جديد مضامين

Tuesday, May 5, 2020

خلاصة القرآن یعنی آج رات کی تراویح :گیارہواں پارہ گیارہویں تراویح


خلاصة  القرآن یعنی آج رات کی تراویح :گیارہواں پارہ گیارہویں تراویح


پاره 11
دسویں پارہ کے آخر میں مخلص اہل ایمان کے علاوہ ان منافقوں کا تذکرہ تھا جنہوں نے مالی وسائل اور سواری کی استطاعت رکھنے کے باوجود غزوہ تبوک میں شرکت نہیں کی تھی، گیارہویں پارہ کی ابتداء میں بھی اہل نفاق کا تذکرہ ہے، اللہ نے اپنے نبی کو تبوک سے واپسی پر راستہ ہی میں اطلاع دے دی تھی کہ جب آپ مدینہ پہنچیں گے تو منافق آپ کے سا منے مختلف قسم کے اعذار پیش کریں گے کہ ہم انتہائی سخت مجبوریوں کی بنا پر آپ کے ساتھ غزوہ میں شریک نہ ہو سکے۔ ورنہ ہم نے جانے کا تو پختہ ارادہ کر رکھا تھا، چنانچہ ایسا ہی ہوا اور منافقوں نے قسمیں کھا کھا کر آپ کو اپنی سچائی کا یقین دلانے کی کوشش کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مروت اور
شرافت کی بنا پر حقیقت کو جانتے ہوئے بھی خاموشی اختیار فرمائی اور انہیں جھوٹا قرارنہیں دیا، منافقوں کے مقابلے میں الله تعالی نے مخلص مسلمانوں کی صفات بیان فرمائی ہیں، اور ان لوگوں کی تعریف کی ہے جو اپنی غلطی کا اعتراف کر لیتے ہیں ، اور جھوٹ بول کر غلط کو صحیح قرار دینے کی کوشش نہیں کرتے، درمیان میں پھر منافقوں کا ذکر آ گیا ہے جنہوں نے اسلام کو ضرر پہنچانے،
کفر کے فروغ اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے کے لیے مسجد ضرار تعمیر کی تھی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے افتتاح کی درخواست کی تھی مگر اللہ نے اپنے نبی کو اس مسجد میں کھڑا ہونے سے  بھی منع فرما دیا۔ چنانچہ اس مسجد کو آپ کے حکم سے جا کر راکھ کر دیا گیا۔ مسجد ضرار کے مقابلے میں مسجد قبا اور نفاق کے مقابلے میں ان اہل ایمان کا تذکرہ ہے جو اپنے مال اور اپنی جانیں حصول جنت کے لیے اللہ کی راہ میں وقف کر چکے ہیں، ان اہل ایمان کی تو ایسی صفات ذکر کی گئی ہیں جو ہر مومن کو اپنے اندر پیدا کر نے کی کوشش کرنی چاہیے تو بہ کرنے والے، عبادت کرنے والے حمدکرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے ، سجدہ کرنے والے، نیک کاموں کا حکم دینے والے، بری باتوں سے منع کرنے والے اور اللہ کی حدوں کی حفاظت کرنے والے ۔(۱۲:۹)
غزوہ تبوک میں شرکت سے جو لوگ محروم رہ گئے تھے ان میں تین ایسے شخص مسلمان بھی تھے جن کے اخلاص اور ایمان میں کسی کو شک نہیں تھا، یعنی حضرت کعب بن مالک، بلال بن امیہ = اور مرارة بن ربیع رصی اللہ عنھم، ان تینوں نے کوئی عذر نہیں تراشا بلکہ صاف صاف اعتراف کر لیا کہ پیچھے رہ جانے میں سراسر ہماری اپنی غلطی ، سستی اور کا ہلی کو دخل تھا، ان کے معاملہ کو الگ رکھا گیا تھا، یہاں تک کہ پچاس دن تک ان کا بائیکاٹ بھی کیا گیا۔ لیکن پھر انہیں سچ بولنے کی وجہ سے ایسا نوازا گیا کہ ان کی توبہ کی قبولیت کا اعلان وحی کے ذریعے سے کیا گیا، یہ اعلان ان کے لیے اتنی بڑی بشارت تھا کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت کعب بن مالک سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ جب سے تمہیں تمہاری والدہ نے جنا ہے آج سے زیادہ بہتر اور مبارک دن تم پر نہیں آیا ۔‘‘



ان حضرات کی قبول توبہ کا ذکر آیت(۱۱۷- ۱۱۸)۔ میں ہے۔ اگلی آیات میں اہل ایمان کو چار | اہم باتوں کی تاکید کی گئی ہے
پہلی یہ کہ وہ خفیہ اور علانیہ تقوی کو لازم پکڑے رھیں۔ دوسری یہ کہ وہ اہل نفاق سے دور رہتے ہوئے صرف بچوں کی صحبت اختیار کریں۔ تیسری یہ کہ وہ رزق کی تنگی اور کشادگی میں اللہ کے رسول کو اپنے اوپر ترجیح دیں۔
چوتھی بات حقیقت میں اللہ کی طرف سے وعدہ ہے کہ ہر قسم کی عبادت اور اطاعت کا اللہ کی | طرف سے اجر مل کر رہے گا اور یہ کہ اللہ کے دین کے لیے جس قدر مشقت اٹھائی جائے گی ، اتنا ہی اجر وثواب عطا ہوگا ۔ (۹:۱۲۱٫۱۲۰) جہاد کی فضیلت اور اہمیت کے با و جود حکم دیا گیا ہے کہ سارے ہی مسلمانوں کو جہاد میں نہیں چلے جانا چاہیے ۔ بلکہ کچھ لوگوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود رہنا چاہیے ۔ تا کہ آپ سے دین کی سمجھ حاصل کریں ۔ ( ۹:۱۲۲) اسلام کو اپنی دعوت کی ابتدا میں جیسے دشمنوں کی طاقت توڑنے کے لیے جہاد کی ضرورت تھی یونہی ان بنیادوں کی بھی ضرورت تھی جن پر اسلامی مملکت کی عمارت کھڑی کی جا سکے اس مقصدکے لیے شرعی احکام کے نزول کا سلسلہ مستقل جاری تھا اور حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم ایسے افرادکی تیاری میں ہمہ تن مصروف تھے جو مستقبل کے مدرس ، مربی معلم ، قاضی، حاکم، عامل اور منظم بن سکیں ، اس لیے حکم دیا گیا کہ مسلمانوں کی معتدد تعداد کو مدینہ میں ہی رہنا چاہیے تا کہ وہ دین کی سمجھ حاصل کرسکیں اسلامی مملکت کی ضروریات سے قطع نظر فی ذاتہ بھی علم دین حاصل کرنا بہت بڑا عمل ہے، اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ کرتااسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے
یہ بھی آپ ہی کا ارشاد گرامی ہے کہ ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابد سے زیادہ بھاری ثابت ہوتا ہے
جہاد کے لیے ایک اہم اصول یہ بتایا گیا ہے کہ الاقرب فالاقرب کے ضابطہ کے تحت جہاد کیا جائے ، یعنی قریب کے کفار سے جہاد کرتے ہوئے اس کا دائرہ دور تک وسیع کیا جائے۔(۹:۱۲۳)

سورۂ توبہ کی آخری آیات میں دو باره منافقین کی مذمت کی گئی ہے کہ ان حرماں نصیبوں کو قرآن سے بھی کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوتا بلکہ فکر عمل کے اعتبار سے ان کی نجاست ہی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور اس سورت کی آخری آیت میں اللہ نے ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف بیان فرمائی ہے اور آپ کے لیے اپنے اسمائے حسنی میں سے دو نام منتخب فرمائے ہیں یعنی رؤف اور رحیم ۔ اور اس میں شک نہیں کہ آپ اپنی امت بلکہ ساری انسانیت کے حق میں بے حد شفیق اور مہربان تھے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اپنے ناموں میں سے یہ د و نام آپ کے سوا کسی کے لیے بھی جمع نہیں فرمائے۔
 سورة یونس :
سورہ یونس مکی ہے، اس میں ۱۹ آیات اور رکوع ہیں، چونکہ اس سورت میں حضرت یونس کہ قوم کا حصہ مذکور ہوا ہے اس لیے اس صورت کا نام حضرت یونس کے نام پر سورہ یونس رکھا گیا ہے(آیت:۹۸)اس سورہ میں ایمان کے بنیادی ارکان اور عقائد اور بالخصوص قرآن کریم سے بحث کی گئی ہے ۔ سورت کی ابتداء کتاب اللہ، اور رسول اللہ کے ذکر سے ہوتی ہے، بتایا گیا ہے کہ خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت سے کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیے کیونکہ آپ کی بعثت کوئی نئی بات نہیں بلکہ ہر امت میں
کوئی نہ کوئی رسول آتا رہا ہے ۔ اس کے بعد ربوبیت ، الوہیت اور عبودیت کی حقیقت اور خالق مخلوق کے درمیان تعلق کی بنیاد بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ جورب اور خالق ہے وہی معبود بنانے کے لائق ہے، کائنات کا یہ سارا نظام اس کی ربوبیت اور قدرت پر گواہ ہے ۔(۱۰/۶ ) اس نظام اور دلائل قدرت میں غور وفکر کے بعد انسان دو گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں، تکذیب کرنے والے اور تصدیق کرنے والے ۔ تکذیب کرنے والوں کا انجام آگ اور تصدیق کرنے والوں کا انجام دائمی باغات ہیں ۔ ( ۱۰/۷) تکذیب کی ایک بڑی وجہ بھی ہے کہ انسان کی فطرت میں بات ہے یہاں تک کہ بعض اوقات اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے عذاب اور ہلا کت کی دعائیں مانگتا ہے۔ (۱۰/۱۱) ان جھٹلانے والوں کا حال تو یہ ہے کہ یہ قرآن کو جھٹلانے اور اس کا مذاق اڑانے سے بھی باز نہیں آتے اور اللہ کے نبی سے استہزاء کے طور پر کہتے ہیں کہ آپ کوئی دوسرا قرآن لے آئیں یا اس میں کچھ تبدیلیاں کر دیں۔
آپ نے جواب دیا کہ مجھے ان میں سے کسی بات کا اختیار نہیں میں تو وحی کی اتباع کا پابند ہوں، کیا تم سمجھتے ہو کہ میں نے معاذ اللہ ! یہ کلام خود بنا کر اللہ کی طرف منسوب کر دیا ہے، میں تمہارے اندر زندگی کے چالیس سال گزار چکا ہوں تم نے مجھے کبھی جھوٹ بولتے ہوئے سنا ہے ؟یا کسی استاد سے علم حاصل کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟اگر نہیں سنا اور نہیں دیکھا تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں یکا یک جھوٹ بولنا شروع کر دوں؟ یا ایسا معجزانہ کلام تمہارے سامنے پیش کر دوں ؟کیا یہ ہوسکتا ہے کہ میں انسانوں پر تو جھوٹ نہ بولوں اور اللہ پر جھوٹ بولنے کی جرات کر لوں آپ کی سیرت کی صفائی اور زبان کی صداقت کا یہی وہ پہلو تھا جس کا دشمن بھی اعتراف کرنے پر مجبور تھے، ابوسفیان سے زمانہ کفر میں جب روم کے بادشاہ ہرقل نے سوال کیا تھا کہ کیا دعوی نبوت سے پہلے تم نے کبھی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹ بولتے ہوئے سنا ہے؟ تو کافر اور مشرک ہونے کے با وجودابوسفیان بھی اس سوال کا جواب نفی میں دینے پر مجبور ہو گیا تھا اور ہرقل نے اس کا جواب سن کر کہا تھا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ تو جھوٹ نہ بولے اور اللہ پر جھوٹ بولنا شروع کر دے۔
امام رازی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ مشرکین نے بچپن سے نزول قرآن کے زمانہ تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مشاہدہ کیا تھا وہ جانتے تھے آپ نے نہ کسی کتاب کا مطالعہ کیا نہ کسی استاد کی شاگردی اختیار کی ۔ پھر چالیس سال گزر گئے تو آپ یکا یک ایک عظیم کتاب ان کے پاس لے کر آ گئے جو علم اصول کے نوادر علم احکام کی باریکیوں علم اخلاق کے لطائف اور پہلوں کے واقعات کے اسرار پر مشتمل تھی اور جس کی فصاحت و بلاغت کا مقابلہ کرنے
سے بڑے بڑے ادیب اور شاعر عاجز آگئے ، ہر وہ شخص جسے عقل سلیم عطا کی گئی ہے وہ جانتا ہے کہ یہ سب کچھ وحی کے بغیر نہیں ہوسکتا ہے۔
اگلی آیات میں مشرکین کی بت پرستی اور توحید کے دلائل مذکور ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ سختی اور مصیبت کے وقت بڑے سے بڑے مشرک بھی جھوٹے معبودوں کو بھول کر سچےمعبود کو پکارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ ( ۱۰/۲۲)
 پھرتلقین کے انداز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا ہے کہ آپ ان سے سوال کریں کہ تمہیں آسمان اور زمین سے رزق کون دیتا ہے؟ تمہارےکانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے ؟اور بے جان سے جاندار کو اور جاندار سے بے جان کو کون پیدا کرتا ہے ؟کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے ہو؟ ۔‘‘ ( ۱۰/۳۲)
 قرآن کی صداقت کے حوالے سے انہیں چیلنج کیا گیا ہے کہ اگر یہ انسانی کلام ہے تو تم بھی اس جیسی کوئی سورة بنا کر دکھا دو اور اس مقصد کے لیے عرب وعجم میں سے جسے بلانا چاہتے ہو بلا لو(۱۰/۳۸)
پھر اللہ جل شانہ نے ان  کی تکذیب کا سبب خود ہی فرمادیا، وہ یہ کہ انسان کی طبیعت ایسی ہے کہ وہ جس چیز سے جاہل ہوتا ہے اور اس کی حقیقت سمجھ نہیں پاتا تو سرے سے اس کا انکار ہی کر دیتا ہے۔ (۱۰/۳۹ )
مشرکین نے توحید ، بعث بعد الموت اور قرآن کی صداقت کا جوانکار کیا تو اس کی ایک بڑی وجہ ان کی جہالت اور عدم علم  بھی تھا۔ اس سورت میں انہیں کہیں زجر اور تنبیہ کے ساتھ اور کہیں نصیحت اور خیر خواہی کے انداز میں ان تینوں بنیادی عقا ئدکے بارے میں ہٹ دھرمی چھوڑنے اور ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ قرآن کریم کی اعلی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت دلوں کی بیماری کی شفاء اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت آپہنچی ہے ۔ تو کہہ دیجئے کہ یہ کتاب اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے نازل ہوئی ہے تو چاہیے کہ لوگ اس سے خوش ہوں، یہ اس (مال و دولت ) سے کہیں بہتر ہے جسے وہ جمع کرتے ہیں ۔‘‘ ( ۱۰/۵۷)
توحید کے دلائل، بعث بعد الموت کا یقین ہونا اور قرآن کریم کی صداقت بیان کرنے اور مشرکین کے مزعومات کی تردید کے بعد عبرت اور نصیحت کے لیے تین قصے بیان کیے گئے ہیں۔ جن میں سے پہلا قصہ شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ السلام کا ہے، جن کی عمر اور زمان تبلیغ تمام انبیاء علیہا السلام سے زیادہ طویل مگر ان کے متبعین  بہت کم تھے۔ پھر حضرت موسی  اور حضرت ہارون علیہا السلام کا قصہ بیان کیا گیا ہے جنہوں نے فرعون جیسے خدائی کے دعویدار کا مقابلہ کیا تیسرا قصہ حضرت یونس  علیہ السلام کا ہے اور انہی کے نام پر اس سورت کا نام رکھا گیا ہے ۔ قرآن کریم میں حضرت یونس علیہ السلام کا صراحة نام چار جگہ آیا ہے اور دو مقامات پر انہیں مچھلی والے‘‘ کی صفت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، وہ اپنی قوم کے ایمان سے مایوس ہو کراور اللہ کا عذاب آنے کو یقینی دیکھ کر نینوا‘‘ کی سرزمین چھوڑ کر چلے گئے ، آگے جانے کے لیے جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو کشتی والوں نے سمندر میں طغیانی کی وجہ سے انہیں سمندر میں پھینک دیا۔ ایک بڑی مچھلی نے انہیں نگل لیا ، اللہ
نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں بھی زندہ رکھا، بالآ خر چند روز بعد مچھلی نے انہیں ساحل پر اگل دیا۔ ادھر یہ ہوا کہ ان کی قوم کے مرد اور عورتیں، بچے اور بڑے سب صحراء میں نکل گئے اور انہوں
نے آہ زاری اور توبہ و استغفار شروع کردیا اور سچے دل سے ایمان قبول کر لیا جس کی وجہ سے اللہ کا عذاب ان سے ٹل گیا ۔ یہ  تین قصہ ذکر کرنے کے بعد مشرکین کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر وہ کفر وشرک  سے باز نہ آئے تو قیامت سے پہلے ہی ان پر عذاب آ سکتا ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کو بشارت سنائی گئی ہے کہ اللہ کی مدد قریب ہے، یہ ہماری سنت ہے کہ ہم بالآخر اہل ایمان کو نجات دیتے ہیں ، جیسے سورة یونس کی ابتداءقرآن حکیم کے ذکر سے ہوئی تھی اسی طرح اس کی انتہا بھی اس سچی کتاب کی اتباع اور پیروی کے حکم پر ہورہی ہے، ارشاد ہوتا ہے:" فرما دیجیے اے انسانو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق (قرآن) آ چکا ہے تو جو کوئی ہدایت حاصل کرتا ہے تو اس ہدایت کا فائدہ اسی کو ہو گا اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو اس گمراہی کا وبال اس پر پڑے گا اور میں تم پر وکیل نہیں ہوں اور (اے پیغمبر!) آپ اس کی اتباع کیجیے جو کلام آپ کی طرف وحی کیا جا تا ہے اور صبر کیجئے یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

No comments: