جديد مضامين

Tuesday, April 14, 2020

مطالعہ نظم ونسق (The study of Administration) قسط ۲


مطالعہ نظم ونسق (The study of Administration)

تحریر: وقار احمد (جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی)

جدید نظم ونسق عامہ: (New Public Administration)

1971ء میں Frank Marini کی ادارت میں دو کتاب Toward a New Public Administration اور The Minnow - Brook perspective شائع ہوئی (جو امریکہ میں ہوئی "منوبروک کانفرنس" کی روئیداد اور رپورٹ پر مشتمل تھی؛ یہ ایک امریکی تصور تھا)، جس میں جدید نظم ونسق عامہ کا تصور سامنے آیا۔

جدید نظم ونسق میں اقدار پر توجہ دی گئی اور مضمون کو نئی سرحدات تک لے جایا گیا، یعنی: اسے صرف دفتریت تک محدود نہ رکھتے ہوئے سماج سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی گئی؛ چناں چہ انسانی پہلوؤں، غیر مرکوزیت، تکثیریت اور شخصیت سازی وغیرہ کے پہلؤوں پر بھی توجہ دی گئی اور ایک ذمہ دار نظم ونسق عامہ پر زور دیا گیا۔ جدید نظم ونسق عامہ کا تعلق واقعاتی مطالعہ سے ہے، تاکہ نظم ونسق عامہ نہ صرف سماجی تبدیلی کی ضرورتوں سے ہم آہنگ ہوسکے؛ بلکہ سماجی تبدیلی کو ایک سمت بھی عطا کرسکے۔ 

یہ: "جدید نظم ونسق عامہ" نوجوان تحقیقی اسکالرس کی ایک تحریک تھی، جس نے نظم ونسق عامہ کے روایتی طرز کو چیلینج کیا اور مطالبہ کیا کہ جدید نظم ونسق عامہ کو کم عمومی اور زیادہ عوامی، کم بیانیہ اور زیادہ تشخیصی ہونا چاہیے۔ Robert. T. Golembiewski نے "جدید نظم ونسق عامہ" کے پانچ پہلوؤں کی نشاندہی کی ہے: 
(1) انسان ایک جامد عامل پیداوار نہیں؛ بلکہ وہ ایک متحرک قوت ہےاور اس میں بہتر بننے کی صلاحیت بھی موجود ہوتی ہے۔
(2) اس میں شخصی اور تنظیمی قدروں کی مرکزیت حاصل ہے۔
(3) سماجی عدل وانصاف اور سماجی مساوات کا حصول "جدید نظم ونسق عامہ" کا مقصد ہے۔
(4) شاہی دفتر کا عمل کم سے کم ہو اور غیر مرکوزیت وجمہوری فیصلہ سازی کا عمل ہو، تاکہ انسانی ضورتوں کی تکمیل کی بآسانی جاسکے۔
(5) جدید نظم ونسق عامہ میں جدیدیت، یعنی: تبدیلی واختراع کو اہمیت حاصل ہے؛ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مقننہ وعاملہ کا روایتی رول تبدیل ہوگا۔

عوامی پسند کا نظریہ :(Public Choice Approach)

جس وقت نظم ونسق عامہ کا تصور پیدا ہورہا تھا، اس وقت James Gordon Tullock اور M. Buchanean نے اپنی کتاب "The Calculus of Consent: Logical Foundations of Democracy" لکھی تھی، جس میں اس نے "عوامی پسند" کی پالیسیوں کو حکومتوں کے لیے ضروری قرار دیا تھا۔ Vincent Ostrom کا خیال ہے کہ نظم ونسق کے لیے "دفتر شاہی ساخت تو ضرور ہونا چاہیے؛ لیکن یہ ساختیں عوام کے کیے معاشی خدمات کی فراہمی کے لیے کافی نہیں ہیں، عوام کے لیے، مختلف خدمات کی انجام دہی کے لیے؛ مختلف تنظیمی ساختیں ہوں؛ تنظیم کی ایک ہی درجہ بند ساخت عوام کی تمام ضرورتوں کو پوا نہیں کرسکتی۔ Ostrom کے نظریے کے اہم خد وخال اس طرح کے ہیں:
(1) یہ نظریہ مخالف دفتر شاہی ہے۔
(2) عوامی/ صارفین کی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے اداروں کی نوعیت تکثیری ہو۔
(3) فیصلہ سازی کے مرکز مختلف اور جمہوری ہوں۔
(4) عوامی خدمات کی سربراہی کے لیے معاشی طریقہ کار کو اپنایا جائے۔
(5) انتظامی اختیار غیر مرکوز ہو۔
(6) نظم ونسق میں عوامی شرکت ہو۔
(7) سیاست کو نظم ونسق سے علاحدہ نہ رکھا جائے۔
(8) درجہ بند انتظامی نظام نہ ہو۔

موہیت بھٹا چاریہ کے مطابق یہ نظریہ نظم ونسق کے دفتر شاہی نمونے کا مخالف ہے اور یہ عوام کو اشیاء وخدمات کی سربراہی میں ادارتی تکثیریت چاہتا ہے۔ نظم ونسق سیاست اور ایک مناسب سیاسی تنظیم کے دائر کار میں ہو۔

تیسری منو بروک کانفرنس میں 56 شرکت کنندوں نے نظم ونسق عامہ کے لیے جدید تناظر میں سات نئے میدانوں کی شناخت کی، جو اس طرح تھے:
(1) تدریس کرنے والے اور پیشہ وارانہ افراد کے درمیان تعلقات۔
(2) جمہوری کارکردگی کا انتظامیہ۔
(3) کارکردگی کی پیمائش۔
(4) عالمیانہ اور بین الاقوامی تناظر۔
(5) انتظامی اخلاق اور قدریں۔
(6) اطلاعتی ٹیکنالوجی اور انتظامیہ۔
(7) طریقہ کار اور بین علمی تناظر۔

اسی کانفرنس کے دوسرے مرحلہ میں چند یہ باتیں نکل کر سامنے آئیں تھیں:
(1) تقابلی مطالعہ پر زیادہ توجہ دی گئی اور اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ آج لبرلائیزیشن، خانگیانہ، عالمیانہ اور اطلاعتی ٹیکنالوجی، بامعنی مطالعہ ایک موضوع کو دوسرے موضوع سے الگ کرتے ہوئے نہیں کیا جاسکتا اور ان مطالعوں کو عالمی سطح وتناظر میں ہونا چاہیے۔
(2) ان مباحث میں "عملی تحقیق یا بامقصد تحقیق (Action Research) اور طریقہ کار کی تکثیریت (Methodological pluralisim) پر زور دیا گیا اور اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ نظم ونسق عامہ کے مطالعہ کو مقصد بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تدریس میں طریقہ کار، آلات اور تکنیکوں کو استعمال کیا جانا چاہیے اور تحقیق وترقی کے ذریعہ اس مضمون کو مزید مالا مال کیا جانا چاہیے۔ اگر طلبہ کو آلات وتکنیک سے لیس کیا جائے، تو وہ آزادانہ تحقیق کرسکتے ہیں (رہنمائی کے لیے کوئی تجربہ کار شخص ضرور متعین ہو) اور تحقیق کے نتائج کو عصری نظر ثانی اور تنقید سے گزارنا چاہیے اور نظم ونسق کے مطالعہ کو کثیر یا ہمہ نظریاتی ہونا چاہیے۔ کسی ایک نظریہ یا تصور پر مبنی نہیں۔
(3) ان مباحث کے نتیجہ میں نظم ونسق عامہ کی ایک نئی تعریف سامنے آئی؛ چناں چہ نظم ونسق عامہ کو تمام انسانوں کی ترقی کے لیے باہمی گفتگو اور سماجی تعلقات کے عمل کا ایک مجموعہ قرار دیا گیا۔

جدید نظم ونسق عامہ کے مقاصد : (Goals of New Public Administration)

جدید نظم ونسق عامہ سے، اس کے چار مقاصد سامنے آتے ہیں۔
(1)موزونیت (Relevance): نظم ونسق عامہ کو پالیسی پر مبنی ہونا چاہیے اور اسے انتظامی اقدامات کے تمام سیاسی ودیگر اثرات کو قبول کرنا چاہیے اور نظم ونسق عامہ کے مطالعہ وتدریس کو بامعنی بنانے کے لیے عصری سماجی مسائل پر توجہ دینا چاہیے۔
(2) اقدار (Values): جدید نظم ونسق عامہ کے مطالعہ کو انسانی اقدار سے آزاد نہیں؛ بلکہ اسے انسانی قدروں سے پر ہونا چاہیے۔
(3) سماجی انصاف (Social Equity): نظم ونسق عامہ کو "جدید" بنانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ دفتریت سے نکل کر سماج میں گھومے اور انسانی مسائل کا جائزہ لے، تب جاکر جدید نظم ونسق عامہ سماجی انصاف کے تقاضوں کو پورا کرسکے گا اور حقیقی مستحقین تک نظم ونسق کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کے فوائد پہنچ سکیں گے۔
(4) تبدیلی (Changing): جدید نظم ونسق عامہ نئی اختراع اور تبدیلی کے بغیر "جدید" نہیں کہا جاسکتا؛ چناں چہ نظم ونسق کے قدیم طریقے آج کی انتظامی ضرورتوں خصوصا تیز تر اقدامات کے لیے کافی نہیں ہیں؛ ایسے میں نظم ونسق کے طور طریقوں میں تیز رفتار تبدیلی کی وکالت جدید نظم ونسق عامہ ہی کرتا ہے اور اس کے لیے انتظامی مشنری کو ہی تبدیل کرنا پڑتا ہے۔

جدید انتظامی نکتہ نظر (New Public Management Perspective):

1990ء کے دہے میں نظم ونسق عامہ کی ایک نئی توضیح سامنے آئی، جسے "جدید انتظامی نکتہ نظر" کہا جاتا ہے، جسے David Osborne اور Ted Gaebler نے اپنی کتاب Reinventing Governmenet نے 1922ء میں پیش کیا تھا۔ 
جدید عوامی انتظامیہ کو Christopher نے 1991ء میں وضع کیا تھا؛ یہ نظریہ آج کے نظم ونسق میں آئی بڑی تبدیلیوں اور پوری دنیا کی انتظامی اصطلاحات کو واضح کرتا ہے۔ اس کی بنیاد بھی معاشی وبازار کے انتظامیہ میں ہے اور آج اسے بہتر حکمرانی کا ذریعہ و آلہ سمجھا جاتا ہے؛ یہ نظریہ دفتر شاہی سے نظم ونسق کو آزاد کرنے، فیصلہ سازی کو غیر مرکوز کرنے، خانگیانہ اور کارکردگی کے تعین قدر کی وکالت کرتا ہے؛ اس کے علاہ Hoods کے مطابق یہ نظریہ حسب ذیل سات اصولوں پر مبنی ہے:
(1) روایتی دفتر شاہی کے مقابلہ میں کھلے اختیارات کے ساتھ کاروباری انتظامیہ۔
(2) کارکردگی کے تعین کے لیے واضح معیارات اور پیمائش کے طریقے۔
(3) پیداوار کی نگرانی پر زیادہ توجہ۔
(4) عوامی خدمات کی انجام دہی کے نظم ونسق کو غیر مرکوز کرنا۔
(5) عوامی خدمات کی انجام دہی میں مسابقت کے جذبہ کو فروغ دینا۔
(6) خانگی طرز کے انتظامیہ کو فروغ دینا۔
(7) وسائل کو مختص کرنے میں ڈسپلن اور کفایت کو ملحوظ رکھنا۔

No comments: