جديد مضامين

Saturday, May 16, 2020

تراش کر کوہ سنگ وآہن نکالنی ہوگی راہ منزل


تراش کر کوہ سنگ وآہن نکالنی ہوگی راہ منزل

از: وقار احمد

کوئی بھی کہانی شروع ہونے سے پہلے اعزاء واقرباء کام کرنے والے سے فخریہ کہتے ہیں کہ آپ میدان میں آئیے! ہم ساتھ دیں گے؛ لیکن میدان میں آنے کے بعد ایک طویل مدت تک سناٹا چھایا ہوا ہوتا ہے اور دور تک کوئی ابن آدم نظر نہیں آتا؛ اس طرح وعدے کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں۔

پھر ایک وقت آتا ہے کہ جب وہ شخص اپنی محنتوں ومشقتوں کے نتیجہ سریا کی سیر کرنے والا ہوتا کہ پیچھے سے وہی موعدین حملہ آور ہوجاتے ہیں اور اس کے پیر کھینچنے لگتے ہیں، جب کہ ایک وقت وہ بھی تھا کہ وہی اس کا ہاتھ کھینچنے کا وعدہ کر رہے تھے، کاش کہ اگر پیروں کی جگہ ہاتھ کھینچا ہوتا ، تو لاکھوں؛ بلکہ کروڑوں افراد خود بخود اوپر آگئے ہوتے اور بلندی ورفعت پر سیر کر رہے ہوتے۔

انسانوں میں یہ ایک بہت بڑی کمی ہے کہ جب کوئی شخص اصلاحی، فلاحی یا رفاہی کام کا بیڑہ اٹھاتا ہے، تو ہزاروں کی تعداد ایسی سامنے آجاتی ہے، جو اسے ناپسند کرتی ہے؛ اس وجہ سے نہیں کہ وہ کوئی غلط کام کر رہا ہے؛ بلکہ اس وجہ سے کہ وہ ترقی کر جائے گا۔ یہ بڑے تعجب اور افسوس کی بات ہے کہ جو ایسا سوچتے ہیں، وہ خود کبھی ایسے کوئی کام کرنے نہیں چاہتے اور خوام خواہ دوسروں کی پستی کا سبب بننے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ اور اگر لوگ پسند بھی کرتے ہیں، تو پھر ایک وہ جماعت وجود میں آجاتی ہے، جس کا کہنا ہوتا ہے: آپ یہ کام نہ کریں آپ سے نہیں ہوسکے گا، یا اس طرح کے دیگر الفاظ زبان سے نکالتے ہیں اور عامل کی حوصلہ افزائی کی بجائے اس کے عزائم کو چکنا چور کردیا جاتا ہے۔

اس لیے ہر اصلاحی یا تحریکی کام کرنے والوں؛ بلکہ پوری عالم انسانیت سے میری خصوصی درخواست ہے کہ وہ ایسے افراد کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جائیں؛ بلکہ ایک سوال کرتے ہوئے گزریں کہ کیوں نہیں کرسکتا؟ کیوں میرے بس کا نہیں؟ یقین مانیے سو میں نوے خاموش ہوجائیں گے، ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا؛ جب وہ کوئی جواب نہ دیں، تو ان سے اتنا ضرور کہیں: "لفظوں کے بھی ذائقے ہوتے ہیں، بولنے سے پہلے چھک لیا کریں"۔

ان کے علاوہ دس جو جواب دیں گے، ان کے جواب میں کوئی نہ کوئی راہنمائی ہوگی؛ کیوں کہ ان کے پاس جواب ہونا اس بات کی دلیل ہوگی کہ شاید وہ اس معاملہ میں علم رکھتے ہوں گے؛ چناں چہ وہ تجربہ کی روشنی میں کچھ نہ کچھ ضرور پیش کریں گے؛ ایسوں کو بغور سنیں اور ان کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل بھی کریں اور جو نوے گزرے ہیں، ان کا اور ان کی باتوں کا ذہن میں خیال بھی نہ لائیں؛ ورنہ ہوتا کیا ہے؟ ایک مثال سے سمجھیے:

ہزاروں کا قافلہ چلتا ہے، اس میں ایک بہرہ شخص بھی ہوتا ہے، راستہ میں ایک دیوار ملتی ہے، ایک شخص دیوار پار کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو چند دوسرے کہتے ہیں: بھائی ہم میں سے کوئی اس دیوار پر نہیں چڑھ سکتا ہے، یہ بے کار کی کوششیں نہ کرکے ہم واپس چلتے ہیں، یا کوئی دوسری راہ اختیار کرتے ہیں؛ اس طرح پورا قافلہ مایوس ہوجاتا ہے اور کوشش کے باوجود دیوار پر چڑھنے سے قاصر رہتا ہے؛ لیکن بہرا شخص اس دیوار پر چڑھنے کے لیے اصرار کرنے لگتا ہے اور چڑھ بھی جاتا ہے، پھر دوسروں کی چڑھنے میں مدد بھی کرتا ہے ۔ اس عبارت سے یہ نتیجہ سمجھ آتا ہے: جتنوں نے اپنے پچھلوں کی باتوں کا اثر لیا ہوتا ہے، وہ کامیاب ہونے سے قاصر رہتے ہیں؛ مگر بہرا شخص کامیاب ہو جاتا ہے؛ چوں کہ وہ لوگوں کے تاثرات سے محفوظ رہتا ہے ، اسے بس ایک دھن سوار ہوتی کہ دیوار پر چڑھنا ہے؛ اس لیے وہ چڑھ جاتا ہے بقیہ ادھر ادھر تکتے رہتے ہیں اور چڑھنے کی صلاحیت ہونے کے باوجود بھی محتاج بنے بیٹھے رہتے ہیں۔

تو میرے دوستو! ہر کام کرنے والوں کو اسی بہرے شخص کی طرح بننا پڑے گا، لوگوں کے بے جا سوالات اور ان کی تنقیدات کی پرواہ بالکل بھی نہیں کرنی ہوگی، کانٹوں پر چل کر اپنا راستہ خود بنانا ہوگا۔ اب وہ دور نہیں رہا کہ کسی ایک کو کچھ تکلیف دی جاتی تھی، تو پورا خاندان؛ بلکہ پورا محلہ اور علاقہ اس کے دفاع میں سامنے آجاتا تھا؛ آج تو لوگ سجدوں میں بھی ایک دوسرے کا برا چاہتے ہیں، پھر کسی کی مدد کو کوئی کہاں آئے گا؟ اس لیے اپنی ایک الگ راہ تلاش کرنی ہوگی، الگ طریقہ اختیار کرنا ہوگا اور صحیح راستہ چننا ہوگا، چاہے اس راستہ میں تنہا ہی کیوں نہ سفر کرنا پڑے، تبھی جاکر کچھ کامیابی ہاتھ آئے گی اور عوام کی خدمات انجام دی جاسکیں گی؛ ورنہ ہاتھ پہ ہاتھ رکھے بیٹھے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑ سکتا ہے، جس پر دنیا لعنت بھیجتی رہتی ہے، ناکام افراد آج کی دنیا میں کوئی معنی نہیں رکھتے ہیں؛ لوگ وقت کے ساتھ حیثیت بھی پوچھتے رہتے ہیں اور اب یہ عام بات بن چکی ہے۔ 
ایک تخلیقی ذہن کا حامل شخص اس مفہوم کو بہتر سمجھ سکتا ہے۔

No comments: