جديد مضامين

Tuesday, May 5, 2020

صدقہ فطراوراسکےمسائل

صدقہ فطراوراسکےمسائل
-------------------------------------------
✍محمدانورداؤدی،قاسمی  ایڈیٹر "روشنی" اعظم گڈه 
8853777798

صدقہ فطر جوعام طور سے فِطرہ اورفطرانہ سے مشہور ہے رمضان 2/ہجری میں عیدسےدودن پہلے اسکاحکم نازل ہوا

صدقہ فطرکسےکہتےہیں؟ اوراسکی حکمت کیاہے؟


   صدقہ کہتے ہیں 
"اللہ کی خوشنودی حاصل کرنےکےلئے راہ خدامیں غرباء ومساکین پر  مال خرچ کرنا  "

اورفطر افطار سے ہے یعنی روزہ کھولنا اب  شریعت کی اصطلاح  میں صدقہ فطرکامطلب آسان زبان میں   ہوا
"رمضان کے ختم پر عیدکےدن عیدگاہ جانےسےپہلے غریبوں اورمسکینوں کو صدقہ فطر  دینا " 

اس کی دوحکمت ہے 

(1)لاکھ اہتمام اورپرہیزکےباوجودکچھ نہ کچھ روزہ دارسے غلطی یا کوتاہی ہوجاتی ہے اسی کوتاہی کی تلافی کےلئے صدقہ فطردیاجاتاہے
تاکہ روزےدارسےجولغویات یافضول مصروفیات یاجونازیباباتیں سرزدہوگئ ہیں صدقہ فطر کی ادائیگی سےان کوتاہیوں کی تلافی ہوجائے 

(2)اسلام کانظام بہت عمدہ ہے غریب مسکین بھی انسان ہیں ،اپنےسماج اورمذہب کاحصہ ہیں اسی لئے ہرموڑپراسلام نےامیرغریب کاتوازن  برقراررکھاہے 
 صدقہ فطرکےذریعہ انکی امداد کرنے کاحکم دیا
  تاکہ مسکینوں کےلئےبھی عیدکےدن اچھی طرح کهانامیسرہوجائے اور وہ بھی عیدکی خوشی میں شریک ہوجائیں       
چنانچہ حدیث پاک میں ہے

 حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے  روایت ہے کہ  

  "  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطرکوفرض(واجب )فرمایا
جوروزه دارکےلئےلغواوربےحیائ کی باتوں سےپاکیزگی کاذریعہ ہے،اورمسکینوں کےلئےکهانےکاانتظام ہےجوشخص اسےعیدکی نماز سے پہلے اداکردےتویہ مقبول زکوة ہوگی اورجواسےنماز کےبعداداکرےتویہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے "
   (ابوداؤد، ابن ماجہ، دارقطنی                                                     

ایک دوسری حدیث میں ہے  
حضرت عبداللہ ابن عمررضی اللہ عنہ اسکے راوی ہیں کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کوفرض (واجب)قراردیااورفرمایا کہ غریبوں کواس دن غنی کردو" یعنی اس دن مسکینوں پراتناخرچ کروکہ وہ سوال سے بےنیازہوجائیں 
    
(دارقطنی،منہاج المسلم،بحوالہ تحفہ رمضان ،منصورپوری)  

   صدقہ فطر کس پرواجب ہے؟


 احناف کےنزدیک ہراس مسلمان پرواجب ہےجوصاحب نصاب ہو، اسکی دلیل حضرت ابوہریرہ کی وه روایت ہےجس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نےفرمایا کہ"غِنی  (بکسرالغین)کی حالت کےبغیرکوئ صدقہ نہیں ہے"
(بخاری ومسلم)

صدقہ فطرمیں کیادیناہےاورکتنادیناہے؟

صدقہ فطرکےحوالےسے نصوص میں جن کاذکرہے وہ چارہیں

گندم 
جَو
کھجور
کشمش 

بخاری کی دوسری روایت میں پنیرکابھی اضافہ ہے آٹاستوبھی دےسکتےہیں ان مذکورہ چیزوں میں سے اپنی حیثیت کےمطابق کسی ایک جنس یا اس کی قیمت سے صدقہ فطراداکرسکتےہیں 

مذکورہ اشیاء میں گندم کےعلاوہ  مقدار میں  کسی کاکوئ اختلاف نہیں ہے

 کھجور..ایک صاع (ساڑھے تین سیر ) کشمش. ایک  صاع (ساڑھےتین سیر) جو..ایک صاع (ساڑھے تین سیر) گیہوں.،آٹا،ستو.نصف صاع (پونے دوسیر )

 بعض دیگرائمہ جیسےامام شافعی ،امام احمدبن حنبل واسحاق رحمهم اللہ کےنزدیک گندم کاصدقہ فطربهی ایک صاع ہے
 (فقہ السنہ)

 نصف صاع کی مقدار موجودہ اوزان کےاعتبارسےایک کلو574/گرام 640/ملی گرام ہوتی ہے،اسکی قیمت بهی دے سکتاہے ،
  (کتاب المسائل )
ایضاح المسائل میں مفتی شبیرصاحب قاسمی نےبھی یہی لکھاہے
  
نوٹ : زمانہ قدیم میں صاع ایک پیمانہ تھا جس میں چارمُد ہوتےتھےصاع دوطرح کاہوتاتھا  ایک حجازی دوسراعراقی دونوں میں قدرےفرق بھی تھا

امام ابوحنیفہ اوردوسرے
فقہاء کوفہ عراقی صاع کےقائل تھے عراقی صاع  حجازی صاع سےکچھ بڑاتھا 

صدقہ فطرکب واجب ہوتاہے؟اورکس وقت اداکرنابہترہوتاہے


اس کےوقت کی تعیین میں اختلاف میں 
عندالاحناف  صدقہ فطر رمضان کےبعد عیدالفطرکی صبح صادق سے واجب ہوجاتاہے امام مالک وامام شافعی کی بھی ایک روایت یہی ہے 
دیگرفقہاء مثلا امام احمد امام اسحاق وامام ثوری کےنزدیک رمضان کاآخری دن سورج غروب ہونےکےبعد ہے 
     
بہرحال بہتراور مستحب یہ ہےکہ عیدکےدن عیدگاہ جانےسےپہلےپہلے صدقہ فطر اداکردیاجائے جیساکہ 
حضرت ابن عمرکی روایت ہے کہ 

"نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیاکہ صدقہ فطرلوگوں کےعیدگاہ کی طرف جانے سے پہلےاداکردیاجائے"
 (بخاری ،مسلم،ابوداؤد)

لیکن اگر کسی نےوقت پرادانہ کیاتو بعد میں بھی ادا کرنا جائز ہے ہے اور جب بھی ادا کرے گا وہ ادا ہی کہلائے گا قضا نہیں ہوگا اور جب تک ادا نہیں کرے گا اس کے ذمہ واجب الادا رہے گا اس حوالے سے ابوداؤد کی ایک روایت حضرت ابن عباس والی شروع میں گزرچکی ہے 


صدقہ فطر عیدسےپہلےاداکرےتو؟

اس کی تین شکل ہے 
عیدسے ایک دوروزپہلے ؟
عیدسےبہت پہلے یا شروع رمضان میں ؟
رمضان سےبھی پہلے؟

 عندالاحناف مفتی بہ قول یہ ہےکہ رمضان سے پہلےنہیں دےسکتےہاں رمضان شروع ہونےکےبعدجب چاہیں دےدیں 
امام شافعی رحمہ اللہ کےنزدیک بھی شروع رمضان سےدےسکتےہیں 

بعض ائمہ جیسے امام مالک وامام احمدرحمھمااللہ کےنزدیک  عیدکی نمازکےدوروزسےپہلےدیناجائز
نہیں  
       
(مزیدتفصیل فقہ السنہ میں دیکھی جاسکتی ہے)

بہرحال صاحب وسعت مسلمانوں پر ضروری ہےکہ صدقہ فطربروقت ادا کریں 
اسی لئے

 حضرت عبداللہ ابن عمررضی اللہ عنھما  عید سے دو تین دن پہلے ہی صدقۃ الفطر ادا کر دیا کرتے تھے          (ابوداؤد)

 اور یہ مناسب بھی ہے 

 صدقہ فطر کس کودیناچاہئے

جن کوزکوة دےسکتےہیں انھیں صدقہ فطربھی دےسکتےہیں  

❌  اپنےماں باپ، دادا، دادی، نانا، نانی  کونہیں دےسکتےاگرچہ غریب ہوں اور اس طرح اپنی اولاد
 جیسے بیٹی، بیٹا،اولادکی اولاد جیسےپوتا، پوتی، نواسہ، نواسی  کوصدقہ فطر نہیں دے سکتے

 ❌ ایسے ہی بیوی اپنے شوہر کو اور شوہر اپنی بیوی کو بھی صدقہ فطر یا زکاة نہیں دے سکتا
❌  رمضان میں یاعیدکےروزصبح صادق سےپہلے تک جس کاانتقال ہوگیاہو اس کی طرف سے صدقہ فطرنکالناواجب نہیں 

✅  بھائی اپنی  بہن کو،یابہن اپنےبھائ کودےسکتی ہے
✅  خالہ، خالو، ماموں، ممانی ، ساس، سسر، سالہ، بہنوئی، سوتیلی ماں، سوتیلا باپ ان  سب کو بھی صدقہ فطر دےسکتےہیں 

باہرملک میں رہنےوالا صدقہ فطر کہاں کےریٹ سےنکالےگا ؟

پوری دنیامیں کہیں بھی ہو اگر جنس جیسے گہیوں کھجور وغیرہ نکالناہےتو وزن کےاعتبارسےنکالیں گے ہرایک کاوزن اوپرلکھاگیاہے 

مسئلہ   قیمت نکالنے کی صورت میں ہے کہ  کہاں کی قیمت معتبرہوگی ؟

جو جہاں ہے مثلا کوئ سعودی عرب یاکویت وغیرہ  رہتا ہےاوروہ پیسہ نکالناچاہتاہے  
تووہ اپناصدقہ فطر سعودی یاکویت کےاعتبارسے نکالےگا 
پونےدوسیرگندم کی جووہاں قیمت ہوگی وہ نکلےگی 
اس لئے گھروالےدھیان دیں 

کیانابالغ اولادکابھی صدقہ فطر باہرملک کےحساب سےنکلےگا؟

اس میں فقہاء کااختلاف ہے
اس عنوان پر "ماہنامہ روشنی "اعظم گڈھ 2018/میں  
جناب مفتی محمدطاہرصاحب اعظمی مجمع "معاذ بن جبل "جدہ کاایک مدلل مضمون شائع ہوچکاہے اسکامطالعہ مفیدرہےگا یعنی اگرآپ باہرملک رہتےہیں اورآپ کی فیملی ہندوستان رہتی ہے تو آپ کےاہل وعیال  کافطرہ کس ملک کےاعتبارسےنکالاجائےگا امام ابویوسف رحمة اللہ  کےنزدیک  بچے جہاں ہوں اسی جگہ کااعتبارہوگا اورامام محمدرحمةاللہ کے نزدیک خودصدقہ فطرنکالنےوالےکی جگہ کااعتبارہوگا دونوں بزرگوں کےمذہب کو صحیح کہا گیا ہے اور دونوں کے مذہب کے مطابق علماءامت نے فتوی دیا ہے اور دے رہے ہیں لیکن  امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو مفتی بہی  اور افضل بتایا گیا ہے بعض لوگوں نے بیچ کی صورت یہ نکالی ہےکہ نابالغ اولادکافطرہ باہرملک کےاعتبارسےنکلےگااگر باپ باہررہتاہے اوربالغ اولاد وبیوی کافطرہ اپنے ملک کےحساب سے مولانا بنوری رحمة اللہ کابھی موقف یہی ہے بہرحال اس میں شدت نہیں ہونی چاہئے ہمارےیہاں جورائج ہے بہترہےکہ اکیلےباپ کاصدقہ فطر باہرملک کےحساب سے باقی کااپنےملک میں مقامی قیمت کےحساب سے نکالاجاتاہے  

 📍 تنبیہ:

آجکل نصف صاع کےاعتبارسے صدقہ فطرمیں گیہوں کی قیمت بہت کم بیٹھتی ہے ،ہمارےعلاقے  (سرائمیر وآس پاس)میں گندم کی نصف صاع کی قیمت 35/روپئے کےآس پاس  بنتی ہے جو مالداروں اورسرمایہ داروں کیلئے یقینا بہت معمولی ہے اور واقعی مذکوره روپئے میں دووقت توچهوڑئیے ایک وقت کاکهانا بهی ڈھنگ سے نہ مل سکے،اس لئے جنهیں اللہ نےنوازہ ہے ان کوچاہیئے کہ نصف صاع کےبجائے ایک صاع یعنی/ڈبل گندم کےحساب سےیاجو،کهجوراورکشمش کےحساب سےصدقہ فطرنکالیں تاکہ ماه مبارک میں ثواب بهی زیادہ ملے اورفقراء کازیاده سےزیاده فائده بهی ہو ،

چنانچہ  حضرت علی رضی اللہ عنہ جب بصره (عراق )آئےاوردیکها کہ گیہوں کابهاؤبہت  کم ہےتوآپ نےارشاد فرمایا:

 اللہ نےتمهارےاوپروسعت فرمائ ہے،اس لئےاگرتم صدقہ فطرہرچیز کاایک صاع کےحساب سے نکالوتوزیاده بہتر ہے

            *(ابوداؤد )*
mdanwardaudi@gmail.com   04/05/2020

No comments: