامت محمدیہ کی خصوصیات میں سےہے-
اس رات کی بڑی فضیلت ہے اسی رات میں لوح محفوظ سے آسمان دنیاپرقرآن پوراکاپورااتاراگیا 
اس رات میں حضرت جبرئیل علیہ السلام بےشمارفرشتوں کیساتھ زمیں پراترتےہیں 
مفتی شبیرصاحب مدرسہ شاھی نے امام قرطبی کےحوالےسےلکھاہےکہ 
شب قدرکی عبادت کامقام حضرت سلیمان وذوالقرنین علیھما السلام کی سلطنت سےبھی اونچا ہے
حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت پانچ سومہینہ تھی جسکے41سال اور8 ماہ بنتےہیں
اورحضرت ذوالقرنین علیہ السلام کی مدت حکومت بھی پانچ سومہینہ رہی 
دونوں کی حکومت پوری دنیاپرتھی دونوں کی سلطنت ملاکرایک ہزارمہینہ یعنی 83سال اور4ماہ بنتی ہےتواللہ تعالی نے شب قدرمیں عبادت کرنیوالےکو ان دونوں سلطنتوں کےمقام سےبھی اونچااورافضل قراردیا

*(انواررسالت )*

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ 
*جوشخص ایمان کی حالت میں اللہ سےثواب کی* *امیدرکھتےہوئےرمضان کاروزہ رکھتاہےاوراسکی راتوں میں اٹھ کر عبادت* *کرتاہے تواس *کےماقبل سارے گناہ* *معاف کردئیے جاتےہیں اورجوشخص ایمان کی** *حالت میں اللہ سےثواب کی* *امیدرکھتےہوئے لیلة القدرمیں عبادت* *کےلئےکھڑاہوتاہےتو*
*اسکےماقبل* *کےسارےگناہ معاف* *کردیئےجاتےہیں*

*ترمذی رقم 683/*

اسی طرح ایک روایت اورہےجوحضرت انس بن مالک سےمروی ہے کہ 
*رمضان کامہینہ آگیاتورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:بےشک یہ مہینہ یقیناتمہارےسامنےآگیاہےاوراس میں ایک رات ایسی ہےجوہزارمہینہ سےبہترہے،جوشخص اس رات کی خیروبرکت سےمحروم ہوجاتاہےتویقناوہ ہرقسم کی خیروبرکت سےمحروم ہوجاتاہےاوراسکی خیروبرکت سےمحروم نہیں ہوتاہےمگرمحروم القسمت شخص "*

*ابن ماجہ،1644/*

Shabe Qadar Qur-an -o- Hadees ki roshni meinسال میں نوراتیں ایسی ہیں جن میں عبادت کرنےکی بڑی فضیلت ہے 
(1)شب قدر)(2)شب برأت(3)شب مِنى گیارہ ذی الحجہ(4)شب منی بارہ ذی الحجہ 
(5)شب عیدالفطر(6)شب عیدالاضحی(7)شب یوم عرفہ(8)شب یوم نحر(9)شب جمعہ

*(انواررسالت)*

*شب قدر کی تلاش*


اس مبارک رات کی عبادت جسےمل جائے وہ بڑاخوش نصیب ہے 
شایدیہ حکمت ربانی تھی کہ اسکی تعیین چھپادی تاکہ اسکی اہمیت وفضیلت کےپیش نظرجذبہ عبادت کاعنصرغالب رہے
قرآن کریم کی تصریحات سےیہ بات توبالکل بےغبارہےکہ شب قدررمضان میں آتی ہےلیکن رمضان کی کس تاریخ میں اسکےتعین میں اختلاف ہے معارف القرآن میں لکھاہےکہ تاریخ کےتعین میں علماء کےمختلف اقوال چالیس تک پہنچتےہیں -
لیکن راجح قول آخری عشرہ کاہے 
جیساکہ روایت میں آتاہےکہ
*" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ میں عبادت* *کےلئےیکسوئ اختیارفرماتےتھےاور*
*صحابہ کرام* 
*کوحکم فرمایاکرتےتھےکہ تم* *لیلة القدرکورمضان کےآخری عشرہ میں تلاش کرو"*

*بخاری،1975/،*
*ترمذی،792/*

اسی طرح ترمذی میں دوسری جگہ ہے 
*"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کےآخری عشرہ میں اپنےگھروالوں کوعبادت کےلئےاٹھایاکرتےتھے"*

*رقم الحدیث 795/*

المختصریہ بھی واضح ہوگیاکہ شب قدر آخرعشرےمیں ہےلیکن یہ  کنفرم نہیں ہےکہ آخرعشرہ میں کون سی تاریخ ہے
آخرکےدس روزوں میں کون سی رات ہے؟
وہ احادیث جوشب قدرکی تعیین کےواسطےآئ ہیں ان میں غورکےبعدیہ بات مزیدواضح ہوتی ہےکہ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ہے
جیساکہ بخاری شریف کی ایک روایت ہے 
حضرت عائشہ اسکی راویہ ہیں کہ

*"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشادفرمایا:کہ تم لیلة القدرکورمضان کےآخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو"*

*بخاری،رقم 1972/*

اسی طرح ترمذی کی بھی روایت ہےاورطاق راتوں کی تعیین بھی فرمادی 

*رقم 794/*
Shabe Qadar Qur-an -o- Hadees ki roshni mein
اب طاق راتیں یہ ہیں 
21/23/25/27/29
یہ پانچ راتیں ہیں جن میں شب قدرکوتلاش کرناہے
پھر ان راتوں میں اغلب گمان 27/ویں رات کاہے 
لیکن حتمی طورپراسے متعین نہیں کیا جاسکتا 
قرائن وقیاس واعدادسے ستائیسویں رات کی طرف ذہن منتقل ہوتاہے
جیساکہ امام طبرانی،امام بیہقی اورامام عبدالرزاق رحمھم اللہ  وغیرھم نے
حضرت عبداللہ بن عباس کی ایک روایت نقل فرمائ ہے 
جسےمیں نےعلاحدہ سے 
*شب قدر اور 7کاعدد*
کےعنوان سے لکھاہے
(محمدانورداؤدی )

*اس رات میں کیاکرناہے*


 اس رات میں عبادت کاخوب اھتمام کرناچاہئے چونکہ قرآن کریم شب قدرمیں ہی نازل ہواہے اس لئے ان ممکنہ راتوں میں خوب عظمت واحترام کیساتھ قرآن کی تلاوت کرنی چاہئے
نمازتراویح کےبعد کثرت سےنوافل پڑھنی چاہئے
،اورادووظائف کااہتمام ہو
گناہوں کامحاسبہ ہو،خطاؤں پرشرمساری ہو
ایک مرتبہ حضرت عائشہ نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزارش فرمائ کہ اگرمجھےشب قدرکاپتہ چل جائےتواس رات میں مجھے کون ساعمل کرناچاہئے؟
آپ نےارشادفرمایا
اَللّهُمَّ إنَّكَ عَفُوٌّكَريمٌ تُحِبُ العَفْوَ فاعْفُ عَنِّى
اےاللہ توبےشک معاف کرنےوالاہےاورکریم ہےاورمعافی کوپسندکرتاہے لہذاتومجھےمعاف فرما دے
*ترمذی 3513/*
*مسنداحمد25898/*

اوراگرموقع ملےتوصلوة التسبیح بھی پڑھ لے

 میرےبھائ 
دنیاآخرت کابازارہے 
سال بھرمیں کچھ مواقع ایسےآتےہیں جس میں اس بازار خیرکی رونقیں دوچندہوجاتی ہیں 
رمضان المبارک
 رحمت  اورعنایات ربانی اورعبادت کابڑابازارہے 
جسےسیدالشھور یعنی مہینوں کاسردار کہاجاتاہے
اس مہینےمیں نیکیوں کابھاؤبڑھ جاتاہے 
 بندگان خدا کےلئےاس بازارسے توشہ آخرت خریدنےمیں آنیوالی تمام رکاوٹوں کودورکردیاجاتاہے
شیاطین پابندسلاسل کردئیےجاتےہیں 
دن میں روزہ کےذریعہ نفس کومانجھاجاتاہے اوررات کوتلاوت قرآن(تراویح)کےذریعہ قلب پرقلعی کی جاتی ہے 
انواروالطاف کی یہ بارش ایک ماہ تک جاری رہتی ہے 
ماہ مقدس جب تیسرےعشرے میں قدم رکھتاہے توگویایہ اعلان ہوتاہےکہ 
عنقریب ابررحمت کے پھواروں کی ارزانی ختم ہونےوالی ہے 
رمضان چنددنوں کااورمہمان رہ جائےگا
ایک باراورابھاراجاتاہے کہ ابھی رمضان کاگوہرنایاب پردہ خفامیں ہے 
اسےحاصل کرو یہ آخری عشرہ رمضان کانچوڑ ہوتا ہے جس میں شب قدر ہے جسکی عبادت پر ہزار ماہ سےبھی زیادہ ثواب کی بشارت ہے 
جسکی اہمیت کےمدنظرقرآن میں مکمل ایک سورہ ہے 
جسکےحصول کےلئے دیوانےاعتکاف کرتےہیں 
اوررب کےدربار اپناسررکھ کر زبان حال سےیوں کہتےہیں 

*نکل جائےدم تیرےقدموں کےنیچے*
*یہی دل کی حسرت یہی آرزوہے*

اپنی خصوصی دعامیں مجھےبھی یادرکھیں 
وطن کی سلامتی ،خوشحالی اورترقی کی بھی دعافرمائیں 


 Contact :8853777798

Comments