جديد مضامين

Thursday, May 7, 2020

خلاصة القرآن یعنی آج رات کی تراویح :تیرہواں پارہ تیرہویں تراویح | Lajnatulmuallifeen

خلاصة  القرآن یعنی آج رات کی تراویح :تیرہواں پارہ تیرہویں تراویح | Lajnatulmuallifeen

پاره ١٣


سیدنا یوسف علیہ السلام کا قصہ اجمالی طور پر عرض کیا جا چکا ہے، اب اس قصہ سے جو نصیحتیں حاصل ہوتی ہیں و عرض کی جاتی ہیں لیکن یہ وضاحت ضروری ہے کہ ان عبرتوں اور نصیحتوں کا تعلق اس قصہ کے صرف اس حصہ سے نہیں جو تیرہویں پارہ میں آیا ہے بلکہ مجموعی طور پر پورے واقعے سے جو ابصائر و عبر حاصل ہوتے ہیں وہ درج ذیل میں بالترتیب لائے جارہے ہیں:
(1)بعض اوقات مصیبت نعمت اور راحت تک پہنچنے کا زریعہ بن جاتی ہے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے قصہ کی ابتداء تو المناک پریشانیوں سے ہوئی ، انہیں کنویں میں بے یارو مددگار ڈال دیا گیا مصر مین غلاموں  کی منڈی میں ان کی خرید و فروخت ہوئی عورتوں کے فتنہ کا سامنا کرنا پڑا، کئی سال تک جیل کی کال کوٹھڑی میں بندر ہے لیکن انجام یہ ہوا کہ وہ مصر کے حکمراں بنے اور انہیں دینی اور دنیاوی عزت نصیب ہوئی۔
(2)حسد انتہائی خوفناک بیماری ہے، سگے بھائیوں میں بھی یہ بیماری پیدا ہو جائے تو افسوسناک واقعات جنم لیتے ہیں ۔
(3)اچھے اخلاق، اعلی اوصاف اور بہتر تربیت بہر حال اپنا رنگ دکھاتی ہے، حضرت یوسف علیہ السلام کی تربیت ایک عظیم باپ کے ہاتھوں خاندان نبوت میں ہوئی تھی اور آباء و اجداد کی اخلاقی میراث میں سے بھی آپ نے وافر حصہ پایا تھا ، مثالی تربیت اور اخلاقی کمال ہی کی وجہ سے آپ مصائب و شداند کے سامنے بڑی پا مردی سے کھڑے
رہے، جس کی وجہ سے کلفت کے بعد راحت کا اور ظاہری ذلت کے بعد حقیقی عزت کا دور آ کر ر ہا۔
(4)عفت وامانت اور استقامت ساری  بھلائیوں کا سر چشمہ ہے، مردوں کے لیے بھی اور عورتوں کے لیے بھی ، یونہی دین پر جمے رہنے والوں کو ایک نہ ایک دن عزت اور احترام حاصل ہو کر رہتا ہے حقیقت اورحق کو جتنا بھی چھپایا جائے ، بالآ خر وہ ظاہر ہوکر رہتے ہیں۔
(5)مرد اور عورت کا اختلاط اور خلوت میں میل جول ،فتنہ کا باعث ہوتا ہے، نہ زلیخا کو خلوت میسر آتی اور نہ ہی وہ برائی کی منصوبہ بندی کرتی ، اسی لیے اسلام نے مردوزن کے خلوت میں ملنے کو حرام قرار دیا ہے،ترمذی اور نسائی میں حدیث ہے کہ:"جب مرد اور عورت تنہائی میں ملتے ہیں تو ان کے ساتھ تیسرا فرد شیطان ہوتا ہے۔
(6)ذات باری پر ایمان اور عقیدہ کی پختگی سے مصائب کا برداشت کرنا اور اخلاقی نجاستوں سے دامن بچانا آسان ہوجاتا ہے۔
(7) مومن کو چاہیے کہ وہ تنگی اور پریشانی کے وقت صرف اللہ کی طرف رجوع کرے۔ جب عزیز مصر کی بیوی نے برائی کا ارتکاب نہ کرنے کی صورت میں جیل کی دھمکی دی تھی تو آپ نے معصیت پر مصیبت کو ترجیح دیتے ہوئے اپنے رب کو پکارا تھا: اے میرے رب جیل مجھے اس برائی سے زیادہ محبوب ہے جس کی دعوت زنان مصر مجھے دیتی ہیں ۔
بعض اللہ والوں کے بارے میں آتا ہے کہ جب کسی مصیبت اور بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان سے تعزیت کی گئی تو انہوں نے جواب دیا الحمد الله! بمصيبتے گرفتارم نه بمعصیتے ‘‘ ( اللہ کا شکر ہے مصیبت میں مبتلا ہوں ، معصیت (گناہ)میں نہیں) 
(8)سچا داعی، انتہائی مشکل اور پریشان کن حالات میں بھی دعوت کے فریضہ سے غافل نہیں ہوتا، سیدنا یوسف علیہ السلام جیل میں بھی دعوت وتبلیغ اور اصلاح و ارشاد کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے، جو لوگ آپ سے خواب کی تعبیر پوچھنے کے لیے آئے ، ان کو بھی آپ نے پہلے توحید کی دعوت دی اس کے بعد خواب کی تعبیر بتلائی اور کہا جاتا ہے کہ جیل کے قیدیوں نے آپ کی دعوت سے متاثر ہو کر ایمان قبول کر لیا تھا ، خود مصر کا بادشاہ بھی اسلام لے آیا تھا۔
(9) ہر مسلمان کو عموما اور داعی اور پیشوا کو خصوصا اپنے دامن کی صفائی کا بہت زیادہ اہتمام کرنا چاہیے ، حضرت یوسف علیہ السلام کو کئی سال بعد جب رہائی نصیب ہوئی تو آپ نے اس وقت تک جیل سے باہر قدم رکھنے سے انکار کر دیا، جب تک کہ آپ کی برات اور طہارت کا اعلان اور اعتراف نہ کر لیا جائے ۔ تا کہ کل کو آپ کو یہ طعنہ نہ دیا جائے کہ معاذ اللہ ! تھے تو مجرم مگر رحم اور ترس کھاتے ہوئے رہا کر دیا گیا۔
(10)اس واقعہ سے صبر کی فضیلت اور اس کے بہترین نتایج کا بھی یقین آ جاتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے کنویں کی تاریکی سے جیل کی تنہائی تک اور عزیز مصر کے گھر سے بھائیوں کو معاف کرنے تک ہر جگہ مضبوطی کے ساتھ صبر کا دامن تھامے رکھا، اس صبر کے جو نتائج سامنے آئے وہ کسی سے مخفی نہیں ، اس میں کوئی شک نہیں کہ صبر، راحتوں اور نعمتوں کے دروازے کی چابی ، نصف ایمان اور اللہ کی نصرت اور رحمت کو متوجہ کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔
(11)اس قصہ کے مطالعہ سے حضرت یوسف علیہ السلام کی برات اور طہارت کی  کئی شہادتیں سامنے آتی ہیں۔
پہلی شہادت رب العالمین کی ہے۔
دوسری شہادت شیطان کی ہے کیونکہ شیطان نے باری تعالی کے سامنے قسم کھا کر کہا تھا:" تیری عزت کی قسم  میں سب انسانوں کو گمراہ کر دوں گا سوائے تیرے ان بندوں کے جوان میں سے مخلص ہیں ۔
اور اس میں شک ہی کیا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلا مخلص اور منتخب تھے۔ لہذا انہیں راہ راست سے ہٹانا خود شیطان کے بقول ممکن ہی نہ تھا۔
تیسری شهادت خود حضرت یوسف علیہ السلام کی ہے، ابھی گزرا ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا:" اے میرے رب! مجھے جیل زیادہ محبوب ہے اس برائی سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں ۔ چوتھی شہادت عزیز مصر کی بیوی کی ہے جب اس نے واضح طور پر کہا تھا: 'اب حق واضح ہو گیا، میں نے اسےپھسلانے کی کوشش کی تھی اور یہ سچوں میں سے ہے پانچویں شہادت عزیز مصر کے خاندان کے اس فرد کی ہے جس نے کہا تھا: اگر قمیص اگے سے پھٹی ہے تو یہ سچی ہے اور یوسف (معاذ اللہ ) جھوٹوں میں سے ہے اور اگر قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو زلیخاجھوٹی ہے اور یوسف سچوں میں سے ہے جب دیکھا گیا تو آپ کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی تھی۔
چھٹی شہادت ان زنان مصر کی ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے، انہوں نے آپ کے کردار کی صفائی کی گواہی دیتے ہوئے کہا تھا: "ہمیں یوسف کے بارے میں کسی برائی کاعلم نہیں ہے۔
ان تمام شہادتوں سے قطعی طور پر حضرت یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی ثابت ہوتی ہے۔ اب اگر کوئی سیاہ دل آپ کی طرف برائی کی نسبت کرتا ہے تو اس سے بڑا جاہل اور غبی کوئی نہیں ۔ (12).......... بارہویں نصیحت اس قصہ سے یہ حاصل ہوتی ہے کہ اللہ کسی کو تکلیف میں مبتلا کرنے کا فیصلہ کر لے تو اس کی تقدیر اور فیصلے کو کوئی ٹال نہیں سکتا اور اگر کسی کے ساتھ خیر اور عزت کا فیصلہ کر لے تو اسے کوئی روک نہیں سکتا۔
(13)سورة يوسف کا اختتام اس آیت پر ہوا ہے۔ ان کے قصے میں عقلمندوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ (قرآن) ایسی بات نہیں جسے خود بنالیا جائے بلکہ یہ ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
گویا اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ جو الله حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں سے نکال کر تخت پر بٹھا سکتا ہے، وہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ محمدصلی الله علیہ وسلم کوبھی عزت عطا کرے اور ان کے لائے ہوئے دین کو تمام ادیان پر غالب کردے۔



سورة الرعد:
 سورہ رعد مکی ہے، اس میں 43 آیات اور 6رکوع ہیں، اس سورت میں تینوں بنیادی عقاند یعنی توحید، نبوت اور بعث بعد الموت سے بحث کی گئی ہے، اس سورت کی پہلی آیت میں قرآن کریم کی حقانیت کا ذکر ہے، یہ نکته قابل غور ہے کہ جن سورتوں کا آغاز حروف مقطعات
سے ہوتا ہے ان کی ابتداء میں عام طور پر قرآن کریم کا ذکر ہوتا ہے، جس سے اس قول کو تقویت حاصل ہوتی ہے، جس کے مطابق حروف مقطعات ان مخالفین کو چیلنج کرنے کے لیے لائے جاتے ہیں جو قرآن مجید کو معاذ اللہ انسانی کاوش قرار دیتے ہیں ۔ اس سورت میں جو اہم مضامین بیان کیے گئے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔
(1)سورت کی ابتدا میں اللہ کے وجود اور اس کی وحدانیت کے دلائل بیان کیے گئے ہیں کہ آسمانوں اور زمین ، سورج اور چاند رات اور دن ، پہاڑوں اور نہروں، غلہ جات اور مختلف رنگوں، ذائقوں اور خوشبوؤں والے پھلوں کو پیدا کرنے والا وہی ہے اور موت اور زندگی نفع اور نقصان اس اکیلے کے ہاتھ میں ہے۔
(2)قیامت کے دن  بعث و جزا کو ثابت کیا گیا ہے، یہ ایک ایسا مسئلہ تھا جو مشرکین کی سمجھ میں نہیں آتا تھا وہ اللہ کے وجود کا اقرار بھی کرتے تھے، اسے ارض وسما کا خالق بھی تسلیم کرتے تھے لیکن مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کرتے تھے۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ ہڈیوں کے بوسیدہ اور گوشت پوست کے مٹی میں رل  جانے کے بعد انسان دوبارہ کیسے زندہ ہوجائے گا، اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ مشرکوں کو تو اس پر تعجب ہوتا ہے کہ مردہ ہڈیوں میں زندگی کیسے ڈالی جائے گی جبکہ در حقیقت بعث تعجب بعث بعد الموت نہیں بلکہ بعث بعد الموت کا انتظار باعث تعجب ہے۔(13/5)
(3)اللہ تعالی نے ایسے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو اللہ کے حکم سے انسان کی حفاظت کرتے
(4)ایک اصولی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ کسی قوم کے ساتھ اللہ تعالی کا جو خصوصی معاملہ ہوتا ہے وہ اپنے معاملے کو اس وقت تک نہیں بدلتا، جب تک کہ اس قوم کے حالات نہیں بدل جاتے، جب وہ قوم خود ہی اپنے آپ کو نعمت کی بجائے مصیبت اور کشائش کی بجائے تنگی کا مستحق بنا لیتی ہے تو پھر اللہ اپنا معاملہ بدل دیتا ہے۔
آج اگر امت مسلمہ اپنے لیے عزت چاہتی ہےتواسے ذلت والے اسباب ترک کر کے، عزت والے اسباب و وسائل اختیار کرنے ہوں گے ، محض عزت کی آرزو سے عزت کا حصول ناممکن ہے۔
(5)باطل اور اہل باطل کو اس سیلابی جھاگ سے تشبیہ دی گئی ہے جو بظاہر ہر چیز پر چھائی ہوتی ہے لیکن بالآ خر سوکھ کر زائل ہو جاتی ہے۔ حق اور اہل حق کو اس سونے اور چاندی کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو زمین پرٹہرارہتا ہے، پھر آگ میں تپ کر بالکل خالص ہوجاتا ہے اور میل کچیل اس سے الگ ہو جا تا ہے ۔ (13/17)
دنیا بھر میں باطل کی مادی جھاگ جواٹھی ہوئی دکھائی دیتی ہے یہ جھاگ خود بخود بیٹھ جائے گی لیکن شرط یہ ہے کہ اس کے مقابلے میں حق کے سچے پرستار کھڑے ہو جائیں لیکن جو صورت نظر آ رہی ہے وہ تو یہ ہے کہ حق کے نام لیواؤں نے اہل باطل کے اور اہل باطل نے اہل حق کے بعض طور طریقے اپنارکھے ہیں۔
ابل تقوی اور حقیقی عقل مندوں کی آٹھ صفات بتائی گئی ہیں: 
وہ اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور عہد شکنی کے مرتکب نہیں ہوتے۔ .
 جن رشتوں کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے انہیں جوڑے رکھتے ہیں ۔
 اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔
حساب سے خوف رکھتے ہیں ۔
 اللہ کی رضا کے لیے صبر کرتے ہیں ۔
نماز قائم کرتے ہیں ۔ 
اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے خفیہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں ۔ .
برائی کا جواب بھلائی اور اچھائی سے دیتے ہیں ۔ (13/24 ۔20)
ان کے مقابلے میں اشقیاء کی تین نمایاں علامات ہیں پہلی یہ کہ وہ اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں، دوسری یہ کہ اللہ نے جن رشتوں کو باقی رکھنے کا حکم دیا ہے وہ انہیں ختم کرتے ہیں اور تیسری یہ کہ وہ زمین میں فساد کر تے ہیں ۔ ( 13/25 ) 
(6) انبیاء بھی دوسرے انسانوں کی طرح انسان ہوتے ہیں، ان کے بیوی بچے بھی ہوتے ہیں ، جہاں تک ان کے معجزات کا تعلق ہے تو یہ ان کا ذاتی کمال نہیں ہوتا، بلکہ یہ اللہ کے حکم سے صادر ہوتے ہیں، وہ لوگ مقام نبوت سے ناواقف ہیں جو بشر ہونے کی وجہ سے ان کی نبوت کا انکار کرتے ہیں ۔
(8) سورت کے اختتام پر اللہ تعالی نے اپنے نبی کی نبوت ورسالت کی خود شہادت دی ہے، اسی طرح وہ اہل کتاب کی نبوت کے گواہ ہیں جو تعصب سے پاک ہیں۔
سورة ابراہیم:
 سوره ابراہیم مکی ہے اس میں ۵۲ آیات اور7 رکوع ہیں ، اس سورت کی ابتدا بھی حروف مقطعات سے ہوئی ہے، حروف مقطعات والی دوسری سورتوں کی طرح اس سورت کے آغاز میں بھی قرآن کریم کا ذکر ہے اور اس کی پہلی آیت میں نزول قرآن کی حکمت اور مقصد بیان کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جسے ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے تا کہ تم لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالو، اپنے رب کے حکم سے یعنی غالب اور قابل تعریف ذات کے راستے کی طرف
(سورۂ ابراہیم میں جو  اہم مضامین بیان ہوئے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔)
 (1).تینوں بنیادی عقائد یعنی توحید، رسالت اور بعث و جزاء پر ایمان کے بارے میں بحث کی گئی ہے۔
(2)کافروں کی مذمت اور ان کے لیے جہنم کی وعید ہے، جبکہ مومنوں کے لیے جنت کے وعدے ہیں ۔ (آیت ۲ - ۴۳، ۲۸ - ۳۱)
(3)حضرت خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے لیے بتایا گیا ہے کہ سابقہ انبیاء کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے اعراض و انکار اور عداوت و مخالفت کا یہی رویہ اختیار کیا تھا جو آپ کی قوم اختیار کیے ہوئے ہے۔ (آیت ۹-۱۲، ۱۳۔ ۱۸)
اسی سلسلہ میں الله تعالی نے وہ گفتگو ذکر کی ہے جو بعض انبیاء اور انہیں جھٹلانے والوں کے درمیان ہوئی ، ان مکذبین نے انبیاء کی دعوت کے جواب میں چار شبہات پیش کیے۔
(1)رب العالمین کے وجود کے بارے میں شبہ جو کہ مشرکین کے ان الفاظ سے ظاہر ہے اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے قوی شک میں ہیں
اسی شبہ کے جواب میں انبیاء نے فرمایا: اے اللہ کے بندو! کیا تم اللہ تعالی کے بارے میں شک کرتے ہو جو آسان اور زمین کا پیدا کرنے والا ہےیعنی اللہ تعالی کے وجود اور توحید کے دلائل تو اس قدر واضح ہیں کہ ان پر کسی دلیل اور برہان کے قیام کی ضرورت ہی نہیں ، کا ئنات کا ہر ذرہ اور ہر حرکت و سکون اس کی وحدانیت کی گواہ ہے، کیا جب سورج طلوع ہو جائے تو پھر دن کے وجود پر کسی اور دلیل کی بھی ضرورت باقی رہتی ہے؟.. (2)مشرکین کا خیال تھا کہ بشر رسول نہیں ہوسکتا، انبیاء نے جواب دیا کہ بے بیشک ہم بشر ہیں لیکن بشر کا رسول ہونا محال نہیں، رسول اسے کہتے ہیں جس پر وہی نازل ہو اور ہم پر وحی نازل ہوتی
ہے، حکمت الہی کا تقاضا یہ ہے کہ انسانوں کی طرف کسی انسان ہی کو نبی بنا کر بھیجا جائے ، اگر ز مین پرفرشتے آباد ہوتے تو کسی فرشتے ہی کو نبی بنا کر بھیجا جاتا۔ ...
(3) مشرکین کو ہدایت سے محروم رکھنے والا ایک بڑا سبب تقلید اباء تھا وہ اپنے آباء کی راہ *چھوڑنے کے لیے کسی طرح تیار نہ تھے۔ قرآن نے متعدد مقامات پر اس کی تردید فرمائی ہے۔
 (4) چوتھا شبہہ وہ یہ پیش کرتے تھے کہ جن معجزات کا ہم مطالبہ کرتے ہیں وہ ہمیں کیوں نہیں دکھا ئے جاتے اس کا جواب انبیاء نے یہ دیا ہے کہ کسی بھی معجزہ کا دکھانا ہمارے اختیار میں نہیں ہے معجزہ دکھانا تو اللہ کے ہاتھ میں ہے اس کی مرضی ہے وہ دکھائے یا نہ دکھائے۔
(5).. الله تعالی کا دستور اور وعدہ یہ ہے کہ وہ شکر کرنے والوں کو اور زیادہ دیتا ہے اور ناشکری کرنے والوں کے لیے اس کا عذاب بڑا سخت ہے۔ (2)
شکر کی حقیقت یہ ہے کہ انسان منعم کے فضل واحسان کا اقرار کرے، اس کی تعریف کرے اور نعمت کو اسی مقصد کے لیے استعمال کرے جس مقصد کے لیے و نعمت عطا کی گئی ہے نعمت  کا تقاضا یہ ہے کہ عمل کیا جائے اور جاہلوں کو تعلیم دی جائے ،  نعمت مال کا شکریہ یہ کہ اسے نیکی اور احسان کے موقع پر خرچ کیا جائے اس پر دوسری نعمتوں کو قیاس کر لیا جائے۔
(6)........... اس سورت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ دعا ئیں خاص طور پر ذکر کی گئی ہیں جو انہوں نے بیت اللہ کی تعمیر کے بعد اہل مکہ، اپنی اولاد اور خود اپنے خاندان کے لیے کی تھیں ان دعائوں میں انہوں نے امن ، رزق ، دلوں کے میلان ، اقامت صلوۃ اور مغفرت کی درخواست کی تھی ۔ (آیت 41/35)
حق اور ایمان کے کلمہ کو شجرہ طیبہ ( پاکیزه درخت) کے ساتھ اور باطل اور ضلالت کے کلمہ کو شجرہ خبیثہ (ناپاک درخت) کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے ۔
کلمہ طیبہ جب واقعی  دل میں اتر جائے تو اس کی جڑ بڑی مضبوط اور اس کا پھلل بڑا شیر یں  ہوتا ہے، جب کہ کلمہ خبیثہ کے لیے   قرار بھی نہیں ہوتا اور وہ ہوتا بھی بے ثمر ہے۔ (۲۴ - ۲۷)
(7)... سوره ابراہیم کے آخری رکوع میں قیامت کی منظر کشی کی گئی ہے اور جہنم کے ہولناک عذابوں کا تذکرہ ہے۔
(8)جیسے اس سورت کا آغاز نزول قرآن کی حکمت کے بیان سے ہوا تھا ، اسی طرح اس کی آخری آیت میں اس کا مقصد نزول بیان کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے یہ قرآن  لوگوں کے لیے اللہ کا پیغام ہے تا کہ اس سے انہیں ڈرایا جائے اور تا کہ وہ جان لیں کہ وہی اکیلا معبود ہے اور تا کہ اہل عقل نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ (۵۲)

No comments: