جديد مضامين

Tuesday, June 30, 2020

اسلامی ‏مکاتب ‏، ‏موجودہ ‏صورت ‏حال ‏، ‏چیلینجز ‏اور ‏مستقبل ‏کے ‏خاکے (قسط ‏سوم)


اسلامی ‏مکاتب ‏، ‏موجودہ ‏صورت ‏حال ‏، ‏چیلینجز ‏اور ‏مستقبل ‏کے ‏خاکے (قسط ‏سوم)
اسلامی ‏مکاتب ‏، ‏موجودہ ‏صورت ‏حال ‏، ‏چیلینجز ‏اور ‏مستقبل ‏کے ‏خاکے (قسط ‏سوم)



ڈاکٹر فخرالدین وحید قاسمی
ڈائریکٹر الفاروق اکیڈمی, عمران گنج, صبرحد, جونپور
+91 9838368441

اسلامی مکاتب میں اردو زبان کی خاص اہمیت سے انکار ممکن نہیں. اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ اردو زبان ہمارے لیے مادری زبان ہے. مادری زبان کا مطلب سمجھنے کے لیے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ ماں صرف بچے کی تخلیق اور اس کی جسمانی افزائش کا وسیلہ ہی نہیں ہے بل کہ ماں کی قربت وصحبت, مامتا اور گود کا اس کے جسمانی احساسات, ابتدائی تخیلات اور فطری رجحانات کی تعمیر وتشکیل میں کلیدی کردار ہوتا ہے. ماں کی زبان بچے کے ڈی این اے کا حصہ ہوتی ہے. بچے کی عقل کے پہلے ترقیاتی مرحلے (پیدائش سے دو سالہ دور) میں ماں اور اس کی مامتا ہی بچے کا معلم ہوتی ہیں. اسی لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مادری زبان تعلیمی سفر کی وہ پہلی اور پسندیدہ کڑی ہے جسے بچہ اسکول کی دنیا میں پہنچنے سے بہت پہلے محسوس کرتا, سنتا, بولتا اور سمجھتا آرہا تھا. مادری زبان میں جو اپنائیت, کشش اور سہولت فہم ہوتی ہے, وہ کسی اور زبان میں نہیں مل سکتی. لہذا بچے کے تعلیمی سفر کا آغاز نہ صرف اسی زبان سے ہونا چاہیے بل کہ بچے کی تقریبا تمام طرح کی ذہانتیں اور صلاحیتیں اسی زبان کے ذریعے پروان چڑھائی جانی چاہیے.
گوکہ ہمارے دیہاتی ماحول میں اردو زبان اپنی مٹھاس اور خوب صورتی کو یکسر ترستی نظر آتی ہے تاہم یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اردو ہمارے بچوں کی مادری زبان ہے. کسی زبان کے مادری ہونے کا اعتراف, اس بات کا بھی اعتراف ہوتا ہے کہ وہ زبان ہمارے لیے ریڑھ کی طرح ہے جس پر ہمارا پورا علمی وشعوری وجود تیار ہوگا. اس زبان کے تعلق سے ہماری ہلکی سی لاپرواہی اور بے اعتنائی ہمیں بے کار کردے گی. علم کے تمام میدانوں میں تیزگام اور موجد وہی افراد اور قومیں ہوتی ہیں, جو اپنی مادری زبان پر کماحقہ توجہ دیتی ہیں. اسی سے عقل کے وہ دریچے کھلتے ہیں جہاں سے انسان نئی دریافت تک پہنچتا ہے. 
مادری زبان بچے کے ذہن وشعور, اخلاق وکردار اور جذبات واحساسات کو تشکیل دینے میں اہم کردار نبھاتی ہے. اس لیے پرائمری سطح پر مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں. خدا کا شکر ہے کہ ہمارے مکتبی نظام تعلیم میں اردو میڈیم ہی ابھی تک رائج ہے. مگر اردو میڈیم کا مطلب قطعا صرف اتنا نہیں ہے کہ زبان کے علاوہ جملہ مضامین اردو میں پڑھائے جارہے ہوں بلکہ مکتب کی چہار دیواری کے اندر گونجنے والی ہر آواز اور بولا جانے والا ہر جملہ اردو کی دل کشی وجاذبیت, لہجہ واسلوب اور تہذیب ومزاج کے رنگ میں ڈھلا ہو. اس زاویہ سے مکتب کو دیکھیں تو سخت مایوسی ہوتی ہے. وہاں ادبی زبان کی چاشنی اور محبت آمیز لہجے تو کجا, سادہ اردو بھی سننے کو کم ہی ملتی ہے. دیہاتی زبان, آمرانہ لہجے اور غیر مہذب فقرے زبان زد ہیں. صیغہ امر کے پانچ اسلوبوں (جیسے پڑھ, پڑھو, پڑھنا, پڑھیے اور پڑھیں) میں آج بھی تحکمانہ اسلوب(پڑھ اور پڑھو) غالب ہے جب کہ پڑھیں کہنے میں ادبیت ہے. اساتذہ کو اس بات کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ جن نازک طبیعتوں کو وہ حکم دے رہے ہیں وہ ابھی فہم وشعور کے اک ایسے مرحلے میں ہیں کہ آپ کا ہر جملہ اور جملے کی ادائیگی کی 3D امیج اس کے دماغ میں کچھ اس طرح سے پیوست ہورہی ہے کہ اسے کبھی بھی محو نہیں کیا جاسکتا مثلا سخت لہجہ میں پڑھو کہنے پر بچہ کی طبیعت میں تمرد پیدا ہوتا ہے جب کہ پڑھیں کہنے سے اس کے اندر شریفانہ اطاعت کا جذبہ ابھرتا ہے لیکن عموما ہم ان اہم اصولوں کا پاس ولحاظ نہیں رکھتے. 
حاصل یہ کہ پرائمری سطح کے نظام تعلیم کے لیے مادری زبان لاثانی ہے. کسی بھی مضمون کی افہام وتفہیم مادری زبان میں ہی کما حقہ ممکن ہے. اردو میڈیم کا مطلب اردو زبان اپنے تمام جمالیاتی پہلوؤں کے ساتھ خوشبوئیں بکھیرتی نظر آئے. مکتب کی چہار دیواری کے اندر آتے ہی اردو کی دنیا میں آنے کا احساس ہو. اگر پرائمری سطح تک اردو زبان اپنی چاشنی وادب کے ساتھ قابو میں آجائے تو یہ مکاتب کے مرکزی کردار کی تکمیل ہوگی.

دنیا کی بولیوں سے مطلب نہیں ہمیں کچھ
اردو ہے دل ہمارا, اردو ہے جاں ہماری
اپنی زبان سے ہے عزت جہاں میں اپنی
گر ہو زباں نہ اپنی عزت کہاں ہماری

جاری

No comments: