جديد مضامين

Thursday, May 21, 2020

قرآن ساری آسمانی کتابوں کے مضامین کا محافظ جامع اور ناسخ ہے


قرآن ساری آسمانی کتابوں کے مضامین کا محافظ جامع اور ناسخ ہے
مولانا اسلم شیخوپوری شہید رحمۃاللہ علیہ
پارہ27:-
چھبیسویں پارہ کے آخر میں ان فرشتوں کا ذکر تھا جنہیں حضرت ابراہیم خلیل علیہ السلام عام مہمان سمجھے تھے، جب آپ پر ان کی حقیقت کھلی اور پتہ چلا کہ یہ فرشتے ہیں تو آپ نے ان
سے دریافت فرمایا کہ کسی مہم پر آئے ہو، انہوں نے بتایا کہ ہمیں قوم لوط پر پتھروں کی بارش برسانے اور انہیں تباہ کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ قوم لوط کے علاوہ سوره ذاریات ، فرعون قوم عاد قوم ثمود اور قوم نوح کا انجام بتلانے کے بعد ارض و سما کی تخلیق کی طرف متوجہ کرتی ہے اور اس علمی تحقیق کا اعلان کرتی ہے کہ الله نے ہر چیز کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے۔ (48)

جن و انس کی تخلیق کا مقصد 

سورت کے اختتام پر جن و انس کی تخلیق کا مقصد بتایا گیا ہے جو کہ اللہ تعالی کی معرفت اور عبادت ہے اور یہ خبر دی گئی ہے کہ ساری مخلوق کے رزق کا اللہ کفیل ہے اور کفار ومشرکین کو قیامت کے دن کے عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔
 سورة طور :۔۔۔۔۔۔۔
سورۂ طورمکی  ہے، اس میں 49 آیات اور 2رکوع ہیں، اس سورت کی ابتداءمیں

پانچ قسمیں 

پانچ قسمیں کھا کر فرمایا: بے شک تیرے رب کا عذاب واقع ہوکر رہے گا ، اسے کوئی بھی ٹال نہیں سکتا (8)ان آیات کی تفسیر کے ضمن میں بعض مفسرین نے دلوں پر قرآن کی شدت تاثیر کے حوالے سے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کا واقعہ لکھا ہے کہ وہ زمانہ کفر میں بدر کے قیدیوں کے سلسلہ میں بات چیت کرنے کے لیے مدینہ منورہ آئے ، وہ جب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب میں سوره طور کی تلاوت فرمارہے تھے، جب آپ نے آیت 7پڑھی جس کا ترجمہ ہے بے شک تیرے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا تو حضرت جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے یوں لگا کہ میرا دل پھٹ جائے گا چنانچہ میں نے نزول عذاب کے ڈر سے اسلام قبول کرلیا، پھر جب آپ نے آیت 35اور 36 تلاوت فرمائی جس میں اللہ تعالی سوال فرماتے ہیں: کیا یہ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہو گئے یا انہوں نے خود ہی اپنے آپ کو پیدا کر لیا انہوں نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ یقین ہی نہیں رکھتے تو فرماتے ہیں کہ یہ ایات سن کر مجھے خیال ہوا کہ میرا دل اور ہوش و حواس اڑ جائیں گے
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک شب مدینہ منورہ کی گلی کوچوں میں طواف کرتے ہوئے ان کا گزر ایک مسلمان کے گھر کے پاس سے ہوا جو نماز میں سورۂ طور کی ابتدائی آیات تلاوت کر رہا تھا جب وہ تلاوت کرتے ہوئے اس آیت تک پہنچا "ان عذاب ربک لواقع “تو آپ گدھے سے اتر پڑے اور کافی دیر تک ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے رہے پھر ایک مہینہ تک آپ گھر ہی میں رہے، لوگ آپ کی عیادت کے لیے آتے تھے مگر انہیں آپ کی بیماری کا سبب معلوم نہ تھا۔ تاثیرقرآن کے بے شمار واقعات پیش کیے جا سکتے ہیں مگر تمام واقعات کا جمع کرنا مقصود نہیں ہے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ ہم ان واقعات سے سبق حاصل کریں اور ہم بھی قرآن کی تلاوت اور سماع غور وتدبر سے کریں تا کہ ہمارے دل بھی متاثر ہوں ۔ اس کے بعد یہ سورت متقین کے دائمی مسکن یعنی جنت کا تذکرہ کرتی ہے کہ وہاں انہیں حور و غلمان، لذیذ پھل، گوشت اور لبا لب جام جیسی نعمتیں مہیا ہوں گی ، پھر وہ آپس میں بات چیت کرتے ہوئےکہیں گے۔ ہم اس سے پہلے اپنے گھر والوں کے درمیان ڈرا کرتے تھے، پس اللہ نے ہم پراحسان کیا اور ہمیں تیز گرم ہواؤں کے عذاب سے بچالیا ، ہم اس سے پہلے ہی اس کی عبادت کیا کرتے تھے۔ بیسک وہ محسن اور مہربان ہے۔(28۔26)
اگلی آیات میں یہ سورت حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی دعوت کے بارے میں مشرکین کے موقف کی وضاحت کرتی ہے کہ وہ آپ کے ساتھ استہزاء کرتے تھے اور آپ کو کاہن اور مجنون قرار دیتے تھے۔ اللہ نے نبی کو حکم دیا کہ آپ دعوت و تذکیر کا سلسلہ جاری رکھیں، یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ سورت کے اختتام پر مشرکین کے باطل خیالات کی تردید کی گئی ہے۔ الوہیت اور وحدانیت پر دلائل قائم کیے ہیں اور ان احمقوں کی مذمت کی گئی ہے جو ملا ئکہ کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغ و دعوت میں صبر کرنے اور اللہ کی تسبیح تہمید کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ خبر دی گئی ہے کہ اللہ آپ کی حفاظت کرے گا اور ظالموں کو دو عذابوں کا سامنا کرنا پڑے گا، ایک دنیا کا عذاب اور دوسرا آخرت کا عذاب ۔ (47) سورة النجم:۔۔۔۔۔۔۔۔
 سوره نجم مکی ہے، اس میں 62آیات اور تین رکوع ہیں، اس سورت کے اہم مضامین درج ذیل ہیں۔۔۔۔۔۔۔
(1)اس سورت کی ابتداء میں گرتے ہوئے ستارے کی قسم کھا کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت بیان کی گئی ہے اور آپ کے معجزه معراج کا ذکر ہے جس میں آپ نے اللہ کی قدرت و بادشاہت کے عجائب وغرائب کا مشاہدہ کیا، حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا، جنت ، دوزخ، بیت معمور اور سدرة منتہی جیسی آیات اور نشاندیوں کی زیارت کی ۔ (18۔1)
(2)سوره نجم مشرکین کی مذمت کرتی ہے جو لات و عزی اور منات جیسے بتوں کی عبادت کرتے تھے اور فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ (93۔19)
(3)........ یہ سورت قیامت کا تذکرہ کرتی ہے جہاں نیک اور برے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے کا متقین کے بارے میں بتاتی ہے کہ وہ بڑے گناہوں سے اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور کفار کے بارے میں بتلایا گیا کہ وہ اسلام سے اعراض کرتے ہیں ۔ (35۔32)
(4)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سورت بتاتی ہے کہ ہر شخص انفرادی طور پر اپنے اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے، کسی کے گناہوں کا بوجھ دوسرے پر نہیں لا دا جائے گا اور انسان جو اپنی تعریف خود کرتا ہے اسے قبول نہیں کیا جائے گا ۔ (42۔43)
(5)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سورت کریمہ قدرت و وحدانیت کے بعض دلائل ذکر کرتی ہے۔ مثلا یہ کہ اللہ ہی ہنساتا اور وہی رلاتا ہے، وہی مارتا اور زندہ کرتا ہے، اسی نے نر اور مادہ کو پیدا کیا ہے، اس کے ذمے دوبارہ پیدا کرنا ہے کہ وہی مالدار بناتا اور سرمایہ دیتا ہے، اسی نے نافرمان قوموں کو ہلاک کیا۔ (55۔43)
سورت کے اختتام پر قرآن کے بارے میں مشرکین کا جو رویہ تھا اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ پس کیا تم اس کلام سے تعجب کرتے ہو ہنس رہے ہوروتے نہیں ہو؟ بلکہ تم کھیل رہے ہواب اللہ کے سامنے سجدے کرو اور اسی کی عبادت کرو ۔“ (62۔59)
سورة القمر :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوره قمر مکی ہے، اس میں 55 آیات اور 3رکوع ہیں، اس سورت میں وعدے بھی ہیں، وعیدیں بھی ہیں ۔ مومنوں کے لیے بشارتیں بھی ہیں اور کفار کے لیے ڈراوے بھی ہیں، مواعظ اور عبرتیں بھی ہیں اور نبوت ورسالت ، بعث ونشور اور قضاء وقدرجیسے بنیادی عقائد بھی ہیں ۔
اس سورت کے اہم مضامین کی چند جھلکیاں یوں پیش کی جاسکتی ہیں۔ (1)۔۔۔۔۔۔۔۔۔.......... اس سورت کی پہلی آیت میں قرب قیامت اور شق قمر کا ذکر ہے، قیامت کے قریب آجانے کا مطلب یہ ہے کہ نبوت محمدیہ کے بعد کا زمانہ اس زمانے کے مقابلے میں بہت کم ہے جو  آپ سے پہلے گزر چکا ہے، بخاری و مسلم کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے انگشت شہادت اور درمیان والی انگلی اٹھاتے ہوئے ارشاد فر مایا کہ مجھے اور قیامت کو یوں بھیجا گیا ہے۔
شق قمر ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا مشہور معجزہ ہے، جب اہل مکہ نے آپ سے معجزه کا مطالبہ کیا تو آپ نے چاند کی طرف اشارہ فرمایا تو اس کے دوٹکڑے ہو گئے لیکن جن کے مقدر میں ہدایت نہ تھی وہ کہاں ماننے والے تھے اسی لیے فرمایا گیا اگر یہ کوئی بھی معجزہ دیکھ لیں تو منہ پھیر لیں گے اور کہہ دیں گے کہ یہ پہلے سے چلا آ تا ہوا جادو ہے (3)
اللہ نے اپنے نبی کو حکم دیا ہے کہ آپ ان سے اعراض فرمائیں اور اس دن کا انتظار کریں جب یہ قبروں سے اس حال میں کھڑے ہوں گے کہ ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی، چہروں پر ذلت کی سیاہی چھائی ہوگی، پکارنے والے کی طرف دوڑتے ہوئے جائیں گے اور وہ خود کہیں گے کہ یہ دن تو ہمارے لیے بڑا سخت ثابت ہوا ہے ۔ (8)
(2)۔۔...... اس کے بعد یہ سورت کفار مکہ کو ڈراتی ہے کہ کہیں تم پر بھی ویسا ہی عذاب نہ آ جائے جیسا عذاب تم سے پہلے اقوام پر آیا کیونکہ تم بھی انہی جرائم کا ارتکاب کر رہے ہوجن جرائم کا ارتکاب وہ
کرتی تھیں، یہاں جن تباہ شدہ اقوام کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے، ان کی تباہی کا قصہ بیان کرنے کے بعد عام طور پر یہ سوال بار بار کیا ہے کہ:” بتاؤ میرا عذاب اور میری ڈرانے والی باتیں کیسی ہیں؟ اور اس سوال کے متصل بعد یہ اطلاع دی ہے کہ اور بے شک ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کر دیا ہے پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟‘‘
قرآن کے آسان ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے پڑھنا، حفظ کرنا، اس سے نصیحت حاصل کرنا اور اس پر عمل کرنا بہت آسان ہے، اس کے آسان ہونے ہی کا نتیجہ ہے کہ ایسے دیہاتی بھی قرآن کریم کی تلاوت بسہولت کر لیتے ہیں جو اپنی مادری زبان میں چھوٹا سا کتابچہ بھی نہیں پڑھ سکتے ، چھوٹے چھوٹے معصوم بچے اپنے سینوں میں ساری نزاکتوں اور قواعد کو ملحوظ رکھتے ہوئے محفوظ کر لیتے ہیں ، جب صاف دل والے اسے پڑھتے اور سنتے ہیں تو ان کی آنکھوں
سے آنسو چھلک پڑتے ہیں اور دلوں میں عمل کا جذبہ بیدار ہو جاتا ہے، اس کے آسان ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر کس و ناکس اس کا مطالعہ کرنے کے بعد اس کی آیات سے مسائل استنباط کرنے لگے اور مجتہد بن کر بیٹھ جائے۔
(3)۔۔۔۔۔سورت کے اختتام پر اللہ تعالی فرماتے ہیں : ہم نے ہر چیز کو ایک خاص انداز کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ (49)اس کائنات میں جو کچھ بھی ہے خواہ وہ خیر ہو یا شر ، سب اللہ تعالی کی مخلوق ہے مرتب اور حکمت کے تقاضوں کے مطابق ہے، جو کچھ ہونے والا ہے، سب لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور موجود ہونے سے پہلے ہی اللہ کو معلوم ہے، اس آیت کریمہ سے اہل سنت و جماعت نے عقيدہ تقدیر کے اثبات پر استدلال کیا ہے۔ ان آیات میں یہ وضاحت بھی کر دی گئی ہے کہ انسانوں کے بارے میں چھوئی بڑی باتیں سب لوح محفوظ میں بھی درج ہیں اور کراماکا تبین بھی لکھ رہے ہیں، لہذا کسی بھی گناہ کو چھوٹا سمجھ کر اس کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے اور کسی بھی نیکی کو حقیر سمجھ کر چھوڑنا نہیں چاہیے۔ آخر میں متقین کو اچھے انجام، اللہ کی رضا اور عزت کے مسکن کی بشارت سنائی گئی ہے۔ (52۔55) 
سورة رحمن :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سورہ رحمن مدنی ہے، اس میں 78 آیات اور 3رکوع ہیں، اس کا دوسرا نام عروس القرآن بھی ہے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ سے مرفوع روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز کی عروس ( دلہن ، زینت) ہوتی ہے قرآن کی عروس سورہ رحمن ہے
اس سورت میں باری تعالی نے اپنی نعمتیں بیان فرمائی ہیں جن میں سے سب سے پہلی نعمت قرآن کا اتارا جانا اور بندوں کو اس کی تعلیم دینا ہے، یقینا یہ نعمت کبری ہے، کوئی مادی نعمت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی ، ہر نعمت کا کوئی نہ کوئی بدل ہوسکتا ہے ۔ لیکن قرآن کا بدل کوئی چیز بھی نہیں بن سکتی ، اس کی ایک ایک آیت اور ایک ایک حروف دنیا و مافیہا سے بہتر ہے، قرآن ساری اسمانی
کتابوں کے مضامین کا محافظ ، جامع اور ناسخ ہے، رب تعالی نے اس سورت کا آغاز اپنی صفت الرحمن سے فرمایا ہے، گویا متنبہ کیا گیا ہے کہ اللہ کی ساری نعمتیں خصوصا قرآن کی نعمت، اس کے رحمن ہونے کے آثار اور فیوضات ہیں ، وہ رحمن ہونے کی وجہ سے بندوں پر رحم کرتا ہے، انہیں ہر طرح کی نعمتیں عطا فرماتا ہے، ان کی تعلیم اور ہدایت کے لیے اس نے قرآن نازل کیا ہے۔ قرآن کے شرف اور عظمت کو بتانے کے لیے تعلیم قرآن کی تخلیق انسان سے بھی پہلے ذکر کیا گیا
ہے۔ اس کے بعد یہ سورت صفحہ کائنات پر پھیلی ہوئی اللہ کی مختلف نعمتوں کا ذکر کرتی ہے۔ سورج اور چاند جو اللہ کے ٹہرایے ہوئے حساب سے اپنی اپنی منزلوں پر رواں دواں ہیں ، ستارے اور درخت جو اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہیں ، زمین جسے مخلوق کے لیے کسی فرش کی طرح بچھا دیا گیا ہے۔ مختلف میوے، اناج اور پھل پھول جن سے انسان فائدہ اٹھاتا ہے، میٹھے اور کھارے پانی کے دریا جو اپنی اپنی جگہ جاری ہیں، وہ موتی اور مونگے جوان در یاؤں سے نکالے جاتے ہیں، پہاڑوں جیسی بلندی اور پھیلاو رکھنے والے وہ جہاز جو سمندروں میں چلتے ہیں اور حمل ونقل کے ذرائع میں سے کل بھی سب سے بہتر زریعہ تھے اور آج بھی بہترین ذریعہ ہیں۔ (5۔24)
ان دنیاوی نعمتوں کے علا و و اخروی نعمتوں اور عذابوں کا بھی سورہ رحمن میں ذکر ہے ،آگ کے وہ شعلے اور دھواں جن میں سانس لینا دو بھر ہوجائے گا، وہ جہنم جس کی ایک چنگاری بھی انسان
کو جلانے کے لیے کافی ہوگی ، وہ کھولتا ہوا پانی جسے دوزخی مجبورا پییں گے اور وہ ان کی اتڑیوں کوکاٹ کر رکھ دے گا، دوسری طرف اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے گنجان ٹہنیوں  اور شاخوں والے
دوسر سر سبز باغات، ان میں بہتے ہوئے چشمے، ہرقسم  میووں کی دو دو قسمیں  اور بچھے ہوئے قالین ہوں گے ، دبیز  ریشم کے تکیوں کے ساتھ جنتی ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے، مذکورہ دو باغات کے
علاوہ دو باغ اور بھی ہوں گے جو پہلے دو باغوں سے کم تر ہوں گے ، ان میں دو چشمے ابل رہے ہوں گے متنوع میوه جات ہوں گے شرم و حیا اور حسن و جمال کا پیکر حوریں ہوں گی ،و دنیا اور آخرت کی
یہ ساری نعمتیں ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالی نے اس سورت میں 31 بارسوال کیا ہے'فبای الاءربكما تكذبن ( پھرتم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟))
اگر دو چار یا دس بیس  نعمتیں ہوں تو ان کو جھٹلا سکتے ہومگر جہاں یہ حال ہو نعمتیں حدوحساب سے بھی باہر ہوں تو انہیں جھٹلا نا ناممکنات میں سے ہے۔
اگر اس سورت کا تجز یہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ رب تعالی نے ابتداءمیں اپنی تخلیق کےعجائب اور مظاہر ذکر کیے ہیں اوران کے ضمن میں یہ آیت "فبای الاء ربکما تکذبن ‘‘ ( پھرتم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‘‘ آٹھ بار  ائی ہے، اس کے بعد جہنم اور اس کے
عذابوں کا ذکر کرتے ہوئے سات بار یہ آیت ذکر کی ہے ، قرآن پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ جہنم کے دروازے بھی سات ہیں، پھر جنت کے باغات اور اہل جنت کا تذکرہ کرتے ہوئےآٹھ بار یہ آیت آئی ہے، اتفاق سے جنت کے دروازے بھی آٹھ ہے، آخر میں ایسے باغات کاذکر ہے جو درجہ کے اعتبار سے پہلے باغات سے کم ہیں، ان باغات کے ضمن میں بھی یہ آیت آٹھ
بار آئی ہے، اس ترتیب اورتقسیم سے اہل علم نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جوشخص پہلی آ ٹھ پراعتقادرکھے گا اور ان کے تقاضوں پرعمل رکھے گا اسے باری تعالی جہنم کے سارے دروازوں سےبچالے گا اور دونوں قسم کی جنتوں کا حق دار بنادے گا۔ کج فہموں نے اعتراض اٹھایا ہے:"بتاؤ
اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔؟ اس کا جواب دو طرح سے دیا گیا ہے۔ پہلا یہ کہ ظالموں ، سرکشوں اور نافرمانوں کو عذاب دینا اللہ کے عدل کا تقاضا اور مظلوموں کے حق میں
رحمت  اور نعمت ہے، دوسرا یہ کہ کفر و شرک اور فسق و فجور کا انجام ظہور سے پہلے ہی بندوں کو بتادیناکریم و رحیم  ذات کا بہت بڑا احسان ہے۔ کیا یہ امر باعث تعجب نہیں کہ دنیا کے کسی خطرہ اورمصیبت کی پیشگی اطلاع دینے والے کو اپنا محسن سمجھیں لیکن اس مالک کو محسن نہ سمجھیں جس نے ہمیں آخرت کے خطرات کے بارے میں دنیا ہی میں مطلع فرمادیا جبکہ دنیا کی زندگی اخرت کے مقابلے میں اور دنیا کے خطرات آخرت کے مقابلے میں کچھ حیثیت بھی نہیں رکھتے۔
سورت کے اختتام پرفر مایا: تیرے پروردگار کا نام بابرکت ہے جو عزت وجلال والا ہے
اہل علم کہتے ہیں کہ اس نام سے مراد وہی نام ہے جس سے سورت کا آغاز ہوا تھا، گویاآخر میں دوبارہ اس طرف اشارہ کر دیا گیا کہ ارض وسما کی تخلیق ہو یا جنت دوزخ کا وجود، اس
سورت میں جو کچھ بھی بیان ہوا ہے یہ سب اس رحمن‘ کی رحمت کا نتیجہ ہے۔
سورة الواقعہ:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 سورہ واقعہ مکی ہے، اس میں 96آیت اور 3رکوع ہیں، اسے " سورة الغنی "
بھی کیا جاتا ہے ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص ہر رات سورةالواقعہ پڑھے گا اسے کبھی بھی فاقہ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا‘ - واللہ اعلم  بالصواب)
یہ سورت بتاتی ہے کہ جب قیامت قائم ہوئی تو زمین میں زلزلہ برپا ہو جائیں گے، پہاڑ
ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور انسان تین گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے۔
یعنی اصحاب یمین ( جو کہ جنتی ہوں گے )
.............اصحاب شمال ( دوزخ میں جانے والے)
...........سابقون ( خواص مومنین جو نیکی کے کاموں میں دوسروں سے سبقت لے جاتے تھے)
انسانوں کو تین گروہوں میں تقسیم کرنے کے بعدتفصیل کے ساتھ ان میں سے ہر ایک کی جزا بھیذکر کی گئی ہے۔(1۔56)
اس کے بعد یہ سورت الله تعالی کے وجود اور وحدانیت اور کمال قدرت پر دلائل قائم کرتی ہے اور بعث اور حساب کو ثابت کرتی ہے، وہ الله جو پانی کے قطرے سے انسان بناسکتا ہے مٹی میں ڈالے جانے والے بیچ کو پودا اور درخت بناسکتا ہے، بادلوں سے پانی برسا سکتا ہے اور
درخت سے آگ پیدا کرسکتا ہے، وہ مردہ انسان کو بھی دوبارہ زندہ کرسکتا ہے۔ اپنی قدرت کےبیان کے بعد باری تعالی نے اپنے کلام کی عظمت بیان کی ہے ، عظمت قرآن کے بیان کے لیےاللہ نے ستاروں کے گرنے کی قسم کھائی ہے، اس قسم کے بارے میں الله خود فرماتا ہے کہ اگر
تمہیں علم ہوتو یہ بہت بڑی قسم ہے (76)
قسم  کھا کر فرمایا: بے شک قرآن بہت بڑی عزت والا ہے، جو ایک محفوظ کتاب میں درج ہے، جسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں، یہ رب العالمین کی طرف سے اترا ہوا ہے۔ (77۔80)
الله تعالی نے ستاروں کی قسم کوعظیم قرار دیا تھا، آج سائنس، کروڑوں ستاروں پر مشتمل دنیا کے بارے میں جن تحقیقات اور عجائبات کا اظہار کر رہی ہے ان سے پتہ چلتا ہے کہ واقعی یہ بڑی قسم ہے، سائنسدان بتاتے ہیں کہ کائنات پانچ سوملین کہکشاؤں پرمشتمل ہے اور ہر کہکشاں میں ایک لاکھ میل یا اس سے کم و بیش ستارے پائے جاتے ہیں اور یہ ساری کہکشائیں  مسلسل گردش کر رہی
ہیں، چاند مسلسل گھوم رہا ہے، زمین اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہے، 
سورج چھ لاکھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گردش کر رہا ہے، پھر ستاروں میں سے کسی کی گردش کی رفتار
آٹھ میل فی سیکنڈ ہے کسی کی 33 میل فی سیکنڈ کسی کی 84میل فی سیکنڈ ۔ اگر یہ سارے آپس میں
ٹکرا جائیں تو تمام نظام عالم درہم برہم ہوجائے ، اگر ان سیاروں کی رفتار میں فرق آجائے تو ہمارے دن اور رات اور موسم تک بدل جائیں ، ان جیسی تفصیلات کو سامنے رکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے کتنی بڑی قسم کھائی ہے۔ ستاروں اور قرآن کے درمیان مناسبت یہ ہے کہ جیسےستاروں کے ذریعے بر وبحر کی تاریکیوں میں رہنمائی حاصل کی جاتی ہے یونہی قرآنی آیات سے
جہالت اور ضلالت کی ظلمات میں سامان ہدایت حاصل کیا جاتا ہے، جیسے ستاروں کی دنیا کےسارے عجائب ابھی تک انسان پر آشکار نہیں ہوئے، یونہی قرآن کریم کی آیات و سور میں پوشیده سارے علوم و معارف سے بھی انسان آگاہ نہیں ہو سکا۔ سورت کے اختتام پر الله تعالی فرماتے ہیں
کہ انسانوں کے تینوں گروہوں کے لیے جس جزا اور سزا کی میں نے خبر دی ہے:" یہ خبر سراسر حق
اورقطعایقینی ہے پس تو اپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح بیان کر ۔ (95۔96)
سورۃ الحدید:۔۔۔۔۔۔
 سوره حدید مدنی ہے، اس میں 29 آیات اور 5رکوع ہیں' حدید لو ہے کوکہتے ہیں، چونکہ اس سورت میں اللہ نے لوہا پیدا کرنے کا ذکر فرمایا ہے اس لیے اسے سوره حدیدکہاجاتا ہے، اس سورت میں بنیادی طور پر تین مضامین مذکور ہیں۔
پہلا یہ کائنات میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کا ہے، وہی ہر چیز کا خالق اور مالک ہے، کا ئنات کی ہر چیز اس کی حمدو تسبیح بیان کرتی ہے۔ انسان اور حیوان شجر اور اور حجر  جن اور فرشتے، جمادات اورنباتات سب کے سب زبان حال اور زبان قال سے اس کی عظمت و کبریائی کا اقرار کرتے ہیں۔
جب کچھ نہیں تھا، وہ تھا جب کچھ بھی نہیں رہے گا، وہ تب بھی ہو گا، وہ ہر چیز پر غالب ہے، اس پرکوئی
غالب نہیں آ سکتا وہ ظاہراتناہے کہ ہر چیز میں اس کی شان ہو یدا ہے اور باطن اورمخفی ایسا ہے کہ کوئی
عقل اس کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی اور حواس اس کا ادراک نہیں کر سکتے ۔ (1۔6)
دوسرا مضمون جو اس سورت میں بیان ہوا ہے، وہ یہ کہ اللہ اور رسول پر ایمان لانے اور دین کی سربلندی کے لیے مال اور جان قربان کر دینے کا حکم دیا گیا ہے، انفاق فی سبیل اللہ ترغیب دیتے ہوئے فرمایا گیا: تمہیں کیا ہو گیا ہے جوتم الله کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حقیقت میں توآسمانوں اور زمینوں کی میراث کا مالک اللہ ہی ہے (10)
تمہاری موت کے بعد تمہارے مال و متاع اور سیم و زر کا وہ اکیلا ہی وارث ہو گا، پھرفرمایا: کون ہے جو اللہ تعالی کو اچھی طرح قرض دے پھر اللہ تعالی اسے اس کے لیے بڑھا تا چلاجائے اور اسکے لیے پسندیدہ  اجر ثابت ہوجائے‘(11)
انفاق فی سبیل الله کی ترغیب کے ساتھ ساتھ مخلص اہل ایمان اور منافقوں کا جو حال ہوگا اسےبیان کیا گیا ہے۔ (12۔15) پھر ایمان والوں کو جنجھوڑنے والے انداز میں خبردار کیا ہے کہ وہ منافقوں
اور یہود و نصاری کی طرح دنیا کی زندگی اور اس کی ظاہری کشش سے دھوکہ نہ کھائیں۔ ارشاد ہوتا
ہے۔ کیا اب تک ایمان والوں کے لیے وقت نہیں آیا کہ ان کے دل ذکر الہی سے اور جو حق اتر چکاہے اس سے نرم ہو جائیں اور ان کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی پھر جب
ان پر ایک زمانہ دراز گزر گیا تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے بہت سے فاسق ہیں۔ (16)
تیسرا مضمون جو اس سورت میں بیان ہوا ہے وہ یہ کہ اللہ نے انسان کے سامنے دنیا کی زندگی کی حقیقت بیان کی ہے تا کہ وہ اس کی ظاہری زیب وزینت سے دھو کہ نہ کھاجائے ۔ سمجھایاگیا کہ دیکھو یہ دنیا سراب ہے، دھوکہ ہے،لہو ولعب ہے ،کم عقل لوگ مال و اولاد کی کثرت پر فخرکرتے ہیں، حسب ونسب پر اکڑتے ہیں ، اپنی پوری زندگی اور ساری صلاحیتیں دنیا کا سامان جمع
کرنے میں لگا دیتے ہیں ۔ اس دنیا کی مثال اس کھیتی کی سی ہے جس کی سرسبزی اورترو تا زدگی و دیکھ
کر کاشت کارخوش ہوتا ہے ، دیکھنے والے رشک کرتے ہیں، پھر ایک وقت آتا ہے کہ کوڑا کرکٹبن کر سب کچھ ہوا میں اڑ جاتا ہے، یہی دنیا کی زندگی کا حال ہے، یہ فانی ہے اور یہاں کی ہر چیز
زوال پذیر ہے لیکن آخرت کی زندگی دائمی ہے اور وہاں کی نعمتیں ہمیشہ باقی رہنے والی ہیں۔ (20)
اس لیے مسلمانوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ اللہ کی مغفرت اور جنت کے حصول کے لیے دوڑلگاؤ ، ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو (21)
سورت کے اختتام پر اللہ سے ڈرنے والوں اور رسول پر ایمان لانے والوں کے لیے
دہرے اجر کا اور نور عطا کرنے کا وعدہ ہے جس کی روشنی میں وہ چلیں  پھریں گے (28)
اللہ تعالی ہم سب کو وہ نو ر عطا فرمائے۔ آمین)

No comments: