جديد مضامين

Monday, June 29, 2020

حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمہ قسط 2


حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمہ  قسط 2
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمہ  قسط 2

اکبر کے اس نئے مذہب پر ہندو دھرم کا زیادہ غلبہ تھا بادشاہ کے سامنے آگ روشن کی جاتی تھی اور ایک خوش گلودرباری دلکش آواز میں حمد کے اشعار گاتا تھا اس طرح آتش پرستی کا جواز پیدا کیا گیا  دو آشیانہ منزل میں بادشاہ سورج کے سامنے سر جھکا کر بیٹھا کرتا تھا۔ یہ آفتاب پرستی کی ابتداء تھی۔ 
 بادشاہ سفراور قیام دونوں میں گنگا کا پانی استعمال کرتا تھا۔ معتمد ملازموں کی ایک جماعت دریا کے کنارے مامور رہتی تھی جہاں سے سربہ مہر کوزوں میں پانی بھر کر لایا جاتا تھا۔ قیام لاہور کے دوران بادشاہ ہندوؤں کے مشہور تیرتھ ہردوار کا پانی پیتا تھا۔ اسی طرح تمام کھانے کنگا جل میں پکائے  جاتے تھے ۔
آگ سورج کے آگے سر جھکانے اور گنگا جل پینے کے بعداکبر نے تمام ہندووں کو خدائے واحد کا پرستار قرار دے دیا۔ یہ راز  ہم پر روشن ہو گیا ہے کہ ہندو کسی کو خدا کا شریک نہیں ٹہراتے۔ اگرچہ ان کی کچھ باتیں قابل اعتراض ہیں لیکن ہمیں ان کی خدا پرستی کا پورا یقین ہے۔
ہندوؤں کو خوش کرنے کیلئے اکبر نے گائے کا ذبیحہ حرام قرار دیدیا۔ وہ ہر قسم کے گوشت پر پابندی لگانا چاہتا تھا مگر یہ سوچ کر باز رہا کہ اس طرح بہت سے کام ناتمام رہ جائیں گے۔ پھر بھی مغل شہنشاہ نے قصابوں اور ماہی گیروں کیلئے نيافرمان جاری کر دیا کہ ان کے گھروں کو عام آبادی سے علیحدہ کردیا جائے... اور جولوگ اس برادری سے رسم وراہ رکھیں ان سے تاوان وصول کیا جائے۔
قرآن نے سور اور اس کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے۔ اس حكم پر اکبر نے اعتراض کرتے ہوئے کہا۔ اگر سور کو اس کی بے غیرتی کی وجہ سے حرام قرار دیا گیا ہے تو شیر یا اس طرح کے دوسرے جانوروں کو حلال ہونا چاہئے۔۔“
پھر اکبر کی گستاخیاں اس حد تک بڑھیں کہ وہ علی الاعلان مذہب اسلام کا مذاق اڑانے لگا۔ ایک دن اس نے اپنے درباریوں کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا۔ ”ملت اسلامی کا سارا سرمایہ بد عقلی کا مجموعہ ہے۔“ (معاذ اللہ) 
دراصل شیخ مبارک، ابوالفضل فیضی اور عیار برہمنوں نے اکبر کے منہ میں اپنی زبانیں رکھ دی تھیں اور وہ ان ہی ناپاک زبانوں سے مذہب اسلام کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔
دیوان خانے میں کسی کی مجال نہ تھی  کہ وہ اعلانیہ نماز ادا کر سکے۔ 
اسی طرح اکبر نے صاحب نصاب لوگوں پر زکوۃ بھی معاف کر دی تھی۔ بظاہر وہ اپنی تقریروں میں کہا کرتا تھا زکوۃ ختم کرنے سے اس کا مقصر معاشی حالات کو بہتر بنانا ہے۔۔۔ مگر دراصل وہ اسلام کے ایک دوسرے بڑےرکن کو ہندوستان سے ہمیشہ کیلئے ختم کرنا چاہتا تھا۔
اس کے ساتھی اکبر نے دین الٰہی کی بنیادیں مضبوط کرنے کیلئے سجدہ تعظیمی کا اجزاء کیا۔بادشاہ کا دیدار کرنے والے کسی جھجھک کے بغیر اکبر کو سجدہ ادا کرتے تھے اور یہ جواز پیش کرتے تھے کی زمانہ قدیم میں بھی شاہان وقت کے لیے سجدہ تعظیمی جائز تھا (دین اسلام کے خلاف یہ کھلی بغاوت اور سرکشی تھی اسلام نے ایسے تمام سجدوں اور تعظیمی آداب کو قیامت تک کے لیے حرام قرار قرار دے دیا تھا) اکبر کے مشیروں نے ماضی کی ایک رسم سے فائدہ اٹھایا اور جاھل بادشاہ کو یقین دلایا کہ سجدہ تعظیمی دراصل خدا ہی کو سجدہ کرنا ہے ۔
پھر سجدہ تعظیمی کی رسم نے یہاں تک فروغ پایا کی سجدہ کرنے والا دستار کو ہاتھ میں لے لیتا اور اپنا بر ہنہ  سر بادشاہ کے پائے اقدس پر رکھ دیتا پھر زبان حال سے اپنی عقیدت کا اظہار اس طرح کرتا۔۔ میں اپنے دل کی توجہ بادشاہ کی اطاعت کی طرف مبذول کرتا ہوں۔
ملاقات کے وقت ,,السلام علیکم ،، کی معروف رسم ختم ہو چکی تھی اور ان کی جگہ ایسے کلمات ادا کیے جاتے تھے جن کے ظاہری معنی بڑے دلکش اور خوش کن تھے مگر باطنی طور پر وہ کسی اور کی خدائی کا اعلان کرتے تھے جب کوئی شخص اس سے ملتا تو با آواز بلند کرتا "اللہ اکبر "۔
جواب دینے والا بڑی عقیدت سے جواب دیتا جل جلالہ....
آج بھی عام طور پر مسلمان اپنے خدا کی کبریائی بیان کرنے کے لیے یہی الفاظ استعمال کرتے تھے مگر مغل شہنشاہ کے دور اقتدار میں ان کلمات کا مفہوم کچھ اور تھا مغل شہنشاہ کا خاندانی نام جلال الدین تھا اور لقب "اکبر" جب پکارنے والا "اللہ اکبر"کہتا تو اس کے ذہن میں یہی خیال ہوگا کہ وہ خالق کائنات کو پکار رہا ہے مگر اگر دین الہی کی بنیاد رکھنے والے یہ کلمہ سن کر مطمئن ہوجاتے کہ وہ اکبر کی خدائی کے لیے راستہ ہموار کر رہے ہیں اس طرح "جل جلالہ"  بظاہر اللہ کی شان کبریائی کا اظہار ہوتا تھا مگر سلطنت مغلیہ کے فتنہ گر یہی سمجھتے تھے کہ یہ جلال الدین بادشاہ کی عظمت کی طرف اشارہ ہے۔۔ الغرض بڑے فریب کارانہ انداز میں اللہ کے سادہ دل بندوں کو گمراہ کیا جارہا تھا ۔۔۔

اکبری دور کے ایک مشہور شاعر ملا شیری نے اپنے شعر میں ایسی سنگین حقیقت کی طرف کھلا اشارہ کیا ہے ۔۔۔


بادشاه امسال دعوۓ نبوت کرده است
گر خدا خواهد پس از سالے خدا خواهد شدن

( بادشاہ نے اس سال نبوت کا دعوی کیا ہے۔ اگر خدا نے چاہا تو وہ اگلے سال خداہوجاۓ گا)
 مختصر یہ کہ دربار اکبر کے فتنہ گر شیخ مبارک، ابوالفضل، فیضی اور دوسرے عياربرہمن مغل شہنشاہ کو خدا بنانے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔۔۔۔۔ اور وہ کم عقل حکمراں خودبھی اپنی اس حیثیت سے مطمئن ہو چکا تھا کہ ایک واقعے نے اس کے ہوش اڑا کر رکھ دیئے۔۔۔
اکبر نے اپنی حکومت کی بنیادیں مضبوط کرنے اور ہندو اکثریت کی حمایت حاصل کرنے کیلئے مشہور راجپوت سردار راجہ مان سنگھ کی بہن رانی جودھابائی سے شادی کی تھی۔ مگر ہند کی پوجا پاٹ کیلئے  قصر شاہی میں ایک چھوٹا سا مندر تعمیر کیا گیا تھا جس کے اندر ہندوؤں کے تمام قابل ذکر دیوتاؤں کی مورتیاں موجود تھیں۔ قلعے میں مؤذن کی صدا بلند ہونے کے بجائے صبح شام "کیرتن" اور "بھجن" کی آوازیں گونجتی رہتی تھیں۔۔۔۔اور گمراہ مصاحب اسے یقین دلاتے رہتے تھے ۔
آپ ہی "ان داتا" ہیں اور آپ لوگوں کے "مشکل کشا" دنیا کے سارے کام آپ ہی کے حکم سے انجام پاتے ہیں اور آپ کے سوا کسی طاقت کا وجود نہیں۔۔۔۔۔
دین الٰہی کا موجد جھرو کے میں بیٹھ کر کو درشن دے رہا تھا اور بزعم خود اپنی روحانی طاقت سے لوگوں کے مسائل حل کر رہا تھا۔۔۔۔۔مگر ایک دن جب اکبر کی نظر اپنے ذاتی مسئلے پر گئی تو وہ لرز اٹھا۔ 
مغل شہنشاہ کے کئی بیٹے ہوئے مگر چند روز پا چند ماہ زندہ رہ کر مر گئے۔رانی جودھا بائی نے اپنے دیوتاوں کے سامنے بڑی گریہ وزاری کی بڑی نذریں پیش کیں مگر ملکہ عالیہ تخت ہندوستان کا وارث پیدا کرنے سے قاصر تھی۔
اکبر بھی تنہائی میں سوچا کرتا تھا کہ وہ کیسا مشکل کشا ہے کہ خود اپنی مشکل دور نہیں کرسکتا۔ پھر بے اولاد ہونے کی یہ خلش اس قدر  بڑھی کہ اکبر کی راتوں کی نیندیں حرام ہوگئیں
آخرکار ایک دن کسی درباری نے ڈرتے ڈرتے اس سے کہا ۔۔۔۔۔ آپ کا مسیحا یہیں فتح پور سیکری میں موجود ہے ۔اس سے رجوع کریں سارے دکھ دور ہو جائیں گے۔۔
کون؟ مغل شہنشاہ نے حیران ہو کر اپنے درباری کی طرف دیکھا ۔۔
حضرت شیخ سلیم الدین چشتی۔ دربار نے مسیحا کی نشاندہی کی۔
کیا شیخ ہمیں تخت ہندوستان کا وارث دے سکتے ہیں؟ مغل شہنشاہ کی حیرت برقرار تھی ۔ اس کی پراگندہ عقل یہ بات ماننے کیلے تیار نہیں تھی کہ دعاؤں سے انسانی تقدیر بھی بدل سکتی ہے ۔
آپ وہاں حاضر ہو کر دیکھئں۔ درباری نے عرض کیا میری آنکھیں تو بارہا ایسے منظر دیکھ چکی ہے کہ مفلس و بدحال انسان اس آستانے پر حاضر ہوئے اور اپنے دامن بھر کر چلے گئے۔  ؛ 
ہمیں ایک فقیر کے دروازے پر کھڑے دیکھ کر لوگ کیا کہیں گے ؟ مغل شہنشاہ تذبذب کا شکار تھا۔ ہم تو خود ضرورت مندوں کی جھولیاں بھرتے ہیں اگر ہمارا دامن کسی کے آگے پھیلا تو ہماری روحانی عظمتوں کی بلند ترین عمارت زمین بوس ہو جائے گی ۔۔
ضل الہی بہتر سمجھتے ہیں۔ درباری خاموش ہو گیا مگر اس کی گفتگو نے اکبر کی آرزوؤں کے خرمن میں ایک دہکتا ہوا انگارہ رکھ دیا تھا ۔
مغل شہنشاہ کئی دن تک شدید ذہنی کشمکش کا شکار رہا۔ آخر ایک روز اولات کی سلگتی ہوئی خواہش اسے ایک بوریا نشین درویش کے دروازے تک لے گی ۔
حضرت شیخ سلیم الدین رحمۃ اللہ علیہ سلسلہ چشتیہ کے مشہور بزرگ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمت اللہ علیہ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے آپ نے ادائے بے نیازی کے ساتھ فرمانروائے ہند کی طرف دیکھا لوگوں کا داتا اور مشکل کشا ایک فقیر کے دروازے پر ؟۔

No comments: