جديد مضامين

Monday, May 18, 2020

خلاصۃ القرآن یعنی آج رات کی تراویح : چوبیسواں پارہ چوبییسویں تراویح


خلاصۃ القرآن یعنی آج رات کی تراویح : چوبیسواں پارہ چوبییسویں تراویح
پارہ 24
سورۂ زمر کا جو حصہ چوبیسویں پارہ میں آیا ہے، اس کے مضامین کی چند جھلکیاں پیش خدمت ہیں:
۱]  قرآن، دنیا کے سارے انسانوں کو دو فریقوں میں تقسیم کرتا ہے، ایک فریق کافروں کا ہے جو اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں اور قرآن اور رسول کی تکذیب کرتے ہیں ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے، دوسرا فریق انبیاء اور ان کی اتباع کرنے والوں کا ہے ان کی جزاء جنت ہے۔ (۳۳-۳۴)
۲]  بندوں پر اللہ کی خصوصی رحمت اور اس کے فضل و احسان میں سے یہ بھی ہے کہ وہ خطا کاروں ، مجرموں اور کافروں کے لیے رحمت اور توبہ کا دروازہ کھلا رکھتا ہے اور انہیں خود توبہ اور رجوع الی اللہ کی دعوت دیتا رہتا ہے، وہ گناہگاروں کو مایوس نہیں کرتا بلکہ ان کے دل میں امید کا چراغ روشن کرتا ہے، اللہ نے اپنے بندوں کو علم دیا ہے: ’’فرما دیجیے اے میرے بندو! جنہوں نے اپنے اوپر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ، بے شک اللہ سارے گناہ معاف کر دے گا۔ یقیناً وہ بے حد بخشنے والا، انتہائی مہربان ہے‘‘۔
ارشاد ہوتا ہے: ’’اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس کے سامنے جھک جاؤقبل اس کے کہ تم پر عذاب آ جائے پھر تمہاری مدد نہیں کی جا سکے گی‘‘۔(۵۳-۵۵)
۳]  بندوں کو تو یہ اور انابت کی دعوت دینے کے بعد یہ سورت قیامت کے مختلف مناظر بیان کرتی ہے، جب اللہ پر جھوٹ بولنے والوں کے چہرے سیاہ ہوں گے، صور پھونکا جائے گا، سب اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، زندگی کا حساب ہوگا پھر کافروں کو کھینچ کھینچ کر دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا اور اہل تقو یٰ کو جنت میں داخل ہونے کی دعوت دی جائے گی ،فر شتے ان کا استقبال کرتے ہوئے انہیں سلام کہیں گے اور وہ اللہ کی حمد کرتے ہوئے اپنے مسکن میں تشریف فرما ہوں گے ۔ (۶۰، ۷۳)
سورۂ غافر:
سورۂ غافر مکی ہے، اس میں۸۲ آیات اور ۹رکوع ہیں، سورۂ غافر کو سورۂ غافر کو سورۂ مومن بھی کہا جاتا ہے، اس کا مطالعہ سے انسان اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اس سورت کا موضوع ’’حق وباطل اور ہدایت و ضلالت کے درمیان معرکہ‘‘ کا بیان ہے۔ اس سورت کی ابتدا آںحضورﷺ کے دائمی معجزہ قرآن کے تذکرہ سے ہوئی ہے جوکئی صدیاں گزرنے کے باوجود آپ کی نبوت کی صداقت کا گواہ ہے، اللہ کے علوم و معارف پر قدامت اور کہنگی کا کوئی اثر نہیں ہے، وہ آج بھی تازہ اور زندہ کلام ہے، سائنسی ترقیاں اور جدید تحقیقات اس کے بیان کردہ علمی حقائق کی تصدیق کرتی ہیں ۔ جوں جوں انسان کے علم میں اضافہ ہوگا، توں توں وہ قرآن کے ربانی کلام اور معجزہ ہونے کا اقرار کرتا جائے گا ، شرط بس یہ ہے کہ اسے قلب سلیم عطا ہوا اور وہ گروہی تعصب اور حاسدانہ بغض و عناد سے بالا تر ہو کر سوچے، قرآن کریم کے وحی الٰہی ہونے کا ذکر کرنے کے بعد ایک ہی آیت میں الله کی چار صفات بیان کی گئی ہیں یعنی وہ گناہ معاف کرنے والا تو بہ قبول کرنے والا، تخت سزا دینے والا ، بندوں پرفضل واحسان کرنے والا ہے۔(۳)
یہ سورت جن دوسرے موضوعات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
۱]  وہ فرشتے جنہیں ’’حملۃ العش‘‘ ( عش کو اٹھانے والے) ہونے کا شرف حاصل ہے، وہ اور جو عرش کا احاطہ کیے ہوئے ہیں یہ سب اللہ کی حمد وتسبیح کے ساتھ ساتھ اہل ایمان کے لیے دعائیں کرتے ہیں ، وہ عرض کرتے ہیں: ’’اے ہمارے رب! تیری رحمت اور علم ہر چیز کو اپنے احاطہ میں لیے ہوئے ہے پس تو مغفرت فرما دے ان لوگوں کی جو توبہ کرتے ہیں اور تیری راہ کی اتباع کرتے ہیں اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچالے، اے ہمارے رب! تو انہیں بھی ان دائمی باغات میں داخل فرمادے جن کا تو نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے اور ان کے آبا ء، ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جو نیک ہیں انہیں بھی داخل فرمادے، بے شک تو ہی غالب اور حکمت والا ہے اور ان کو عذابوں سے بچائے رکھ اور جسے تو نے اس دن عذابوں سے بچالیا توبے شک تو نے اس پر مہربانی فرمائی اور یہی بڑی کامیائی ہے‘‘۔(۷، ۸)
۲]  قرآن کا جو ایک خاص اسلوب ہے کہ ترغیب کے بعدتر ہیب، جنت کے بعد جہنم اور اہل ایمان کے بعد اہل کفر کا تذکرہ کرتا ہے تو یہاں بھی ایسا ہی ہے، پہلے یہ بتایا کہ مقرب فرشتے ایمان والوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں، اب کفار اور فجار کا حال بتایا جارہا ہے کہ جب انہیں بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل کر دیا جائے گا اور وہ اپنے اعمال بد کا انجام دیکھ لیں گے تو اپنے آپ سے سخت نفرت کریں گے اور اپنے آپ کو برا بھلا کہتے ہوئے معذرت پیش کریں گے ، دنیاوالی اکڑوں کو بھول کر بڑی ذلت اور انکساری کے ساتھ آگ کے شعلوں سے نکالنے کی درخواست کر دیںگے۔ لیکن ان کی یہ درخواست رد کر دی جائے گی اور جہنم کے دارو غے ان سے کہیں گے کہ جیسے آج عذاب کی شدت دیکھنے کے بعد تم اپنے آپ سے نفرت کا اظہار کر رہے ہو اس سے کہیں زیادہ نفرت اللہ تعالیٰ اس وقت تم سے کرتا تھا جب تمہیں ایمان کی دعوت دی جاتی تھی لیکن تم تکبر اور سرکشی کرتے ہوئے کفر کرتے تھے اور ایمان قبول کرنے سے انکار کر دیتے تھے۔ (۱۰،۱۲)یہ قیامت کا دن تو بندوں کے درمیان عدل اور انصاف کا دن ہے آج ہر شخص کو اس کے نیک یابد عمل کا بدلہ مل کر رہے گا‘‘۔
۳]  کفار پر اللہ کے عذاب کا تذکرہ کرتے ہوئے، ظلم اور سرکشی کے مشہور کردار فرعون کا قصہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جو پیش آیا تھا، یہ حقیقت سمجھانے کے لیے بیان کیا جارہا ہے کہ ظالموں اور متکبروں کا انجام کبھی بھی اچھا نہیں ہوتا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ تو کئی سورتوں میں آیا ہے مگر سورۂ غافر میں اس کے ضمن میں ایک مومن بندہ کا خاص طور پر تذکرہ کیا گیا ہے، اسی کے تذکرہ کی وجہ سے اس سورت کا دوسرا نام ’’سورۂ مومن‘‘ بھی ہے یہ شخص خفیہ طور پر ایمان قبول کر چکا تھا، جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قتل کے مشورے ہونے لگے تو یہ صاحب ایمان انسان آپ کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ کیا تم ایک شخص کا خون صرف اس لیے بہانا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے، جب کہ وہ تمہارے پاس واضح دلائل اور روشن معجزات بھی لے کر آیا ہے۔ لیکن فرعون اپنی بات پر اڑارہا اور اس نے واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ صرف میری رائے ہی درست ہے، اور میرا سوچا سمجھا فیصلہ یہی ہے کہ موسیٰ کوقتل کر دیا جائے ، اس سے کم درجہ کی کوئی بات قابل قبول نہیں۔
(قارئین کرام!!! اگر آپ اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں تو اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ آج کے ڈکٹیٹروں کا مزاج بھی وہی ہے جوکل کے ڈکٹیٹروں کا تھا، وہ اپنے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات کو حرف آخر سمجھتے ہیں، پوری انسانیت ایسے ہی ڈکٹیٹروں کے نرغے میں ہے اور خود امت مسلمہ کی گردنوں پر بھی ایسے ہی خود سر اور متکبر مسلط ہیں جو اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں اور کسی بڑے بڑے عالم کی رائے کو بھی خاطر میں نہیں لاتے)۔
’’رجل مومن‘‘ کی تقریر اس قدر موثرتھی کہ فرعون کو خطرہ لاحق ہو گیا کہ میرے در باری اس کی دل سے نکلی ہوئی باتوں سے متأثر نہ ہو جائیں ، اس نے پہلے تو اپناقطعی فیصلہ سنا دیا کہ اب موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام ) دونوں کا وجود برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پھر بندۂ مومن کی تقریر دل پذ یر کو مذاق ہی مذاق میں اڑانے کے لیے اپنے وزیر ہامان کو اس نے حکم دیا کہ میرے لیے ایک بلند و بالا عمارت تعمیر کرو تا کہ میں دیکھوں تو سہی کہ موسیٰ کا خدا کہاں ہے؟ (یہی چالاک حکمران کا وطیرہ ہوتاہے، وہ کبھی دھمکی کی زبان استعمال کرتے ہیں اور کبھی مخالف کی رائے کو استہزاء کا نشانہ بنا کر اس کی اہمیت لوگوں کی نظروں سے گرادیتے ہیں) فرعون کے تمسخر اور استہزاء کے باوجود بندۂ مومن نے اپنا بیان جاری رکھا لیکن ظاہر ہے فرعون نے نہ خود ایمان پر آمادہ ہو نہ اپنے مقربین کو اس طرف آنے دیا، نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اللہ کا بندہ عذاب سے بچ گیا جبکہ فرعون اور اس کے انصار واعوان عذاب کی لپیٹ میں آ گئے۔ یہ عذاب، قبر میں بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گا اورصبح شام ان پر پیش کیا جاتا رہے گا، آخرت میں تو انہیں شدید ترین عذاب کا سامنا کرنا ہی پڑے گا ۔ (۲۸۔۴۶)
۴]  فرعون جیسے ناشکروں، متکبر وں اور ظالموں کا عبرت آموز تذکرہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی چند نعمتوں کا تذکرہ کرتا ہے، اللہ نے سکون کے لیے رات اور دیکھنے اور معاش کے لیے دن بنایا ہے، زمین سکون اور قرار کے لیے اور آسمان کو چھت بنایا ہے، حسین صورتوں سے نوازا ہے اور رزق کے طور پر پاکیزہ چیزیں عطا فرمائی ہیں، یہ سب اس کی نعمتیں ہیں لیکن انسان ان نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا، جن مقاصد کے لیے اللہ نے نعمتیں عطا کی ہیں انہیں ان مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرتا اور نہ ہی ان میں غور وفکر کر کے اپنے خالق کو پہچانتا ہے (۶۱، ۶۵)


اگر انسان خارجی کائنات پر غور وفکر کرنے کی بجائے خود اپنی تخلیق ہی میں غور وفکر کر لے، تو وہ اللہ کو پہچان سکتا ہے، انسان اپنی تخلیق میں مختلف مراحل سے گزرتا ہے، ان میں سے ہر مرحلہ ہی بڑا عجیب اور حیران کن ہے، بے جان مٹی سے اس کی ابتدا ہوتی ہے پھر نطفہ ، جما ہوا خون ، گوشت کی بوٹی، ہڈیاں، ڈھانچہ ، جانِ عقل، سمع ، بصر، پورے جسم میں ہزاروں میل لمبی بھی پھیلی ہوئی رگوں کا جال، خون کی گردش، دل کی حرکت ، تین سو ساٹھ جوڑ پیدا ہوتا ہے تو از حد کمزور اور عا جز ، نہ طاقت گفتار، نہ تمیز و عرفان ، پھر اسے اللہ عقل وفہم اور قوت و ادراک عطا کرتا ہے، بچپن کے بعد جوانی کی حدود میں قدم رکھتا ہے، پھر بڑھاپا اسے آلیتا ہے اور انسان ویسے ہی ہو جاتا ہے جیسے بچپن میں تھا، نظر کمز ورعقل میں خلل، اعضا ء میں ضعف ، حواس میں تعطل، چلنے پھرنے اور اٹھنے بیٹھنے سے عاجز ، یہاں تک کہ موت آ جاتی ہے ، موت بھی اس کی تخلیق کے مراحل میں سے ایک مرحلہ ہے، موت کے بعد دوبارہ زندگی دی جاتی ہے تا کہ اس کی تخلیق کے بقیہ مراحل کی بھی تعمیل ہو جائے۔ ایک طرف انسانی زندگی کا یہ عجو بہ کایہ کاریاں اور قدرت الٰہیہ کی زندہ نشانیاں ہیں تو دوسری طرف آیات الٰہیہ میں جھگڑا کرنے والوں کا انکار اور اعراض جو یہ بھول ہی جاتے ہیں کہ ہم منی اور نطفہ سے بڑھاپے اور موت تک کن مراحل سے گزرتے ہیں اور کون ہے جو ان سارے مراحل کی نگرانی کرتاہے اسی لیے انسان کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوتا ہے: ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں ، یہ کہاں پھرے جارہے ہیں‘‘۔(۶۷، ۶۹)
سورت کے اختتام پر پہلے حضورﷺ کو صبر کی تلقین کی گئی ہے، اس کے بعد جھٹلانے والوں کو زمین پر چل پھر کر ہلاک شدہ اقوام کا انجام اور ان کے آثار دیکھنے کی تلقین کی گئی ہے، ان اقوام کو بھی اپنی ظاہری قوت اور مادی وسائل پر بڑا ناز تھا۔ انہوں نے انبیاء کے معجزات اور صداقت کی واضح نشانیوں کو جھٹلا دیا، پھر جب انہوں نے اللہ کا عذاب اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھ لیا تو توحید کا اقرار اور بت پرستی سے بیزاری کا اظہار کیا لیکن یہ اقرار اور اظہاران کے کسی کام نہ آ یا اس لیے کہ اللہ کا دستور مستکبروں اور سرکشوں کے بارے میں یہ ہے کہ عذاب کا مشاہدہ کر لینے کے بعد ان کا ایمان قبول نہیں کیا جا تا۔(۷۵، ۷۷)
سورۂ ة فصلت:
سورہ فصلت مکی ہے، اس میں ۵۴ آیات اور۶ رکوع ہیں ۔ اس سورت میں چونکہ سجدہ تلاوت آیا ہے اس لیے اسے حم سجدہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس سورت کا آغاز بھی حروف مقطعات میں سے ’’حم‘‘ کے ساتھ ہوا ہے اور ایسی سورتوں کی تعداد سات ہے۔ انہیں اصلاح میں ’’حوامیم سبعہ‘‘اور ’’آل حم‘‘ بھی کہا جاتا ہے، یہ سورتیں جس ترتیب سے مصحف میں موجود ہیں ، اسی ترتیب سے نازل ہوئی تھیں، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سورتوں کو قرآن کا حسن قرار دیا ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ہر چیز کا مغز ہوتا ہے اور قرآن کا مغز ’’آل حم‘‘ ہیں۔ ’’حوامیم سبعہ‘‘ درج ذیل ہیں: 
مومن،حم سجدہ ، شوریٰ ، زخرف ، دخان ، جاثیہ اور احقاف ۔
یہ سورت اپنا آغاز قرآن عظیم کے ذکر سے کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ یہ کتاب اس ہستی کی طرف سے نازل ہوئی ہے جو بے حد مہربان اور انتہائی رحم کرنے والا ہے، اس سورت کے احکام اور معانی مضامین اور مقاصد،قصص اور مواعظ ،احکام اور امثال، وعدے اور وعیدیں سب بالکل واضح ہیں ان میں کوئی ابہام اور کوئی اخفاء نہیں ۔ لیکن اس وضاحت اور بیان کے باوجود بہت سارے لوگ اس سے اعراض کرتے ہیں اور وہ بد بخت اپنے آپ کو خود ہی اندھوں اور بہروں کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں ، کانوں میں ڈاٹ ہیں اور اے نبی! ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ حائل ہے، لہٰذا نہ تو ہم تمہاری دعوت سمجھتے ہیں، نہ سنتے ہیں اور نہ ہی تجھے دیکھ پاتے ہیں ، مشرکین کے ہذیان اور یا وہ گوئی کے جواب میں اللہ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ آپ اپنی شخصیت کا تعارف اور اپنی بعث کا مقصد بتادیجیے ، آپ فرما د یجیے! مجھے فرشتہ یا کوئی دوسری مخلوق ہونے کا دعویٰ نہیں، میں بشری تقاضے اور ضروریات رکھنے والا تمہارے جیسا انسان ہوں لیکن الله تعالیٰ نے مجھے وحی اور رسالت کے ساتھ امتیاز بخشا ہے۔ (۲، ۶)

اس کے بعد یہ سورت مشرکین کے کفر و شرک پرتعجب کا اظبار کرتی ہے جو ان کی عظمت و جلال کے آثار کا مشاہدہ کرنے کے باوجود ان کا انکار کرتے ہیں ، ان آثار و براہین کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ عاد وثمود کی تکذیب وانکار اور ان کا انجام ذکر کیا گیا ہے، قوم عاد کو حیرت انگیز جسمانی قوت عطا کی گئی تھی ، ان کی طاقت کا یہ حال تھا کہ ان کا ایک شخص پہاڑ سے چٹان توڑ کر الگ کر دیتا تھا، چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اس قوت و طاقت کی عطا پر الله کا شکر ادا کرتے لیکن وہ شکر کی بجائے گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے اور فخریہ طور پر چیلنج کرنے لگے کہ: ’’ہے کوئی جو ہم سے زیادہ طاقتور ہو‘‘۔ (۱۵)
ان کی حماقت اور نادانی پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے انہیں جواب دیا گیا کہ کیا تم اس ذات کی قوت و طاقت سے غافل ہو گئے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے؟ کیا تم اس حقیقت کو بھول گئے ہو کہ تمہاری طاقت ، باری تعالیٰ کی عظمت و کبریائی اور قوت و جلال کے سامنے کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتی ۔ پھر یوں ہوا کہ ان پر تیز اور ٹھنڈی ہوا کا عذاب مسلط کر دیا گیا، مسلسل سات دن تک ہوا چلی اور ہوا نے انہیں اٹھا کر یوں پٹخا گویا وہ بے حیثیت کیڑے مکوڑے اور خس و خاشاک ہوں۔۔۔ قوم ثمود نے بھی ایمان پر کفر کو، ہدایت پر ضلالت کو اور بصارت پر اندھے پن کو ترجیح دی تھی، ایک دن جب کہ وہ اپنی عیاشیوں میں مست تھے ایک چنگھاڑ آئی جس سے کانوں کے پردے پھٹ گئے اور زلزلہ آیا جس سے سب کچھ زیروز بر ہو کر رہ گیا ۔ (۱۹۔ ۱۸)
عاد و ثمود جیسی سرکش قوموں پر دنیاوی عذاب کا تذکرہ کرنے کے بعد اخروی عذاب کا تذکرہ ہے جب اللہ کے دشمنوں کو اللہ کے حضور جمع کیا جائے گا اور وہاں ان کے اعضاء یہاں تک کہ ان کے جسم کی کھال ان کے خلاف گواہی دے گی ۔ (۱۹، ۲۲)
یہ سورت متکبر ین اور منکر ین کے مقابلہ میں مخلص مومنین کا تعارف کراتی ہے جن کا نمایاں ترین وصف ایمان پر استقامت ہے، جب انہوں نے ایک بار اللہ کو اپنا رب کہہ دیا تو اب وہ زندگی بھر اپنے اس قول و قرار پر جم گئے،یہی استقامت ہی ولایت ہے اور استقامت سب کرامتوں سے بڑی کرامت ہے، اصحاب استقامت کو جنت میں ٹھکانہ دے کر کہا جائے گا کہ تم یہاں من چاہی زندگی گزارو، یہ بدلہ ہے اس کا کہ تم دنیا میں خدا چاہی زندگی گزار چکے ہو۔ (۳۰۔۳۱)
اصحاب استقامت میں سے بھی اللہ کے نزدیک سب سے معزز اور قابل تحسین وہ لوگ ہیں جو اخلاص اور حکمت کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اس راہ کی مشکلات کو رضا الٰہی کے حصول کے لیے برداشت کرتے ہیں۔ (۳۳۔۳۵) اس پارہ کا اختتام رب تعالیٰ کے عدل کے بیان پر ہوتا ہے، فرمایا گیا: ’’جو نیک عمل کرتا ہے سو وہ اپنے لیے کرتا ہے اور جو برے کام کرتا ہے سوان کا وبال اسی پر پڑے گا اور تیرا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے‘‘۔(۴۶)


مصنف مولانا اسلم شیخوپوری شہید رحمۃاللہ علیہ


No comments: