جديد مضامين

Monday, June 29, 2020

عالم اسلام کے بلند پایہ محدث


عالم اسلام کے بلند پایہ محدث
عالم اسلام کے بلند پایہ محدث

بسم اﷲ الرحمن الرحیم
استاذالاساتذہ حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوریؒ
شیخ الحدیث و صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند
از قلم: حضرت مولانا مفتی ریاست علی قاسمی رام پوری
 استاذ حدیث و مفتی جامعہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد، امروہہ

عالم اسلام کے بلندپایہ محدث، محقق دوراں، ممتاز فقیہ اور مفتی، فکر نانوتوی کے امین، علوم شریعت کے نکتہ داں، علوم اکابر کے ترجمان، علوم ولی اللہی کے شارح، ہزارہا ہزار علماء، ارباب افتاء، اصحاب تدریس اور مصنفین و مؤلفین، ادباء کے استاذ اور مربی، نابغۂ روزگار بلکہ یکتائے روزگار شخصیت، لاکھوں عوام و خواص کے قلوب کی دھڑکن، ملت اسلامیہ کے عظیم سرمایہ، جامع علوم و فنون، ازہرالہند ام المدارس دارالعلوم دیوبند کے عظیم سپوت اور مسند صدارت تدریس اور عہدہ شیخ الحدیث کے تاجور، بے شمار محاسن و کمالات سے متصف بزرگ عالم دین، استاذالاساتذہ والعلماء والفقہاء حضرت الاستاذ مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری نوراﷲ مرقدہٗ و برداﷲ مضجعہ، آج مؤرخہ ۲۵؍رمضان المبارک ۱۴۴۱ھ مطابق ۱۹؍مئی ۲۰۲۰ء بروز منگل صبح سات بجے کے قریب نماز اشراق کے وقت اپنی حیات سعید کی اسی بہاریں مکمل کرکے اپنے مالک حقیق سے جاملے اور آپ وہاں تشریف لے گئے یہاں ہر متنفس کو جانا ہے۔ اناﷲ و انا الیہ راجعون، ان ﷲ ما اعطی ولہ ما اخذ و کل عندہ باجل مسمی فلتصبر ولتحتسب۔ 
اللّٰہم اغفرلہٗ، وارحمہ، واکرم نزلہٗ، و وسع مدخلہٗ، واجعل الجنۃ مثواہ، وادخلہُ بحبوجۃ الجنۃ، واغسلہ بالماء والثلج، و نقہٖ من الذنوب والخطایا کما ینقی الثوب الابیض من الدنس، اللہم ابدلہ داراخیرا من دراہ، واہلا خیرا من اہلہ، اللہم اعذہ من عذاب القبروعذاب النار، و ادخلہ الجنۃ جنت الفردوس، و ارفع درجتہ فی علیین، والہم ذویہ الصبر والسلوان والاجر والغفران۔

نام و نسب ، وطن، خاندان اور ولادت

آپ کا وطن موضع کالیڑہ ضلع بناس کانٹھا شمالی گجرات ہے، بناس ندی کا نام ہے اور کانٹھا گجراتی زبان میں کنارہ کو کہتے ہیں، بناس کانٹھا ایک علاقہ کا نام ہے جو اس وقت صوبہ گجرات کا ایک ضلع ہے اور بناس ندی کے جنوب میں واقع ہے، اس ضلع کا مرکزی شہر پالن پور ہے جو آزادی سے پہلے ایک مسلم ریاست تھی اور مسلمان نواب اس کا حکمراں اور والی تھا، اسی مرکزی شہر کی جانب نسبت کرتے ہوئے آپ کو پالن پوری کہا اور لکھا جاتا ہے۔ آپ کا آبائی وطن کالیڑہ پالن پور شہر سے تیس میل کے فاصلہ جنوب مشرق میں واقع ہے ، کالیڑہ پالن پور ضلع کی مشہور بستی ہے، اس بستی میں ’’سلم العلوم‘‘ نام سے ایک مدرسہ قائم ہے جس میں متوسطات تک عربی کی تعلیم ہوتی ہے۔ آپ مومن برادری سے تعلق رکھتے ہیں جس کو غالباً گجراتی زبان میں چلیہ برادری کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس علاقہ میں آپ کا خاندان ڈھکا کہلاتا ہے۔
آپ کی ولادت کے بعد آپ کے والدین نے آپ کا نام احمد تجویز فرمایا اور آپ کے خاندان کے بوڑھے لوگ پوری زندگی آپ کو احمد بھائی کہہ کر پکارتے رہے، اگرچہ اب ایسے بوڑھے دو چار ہی ہوںگے مگر آپ نے خود اپنا نام سعید احمد رکھا اور مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور میں داخلہ کے وقت داخلہ فارم میں آپ نے سعید احمد نام لکھوایا تھا اورآج عالم اسلام میں اسی سعید احمد نام کو شہرت و دوام حاصل ہے؛ لیکن مظاہر علوم داخلہ سے پہلے سابقہ مدارس میں آپ کا نام احمد ہی مرقوم ہے اور مدارس اسلامیہ سے حاصل شدہ انعامی کتابوں میں انعام یوسف کالیڑہ لکھا ہوا ہے۔ آپ کے والد کا یوسف دادا کا نام علی جو احتراماً ’’علی جی‘‘ کہلاتے تھے، پردادا کانام جیوا بمعنیٰ یحییٰ اور پردادا کے والد کا نام نور محمد ہے خود آپ نے اپنے احوال میں اپنا سلسلۂ نسب اس طرح تحریر فرمایا ہے:
خاکپائے علماء سعید احمد بن یوسف بن علی بن جیوا بن نور محمد پالن پوری گجراتی ثم دیوبندی ۔آ پ کی تاریخ ولادت محفوظ نہیں ہے مگر آپ کے والد محترم نے اندازے سے آپ کی تاریخ ولادت ۱۹۴۰ء کا آخر مطابق ۱۳۶۰ھ بتلائی ہے اور اسی تاریخ کو مدارس اسلامیہ میں داخلہ کے وقت داخلہ فارم میں لکھوایا ہے۔

تعلیم وتربیت کا آغاز

جب آپ کی عمر پانچ چھ سال کی ہوئی تو والد محترم محمد یوسف جو ڈبھاڈ کے جنگل میں رہتے تھے، آپ کی تعلیم کا آغاز فرمایا مگر کھیتی کے کاموں میں زیادہ مصروفیت کی وجہ سے والد صاحب آپ کی تعلیم کی جانب زیادہ توجہ نہیں دے سکتے تھے ،اس لیے کالیڑہ کے مکتب میں آپ کا داخلہ کرایا اور قرآن کریم ناظرہ اور ریاضی، حساب وغیرہ ابتدائی تعلیم اس مکتب میں مکمل ہوئی۔ آپ کے مکتب کے اساتذہ کرام میں مولانا محمد داؤد صاحب چودھری، مولاناحبیب اﷲ چودھری  اور حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب جونکیہ قابل ذکر ہیں۔
دارالعلوم چھابی گجرات میں داخلہ
مکتب کی تعلیم مکمل کرکے آپ اپنے ماموں حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب شیرا نوراﷲ مرقدہٗ کے ہمراہ دارالعلوم چھابی تشریف لے گئے اور دارالعلوم چھابی میں داخلہ لے کر اپنے ماموں اور دوسرے اساتذہ کرام سے فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ دارالعلوم چھابی میں آپ کا قیام تقریباً چھ ماہ رہا۔ اس کے بعد آپ کے ماموں دارالعلوم چھابی چھوڑ کر اپنے وطن تشریف لے گئے تو آپ بھی اپنے ماموں کے ہمراہ آگئے اور اپنے ننھیال ’’جونی سیندھنی‘‘ میں رہ کر اپنے ماموں سے فارسی کی کتابیں پڑھتے رہے۔

پالن پور میں داخلہ

اس کے بعد مصلح الامت حضرت مولانا محمد نذیر میاں صاحب پالن پوری قدس سرہٗ کے مدرسہ واقع شہر پالن پور میں داخلہ لیا، یہاں آپ نے چار سال قیام کیا اور مکمل محنت و جفاکشی کے ساتھ ابتدائی عربی و فارسی سے شرح جامی تک جملہ علوم و فنون کی کتابیں پڑھیں۔ پالن پور کے قابل ذکر اساتذہ کرام میں حضرت مولانا محمد ہاشم بخاری صاحب نوراﷲ مرقدہٗ سابق استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند (موصوف دارالعلوم دیوبند میں مدرس ہونے سے پہلے گجرات میں تدریسی خدمات انجام دیتے تھے) اور حضرت مولانا مفتی محمد اکبر میاں صاحب پالن پوری برادر خورد مولانا محمد نذیر میاں صاحب پالن پوریؒ قابل ذکر ہیں۔

مظاہر علوم سہارن پور میں داخلہ

پالن پور شہر میں شرح جامی تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد تعلیمی سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے ۱۳۷۷ھ میں مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور میں داخلہ لیا خود راقم السطور سے حضرت والا نے ایک موقع پر سہارن پور داخلہ کا واقعہ اس طرح بیان فرمایا کہ حضرت مولانا محمد ہاشم بخاری صاحبؒ دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد پالن پور تدریسی خدمات کے لیے جب تشریف لائے تو دارالعلوم دیوبند کی خدمات اور اکابرین دارالعلوم دیوبند کے واقعات بہت اہمیت اور دلچسپی کے ساتھ بیان فرماتے تھے، جس کی وجہ سے دارالعلوم دیوبند کی عظمت کے نقوش عوام و خواص کے قلوب پر جاگزیں ہوگئے تھے۔ا س وجہ سے والد صاحب دارالعلوم دیوبند داخلہ کے ارادہ سے گھر سے سفر کے لیے نکلے۔جب ریل دہلی سے دیوبند کے لیے چلی تو والد صاحب کو کوئی صاحب ٹرین میں ملے، انہوںنے والد صاحب سے بتایا کہ ابتدائی اور متوسط درجات کی تعلیم دیوبند کے بجائے سہارن پور اچھی ہوتی ہے، آپ اپنے فرزند کو اولاً سہارن پور داخل کرائیں اور انتہائی درجات کی تعلیم کے لیے دارالعلوم دیوبند داخل کرا دینا پھر والد صاحب کا ارادہ بدلا اور دیوبند کے بجائے سہارن پور مدرسہ مظاہر علوم میں داخلہ کرا دیا۔ مظاہر علوم سہارن پور داخلہ کے بعد آپ نے تین سال تک قیام کیا، یہاں آپ نے منطق و فلسفہ، نحو و صرف اور فصاحت و بلاغت اور فنون کی تمام کتابیں انتہائی محنت اور جانفشانی سے پڑھیں۔ اکثر کتابیں امام النحو والمنطق حضرت مولانا علامہ صدیق احمد صاحب کشمیری نوراﷲمرقدہٗ سے تعلیمی گھنٹوں میں اور خارج اوقات میں پڑھیں۔علامہ محمد صدیق احمد کشمیری کے علاوہ مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور کے دیگر قابل ذکر اساتذہ کرام میں حضرت مولانا محمد یامین صاحب سہارن پوریؒ، حضرت مولانا مفتی یحییٰ صاحب سہارن پوریؒ(والد ماجد حضرت مولانا محمد سلمان صاحب مظاہری موجودہ ناظم مدرسہ مظاہر علوم) حضرت مولانا وقار علی صاحب بجنوری، حضرت مولانا مفتی عبدالعزیز صاحب رائے پوری شامل ہیں۔

دارالعلوم دیوبند میں داخلہ

مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور میں تین سال قیام کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے ۱۳۸۰ھ مطابق ۱۹۶۰ء میں آپ نے دارالعلوم دیوبند میںداخلہ لیا ، دارالعلوم دیوبند داخلہ کے بعد پہلے سال حضرت الاساتذہ مولانا نصیر احمد خاں صاحب بلندشہری نوراﷲ مرقدہٗ سابق صدرالمدرین و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند سے آپ نے جلالین شریف، الفوزالکبیر، حضرت مولانا میاں اختر حسین صاحب دیوبندیؒ سے ہدایہ اولین اور حضرت مولانا بشیر احمد خاں صاحب بلندشہریؒ سے تصریح بست باب، شرح چغمینی رسالہ فتحیہ اور رسالہ شمشیہ علم ہیئت کی کتابیں پڑھیں، اور دوسرے سال مشکوۃ شریف، ہدایہ آخرین اور تفسیر بیضاوی وغیرہ کتابیں پڑھیں۔ اس کے بعد تیسرے سال شوال ۱۳۸۱ھ تا شعبان ۱۳۸۲ھ مطابق ۱۹۶۲ء دورۂ حدیث شریف میں داخل ہوکر صحاح ستہ پڑھ کر درس نظامی کے نصاب کی تکمیل فرمائی اور باضابطہ فارغ التحصیل قرار پائے۔ 

دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ کرام

دارالعلوم دیوبند میں علوم نبوت کے جن درخشندہ ستاروں سے آپ نے اکتساب فیض کیا ان کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:
فخرالمحدثین حضرت مولانا سید فخرالدین صاحب ہاپوڑیثم مرادآبادی شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند، جامع معقول و منقول حضرت علامہ مولانا محمد ابراہیم صاحب بلیاویؒ صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند، حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ مہتمم دارالعلوم دیوبند ، حضرت مولانا سید فخرالحسن صاحب مرادآبادیؒ، حضرت مولانا مفتی مہدی حسن صاحب شاہجہانپوریؒ، حضرت مولانا محمد ظہور صاحب عثمانی دیوبندیؒ، حضرت مولانا جلیل احمدصاحب کیرانویؒ، حضرت مولانا اسلام الحق صاحب اعظمیؒ، حضرت مولانا سید اختر حسین صاحب دیوبندیؒ، حضرت مولانا بشیر احمد صاحب بلندشہریؒ، حضرت مولانا نصیر احمد خاں صاحب بلندشہریؒ، حضرت مولانا عبدالاحد صاحب دیوبندیؒ، حضرت مولانا معراج الحسن صاحب دیوبندیؒ، شیخ محمود عبدالوہاب محمود مصری قدس سرہٗ۔
آپ نے خود اپنی کتاب ’’مشاہیر محدثین و فقہاء کرام‘‘ میں دارالعلوم دیوبند میں خواندہ اسباق کی تفصیل اس طرح فرمائی ہے:
بخاری شریف حضرت فخرالمحدثین مولانا سید فخرالدین صاحب مرادآبادی سے، مقدمہ مسلم، مسلم شریف، کتاب الایمان، ترمذی شریف جلد اول، علامہ محمد ابراہیم صاحب بلیاویؒ سے، مسلم شریف کا باقی حصہ حضرت مولانا بشیر احمد خاں صاحب بلندشہریؒ سے، ابوداؤد شریف مکمل ،ترمذی شریف جلد ثانی، شمائل ترمذی حضرت مولانا سید فخرالحسن صاحب مرادآبادیؒ سے، نسائی شریف، مولانا محمد ظہور صاحب عثمانی دیوبندیؒ سے، طحاوی شریف مولانا مفتی سید مہدی حسن صاحب شاہجہانپوریؒ سے، موطا امام مالک حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ سے ،مؤطا امام محمد حضرت مولانا عبدالاحد صاحب دیوبندیؒ سے، مشکوۃ شریف اولاً مولانا سید حسن دیوبندیؒ سے اور ان کی وفات کے بعد جلد اوّل حضرت مولانا سید جلیل احمد کیرانویؒ اور جلد ثانی حضرت مولانا اسلام الحق صاحب اعظمیؒ سے پڑھی۔ دیگر کتابوں کی تفصیل حضرت والا نے اپنے قلم سے نہیں لکھی ہے۔
آپ بچپن ہی سے انتہائی ریزک و ہوشیار اور اعلیٰ درجہ کے ذہین و فطین تھے، کتب بینی اور محنت کرنے کے عادی تھے، پھر مثالی اساتذ کرام کی تعلیم و تربیت اس پرمستزاد جس کی وجہ سے آپ کی صلاحیت و استعداد بام عروج پر پہنچ چکی تھی اور اسی صلاحیت و استعداد اور محنت و جفاکشی کے نتیجہ میں دارالعلوم جیسی معیاری عظیم دینی درس گاہ کے سالانہ امتحان میں دورۂ حدیث شریف میں آپ اعلیٰ نمبرات اور اولا پوزیشن سے کامیاب ہوئے اور علاوہ مسلم شریف کے دورۂ حدیث شریف کی تمام کتابوں میں آپ کے نمبرات پچاس تھے، صرف مسلم شریف میں ۴۵نمبرات تھے۔ دارالعلوم دیوبند کی جانب سے خصوصی انعام میں آپ کو تفسیر بیان القرآن مکمل اور عمومی انعام میں شرح عقائد نسفی ملاحسن اور قرآن کریم مجلد دیا گیا۔

دارالافتاء دارالعلوم میں داخلہ

شوال ۱۳۸۲ھ میں آپ نے دارالافتاء میں داخلہ کی درخواست پیش کی اور یکم ذی قعدہ ۱۳۸۲ھ کو دارالافتاء میں آپ کا داخلہ مکمل ہوگیا اور اس وقت کے صدر مفتی دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا مفتی سید مہدی حسن صاحب شاہجہانپوری قدس سرہٗ کی نگرانی میں کتب فقہ کا مطالعہ اور فتویٰ نویسی کی مشق کا آغاز فرما دیا اور پورے سال میں صرف ایک کتاب شرح عقودرسم المفتی کا درس حضرت مفتی صاحب مذکور الصدر کے پاس ہوا ورنہ تمام اوقات صرف کتب فقہ و فتاویٰ کا مطالعہ، استخراج مسائل اور فتویٰ نویسی کی مشق و تمرین میں مصروف رہتے تھے۔ اس سال آپ نے شیخ محمود عبدالوہاب محمود مصری استاذدارالعلوم دیوبند سے حفظ شروع کیا جو قرآن کریم کے جید حافظ اور مصری قاری تھے اور جامعۃالازہر قاہرہ کی طرف سے دارالعلوم دیوبند تدریس کے لیے مبعوث تھے۔ اس طرح آپ نے اپنے بھائیوں کی تعلیم و تربیت کی جانب توجہ فرمائی اور ۱۳۸۲ھ میں مولانا مفتی محمد امین صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند صغرسنی ہی میں دیوبند لاکر حفظ شروع کرا دیا اولاً قاری محمد کامل صاحب دیوبندی کی درس گاہ میں بٹھایا اور جب وہاں نہیں چل سکے تو خود ہی حفظ کرایا ۔ یہ سال آپ کا بیحد مصروف تھا۔ دارالعلوم دیوبند کے جملہ امور مفوضہ کے ساتھ خود اپنا حفظ کرنا اور چھوٹے بھائی مفتی محمد امین صاحب کو حفظ کرانا حددرجہ محنت طلب کام تھا۔ اسی مصروفیات کی وجہ سے ماہ رمضان میں وطن بھی نہیں گئے۔

دارالافتاء کے داخلہ میں مزید ایک سال کی توسیع

شوال ۱۳۸۳ھ ، شعبان ۱۳۸۴ھ میں افتاء کمیٹی نے آپ کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے دارالافتاء کے داخلہ کی توسیع کر دی اور آپ کو مزید ایک سال دارالافتاء دارالعلوم دیوبند میں استفادہ کرنے اور اپنی خوابیدہ صلاحیتوں کو پختہ کرنے کاموقع ملاتو اس سال آپ نے دوسرے بھائی مولوی عبدالمجید کو بھی دارالعلوم دیوبند میں بلایا اور ان کو فارسی کتابیں پڑھانی شروع کر دیں، اس سال آپ کی مصروفیات میں حددرجہ اضافہ ہوگیاخود فتویٰ نویسی کی مشق کرتے تھے، خود اپنا حافظ کرتے تھے اور دونوں بھائیوں کو بھی پوری ذمہ داری کے ساتھ پڑھاتے تھے اور اس قدر محنت فرمائی کہ چھ ماہ بعد معین مفتی کے لیے آپ کا تقرر کر دیا۔ اس کے بعد دارالافتاء میں مستقل تقرر کی بات بھی چلی اور اس کے لیے ابتدائی کارروائی بھی عمل میں آئی  مگر بعض خاص حالات کی وجہ سے وہ کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔ آپ کے مربی و مشفق استاذ حضرت علامہ مولانا محمد ابراہیم صاحب بلیاویؒ کو اس کا صدمہ بھی ہوا مگر حضرت علامہؒ نے فرمایا صبر کرو ان شاء اﷲ جلدہی دوبارہ دارالعلوم شان و شوکت سے آؤگے۔

دارالعلوم اشرفیہ راندیر میں تقرر

شوال ۱۳۸۴ھ میں حضرت علامہ محمد ابراہیم صاحب بلیاویؒ کے توسط سے دارالعلوم اشرفیہ راندیر ضلع سورت گجرات میں آپ کا درجہ علیاکے استاذ کی حیثیت سے تقرر ہوگیا اور آپ ۲۱؍شوال ۱۳۸۴ھ کو دارالعلوم دیوبند سے اولاً وطن تشریف لے گئے اور والدین و اہل خاندان کی زیارت سے مشرف ہوئے اس کے بعد مفتی محمد امین صاحب، مولانا عبدالمجید صاحب جو دونوں دارالعلوم دیوبند میں آپ سے پڑھتے تھے اور تیسرے بھائی مولوی حبیب الرحمن صاحب کو لے کر راندیر تشریف لے گئے اور جامعہ اشرفیہ راندیر میں تدریس کا آغاز فرمایا۔
ذیقعدہ ۱۳۸۴ھ تا شعبان ۱۳۹۳ھ مکمل ۹؍ سال تک آپ نے دارالعلوم اشرفیہ راندیر گجرات میں تدریسی خدمات انجام د یں اور ساتھ ہی تصنیف و تالیف کے کام میں بھی مصروف رہے۔ نو سالہ قیام کے دوران آپ نے دارالعلوم اشرفیہ میں ابو داؤد شریف، ترمذی شریف، طحاوی شریف، شمائل ترمذی، مؤطین، نسائی شریف، ابن ماجہ شریف، مشکوۃ شریف، جلالین شریف، الفوزالکبیر، ترجمہ قرآن کریم، ہدایہ آخرین، شرح عقائد نسفی اور حسامی وغیرہ مختلف کتابیں پڑھائیں؛ نیز اسی زمانہ میں آپ نے متعدد کتابیں ’’داڑھی اور انبیاء کی سنتیں‘‘، ’’حرمت مصاہرت‘‘، ‘‘العون الکبیر عربی شرح الفوزالکبیر‘‘ اور شیخ محمد بن طاہر پٹنیؒ کی کتاب ’’المغنی‘‘ کی عربی شرح ’’تہذیب المغنی‘‘ تصنیف فرمائیں۔ اول الذکر تینوں کتابیں شائع شدہ ہیں البتہ تیسری کتاب ابھی تک غیر مطبوعہ ہے۔ اسی زمانہ میں حجۃالاسلام قاسم العلوم والمعارف بانی دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ کے علوم و معارف اور ان کی کتابوں کی تسہیل و تشریح کا آغاز فرمایااور افادات نانوتویؒؒ کے نام سے تفصیلی مضمون ارقام فرمایا جو ماہنامہ ’’الفرقان‘‘ میں قسط وار شائع ہوا۔آپ کے دارالعلوم اشرفیہ راندیر گجرات کے ممتاز اور قابل فخر شاگردوں میں گجرات کے مفتیٔ اعظم مشہور شیخ طریقت حضرت مولانا مفتی احمد خا ن پوری صاحب دامت برکاتہم شیخ الحدیث جامعہ تعلیم الدین ڈابھیل و رُکنِ شوریٰ دارالعلوم دیوبند ہیں۔ 

دارالعلوم دیوبند میں تقرر

اکابر و اساتذہ کے مشورہ اور حضرت مولانا محمد منظور نعمانی صاحب قدس سرہء رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند کی تجویز و تحریک پر مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند منعقدہ شعبان ۱۳۹۳ھھ میں دارالعلوم دیوبند نے تدریس کے لیے آپ کا تقرر منظور فرمایا اور شعبان ۱۳۹۳ھ ہی میں آپ کو تحریری اطلاع دے دی گئی اور شوال ۱۳۹۳ھ کو آپ دارالعلوم دیوبند مدرس وسطی کی حیثیت سے تشریف لے آئے اور تدریسی کام کا آغاز فرمادیا۔
دارالعلوم دیوبند میں وسیع خدمات
شوال ۱۳۹۳ھ تا شعبان ۱۴۴۱ھ مکمل اڑتالیس سال تک مکمل انہماک، یکسوئی اور ذمہ داری کے ساتھ آپ نے دارالعلوم دیوبند سے وابستہ رہ کر درس و تدریس، تصنیف و تالیف اور دوسری علمی خدمات انجام دیں۔ اس اڑتالیس سالہ دور میں آپ نے معقولات میں سلم العلوم، ہدیہ سعیدیہ، ملا حسن ، میبذی،عقائد و علم کلام شرح عقائد، مسامرہ، عقیدۃالطحاوی، اصول فقہ میں حسامی و مسلم الثبوت، عربی ادب میں دیوان متنبی، حماسہ، سبعہ معلقہ، فقہ میں ہدایہ اولین، ہدایہ آخرین (تمام ہی جلدیں) تفسیر واصول تفسیر میں جلالین شریف، بیضاوی شریف سورۂ بقرہ، تفسیر مدراک (پارہ ۶،۱۰) تفسیر مظہری (پارہ ۱۶ تا ۲۰)، بیضاوی شریف( پارہ ۲۱ تا ۲۵)، ( پارہ ۲۶ تا ۳۰)، مناظرہ میں رشیدیہ، اصول حدیث میں شرح نخبۃالفکر، مقدمہ ابن صلاح حدیث شریف میں مشکوۃ شریف، صحاح ستہ کی تمام کتابیں بشمول طحاوی شریف، شمائل ترمذی اور مؤطا امام مالک اور مؤطا امام محمد پڑھائیں، سب سے زیادہ ترمذی شریف جلد اول طحاوی شریف، بخاری شریف جلد اول پڑھائی۔

صدرالمدرسین اور شیخ الحدیث کے لیے انتخاب

استاذالاساتذہ حضرت الاستاذ مولانا نصیر احمد خاں صاحب بلندشہری قدس سرہٗ سابق صدرالمدرسین و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند کی علالت کے بعد ۱۴۲۹ھ میں آپ کو عارضی طور سے شیخ الحدیث منتخب کرکے بخاری شریف جلداول کا درس آپ سے متعلق کیا گیا اگرچہ اس سے پہلے بھی حضرت شیخ الحدیث صاحبؒ کی علالت و اعذار کی وجہ سے متعدد مرتبہ آپ نے بخاری شریف کا درس دیا ہے پھر اسی سال مجلس شوریٰ میں آپ کو مستقل طور سے عہدۂ شیخ الحدیث و صدرالمدرسین تفویض کیا گیا جس پر تاحیات مسلسل بارہ سال تک متمکن رہے   ؎
سبزہ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

دارالعلوم دیوبند میں دیگر ذمہ داریاں

دارالعلوم دیوبند میں تعلیمی و تدریسی خدمات کے ساتھ دوسری خدمات بھی آپ نے پوری ذمہ داری کے ساتھ انجام دی ہیں۔ ۱۳۹۵ھ اور اس کے بعد ۱۴۰۲ھ میں مفتیان دارالعلوم دیوبند کے اپنے اعذار کی وجہ سے طویل رخصتوں پر تشریف لے جانے کی وجہ سے دارالافتاء کی عارضی نگرانی اور ذمہ داری آپ کو تفویض کی گئی اور آپ نے پوری ذمہ داری کیساتھ استفاء ات کے جوابات تحریر فرمائے جو دارالافتاء کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔ اسی طرح ۱۴۰۷ھ میں دارالعلوم دیوبند میں تحفظ ختم نبوت کے عنوان سے عالمی اجلاس منعقد ہوا جس میں ہندوستان کے علاوہ بیرون ہند دوسرے ممالک سے بھی مندوبین نے شرکت فرمائی، رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر عبداﷲ عمر نصیف نے بھی اجلاس کی غیر معمولی اہمیت کی وجہ سے بطور خاص شرکت فرمائی اور وہ اجلاس توقع سے زیادہ کامیاب رہا۔ اس کے بعد قادیانیت کے تعاقب کے لیے باقاعدہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام سے ایک شعبہ دارالعلوم دیوبند میں قائم کیا گیا تو اس شعبہ کا ناظم اعلیٰ آپ کو تجویز کیا گیا ،جس پر آپ تاحیات فائز اور متمکن رہے جبکہ اس شعبہ کا صدر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مرغوب الرحمن صاحب نوراﷲ مرقدہٗ کو منتخب کیا گیا (اوراب شعبہ کے صدر عالی وقار حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم صاحب نعمانی مدظلہ مہتمم دارالعلوم دیوبند ہیں )اور حضرت الاستاذ مولانا قاری محمدعثمان صاحب منصورپوری استاذ حدیث دارالعلوم دیوبندو صدرجمعیۃ علماء ہند کو اس کا ناظم بنایا گیا۔ اس شعبہ سے وابستہ رہ کر آپ نے اندرون ملک اور بیرون ملک متعدد اسفار کیے اورمسئلہ ختم نبوت اور قادیانیت کی دسیسہ کاریوں سے عوام و خواص کو اپنے دلنشین انداز میں واقف کرایا اور آپ کی ذات باجود سے اس شعبہ کے وقار میں اضافہ ہوا اگرچہ ایک مرتبہ ۱۴۱۹ھ میں مذکورہ شعبہ سے علیحدگی کے لیے مجلس شوریٰ میں درخواست بھی دی مگر شوریٰ نے آپ کی درخواست نامنظوری فرما دی۔

تصنیفات و تالیفات

درس و تدریس کے ساتھ ابتداء ہی سے آپ نے تصنیف و تالیف کا محبوب مشغلہ بھی اختیار فرمایا اور اس طویل عرصہ میں انتہائی بیش بہا قیمتی تالیفات آپ کے اشہب قلم سے وجود پذیر ہوئیں جن سے امت مسلمہ اور خاص طور سے علماء امت دیر تک ان شاء اﷲ استفادہ کرتے رہیںگے، اگرچہ ان تصانیف کی مجموعی تعداد چار درجن کے قریب ہے مگر آپ کی بعض تالیفات متعدد مجلات میں تین چار ہزار صفحات پر مشتمل ہیں۔ اگرہر جلد کو مستقل تصنیف قرار دیا جائے تو یہ تعداد سیکڑوں سے متجاوز ہوجائے گی۔ راندیر قیام کے زمانہ میں آ پ کے قلم سے العون الکبیر عربی شرح الفوزالکبیر، حرمت مصاہرت داڑھی اور انبیاء کی سنتیں اور تہذیب المغنی عربی شرح المغنی وجود میں آئیں اور دارالعلوم دیوبند کے اڑتالیس سالہ قیام کے زمانہ میں آپ کی چھوٹی بڑی تصنیف کردہ چالیس سے زیادہ کتابیں ہیں جن میں رحمۃاﷲ الواسعہ شرح حجۃ اﷲ البالغہ آپ کی معرکۃالآراء تصنیف ہے، جو ضخیم پانچ مجلدات پر مشتمل ہے۔ صفحات کی مجموعی تعداد چار ہزار سے متجاوز ہے۔ اس کتاب کو عالم اسلام میں زبردست پذیرائی ملی، مختلف زبانوں میں اس کے تراجم ہوکر شائع ہوئے، وقت کے اکابر علماء اسلام نے اس کتاب کی تصنیف پر آپ کو خراج عقیدت و خراج تحسین پیش کیا جو یقینا آپ کی زندگی کا تاریخی اور شاہکار کارنامہ ہے۔ نیز آپ کے درس حدیث کے افادات کو آپ کے لائق و ہونہار فرزند مولانا حسین احمد صاحب پالن پوری مدظلہ نے مرتب کرکے آپ کی نظرثانی اور تہذیب کے بعد تحفۃالالمعی شرح سنن ترمذی اور تحفۃالقاری شرح بخاری کے نام سے شائع فرمایا جو یقینا علماء اور طلبہ کے لیے قیمتی سوغات ہیں۔ تحفۃالالمعی آٹھ جلدوں پر مشتمل ہے۔ ہر جلد تقریباً پانچ سوصفحات پر مشتمل ہے، صفحات کی مجموعی تعداد چار ہزار کے قریب ہے۔ تحفۃالقاری بارہ جلدوں پر مشتمل ہے، یہ بھی مجموعی طور سے کئی ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ تفسیر ہدایت القرآن (آٹھ جلدیں) آسانی بیان القرآن (پانچ جلدیں) کامل برہان الٰہی (چار جلدیں)عربی حاشیہ حجۃ اﷲ البالغہ، زبدۃالطحاوی، تعریب الفوزالکبیر، فیض المنعم شرح مقدمہ مسلم، تحفۃالدررشرح نخبۃالفکر، شرح علل الترمذی، مبادی الفلسفہ، معین الفلسفہ شرح مبادی الفلسفہ، ہادیہ شرح اردو کافیہ،وافیہ شرح عربی کافیہ، مفتاح التہذیب شرح اردو تہذیب، آسان نحو(دوحصے)، آسان صرف (تین حصے)، محفوظات (تینحصے)، اسلام تفسیر پذیر دنیا میں، مفتاح العوامل شرح شرح مأۃ عامل، گنجینہ صرف شرح پنج گنج، ارشاد الفہوم شرح سلم العلوم، دین کی باتیں اور تقلید کی ضرورت، حیات امام طحاوی، حیات امام ابو داؤد، مسئلہ ختم نبوت اور قادیانی وسوسے، افادات نانوتوی، افادات رشیدیہ، فقہ حنفی  اقرب الی النصوص ہے، آسان فارسی قواعد (دو حصے)، مبادی الاصول، معین الاصول، آسان منطق، تسہیل ادلہ کاملہ، حواشی و عنوانات ایضاح الادلہ، حاشیہ امداد الفتاویٰ جلد اول، کیا مقتدی پر فاتحہ واجب ہے، مسلم پرسنل لاء اور نفقہ مطلقہ، مشاہیر محدثین رفقہاء اور تذکرہ راویان حدیث، آپ فتویٰ کیسے دیں شرح اردو شرح عقود رسم المفتی وغیرہ قیمتی کتابیں آپ کے خامہ مبارک سے صادر ہوکر منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئیں جن سے امت برابر استفادہ کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ دوسری تالیفات بھی ہیں جو اس وقت ذہن میں نہیں ہیں۔

تصوف و سلوک

آپ سلوک و تصوف اور تزکیۂ نفس کے لیے اولاً زمانہ طالب علمی میں ہی شیخ المشائخ حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلویؒ شیخ الحدیث مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور کے دست حق پرست پر مدرسہ مظاہر علوم کی طالب علمی کے دور ہی میں بیعت ہوگئے اور آپ کے بتلائے ہوئے اوراد و وظائف کو پورا کرنے لگے تھے اسی زمانہ طالب علمی میں رائے پور جاکر حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب رائے پوری نوراﷲ مرقدہٗ کی مجالس میں بھی شرکت فرماتے تھے۔
حضرت شیخ الحدیث نوراﷲمرقدہٗ کے وصال کے بعد مختلف مشائخ سے رابطہ رہا مگر باقاعدہ کسی سے تعلق قائم نہیں فرمایا۔ حضرت شیخ الحدیثؒ کے تلقین کردہ اوراد و وظائف کی پابندی کے ساتھ پورے کرتے رہے۔ آخر میں فقیہ الاسلام مولانا مفتی مظفر حسین صاحب نوراﷲ مرقدہٗ ناظم مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور کے دست مبارک سے بیعت ہوئے اور انہی کی جانب خرقۂ خلافت آپ کو عنایت کیا گیا۔ حضرت ناظم صاحبؒ نے ۲۱؍جمادی الاولیٰ ۱۴۱۸ھ کو باقاعدہ تحریری طور پر آپ کو خلافت عطا فرمائی اور مجاز بیعت بنایا۔ یہ تحریری اجازت نامہ الخیرالکثیر شرح الفوزالکبیر کے مقدمہ میں چھپا ہوا ہے۔

حرمین شریفین کی زیارت

آپ متعدد مرتبہ حج وعمرہ کے ارادہ سے زیارت حرمین شریفین زادہاﷲ شرفا و کرامۃ و عزا کی سعادت سے مشرف ہوئے۔ سب سے پہلی مرتبہ آپ نے ۱۴۰۰ھ مطابق ۱۹۸۰ء میں اہلیہ محترمہ کے ساتھ فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے سفر کیا اور مناسک حج کی تکمیل فرمائی پھر دوسری مرتبہ ۱۴۰۶ھ مطابق ۱۹۸۶ء میںافریقہ سے واپسی پر دوسرا حج کیا کیونکہ اس سے پہلے آپ فریضۂ حج ادا کر چکے تھے۔ اس لیے آپ نے دوسرا حج آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے حج بدل کے طور پر کیا۔ اس کے بعد ۱۴۱۰ھ مطابق ۱۹۹۰ء میں تیسرا حج آپ نے سعودی وزارت حج و اوقاف کی جانب سے مہمان کی حیثیت سے کیا ۔ اس کے علاوہ ایک مرتبہ ربیع الاول ۱۴۱۴ھ میں عمرہ کی سعادت عظمیٰ سے بہرہ ور ہوئے۔

دعوتی اور تبلیغی اسفار

تعلیمی اور تدریسی مصروفیات کے ساتھ ساتھ ملک و بیرون ملک آ پنے دعوتی و تبلیغی اسفار بھی فرمائے ہیں۔ان اسفار میں بڑے اور چھوٹے اجتماعات سے آپ خطاب فرماتے تھے۔ مختلف علمی اجتماعات میں بھی آپ نے خطاب فرمائے اور مقالات و محاضرات پیش فرمائے۔ ہمارے طالب علمی کے دور میں امام بخاریؒ پر ایک سیمینار بخارا میں منعقد ہوا اس سیمینار میں عربی زبان میں آپ نے مقالہ پیش کیا جو بعد الداعی مجلہ میں شائع ہوا۔ بیرون ملک  پڑوسی ممالک بنگلہ دیش اور پاکستان کے علاوہ انگلینڈ، افریقہ، امریکہ، کناڈا، ترکی، سعودی عرب، قطر، کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات، فیجی وغرہ کے آپ کے اسفار ہوئے۔ ماہ شعبان کی تعطیلات کے بعد عام طور سے آپ تعطیل کلاں ماہ رمضان وغیرہ برسہابرس سے یورپ کے کسی ملک میں گزارتے تھے اور جدید و قدیم ہر طرح کے لوگ آپ سے استفادہ کرتے تھے۔ بیرونی ممالک کے آپ کے خطبات علمی خطبات کے نام سے شائع بھی ہوچکے ہیں۔آپ کے بیرونی ممالک کے خطابات سے عوام و خواص کو بیحد فائدہ ہوا۔ ان کی زندگیوں میں انقلاب پیدا ہوا اور وہ شرعی زندگی گزارنے والے، تقویٰ و صلاح سے متصف نیک انسان ہوگئے، کوئی صاحب قلم مستقبل قریب میں بیرونی ممالک کے اسفار پر تفصیل سے ان شاء اﷲ روشنی ڈالے گا۔

کمالات اور محاسن

آپ بے پناہ کمالات اور خوبیوں کے حامل انسان تھے، تضیع اوقات اور خواہ مخواہ کی مجلس نشینی سے ہمیشہ گریز کرتے تھے، مردم سازی اور رجال سازی میں خود کو مکمل طور سے منہمک رکھتے تھے، آپ کا انداز خطابت نہایت مؤثر اور درس بے انتہاء مقبول اور عام فہم ہوتا تھا، آپ کی تدریس اور تقریر کی طرح تمام تصانیف بھی نہایت آسان، عام فہم اور مقبول خاص و عام ہیں، آپ کی عوام و خواص کے اجتماعات میں تقریریں انتہائی مبسوط، مدلل اور علمی نکات سے پُرہوتی تھیں اور تحریرات نہایت واضح، مرتب اور جامع ہوتی تھیں، اسی وجہ سے آپ کی بعض تصانیف دارالعلوم دیوبند اوردیگر مدارس عربیہ میں داخل درس اور شامل نصاب ہیں۔ مشکل ترین مسائل کو حل کرنا آپ کے لیے نہایت آسان تھا۔ ہر طالب اور سامع کو آپ کے درس اور تقریر و تحریر سے انتہائی درجہ تشفی اور اطمینان قلب ہوتا تھا۔
آپ کے محاسن اور کمالات میں یہ بھی ہے کہ آپ کے مزاج میں استقلال اور اعتدال ہے اور آپ ذوق لطیف اور سادہ نفیس طبیعت کے مالک ہیں۔ سلامتی فکر اور ذہن رساء کے بھی مالک ہیں، زدونویس اور خوش نویس ہیں، حق و باطل اور خطاء و صواب کے درمیان امتیاز کی وافر صلاحیت آپ رکھتے ہیں، حقائق و معارف کے ادراک میں یکتائے روزگار ہیں۔ حالات زمانہ کے نباض اور ان سے جوانمردی سے مقابلہ کرنے کی پوری قوت و استعداد آپ رکھتے ہیں، محنت، مجاہدہ، جفاکشی اور اوقات کی حفاظت آپ کا وصف خاص ہے۔

عادات و اخلاق اور خودنوازی

آپ اخلاق جمیلہ اور بہترین عادات و خصائل سے متصف نامور شخصیت تھے، بدعات و رسومات سے حددرجہ تنفرفرماتے تھے اور بلاخوف لومۃ لائم ان پر نکیر فرماتے تھے۔ مرجع الخلائق تھے، اپنے تلامذہ اور خوشہ چینوں سے خندہ پیشانی اور طلاق وجہ کے ساتھ ملتے تھے اور ان کے معمولی علمی کاموں پر بھی حددرجہ اظہار مسرت اور حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ حقیر راقم السطور نے شوال ۱۴۰۵ھ تا شعبان ۱۴۰۶ھ دارالعلوم دیوبند میں دورۂ حدیث شریف پڑھا ہے۔ حضرت والا نوراﷲ مرقدہٗ سے متعلق ہماری ترمذی شریف جلد اول اور طحاوی شریف دو کتابیں تھیں اور پورے تعلیمی سال کے بیشتر ایام میں عبارت خوانی اور حدیث شریف کی تلاوت کی سعادت اس حقیر کو میسر رہ اور بندہ حضرت والا کی تقریر بھی نوٹ کرتا تھا، حضرت والا اپنے معمولی طالب علم کا اس قدر خیال فرماتے تھے کہ جب کاپی پر قلم رک جاتا تھااس کے بعد عبارت آگے پڑھنے کا حکم دیتے تھے۔ دورۂ حدیث شریف سے پہلے بیضاوی شریف سورۂ بقرہ پڑھنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ حضرت والا کا درس سننے کے بعد پوری تقریر مع حل عبارت ذہن میں فٹ ہوجاتی تھی۔ حضرت والا کے درس کی بہت سی باتیں عرصہ دراز گزرنے کے بعد آج بھی اسی لب ولہجہ کے ساتھ ذہن میں منقش و مرتسم ہیں یہ بھی عجیب حسن اتفاق ہے  کہ حضرت کے درس حدیث کے آخری سال بخاری شریف کی تلاوت و عبارت خوانی کی سعادت زیادہ تر بندہ کے برخوردار عزیزم محمد اخلد سلّمہ کو حاصل رہی بلکہ حضرت کی حیات سعید کے آخری درس بخاری کی عبارت بھی برخوردار نے پڑھی جس میں گریہ و زاری کی عجیب کیفیت پیدا ہوئی جس کی ویڈیو بے شمار لوگوں نے دیکھی۔ بندہ سے حددرجہ تعلق رکھتے تھے۔ دارالعلوم کے اندر اور دوسرے شہروں میں عظیم اجتماعات و سمیناروں میں جب ملاقات ہوتی، دور سے ہی پہچان لیتے تھے اور برملااظہار محبت اور ظہار مسرت فرماتے تھے۔ مدرسہ خادم الاسلام ہاپوڑ قیام کے زمانہ میں جب بھی اس علاقہ کا سفرفرماتے تھے، بندہ ملاقات کرتا بہت زیادہ خوشی کا اظہار فرماتے تھے، ایک مرتبہ ہاپوڑ مدرسہ تشریف لائے بندہ ایک اصلاحی پروگرام کے لیے فیض آباد کے سفر پر تھا، بندہ کو موجود نہ پاکر ذمہ داران مدرسہ سے میرے بارے میں معلوم کیا اور جب تک ذمہ داران سے معلوم نہ کر لیا آپ کو سکون قلبی حاصل نہ ہو جس زمانہ میں آپ رحمۃاﷲ الواسعہ تصنیف فرما رہے تھے اور مرحلہ وار جلدیں مرتب ہوکر شائع ہورہی تھیں، احقر دو جلدوں کا مطالعہ بالاستیعاب کر چکا تھا۔ تیسری جلد کے حصول کا انتظار تھا، حضرت والا کا ہاپوڑ علاقے کے ایک مدرسہ میں جلسہ کا پروگرام تھا، بندہ نے فون کرکے حضرت والا سے تیسری جلد کے بارے میں معلوم کیا تو فرمایا کہ چھپ چکی ہے۔ اس کے بعد جب ہاپوڑ تشریف لائے تو میرے لیے تیسری جلد ساتھ لے کر آئے اور فرمانے لگے کہ تیرے شوق مطالعہ کے جذبہ نے مجھے کتاب ساتھ لانے پر مجبور کردیا۔
۱۴۱۸ھ مطابق ۱۹۹۸ء میں احقر نے ایک چھوٹی کتاب قرآن کریم ایک عظیم دولت، مرتب کی تو حضرت والا نے پورے شوق و توجہ سے پوری کتاب کے مسودہ کا مطالعہ کیا پھر بعض مقامات پر مضمون بدلنے کا حکم دیا پھر دوبارہ حضرت والا کو دکھایا اس کے بعد وقیع الفاظ میں اپنی رائے تحریر فرمائی اور کتابت کی تصحیح میں مکمل وقت دیا، یہ تمام شفقت ورافت سے بھرپور واقعات جب یاد آتے ہیں تو دل بے قابو ہوجاتا ہے اور آنکھیں اشک بار ہوجاتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ علمی دنیا میں مجھ جیسے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ حضرت کے تشریف لے جانے سے یتیم ہوگئے ہیں، آج ان کا کوئی سہارا اور مرجع نہیں ہے، وہ اپنے علمی مسائل اور اشکالات کو کیسے حل کریںگے اور اپنی علمی گتھیوں کو کہاں سلجھائیںگے، اﷲ تعالیٰ حضرت والا کو آخرت کی بھرپور راحت سے سرفراز فرمائے اور علمی دنیا میں آپ کے جانے سے جو نقصان ہوا ہے، اس کی تلافی فرمائے۔ آمین۔

اولاد احفاد و پسماندگان

آپ کی اہلیہ محترمہ تقریباً دس سال پہلے وفات پا چکی ہیں، ان کے بطن سے حضرت والا کے کل چودہ بچے ہوئے، تین لڑکیاں اور گیارہ لڑکے۔ ایک بچی صغر سنی ہی میں دو سال کی عمر میں انتقال کرگئی، بڑے صاحب زادہ مولانا رشید احمد مرحوم اب سے ۲۵؍سال پہلے ایک حادثہ میں شہید ہوگئے، جنہوںنے اپنے پیچھے اہلیہ اور دو بچے چھوڑے تھے۔ اہلیہ کا دوسری جگہ نکاح ہوگیا اور دونوں پوتے حضرت والا کی تربیت میں رہے۔ ماشاء اﷲ جوان عالم فاضل اور شادی شدہ ہیں۔ دوسرے صاحب زادہ حافظ سعید مرحوم تقریباً چھ مہینہ پہلے طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے، بوقت انتقال حضرت کی صلبی اولاد میں ۹ صاحب زادگان مولانا وحید احمد، مولانا حسین احمد، مولانا حسن احمد، مولانا محمد ابراہیم ، حافظ محمد قاسم، مولانامحمد، مولانا احمد، مولانا عبد اﷲ، مولانا عبیداﷲ اور دو لڑکیاں مسماۃ عائشہ خاتون، مسماۃ فاطمہ خاتون اور ان گنت تعداد میں پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں، برادران، بھتیجے، بھتیجیاں موجود ہیں، صلبی اولاد و احفاد کے علاوہ آپ کے پسماندگان میں آپ کے لاکھوں تلامذہ ، لامحدود تعداد میں متعلقین و مسترشدین ہیں جو آپ کے فراق کے غم میں نڈھال ہیں، اﷲ تعالیٰ سبھی کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

علالت ، وفات اور تدفین

آپ کا فی زمانہ میں مختلف عوارض و بیماریوں میں مبتلاتھے، کئی دفعہ آپ کے کامیاب آپریشن بھی ہوئے اور آپ شفایاب ہوکر اپنے امور مفوضہ میں مصروف و منہمک ہوجاتے تھے۔ سال رواں بھی پوری توجہ و انہماک کے ساتھ درس و تدریس و تصنیف و تالیف میں مشغول رہے مگر کبھی کبھی بیماری کی وجہ سے آپ کی زبان مبارک رُک جاتی تھی، آخری درس میں بھی یہ کیفیت طاری ہوئی، اختتام درس کے بعد آپ علاج کے لیے عروس البلاد ممبئی تشریف لے گئے، جہاں آپ کا پہلے سے علاج جاری تھا اور ماشاء اﷲ شفایاب ہوئے؛ لیکن حددرجہ اشتیاق کے باوجود پورے ملک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیوبند تشریف نہ لاسکے اور ممبئی میں قیام پذیر رہتے ہوئے دینی مجالس اور وعظ و تقریر کا سلسلہ جاری رکھا جو انٹرنیٹ اور موبائل سے جاری ہوتا رہا اور کثیر تعداد میں لوگ عوام و خواص اس سے مستفید ہوتے رہے۔ ثریا ستارہ کے بارے میں علمی تحقیق آپ نے ماہ رمضان ہی میں پیش فرمائی۔ آخری وعظ آپ کا رمضان المبارک کی پندرہویں شب کو ہوا۔ اس کے بعد اچانک آپ کی طبیعت بگڑی فوراً ہسپتال میں داخل کرایا گیا اور طبیعت تشویش ناک حد تک بگڑتی چلی گئی، بالآخر وقت موحود آگیا اور ۲۵؍رمضان المبارک ۱۴۴۱ھ مطابق ۱۹؍مئی ۲۰۲۰ء بروز منگل بوقت اشراق صبح سات بجے کے وقت آپ نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد فرمادی اور آپ کی روح سعید قفس عنصری سے پرواز کر گئی اور آپ نے دنیا میں رہنے پر بقاء رب کو ترجیح دی جو اہل اﷲ اور عارفین کی محبوب چاہت ہوتی ہے۔کاغذی کارروائی کے بعد شام بجے کے قریب آپ کی نمازجنازہ ہوئی اور دو مرتبہ نماز جنازہ ہوئی، پہلی نمازِ جنازہ حضرتؒ کے موجود صاحب زادوں میں بڑے صاحب زادے مولانا وحید احمد صاحب نے پڑھائی اور دوسری مرتبہ آپ کے چھوٹے سے بڑے صاحب زادے مولانا عبداﷲ سعید نے پڑھائی۔ اس کے بعد جوگیشوری کے معروف قبرستان میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔ پورے ملک میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کی وجہ سے محدود لوگ ہی تدفین اور نمازِ جنازہ میں شرکت کر سکے ورنہ عام حالات میں یہ تعداد لاکھوںمیں ہوتی۔ اﷲ تعالیٰ مغفرت کاملہ نصیب فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور تمام پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔   ؎  خدا بخشے بڑی ہی خوبیاں تھیں مرنے والے میں
         کتبہ ریاست علی قاسمی عفااﷲ عنہ
     مفتی جامعہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد، امروہہ

No comments: