جديد مضامين

Saturday, May 2, 2020

زکوة کاتعلق رمضان المبارک سے نہیں

زکوة  کاتعلق رمضان المبارک سے نہیں

از : مولانا،مفتی جمیل احمد نذیری


 مسلمانوں کا معمول ہے، اور تقریبا ہر جگہ کا معمول ہے کہ زکوة رمضان المبارک میں ادا کرتے ہیں، کچھ حضرات پورے سال زکوة دیتے رہتے ہیں لیکن اکثر کا حال یہ ہے کہ وہ زکوة صرف رمضان المبارک میں ہی ادا کرتے ہیں، اگر ان سے کوئی کسی کے لئے رمضان المبارک کے علاوہ مہینوں میں مانگ دے تو انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رمضان میں آئیے گا، ہم زکوة رمضان میں دیتے ہیں، کچھ کہتے ہیں آپ رمضان المبارک سے پہلے زکوة مانگ کر ہماراثواب کم کررہے ہیں، ابھی دیں گے تو ایک کا ایک ہی اجر ملے گا، رمضان میں دیں گے تو ایک کا ستر ملے گا۔
یہی عام ذہن بنا ہوا ہے کہ زکوة کا تعلق رمضان المبارک سے ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ زکوة کا تعلق رمضان المبارک سے نہیں ، ہاں زکوٰۃ رمضان المبارک میں بھی دی جاسکتی ہے لیکن زکوۃ کی ادائیگی کو رمضان المبارک پر موقوف سمجھنا، یا یہ سمجھنا کہ زکوٰۃ رمضان المبارک میں ہی دی جاتی ہے، غلط ہے۔
رمضان المبارک سے جن عبادات کا تعلق ہے، وہ ہیں روزہ، تر اویح ، اعتکاف ، شب قدر، زکوٰۃ ان میں شامل نہیں۔ زکوۃ کے رمضان المبارک سے جڑ جانے اور اس کا معمول بن جانے کی وجہ احقر کے خیال میں دو ہے۔
ا۔ زکوة کی وصولی کے لئے مدارس اسلامیہ کے ذمہ داران ، اساتذہ کرام اور سفراء حضرات زیادہ تر رمضان میں ہی نکلتے ہیں، کیونکہ وہ اس وقت خالی ہو جاتے ہیں تعلیم مکمل ہو کر امتحان سالا نہ ہو جاتا ہے، طلبہ اپنے اپنے گھر چلے جاتے ہیں ، طلبہ اورتعلیم سے متعلق ذمہ داریاں ختم ہوجاتی ہیں، اور منتظمین اس وقت اپنے کو یک گونہ پرسکون محسوس کرتے ہیں، اور اگلے سال کی تیاریوں کی فکر میں لگ جاتے ہیں، کم و بیش دو ماہ کی چھٹی ہوجاتی ہے، جس میں رمضان المبارک بھی آجاتا ہے، وہ اس چھٹی کے وقت کو استعمال کرتے ہوئے کچھ دن گھر آرام کر کے، رمضان المبارک میں وصول چندہ کے لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں، اگر اس طرح در میان سال میں نکلیں گے تو طلبہ کی تعلیم وتربیت اور ان سے متعلق امور کا بے حد نقصان ہوگا، بلکہ مدارس کا نظام چوپٹ ہو کر رہ جائے گا، تو منتظمین مدرسہ نے جو موقع اپنی سہولت کے پیش نظر چنا ہے۔ عوام سمجھنےلگے کہ زکوۃ کی ادائیگی کا وہی وقت ہے، وہی مہینہ ہے۔
۲۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رمضان المبارک میں عبادتوں کا ثواب بڑھ جاتا ہے، ایک کا سترملتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: من تقرب فيه بخصلة من الخير كان كمن ادی فريضة فيما سواه ومن ادی فريضة فيه كمن ادی  سبعين فريضة فيما سواه الخ رواه البيهقي في شعب الایمان۔ (مشکوۃ المصابیح ١/ ١٧٤)
جو شخص اس مہینے میں الله کی رضا اور اس کا قرب چاہنے کے لئے کوئی نیکی کرے (یعنی نفل عبادت) تو اس کا درجہ اس شخص کا ہوگا جس نے رمضان کے علاوہ میں فرض عبادت انجام دی ہو، اور جس شخص نے رمضان میں فرض عبادت ادا کی اس کا درجہ اس شخص جیسا ہے جس نے رمضان کے علاوہ میں ستر فرض عبادتیں انجام دی ہوں“۔
لوگوں نے کہ رمضان المبارک میں اس لئے ادا کرنی شروع کر دی کہ ایک کا سترحاصل کریں، گویا زیادہ حصول ثواب کے مقصد سے ز کوۃ کی ادائیگی رمضان المبارک میں ہونے لگی۔
بلا شبہ یہ ایک اچھی نیت ہے، ہرمسلمان کو زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کرنے کی فکر اور کوشش کرنی چاہئے لیکن یہ سمجھنا کہ زیادہ ثواب صرف رمضان المبارک میں ہی ملے گا، دوسرے مہینوں میں نہیں، غلط فہمی ہے۔
ایک آدمی اس وقت بھوکا ہے، اسے کھانا چاہئے ، ایک آدمی ننگا ہے، اسے کپڑ اچا ہیے ، ایک آدی بیمار ہے، اسے دوا چاہئے ، ڈاکٹر کو دکھانا ہے،

لوگ زکوة لینے آئے اور ہم ان سے کہیں کہ ابھی نہیں دیں گے ، رمضان المبارک میں دیں گے، ابھی دیں گے تو ایک نیکی ملے گی، رمضان میں دیں گے توستر نیکی ملے گی ، رمضان میں آئے گا تو دیں گے تا کہ ہمیں زیادہ ثواب ملے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ رمضان آتے آتے وہ مر جائے گا، بیمار دنیا سے رخصت ہو جائے گا، ہم کو موقع ملا تھا اس کو بچانے کا بھوک سے، پیاس سے، بیماری سے، ہم نے موقع گنوادیا، یہ سمجھ کر کہ رمضان میں زیادہ ثواب ملے گا ، ضرورت ابھی تھی نہیں دے رہےہیں، رمضان میں بلا رہے ہیں، پتہ نہیں اس وقت اس کو ضرورت رہے گی یا نہیں، پتہ نہیں وہ آپ کے پاس لینے کے لئے دنیا میں بھی رہے گا یا نہیں۔
اگر آپ وقت پر اس کی ضرورت پوری کر دیتے تو ہوسکتا ہے ستر کیا، سات سو گنا، بلکہ اس سے بھی زیادہ آپ کو ثواب مل جاتا۔ ارشاد باری ہے:
مثل الذين ينفقون أموالهم في سبيل الل كمثل حبة أنبتت سبع سنابل في كل سنبلة مأة حبة  والله يضاعف لمن يشاء و الله واسع عليم (بقرہ۔۲۶۱)
جولوگ اللہ کے راستہ میں خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال اس دانہ کی ہے جو سات بالیاں اگائے ، ہر بالی میں سودانے ہوں، اور اللہ بڑھا دیتا ہے جس کو چاہتا ہے، اللہ بہت کشادگی والا اور بہت جاننے والا ہے (کہ کسے بڑھانا ہے)
اس آیت کریمہ میں کہیں بھی نہیں کہا گیا ہے کہ ایک کا سات سو گنا، بلکہ اس سے بھی زیادہ کسی مہینے یا دن پر موقوف ہے، بلکہ بالکل عام بات کہی گئی ہے، یہ سب چیز صدق نیت ، وقت پر کام آجانے اور جذ بہ خیر کے کم یا زیادہ ہونے پر موقوف ہے۔
زکوة  کا تعلق وجوب زکوة سے ہے
حقیقت میں زکوة کا تعلق وجوب زکوۃ سے ہے، جب وجوب زکو ہو گیا، ادائیگی لازم ہوگئی، اور وجوب زکوة اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص شرعا غنی   یعنی صاحب نصاب ہوجائے ، اور اس پر حولان حول  یعنی سال بھی گزر جائے۔ (بدایہ ا/ ۱۸۵) اس کی تفصیل یہ ہے کہ جس مسلمان عاقل، بالغ کے پاس ۷ ۸ گرام سونا ٦١٢ گرام چاندی ہو، یا كچھ سونا اور کچھ چاندی ہو جس کی مجموئی قیت ٦١٢ گرام چاندی کے برابر ہو جائے، یا صرف سامان تجارت ہو جس کی قیمت٦١٢ گرام چاندی کو پہونچ جائے، یا کچھ سونا یا چاندی، یا سونے چاندی کا زیور اور سامان تجارت ہوجس کی قیمت ٦١٢  گرام چاندی کے برابر ہو جائے، یا نقد روپئے ہوں جن سے ٦١٢ گرام چاندی خریدی جا سکے، اور یہ سب اس کی حاجات اصلیہ ( کھانا، پینا، لباس اور رہائش وغیرہ) سے اور قرض سے فاضل ہوں ، خواہ اپنے پاس رکھا ہو یا بینک میں رکھا ہو یا کسی کے پاس امانت رکھا ہو، اور اس پر سال گزر گیا ہو تو اس مال پر زکوۃ فرض ہوجائے گی اور یہ صاحب نصاب یعنی شرعاغی کہلائے گا۔ ( رد المحتار ۲/ ٥ و ٦)
آدمی  غریب تھا، مستحق زکوہ تھا، دھیرے دھیرے کمایا ، پونجی جمع کی ، رفته رفته پیسے والا ہو گیا ، اور شریعت نے صاحب نصاب یا شرعا غنی ہونے کی جو حد بنائی ہے اس حد پر پہونچ گیا، اب   زیہ کوة لینے کے بجائے زکوة دے گا، زکوۃ وصول کرنے کے بجائے ، ز کوۃ تقسیم کرے گا۔
اس کو یہ حیثیت کبھی بھی حاصل ہوسکتی ہے، کسی مہینے حاصل ہوسکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ وہ رمضان میں شرعا غنی ہو، شوال، ذوقعدہ ، ذی الحجہ وغیرہ میں نہ ہو ، لہذا جس مہینے سے وہ صاحب نصاب ہوا ہے، وہی وقت اس کے سال کے پورا ہونے کا ہے، جسے حولان حول کہتے ہیں، اور اسی وقت سے اس پر ادائیگی زکوۃ واجب ہوجاتی ہے، خواہ ادائیگی فورا کرے یا ایک دو ماہ بعد۔
معلوم ہوا کہ وجوب زکوة رمضان میں بھی ہوسکتا ہے، رمضان کے علاوہ کسی اور مہینے میں بھی۔


خلاصہ گفتگو
ہماری ان معروضات کا خلاصہ یہ ہے کہ رمضان المبارک میں زکوة دینے سے یقینا زکاۃ کا ثواب بڑھ جاتا ہے لیکن زکوۃ کی ادائیگی رمضان المبارک پر موقوف نہیں ، اور ایسا نہیں ہے کہ شریعت نے ادائیگی زکوة کے لئے رمضان المبارک کو متعین کر دیا ہو۔
لہذا جب بھی کوئی ضرورت مند آجائے خواہ غرباء مساکین و بیواؤں میں سے ہو یا مدارس اسلامیہ کے محصلين وسفراء جو مدارس کے غریب و نادار طلبہ کے لئے ز کوۃ وصول کرتے ہیں کسی کو انکار نہیں کرنا چاہئے ، اور یہ نہیں کہنا چاہئے کہ رمضان آنے دیجئے، یایہ کہ رمضان گزر گیا اب کیسا چنده، اب کیسی زکوٰۃ؟ 
کیونکہ کسی کے وقت پر کام آجانے سے اللہ تعالی اتنا خوش ہو جاتا ہے کہ وہ بندے کو اجر وثواب سے مالا مال کر دیتا ہے، اور اس کا پورا امکان ہے، اس کا اجر وثواب رمضان کے برابر بلکہ اس سے بڑھ جائے کیونکہ اجر وثواب کے بڑھنے کا تعلق کبھی کبھی حالات کے تقاضے اور موقع محل سے بھی ہوتا ہے۔
رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں والله في عون العبد ما كان العبد في عون أخيه رواه مسلم (مشکوۃ المصانع ۳۲٫۱) ”اللہ بندے کی مدد میں رہتا ہے، جب تک بندہ ، بندے کی مدد میں رہتا ہے دوسری حدیث میں ہے ومن كان في حاجة اخيه كان الله في حاجته متفق عليه (مشکوۃ المصایح ۴۲۲٫۲)
جو اپنے مسلمان بھائی کی مدد میں رہتا ہے، اللہ اس کی مدد میں رہتا ہے۔

No comments: