جديد مضامين

Tuesday, April 28, 2020

خلاصة القرآن يعني آج رات كي تراويح:چوتھا پارہ چوتھی تراویح


خلاصة القرآن يعني آج رات كي تراويح:چوتھا پارہ چوتھی تراویح

مصنف: اسلم شیخو پوری 

پارہ ٤

 سورہ آل عمران میں جن مضامین کو خاص اہمیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ان میں انفاق فی سبیل اللہ کا مضمون بھی ہے چوتھے پارہ کے آغاز میں اس مضمون کی مناسبت سے ایک اہم ہدایت دی گئی ہے وہ یہ کہ نیکی کا کمال درجہ اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک کہ اللہ تعالی کی راہ میں اپنی پسندیدہ چیزوں کو نہ لگایا جائے مطلوب تک پہنچنے کے لیے محبوب کی قربانی اور ایثار ضروری ہے 
اس کے علاوہ جو اہم مضامین چوتھے پارہ  میں بیان کیے گئے ہیں وہ درج ذیل ہیں
 تحویل قبلہ : جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہونے کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کے  بجائے کعبہ کو اپنا قبلہ ٹھہرا لیا تو اس پر اہل کتاب نے بڑا شور وغوغا گا کیا وہ کہنے لگے کی بیت المقدس کعبہ سے افضل ہے اور اسے زمین پر اللہ تعالی کا پہلا گھر ہونے کا شرف حاصل ہے 
بیت الحرام کی خصوصیات: اللہ تعالی ان کی تردید فرما تے ہوئے بیت الحرام کی تین خصوصیات بیان فرماتے ہیں
پہلی  یہ کی اس روئے زمین پر کعبہ سب سے پہلی عبادت گاہ ہے
 دوسری یہ کی اس میں ایسی واضح نشانیاں یا پائی جاتی ہے جو اس کے شرف اور فضیلت پر دلالت کرتی ہیں 
جس میں مقامی ابراہیم ،زمزم، اور حطیم، شامل ہے
تیسری  یہ کہ جو شخص حرم میں داخل ہو جائے اسے  امن حاصل ہوجاتا ہے 
شرف والی عمارت:  بعض اللہ والوں کا قول ہے کی پورے عالم میں کعبہ سے زیادہ شرف والی کوئی عمارت نہیں ہے اس کی تعمیر کا حکم رب جلیل نے دیا اس کا نقشہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے بنایا اس کے معمار حضرت خلیل علیہ السلام تھے تھے اور معاون اور مزدور کے طور پر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کام کیا دنیا بھر میں یہی وہ عبادت گاہ ہے جس کی زیارت کے لیے سفر کرنے کا مسلمانوں کو حکم دیا گیا 
حج کی فرضیت: جو شخص سفر وغیرہ کے اخراجات برداشت کر سکتا ہو اور وجوب حج کی دوسری شرائط بھی پائی جاتی ہیں تو اس پر فورا حج کرنا فرض ہو جاتا ہے بلا عذر تاخیر کرنے سے وہ گناہ گار ہوگا 
سب سے پہلی عبادت گاہ : کعبہ سے پہلے دنیا میں کوئی عبادت گاہ نہیں تھی صحیحین میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ زمین پر سب سے پہلی مسجد کونسی تعمیر کی گئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد حرام مسلمانوں کو حکم دیا گیا کی وہ اللہ سے ڈرتےرہیں جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں اور گروہ در گروہ تقسیم نہ ہو جائیں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حق تقوی(ڈرنے کا حق) یہ ہے کہ اللہ تعالی کی اطاعت کی جائے، اس کی نافرمانی نہ کی جائے، اسے یاد رکھا جائے، اسے بھلایا نہ جائے ،اس کا شکر ادا کیا جائے اور کفران نعمت نہ کیا جائے
امت مسلمہ کی فضیلت : امت مسلمہ تمام امتوں سے افضل اور بہترین امت ہے اور اس کے افضل ہونے کی تین وجوہات ہیں 
ایمان لانا : دوسری امتوں کے برعکس یہ ان تمام چیزوں پر ایمان رکھتی ہے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالی نے حکم دیا ہے
امر بالمعروف نہی عن المنکر : علاوہ ازیں  یہ امت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتی ہے 
دینی ذمہ داری :دعوت و تبلیغ اس کی فضیلت کا سبب ہی نہیں اس کی دینی ذمہ داری اور مذہبی فریضہ بھی ہے 
امت میں شمار : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے جس کا دل چاہتا ہے اس کا شمار اس امت مسلمہ میں ہوتو اسے چاہیے کہ وہ اس بارے میں اللہ کی شرط کو پورا کرے آپ کا اشارہ اسی آیت کریمہ کی طرف ہے جس میں ملت اسلامیہ کی مذکورہ بالا تین صفات بیان کی گئی ہے( 110)

فضیلت کی حق دار :  جب تک امت میں یہ تین خصوصیات موجود رہیں گی وہ فضیلت اور اللہ کی خصوصی عنایات کے حقدار رہے گی اور اگر خدانخواستہ امت کا کوئی گروہ یا فرد ان تینوں صفات سے محروم ہوگیا تو وہ فضیلت کا حقدار نہیں رہے گا 

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم نیکی کا حکم دیتے رہو اور برائی سے روکتے رہو ورنہ ممکن ہے کہ اللہ تعالی تمہارے اوپر اپنا عذاب مسلط کر دے پھر  تم اس سے دعائیں مانگو گے مگر تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوگی   ترمذی، ابن ماجہ 

منافقین اور کفار سے دوستی :  منافقین اور کفار سے قلبی دوستی لگانے سے منع کیا گیا ہے اور اس کے چار اسباب بتائے گئے ہیں
۔پہلا یہ کی وہ تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے
 دوسرا یہ کہ وہ دل سے چاہتے ہیں تمہیں دین اور دنیا کے اعتبار سے مصیبت  اور پریشانی لاحق ہو
 تیسرا یہ کہ ان کے چہرے اور ان کی باتوں سے تمہارے لیے بغض وعداوت ظاہر ہوتا ہے
چوتھا یہ کی ان کے دلوں میں جو بغض اور حسد پوشیدہ ہے وہ ان کے علانیہ باتوں سے کہیں زیادہ سخت ہے 
غزوہ بدر: منافقوں کو رازدار اور دلی دوست بنانے سے منع کرنے کے بعد غزوہ بدر کا ذکر ہے جسے تمام اسلامی غزوات کا تاج ہونے کا شرف حاصل ہے اس غزوہ کے شرکاء نے جہاں خود  جرات اور بہادری انوکھی  کی مثالیں قائم کی  ہیں وہیں انہوں نے اللہ تعالی کی  قدرت اور غیبی مدد کے مظاہراپنی آنکھوں سے دیکھے  مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی  تھی اسلحہ بھی نہ ہونے کے برابر تھا  اس غزوہ سے دو بڑے سبق مسلمانوں کو حاصل ہوئے 123
پہلا یہ  کہ  جنگ میں فتح  صرف اسلحہ کی کثرت اور افرادی قوت کی بناء پر حاصل نہیں ہوسکتی بلکہ اس کی بنیادی شرط ایمان و یقین، اتباع اور استقامت ہے 
دوسرا یہ کہ جب تک مسلمان حق پر ثابت قدم رہیں گے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہیں گے اللہ کی مدد حاصل رہے گی اور وہ غالب رہیں گے 

غزوہ احد : غزوہ بدر کا ذکر سورہ آل عمران میں محض حوالے کے طور پر آیا ہے ورنہ اصل میں یہاں غزوہ احد کا ذکر مقصود ہے جو کی پچپن  آیات میں مکمل ہوا ان آیات میں شکست کے اسباب اور حکمتیں بیان کی گئی  ہے تنبیہ بھی ہے فہمائش بھی ہے تنقید بھی ہے تعریف بھی ہے 155 
شکست کا بدلہ : جیسا کہ تاریخ اسلام سے معمولی شد بد رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ غزوہ بدر میں قریش ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوئے تھے انہوں نے اس شکست کا انتقام لینے کے لیے  بھرپور تیاری کے  بعد شوال 3 ھ میں  ابوسفیان کی قیادت  میں مدینہ منورہ پر چڑھائی کر دی 
 قریش کا لشکر : قریش کا لشکر تین ہزار جنگجو وں پر مشتمل تھا دو سو گھوڑ سوار سات سو زرہ پوش، تین ہزار اونٹ،پانچ سو عورتیں بھی ساتھ تھیں ، 
اسلامی لشکر : قریش کے تین ہزار کے لشکر کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد صرف سات سو تھی ،
 جبل الرماۃ  :حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں پچاس تیر اندازوں کا ایک دستہ اپنے عقب کی پہاڑی پر متعین فرما دیا اس پہاڑی کو جبل  الرماۃ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے 
ہدایت : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دستے کو تاکید فرما دی کی فتح ہو یا شکست کسی صورت بھی یہاں سے نہ ہٹیں یہاں تک کہ اگر تم دیکھو کی پرندے ہماری  لاشیں نوچ رہے ہیں تو بھی یہاں سے نہ ہٹنا
جنگ کا آغاز : سپہ سالار اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی مجاہدین کو میدان میں اس طرح پھیلا دیا تھا کہ قریشی لشکر دو بدو مقابلہ کرنے پر مجبور ہوگیا اور اس کے لئے اپنے سواروں کو استعمال کرنا ممکن نہ رہا انفرادی مقابلوں میں قریش کے آٹھ علمبردار قتل ہوگئے جس سے قریشی لشکر کی ہمتیں پست ہوگئیں 
حضرت علی حضرت حمزہ اور حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ جیسے اسلامی شیروں کے حملے اس قدر شدید  تھے کہ مشرکوں کے قدم اکھڑ گئے اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے 
پانسہ پلٹتا ہے :  قریشی لشکر کی شکست دیکھ  کر جبل رماۃ کے تیراندازوں نے بھی اپنی جگہ چھوڑ دی اور دس مجاہدین کے سوا سب مال غنیمت جمع کرنے میں مصروف ہوگئے خالد بن ولید جوکہ اب تک عقب سے حملہ کرنے میں ناکام رہا تھا اسے سنہری موقع ہاتھ آگیا اور اس نے جبل رماۃ پر موجود چند  تیراندازوں  کو روندتے ہوئے زوردار حملہ کر دیا ،اسلامی فوج اس شدید حملے سے غافل تھی ادھر جب بھاگتے ہوئے قریشی پیادے کے سپاہیوں کو اس حملے کی خبر ملی تو وہ بھی پلٹ پڑے اب اسلامی لشکر دوطرفہ حملے کا شکار ہوگیا یوں بظاہر ایک چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے مسلمانوں کی فتح شکست میں تبدیل ہوگئی 
جنگ میں جانی نقصان :  اس لڑائی میں ٢٢ مشرق قتل ہوئے جبکہ دوسری طرف ستر ٧٠ صحابہ شہید ہوئے سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بھی ان میں شامل تھے 
قریشی  لشکراس پوزیشن میں تھا کہ اگر اللہ اس کے دلوں کو پھر نہ دیتا تو وہ اسلامی لشکر کا مکمل خاتمہ کرسکتا تھا لیکن موقع ملنے کے باوجود ادھوری فتح پر ہی اتفاق  کرتے ہوئے مکہ لوٹتا ہوا نظر آیا 
منافقین نے اپنی فطرت کے مطابق وسوسہ اندازی شروع کی کہ اگر مسلمان حق پر ہوتے تو انہیں ہرگز شکست نہ ہوتی اس لیے پچپن آیات میں غزوہ احد پر تبصرہ کرنے کے بعد  پچیس آیات میں منافقین کا تذکرہ  ہے جو فتنہ و فساد کاکوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے
احد کے شہدا  کی تدفین سے فارغ ہونے کے بعد ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کی  ابوسفیان کو روحا کے مقام پر پہنچ کر اپنی اس غلطی کا احساس ہوا ہے  کہ میں جنگ کے اہداف پوری طرح حاصل کیے بغیر لوٹ آیا ہوں اور اپنے ساتھیوں کی ملامت کی وجہ سے وہ دوبارہ مدینہ منورہ پر حملہ آور ہونے کا ارادہ دہ کر رہا ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اس کے ارادے کی خبر سن کر خود ہی قریشی لشکر کے تعاقب میں چل پڑے اور ساتھ ہی یہ شرط بھی لگا دی کہ تعاقب میں صرف انہی مجاہدین کو اجازت ہے جو کل کی جنگ میں شریک تھے آپ اندازہ کیجئے صحابہ کرام  کے ایمان و یقین اور عزم وفا کا کہ ابھی ابھی ستر شہداء کو دفن کر کے  فارغ ہوئے ہی ہیں زخموں اور تھکاوٹ سے نڈھال ہیں  لیکن انہوں نے اپنے محبوب آقا صلّی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہا اور انتہائی سرعت سے سفر کرتے ہوئے مدینہ سے آٹھ میل دور حمرا الاسد کے مقام تک جا پہنچے اللہ تعالی نے مشرکین کے دل میں رعب ڈال دیا اور وہ تیزی سے مکہ کی جانب کوچ کر گئے ، مذکورہ نام کے مناسبت سے اسے غزوہ حمراء الاسد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس غزوہ کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتے ہیں جن لوگوں نے جنگ میں زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر لبیک کہا ان میں سے جو نیک اور  پرہیزگار ہیں ان کے لئے اجر عظیم ہے 172
‌سورہ آل عمران کے آخری رکوع میں اہل ایمان کا ذکر ہے جو ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں ارض و سما کی  تخلیق کے بارے میں غوروفکر کرتے اور اپنے پروردگار سے دعائیں کرتے ہیں 190 195
سورہ کے اختتام پر فلاح کے چار اصول بیان ہوئے ہیں دین پر جمے رہنا مشکلات اور مصائب کی وجہ سے دل چھوٹا نہ کرنا دشمن کے مقابلے میں دشمن سے زیادہ استقامت اور شجاعت کا مظاہرہ کرنا دشمنان دین سے مقابلہ کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھنا ہر حال میں اور ہر جگہ اللہ سے ڈرتے رہنا 200  
سورۃ النساء: سورہ النساء کا تقریبا ایک پاؤ چوتھے پارے میں آیا ہے  سورہ النساء بھی مدنی سورۃ ہے اس میں 176 آیات اور 24 رکوع ہیں اسے سورہ النساء کبریٰ ( بڑی سورۃ النساء) بھی کہا جاتا ہے اس کے مقابلے میں اٹھائیسویں پارہ کی سورۃ طلاق کو سورہ النساء قصریٰ( چھوٹی سورة  النسا) کہا جاتا ہے چونکہ اس صورت میں ایسے احکام کثرت سے بیان ہوئے ہیں جو کہ خواتین سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے اسے سورۃ النساء کا نام دیا گیا ہے 
یتامیٰ کے اموال:
یتیموں کے اموال ان کے حوالے کردیے جائیں اور انہیں ہتھیا نے یا عمدہ مال کو ردی مال سے بدلنے کی ہرگز کوشش نہ کی جائے یہ حکم یتیم بچوں کے بارے میں بھی ہے اور یتیم بچوں کے بارے میں بھی  ہے لیکن عام طور پر یتیم بچیوں کے میراث میں ناجائز تصرف زیادہ کیا جاتا تھا 
 نکاح 
چار عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت ہے مگر شرط یہ ہے کہ شوہر ان کے حقوق ادا کرنے کی سکت رکھتا ہو انکے درمیان عدل و انصاف بھی ملحوظ رکھ سکے اگر شوہر ایسا نہیں کرسکتا تو اسے ایک بیوی پر ہی اکتفا کرنا چاہیے ،
تعداد ازدواج کا رواج تو اسلام سے پہلے بھی تھا مگر وہ رواج کسی قید اور ضابطے کا پابند نہیں تھا نہ تعداد متعین تھی اور نہ ہی بیویوں کے درمیان عدل و مساوات کی کوئی شرط تھی ایک شخص دس دس بلکہ اس سے بھی زیادہ عورتوں سے نکاح کر سکتا تھا پھر ان میں سے جس کے حقوق چاہتا  ادا کرتا اورجسے چاہتا معلق رکھتااسے نہ تو طلاق دی جاتی اور نہ ہی اس کے ازدواجی اور معاشی حقوق ادا کیےجاتے اسے آپ زندہ شوہر والی بیوہ کہہ سکتے ہیں  
اسلام نے تعداد بھی متعین کردی اور حقوق کی ادائیگی کو بھی فرض کر دیا ،

یورپ کی لعنتی تہذیب جو پوری دنیا کو اپنے رنگ میں رنگنا چاہتی ہے وہ قانونی اعتبار سے تو ایک سے زیادہ عورتوں سے تعلق رکھنے کو جائز قرار نہیں دیتی  البتہ غیر قانونی طور پر جتنی بھی عورتوں سے تعلق قائم کر لیا جائے اس پر کوئی قدغن نہیں لگاتی اس افسوسناک حقیقت کا اعتراف  کیسےکیاجائے کی بہت سے نام نہاد مسلمان بھی ذہنی اور عملی طور پر اس لعنتی تہذیب کے ہمنوا دکھائی دیتے ہیں اسلام کا سورج طلوع ہونے سے پہلے  عورت کو میراث میں سے کچھ بھی نہیں دیا جاتا تھا ،

جاہلی اصول : عرب کا مقولہ تھا ہم اسے کیسے مال دیں  جو نہ گھوڑے پر سوار ہو سکے نہ تلوار اٹھا سکے اور نہ ہی دشمن کا مقابلہ کرسکیں اپنے اس جاہلی اصول کی بنیاد پر بچوں اور خواتین کو میراث سے محروم رکھا جاتا تھا 
ظلم کا خاتمہ : اسلام میں اس ظلم کا خاتمہ کیا بچوں اور خواتین کو بھی وراثت کا حق دار قرار دیا عورت کو حصہ دینا اس پر کسی کا احسان نہیں ہے بلکہ اس کا حق اور اس کا فر يضہ ہے جو اسے دیا جانا چاہیے 11۔ 14
محرما
ت عورتوں کے ساتھ حسن سلوک اور میراث میں ان کا حصہ بیان کرنے کے بعد ان خواتین کا تذکرہ ہے جن کے ساتھ قرابت نسبت مصاہرت (سسرالی رشتہ) یا رضاعت  کی وجہ سے نکاح کرنا  احرام ہے 23 24

No comments: