جديد مضامين

Wednesday, May 13, 2020

اللہ کمزوروں کی مدد کیسے کرتا ہے ؟


اللہ کمزوروں کی مدد کیسے کرتا ہے ؟

بیسیویں پارہ کی ابتدا میں قدرت اور وحدانیت کے پانچ دلائل اور براہین ذکر کیے گئے ہیں اور پانچوں استفہامیہ انداز میں مذکور ہیں:
برہان اول:   کیا وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور آسمان سے بارش برسا کر خوبصورت اور تر و تازہ باغات لہلہا ئے ہیں وہ بہتر ہے یا جنہیں یہ شر یک ٹھہراتے ہیں وہ بہتر ہیں۔(۶۰)
برہان ثانی:     وہ محسن حقیقی جس نے انسان کے لیے زمین کو باعث قرار بنایا ہے، اس کے سینے میں نہریں جاری کی ہیں ، اس کی پشت پر بھاری پہاڑ رکھ دیئے ہیں اور میٹھے اور کھارے پانی کو خلط ملط ہونے سے بچانے کے لیے ان کے درمیان رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں ۔ کیا اس محسن اور قادر ذات کو بتوں کی مثل ٹھہرانا کسی صورت بھی قرین انصاف ہے۔(۶۱)
برہان ثالث:   مجبوری ، مظلومیت ، بیماری اور تکلیف کے وقت کسے پکارا جاتا ہے؟ رب العٰلمین کو یا بے جان اصنام کو؟(۶۲)
برہان رابع:  برو بحر کی تاریکیوں میں راستہ کون دکھا تا ہے؟ بارش برسنے سے پہلے ٹھنڈی ہوا میں کون چلاتا ہے؟ رب کریم یاہاتھوں سے گڑھی ہوئی مورتیاں؟ (۶۳) برہان خامس:   انسان کو ابتدا میں کس نے پیدا کیا تھا اور دوبارہ کون پیدا کرے گا؟ رب العٰلمین کے سوا کون ہے جس کا نام پیش کر سکو؟ (۶۴)
قرآن کا عموی اسلوب یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت پر کائناتی مناظر اور نفس انسانی کے حقائق سے استدلال کرتا ہے ، یوں وہ پوری کائنات کو بحث و مناظرہ کا میدان بنالیتا ہے، یہاں تک کہ مخالف بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہو جا تا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں جو یہ سارے کام کر سکے ۔ (۶۰، ۶۴)
عقیدۂ توحید کے بعد دوسرا بنیادی مسئلہ جو مشرکین کی سمجھ میں نہیں آتا تھا وہ دوسری زندگی کا مسئلہ تھا ، وہ کہتے تھے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جب ہم اور ہمارے اباء مٹی ہو جا ئیں تو ہمیں دوبارہ پیدا کردیا جائے۔(۶۷)
ان کے لچر اور کھوکھلے اعتراض کے جواب میں اللہ نے اپنے نبی کوتسلی بھی دی اور مشرکین کو وعید بھی سنائی کہ جو کچھ پہلے مجرموں کے ساتھ ہوا وہ تمہارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے، زمین پر چل پھر کر دیکھ لو کہ ان کے ساتھ کیا ہوا، اس کے بعد قیامت کے بعض مناظر بیان کیے گئے ہیں۔ (۸۳)اور بتایا گیا ہے کہ یہ جہان بس اس وقت تک باقی ہے جب تک صور نہیں پھونک دیا جاتا۔ حضرت اسرائیل علیہ السلام پہلی بار صور پھونکیں گے تو ارض وسما کی ساری مخلوق پر خوف اور ہیبت طاری ہو جائے گی ، دوسری بار صور پھونکیں گے تو کائنات کی ہر چیز کو موت آجائے گی، جب تیسری بار صور پھونکیں گے تو سب قبروں سے زندہ اٹھ کھڑے ہوں گے ، جیسے اس سورت کی ابتدا عظمت قرآن کے بیان سے ہوئی تھی یونہی اس کے اختتام پر بتایا جارہا ہے کہ انسان کی سعادت یہ ہے کہ وہ اس کتاب مقدس کی تعلیمات کو مضبوطی سے تھام لے۔
 سورۃ القصص:   سورۂ قصص مکی ہے، اس میں ۸۸ آیات اور ۹رکوع ہیں ، اس سورت کا زیادہ تر حصہ فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جو معاملہ پیش آیا اس کے بیان پرمشتمل ہے اس سورت کی ابتدا حروف مقطعات میں سے’’ طسم‘‘ کے ساتھ ہوئی ہے اور ان حروف کے متصل بعد قرآن کریم کی حقانیت کا بیان ہے، اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصے کا آغاز ہو جاتا ہے، سورۂ قصص بتاتی ہے کہ فرعون مصر میں بڑا بن بیٹھا تھا، تکبر اور جور و جفا میں حدسے آگے بڑھ گیا تھا، اس نے آج کے سامراج اور استعمار کی طرح مصر والوں کو مختلف گروہوں اور طبقات میں تقسیم کر رکھا تھا تا کہ اس کے اقتدار کوعوام کی منظم اجتماعی طاقت سے کوئی خطرہ لاحق نہ ہو، بنی اسرائیل جو مصر کی بہت بڑی اقلیت بن چکے تھے ، اس کے ظلم و ستم کا خصوصی ہدف تھے، پھر اللہ نے کمزوروں کو اٹھانے اور زیر دستوں کو بالا دست کرنے کا ارادہ کر لیا، انہی حالات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔
آپ کی والدہ پریشان ہوگئیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ فرعون کے کارندوں کو اگر خبر ہوگئی تو وہ نومولو کوز ندہ نہیں چھوڑیں گے ، حکیم وخبیر رب نے ان کی رہنمائی کی ، انہوں نے صندوق بنایا اس میں اپنے لخت جگر کولٹا کر نیل کی لہروں کے حوالے کر دیا، پانی کے دوش پر تیرتے ہوئے صندوق کو فرعون کی خادماؤں میں سے ایک نے اٹھا کر اس کی اہلیہ حضرت آسیہ کی گود میں ڈالا ،فرعون اس معصوم بچے کو بھی ذبح کرنا چاہتا تھا لیکن رب العٰلمین کا فیصلہ کچھ اور تھا اور یقیناً ہوتاوہی ہے جو رب کا فیصلہ ہوتا ہے، انسان کی تدبیر ہیں، سازشیں ،منصوبے اور پروگرام دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، آسیہ نے کچھ اس انداز سے بات کی کہ اس شخص کا دل بھی پسیج گیا جس کے سینے میں لگتا تھا کہ دل نہیں پتھر کا ٹکڑا ہے۔
ادھر فرط غم کی وجہ سے بچے کی والدہ کایہ حال ہو گیا کہ کسی پل سکون و قرار نہیں، تصور ہی تصور میں صندوق کوفرعونیوں کے ہاتھ لگتے اور بچے کے گلے سے خون کا فوارہ پھوٹتے دیکھتی ہیں لیکن رحیم و کریم اللہ نے اس کے اڑتے ہوئے دل کو قرار عطا فرمایا اور وعدہ کیا کہ بچے کو تمہاری ہی گود میں واپس لوٹا دیا جائے گا، یہ معجزہ کیسے ظاہر ہوگا ؟ یہ ناممکن کیسے ممکن بنے گا؟ یہ سوچنا تمہارا نہیں ہمارا کام ہے، بھوکے بچے کو کئی دایوں نے دودھ پلانے کی کوشش کی لیکن وہ کسی کا بھی دودھ پینے پر راضی نہ ہوا، آپ کی بہن اجنبی بن کر یہ منظر دیکھ رہی تھی ۔ اس کے مشور ہ پر بے قرار ماں کو بلایاگیا اور بطور دایہ کے بچے کو اسی گود میں ڈال دیا گیا جو گود اس کے لیے تڑپ رہی تھی فرعون نے اپنے خیال میں ایسا انتظام کیا تھا کہ کوئی اسرائیلی بچہ اپنی ماں کا دودھ بھی نہ پی سکے ، اس سے پہلے ہی اسے تہ تیغ کردیا جائے اور اللہ کا فیصلہ یہ تھا کہ وہ بچہ جسے اپنے وقت کے سب سے بڑے ظالم اقتدار کے لیے خطرہ بننا تھا اس کی پرورش ، اسی اقتدار کے زیر سایہ اور صاحب اقتدار کے نان نفقہ سے ہو، پھر وہی ہو کر ر ہا جو سچے رب کا فیصلہ تھا ، خدائی کے جھوٹے دعوے دار کی تدبیر نا کا م ہو کر رہی ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جوانی کی حدود میں قدم رکھا تو آپ کے ہاتھوں قبطی کا خون ہو گیا، ایک مرد وفا کے مشورہ پر آپ مصر سے نکل گئے اور مد ین کی راہ لی، یہاں نہ جان نہ پہچان ، نہ ٹھکانہ نہ ذریعہ معاش ، دعا کے لیے اسی کے سامنے ہاتھ اٹھادیے، جس نے زہریلے سانپ اور آدم خور بھیڑیے کے ہاتھوں پرورش کروائی تھی ، کہا تو بس یہ کہ یا رب ! میں تیری عطا کا فقیر اور محتاج ہوں ، آپ کی یہ دعا در یا بہ کوزہ کی مثال تھی۔
اس میں وہ سب بھی آ گیا جس کا انسان محتاج ہوسکتا ہے سائے کا محتاج ہے تو دھوپ کا بھی محتاج ہے، بیداری کا محتاج ہے تو نیند کا بھی محتاج ہے ۔ ایک درخت کے سائے تلے بیٹھے تھے کہ دو با حیا اور پردہ دار بچیاں بکریوں کو ہنکاتے ہوئے آ گئیں ، ان کی بکریوں کو از راہ احسان کنویںسے پانی کھینچ کر پلا دیا، بچیاں سمجھ دار تھیں، اپنے والد حضرت شعیب علیہ السلام کے سامنے جا کر اس اجنبی مسافر کی قوت و طاقت اور امانت و دیانت کی تعریف کی ۔ انہی میں سے ایک بچی کے ذریعے بلائے گئے ، نہ صرف باعزت وراحت ٹھکا نہ میسر آ گیا بلکہ چند شرائط کے تحت رشتے کی بھی پیشکش ہوگئی ، شادی کے بعد اہلیہ کو ساتھ لیے مصر واپس جارہے تھے کہ ٹھٹھرتے ہوئے جنگل میں آگ بھڑکتے ہوئے دیکھی، آگ لینے کے لیے آگے بڑھے تو نبوت سے نواز دیے گئے ، نبوت عطا کرنے والے نے عصا اور ید بیضا کا معجزہ دے کر اسی کے سامنے کلمہ حق کہنے کا حکم دیا جس نے اللہ کی زمین اللہ کے بندوں پر تنگ کر رہی تھی اور جو اپنے سوا کسی کو بڑا ماننے کے لیے تیار نہ تھا کلمہ حق کہہ دیا گیا۔ فرعون نے نہ ماننا تھا نہ مانا، اللہ نے اسے اٹھایا اور فوج کے پروں سمیت مادی ترقی کے اس سلوگن کو دریا کی طوفانی موجوں کے حوالے کر دیا۔ رہے نام اللہ کا!
یہ قصہ جس کے نمایاں کردارتین ہیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام، بنی اسرائیل اور فرعون ! اور جس کا کچھ حصہ یہاں اور بقیہ جزئیات پورے قرآن میں مذکور ہیں اس قصے سے مجموعی طور پر بصیر تیں اور عبرتیں حاصل ہوتی ہیں وہ مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فقص القرآن میں ذکر فرمائی ہیں ہم ان کا خلاصہ اپنے الفاظ میں افادۂ عام کے لیے تحریر کیے دیتے ہیں ۔
۱]   اگر انسان مصائب و آلام پر صبر کرے تو دنیا اور آخرت میں اس کے اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں ۔
۲]  جو شخص اپنے معاملات میں الله پر بھروسہ رکھتا ہو، الله تعالیٰ اس کی مشکلات ضرور آسان کر دیتا ہے۔
۳]  جس کا معاملہ حق کے ساتھ عشق تک پہنچ جاتا ہے اس کے لیے باطل کی بڑی سے بڑی طاقت بھی ہیچ ہو کر رہ جاتی ہے۔
۴]  اگر کوئی بندہ حق کا پر چم لے کر پوری استقامت کے ساتھ کھڑا ہو جائے تو دشمنوں ہی کے گروہ سے اس کے حمایتی پیدا کر دیے جاتے ہیں۔
۵]  جس کے دل میں ایمان پیوست ہو جائے وہ ایمان کی خاطر سب کچھ یہاں تک کہ نقد جاں بھی لٹانے کے لیے تیار ہو جا تا ہے۔
۶]  غلامی کا سب سے بڑا اثر یہ ہوتا ہے کہ ہمت اور عزم کی روح سے انسان محروم ہو جاتا ہے (اسی لیے بنی اسرائیل نے ارض مقدس میں داخل ہونے سے انکار کر دیا تھا)۔
۷]  وراثت زمین اسی قوم کا حق ہے جو میدان جد و جہد میں ثابت قدم رہتی ہے۔
۸]  باطل کی طاقت اتنی ہی زبردست کیوں نہ ہو، بالآ خر اس کو نا مرادی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔
۹]  اللہ کی عادت یہ ہے کہ جن قوموں کو ذلیل اور حقیر سمجھا جاتا ہے ایک دن آتا ہے کہ اللہ انہی کو زمین کا وارث بنادیتا ہے۔
۱۰]  جو شخص یا جماعت جان بوجھ کر قبول حق سے سرشی کرے، اللہ اس سے قبول حق کی استعداد چھین لیتا ہے ۔ فرعون اور اس کے حواریوں کے ساتھ یہی ہوا۔
۱۱]  یہ بہت بڑی گمراہی ہے کہ انسان کو حق کی اتباع کی بدولت کامیابی حاصل ہو جائے تو وہ خود ہی حق سے روگردانی شروع کر دے۔ بنی اسرائیل نے یہی کچھ کیا۔
۱۲]   ایک بہت بڑی ضلالت یہ ہے کہ انسان حق کی اتباع کی بجائے حق کو اپنی خواہشات کے تابع کرنا شروع کر دے۔ یوم السبت میں شکار کی ممانعت کے باوجود اسرائیلی حیلہ بازی کرتے رہے۔
۱۳]  کوئی حق کو قبول کرے یا نہ کرے ، داعی کا فرض ہے کہ ووفر یضۂ دعوت ادا کرتا رہے ۔ بعض اہل حق ، سبت کی بے حرمتی سے آخر وقت تک منع کرتے رہے۔
۱۴]  ظالم حکمران، قوم کی بدعملیوں کے نتیجے میں اس پر مسلط کیے جاتے ہیں ۔ 
۱۵]  اپنی قوم کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلا نا انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ اور فرعون کا انجام بیان کرنے کے بعد مختلف آیات میں ابل مکہ کو تنبیہ کی گئی ہے۔ (۴۷)
اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں کی تعریف کی گئی ہے۔ (۵۲۔۵۵) 
مشرکین کی جہالتوں اور حماقتوں کا ذکر ہے۔ (۵۷) 
دنیائے فانی کے مال و متاع سے دھوکا کھانے سے بچنے کی تلقین ہے۔ (۶۰،۶۱) 
قیامت کے مناظر میں سے بعض مناظر کی منظر کشی ہے۔ (۶۲، ۶۶) 
اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور اختیار کا بیان ہے۔ (۶۸)
ان مضامین کے بعد فرعون جیسے ایک دوسرے متکبر اور سرکش انسان کا تذکرہ ہے، اس کا نام قارون تھا، خاندانی اعتبار سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قرابت دار تھا، اکثر علماء نے اسے آپ کا چچا زاد قرار دیا ہے ۔ اپنے وقت کا ہی نہیں شاید آج کے بین الاقوامی سرمایہ داروں میں سے بھی سب سے بڑا سرمایہ دار ! اس کے خزانے نہیں ، خزانوں کی چابیاں اٹھانے کے لیے طاقتور مردوںکی ایک بڑی جماعت کی ضرورت پیش آئی تھی، دولت کی بہتات نے اسے خودسراور مغرور بنادیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے سمجھایا کہ مال و دولت پرمت اِتر او، اللہ اِترانے والوں کو پسند نہیں کرتا، اللہ نے جو کچھ دیا ہے اسے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے خرچ کرو، جیسے اللہ نے تمہارے ساتھ احسان کیا ہے اسی طرح تم بھی اللہ کے بندوں کے ساتھ احسان کرو ، نہ کسی پر ظلم کرو اور نہ ہی روپیہ پیسہ ناجائز مصارف میں خرچ کرو لیکن یہ ساری فہمائش اس کے سر کے اوپر سے گزرگئی اور اس نے وہی جواب دیا جو ہراحمق، مغرور سرمایہ دار دیا کرتا ہے اس نے کہا: ’’مجھے یہ مال میری دانش کے زور پر ملا ہے‘‘۔ (۷۸)
حب دنیا میں ڈوبے ہوئے لوگ جب قارون کی شان و شوکت دیکھتے تھے تو ان کے منھ میں پانی آجاتا تھا اور وہ اسی جیسا بننے کی تمنا کرتے تھے، لیکن پھر یوں ہوا کہ اللہ نے اسے اس کے گھر سمیت زمین میں دھنسا دیا، عذاب الٰہی کی اس زندہ ه گرفت نے دنیا پرستوں کی آنکھیں کھول دیں اور انہوں نے اعتراف کیا کہ ’’اگر اللہ ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسادیتا‘‘۔
قارون کے واقعہ کے اختتام پر قرآن ایک ایسی نصیحت کرتا ہے جو ہر مسلمان کو اپنے پلے باندھ لینی چاہیے، ارشاد ہوتا ہے: ’’آخرت کا گھر ہم نے ان لوگوں کے لیے تیار کر رکھا ہے جو ملک میں بڑا بننے اور فساد کا ارادہ نہیں رکھتے اور اچھاانجام کو پرہیز گاروں ہی کا ہے‘‘۔(۸۳)
آج بڑا بننے کی بیماری عوام میں نہیں بلکہ خواص میں بھی عام ہو چکی ہے، جو لوگ اس بیماری میں مبتلا ہیں انہیں یہ آیت ہر وقت سامنے رکھنی چاہیے )۔
اس سورت کی آخری آیت میں ہے کہ: ’’اللہ کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے، اس کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جا ؤگے‘‘۔
فرعون جیسے بادشاہ اور قارون جیسے سرمایہ دار کا عبرتناک انجام اس دعویٰ کی دلیل ہے کہ: ’’اللہ کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے‘‘۔
 سورۃ العنکبوت:   سورۂ عنکبوت مکی ہے اس میں ۶۹ آیات اور ۷ رکوع ہیں، اس سورت کے مضامین بھی دوسری مکی سورتوں جیسے ہیں اس سورت کا موضوع ” سنت ابتلاء‘‘ ہے یعنی اس زندگی میں ابتلا ئیں اور آزمائشیں ضرور آتی ہیں ۔ مکی زندگی میں مسلمانوں کوطرح طرح کے مظالم اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا، جب جور و جفا کے بادل پیہم برس کر بھی نہ تھمتے توبتقاضائے بشریت بعض لوگ گھبرا اٹھتے تھے، انہیں سمجھانے کے لیے فرمایا گیا کہ ایمان والوں کو آزمانا اللہ تعالیٰ کی پرانی سنت اور دستور ہے تا کہ سچے اور جھوٹے ، مومن اور منافق میں امتیاز ہو جائے ، صاحب ایمان بڑے بڑے حوادث کے سامنے استقامت دکھاتا ہے جبکہ زبانی کلامی ایمان کے دعویٰ کرنے والوں کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں اور ان میں سے بعض دنیوی تکلیفوں سے بچنے کے لیے معاذ اللہ مرتد ہوجاتے ہیں، ارشاد ہوتا ہے: ’’اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ، جب انہیں اللہ کی راہ میں کوئی ایذاء پہنچتی ہے تو لوگوں کی ایذا کو یوں سمجھتے ہیں جیسے الله کا عذاب ! اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے مدد پہنچے تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ تھے، کیا اللہ نہیں جانتا جو کچھ اہل عالم کے سینوں میں ہے‘‘۔ (۱۰)
ایمان والوں میں سے سب سے زیادہ اور سخت آزمائشیں اللہ کے نبیوں پر آئیں اس لیے اس سورت میں حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہم السلام کے قصے اجمالی طور پر ذکر کیے گئے ہیں تا کہ ایمان والے جان لیں کہ اہل حق پر ابتلائیں تو آتی ہیں لیکن یہ ابتلائیں دائمی نہیں ہوتیں، انجام کار اہل حق کو غلبہ نصیب ہوتا ہے اور ان کے مخالفین کو ہلاک کر دیا جا تا ہے۔
سورت کے اختتام پر مشرکین کے بتوں کو’’ عنکبوت‘‘ ( مکڑی ) کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جیسا کہ اس کا جالا از حد کمزور ہوتا ہے نہ سردی سے بچا سکتا ہے نہ گرمی سے اور نہ ہی تیز ہواؤں کا مقابلہ کر سکتا ہے، یونہی مشرکوں کے بت کمزور ہیں ، نہ انہیں نقصان سے بچا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔

No comments: