جديد مضامين

Wednesday, June 10, 2020

کورنٹائن سینٹر کی کہانی، احمد شجاعؔ کی زبانی: قسط ۵

کورنٹائن سینٹر کی کہانی، احمد شجاعؔ کی زبانی: قسط ۵


گزشتہ سے پیوستہ
قسط پنجم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر روز تراویح کے بعد  کچھ احباب  دین کی نسبت  سے جمع ہونے لگے ہیں۔ آج بھی کچھ ساتھی آئے ۔ان کے سامنے تو کل علی اللہ، شرعی شادی، جہیز و بارات اور دیگر رسومات کی قباحت کے متعلق کافی دیر گفتگو ہوئی۔ اور چوں کہ وہ جماعت کے ساتھی تھے اس لیے بہ طور خاص توکل علی اللہ کے مفہوم کو واضح کیا نیز سبھی مجرد یعنی غیر شادی شدہ تھے اس لیے ان سے شرعی شادی کے متعلق عہد و پیمان بھی لیا اور بحمد اللہ وہ خوشی خوشی اس پر راضی بھی ہوگئے۔ کہ ان شاءاللہ سنت کے مطابق شادی کریں گے اور شادی کے موقع پر ہونے والی خرافات سے بچیں گے
اللہ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین!

آٹھواں روزہ۔۔۔۔۔۔بہ روز ہفتہ۔۔۔۔۔2/مئی/2020ء

زندگی ہورہی ہے مثل برف کم
دھیرے دھیرے رفتہ رفتہ دم بدم

زندگی گزرتی چلی جا رہی ہے۔ وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا کب صبح  طلوع ہوجاتی ہے اور کب شام، فضا پر اپنی چادر تان لیتی ہے۔ یہی زندگی کا دستور ہے جو ابتدائے آفرینش سے چلا آرہا ہے۔
یہاں "دھرم نگری" کورنٹائن سینٹر میں بھی وقت اپنی رفتار سے چلا جا رہا ہے اور لوگوں کی آمد بہ دستور جاری ہے۔ کل 78 افراد ہوچکے ہیں۔ 

نوجوان کہاں جارہا ہے

حرام کی لَت اور بری عادتوں سے لگاؤ انسان کو کس قدر حقیقت سے نا آشنا کردیتا ہے۔ اسے کسی چیز کی پرواہ نہیں ہوتی کیا چل رہا ہے یا کیا ہو رہا ہے۔ وہ بس اپنی خواہش کے مطابق  چلتا رہتا ہے اور جانے انجانے میں راہ حق سے اتنی دور پہنچ جاتا ہے کہ سیدھی ڈگر پر آنا اس کے لیے مشکل تر ثابت ہوتا ہے
 ہمارے یہاں بھی ایک صاحب ہیں۔ جن کے چہرے سے مسلسل بے چینی ٹپکتی رہتی ہے ، جیسے ان کی کوئی چیز کھوگئی ہے، دراصل انھوں نے کوئی محبوب پال رکھا ہے  جس سے ٹیلیفون پر بات کیے بغیر ان کی روٹی ہضم نہیں ہوتی۔ اب مشکل یہ ہے کہ ہماری طرح ان کا موبائیل بھی ضبط ہے ؛یہاں آنے کے بعد کسی طرح  ایک صاحب کا موبائیل لے کر بات کرلی تھی ؛ لیکن اپنے آشنا سے بات سے بات کرنے کے لیے دیوانہ وار کسی موبائل کی تلاش میں سرگرداں ہیں تاکہ اسے اپنی صورت حال سے آگاہ کرسکیں یا اس کی آواز سے خود کو محظوظ کرلیں۔۔۔۔
کیسی بری عادت اور لت ہے کہ کرونا کی مہاماری کے بیچ کورنٹائن سینٹر کی تاریک و تنگ کوٹھریوں میں بیٹھ کر بجائے خدا کو یاد کرنے کے اپنے محبوب کے لیے تڑپ رہے ہیں ۔ مزید براں رمضان کی مقدس ساعتوں اور قیمتی لمحات کا بھی کوئی پاس و لحاظ نہیں اور ڈھٹائی دیکھیے کہ کسی طرح دوسرا موبائل منگانے کے بعد کیسے کلمات اپنی زبان سے نکالتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ : "مجھے یہاں چودہ دن کیا چودہ مہینے رکھ لو۔ بس میرا موبائیل میرے پاس ہونا چاہیے۔"
سچ ہے کہ

بری سرشت نہ بدلی جگہ بدلنے سے
چمن میں آ کے بھی کانٹا گلاب ہو نہ سکا

اتفاق سے آج عشا بعد دیگر ساتھیوں کے ساتھ وہ صاحب بھی آ موجود ہوئے ، ان سے کافی دیر تک اس تعلق سے گفتگو ہوئی۔ بہت سمجھایا۔ الحمد للہ کافی حد تک سمجھ گئے۔ بس رب کریم ہدایت تامہ نصیب فرمائے اور ہم سب کو اس طرح کی بری عادتوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!

نواں روزہ۔۔۔۔۔۔۔بہ روز اتوار۔۔۔۔۔۔3/مئی/2020ء

رات تقریبا بارہ بجے کی گئی لائٹ اب  صبح گیارہ بجے آئی ہے۔ پوری رات مچھروں کی وجہ سے کافی بے سکونی رہی۔ پہلے پہل تو موم بتی کی روشنی میں ڈیڑھ بجے تک ساتھیوں سے گفتگو ہوتی رہی اس کے بعد نیچے صحن میں چلے گئے تاکہ کچھ وقت گزر سکے ؛لیکن مچھروں کو یہاں بھی ہمارا بیٹھنا بہت شاق گزرا چناں چہ وہ جھنڈ کی شکل میں برابر ہم پر حملے کرتے رہے۔ جب معاملہ برداشت سے باہر ہوگیا تو کمرے میں آکر ڈھائی بجے کے قریب مچھروں والا تیل لگایا اور سخت گرمی میں چادر تان کر لیٹ گئے۔ 

؂بستر پہ لیٹے لیٹے مری آنکھ لگ گئی

ہم تینوں ساتھیوں کو نیند نے اس طرح اپنی گرفت میں لیا کہ فجر کی اذان کے بعد دو ساتھیوں نے آکر ہمیں جگایا ۔ یعنی آج بھی بغیر سحری کا روزہ۔ اور عجیب اتفاق، آج ریاست چاچا کی بھی آنکھ نہیں کھلی اور وہ بھی بغیر سحری کے روزہ رکھنے پر مجبور ہوگئے۔ اس طرح اس دوسرے بغیر سحری کے روزے میں چاچا جی ہمارے ساجھی بن گئے۔ 

سنا ہے بھائی آنے والے ہیں

فجر کے وقت گھر سے کال آئی کہ آج صلاح الدین بھائی آسکتے ہیں کچھ منگانا ہو تو بتادو۔ تو ایک جوڑی کپڑے کے علاوہ خاص طور سے کتاب، کاپی کو کہا اس کے علاوہ موم بتی کا پیکٹ اور "اگر بتی والی موٹین" کو کہہ دیا۔ 11 بجے یہ تحریر لکھ رہا ہوں ابھی تک تو بھائی آئے نہیں۔ دیکھیں کب آتے ہیں۔

یہ وقت بھی گزر جائے گا۔۔!

آج طبیعت میں سوز دروں کی ٹیسیں اٹھ رہی ہیں۔ خیالات کی آمد پزمردگی لارہی ہے۔ ہچکیوں، اور درد کی خلش نے سبزہ زار طبیعت کو کملایا ہوا ہے۔ سبھی اہلِ خانہ کے متعلق سوچ کر کافی پریشانی ہو رہی ہے۔ بالخصوص بڑے بھائی جن سے ابھی تک بات نہیں ہوسکی، ام سارہ، ام حمزہ، ام معاذ اور باقی تمام متعلقین، سوچ کر کافی پریشان ہو رہے ہوں گے۔ خالہ ماموں، نانا نانی وغیرہ سبھی کی فکر مندی کی اطلاع ملتی رہتی ہے۔ ؛مگر ان سب کو کیسے بتاؤں کہ ٹینشن کسی پریشانی کا حل نہیں۔ زیادہ سوچ و وچار کسی مصیبت کا مداوا نہیں۔ تفکرات کسی زخم کا مرہم نہیں۔ سوائے اس کے کہ خود کو تکلیف دیں۔ گھر پر بات ہوگی تو سب کو کال کرکے سمجھانے کے لیے کہوں گا کہ یہ دن بھی ان شاءاللہ گزر جائیں گے۔ گرچہ مصائب و آلام کے ایام جلد نہیں کٹتے ؛مگر صبر رکھیں اور دعا کریں۔ ان اللہ مع الصابرین۔ اور مصائب کے وقت صبر کے نتیجے میں انسان رب کے اور قریب ہوجاتا ہے۔ بس اللہ پاک سبھی متعلقین، اعزا و اقربا کو ان کی محبت کا صلہ عطا فرمائے۔ آمین۔ 
   جزاھم اللہ خیرا۔

یا رب اُن کی جلد فریاد رسی کر۔۔۔!

میرے رفیق حجرہ کی دو بہنیں سامنے ہاسٹل میں ہیں۔ ان میں چھوٹی بہن کی طبیعت اکثر خراب رہتی ہے۔ جس دن آئی تھیں اس دن بھی بہت طبیعت خراب ہوگئی تھی اور اب بھی ٹھیک نہیں ہے۔ پولیس والے جب ان کو لے کر آئے تھے تو یہ کہا تھا کہ ایک دو دن میں آپ دونوں کو  چھوڑ دیں گے۔ مگر اب روز کل پر ٹال دیتے ہیں۔ کہیں سے کوئی سنوائی نہیں ہو رہی ہے۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ پورے ہاسٹل میں تنہا ہونے کی وجہ سے اکیلا پن انہیں کھائے جا رہا ہے ،اسی وجہ سے وہ زیادہ پریشان ہیں۔ہماری طرف کم از کم یہ تو ہے کہ ہم سب ایک دوسرے سے مل کر بات چیت کرلیتے ہیں۔ اپنا غم غلط کرلیتے ہیں ؛لیکن ان کیفیت کا اندازہ لگائیں کہ پورے ہاسٹل میں دو بہنیں۔۔۔چھوٹی بہن تو مسلسل رو رہی ہے۔ 
ان سب احوال کا علم مجھے اس لیے رہتا ہے کہ ان کی خیر خیریت معلوم کرتا رہتا ہوں۔ میرے کمرے میں موجود دونوں بھائیوں سے بھائی جیسا تعلق ہوگیا ہے۔ سب ساتھ  میں سحری و افطار کرتے ہیں۔  اور پھر ادھر سے ان کے پاس کال بھی آتی رہتی ہے تو سب باتیں معلوم ہو جاتی ہیں۔
ان بہنوں کے متعلق بہت پریشان ہوں اور دعائیں بھی بہت چل رہی ہیں۔ اہلِ خانہ سے بھی دعا کے لیے کہا تھا وہ بھی ان کے حوالے سےکافی فکر مند ہیں ۔ اللہ پاک جلد  از جلد ان کی رہائی کے فیصلے فرمائے اور ان کو جلد گھر پہنچائے۔ آمین!

مرے مولا! اب یہ درد سہا نہیں جاتا۔۔!

مغرب بعد سے لائٹ جو گئی تھی فجر تک تو آئی نہیں۔ دیکھیں کب آئے گی۔ رات بارش بھی کافی ہوئی ہے۔ اور رات تو اس قدر پریشانی ہوئی کہ الامان والحفیظ۔! الفاظ میں اس تکلیف اور کرب کو بیان نہیں کرسکتا کیوں کہ

زبان دل کی حقیقت کو کیا بیاں کرتی
کسی کا حال کسی سے کہا نہیں جاتا

بستر پر کروٹ بدلتے بدلتے پریشان، گرمی سے زیادہ مچھروں کا ستم، کبھی دائیں تو کبھی بائیں، کبھی چادر اتارتا تو کبھی تان لیتا، بیٹھوں، لیٹ جاؤں یا کھڑا ہو جاؤں! آخر کیا کروں کچھ بھی تو سمجھ نہیں آرہا۔ آج کی یہ شب کس قدر طویل ہوگئی ہے کہ وقت گزرنے کا نام نہیں لے رہا۔ بار بار یہ التجا کی کہ مولا یہ امتحان اب مجھ سے سہا نہیں جاتا۔ 

؂ رِہا کردے قفس کی قید سے گھائل پرندے کو

بہت پریشان ہوگیا ہوں۔ مجھ میں یہ سب سہنے کی ہمت نہیں ہے۔ میری ہمت جواب دے رہی ہے۔ مولا جلدی سے نجات دے دیجیے۔ مولا نجات دے دیجیے۔ دے دیجیے نا مولا۔۔۔!! یہ فریاد کرتے ہوئے سسکی بندھ گئی ہے

یہ قید ہے تو رہائی بھی اب ضروری ہے
کسی بھی سمت کوئی راستہ ملے تو سہی

 اس پریشانی کے عالم میں تقریبا ڈیڑھ بج گئے تو بادلِ ناخواستہ اوپر کی گیلری میں ادھر سے ادھر تسبیح پڑھتے ہوئے چکر لگانے لگا۔ جب پوری طرح تھک کر چور ہوگیا تو کمرے میں آگیا۔ معلوم ہوا کہ رفیق حجرہ قمرالدین بھائی نے موم بتی، موٹین اور اگر بتی والی موٹین جلا رکھی ہے۔ میں موم بتی کے پاس کافی دیر تک فرش پر بیٹھا رہا۔ اور یہ دیکھتا رہا کہ موٹین نے کچھ اثر کیا ہے یا نہیں۔ تھوڑی دیر میں کافی سارے مچھر بے ہوش ہو کر موم بتی کے آس پاس گرگئے۔ اور یہاں کے مچھر، اطراف میں جنگل ہونے کی وجہ سے ماشاءاللہ کافی صحت مند ہیں۔ جس کی وجہ سے ہمارے لیے ان کی دوستی کافی مہنگی پڑتی ہے خیر اس طرح مچھروں سے کافی حد تک نجات ملی۔ اور میں بستر پر آکر پھر سے لیٹ گیا۔
نیند کیا آتی۔ وقت تو کافی ہوچکا تھا۔ تھوڑی دیر میں شاکر بھائی شاہ جہاں پور والوں نے آکر کہا کہ سحری کا ٹائم ہوگیا ہے۔ چناں چہ اٹھ کر وضو کیا۔ چائے آچکی تھی۔ چائے لے کر آئے۔ تہجد وغیرہ سے فارغ ہوکر سحری کی اور روزہ رکھ لیا۔ فجر بعد بارگاہِ ایزدی میں ایک بار پھر دعا  کے لیے ہاتھوں کو دراز کردیا۔

دسواں روزہ۔۔۔۔۔۔بہ روز پیر۔۔۔۔۔4/مئی/2020ء

ابھی تو نیند آئی ہی تھی کہ سات بج کر بیس منٹ پر محبوب ماموں عرف بُلَّا ماموں (یہ رفیق حجرہ کے ماموں ہیں۔۔۔چوں کہ میرے روم میٹ کے والد صاحب کی رپورٹ پوزیٹیو آئی تھی اس لیے ان کے تین ماموں جب کہ چوتھے ماموں رفیق حجرہ کے بیمار بھائی کی دیکھ ریکھ کی وجہ سے یہاں آنے سے بچ گئے اور اکلوتے خالو کو پولیس ظلماً یہاں لے کر آئی۔ حالاں کہ 2014ء سے آپس میں رنجشیں تھیں اور ایک دوسرے کے گھر آنا جانا بھی نہیں تھا۔ احقر نے تعلقات کی بہ حالی کی کافی کوشش کی تھی اور سمجھایا بھی تھا۔ الحمد للہ کورنٹائن کے بعد سب کے تعلقات بہ حال ہوگئے ہیں اور ایک دوسرے کے گھر آنا جانا بھی شروع  ہوگیا۔۔ بس پولیس کو یہ تھا کہ ان تین کے بہنوئی اور چوتھے کے ہم زلف کی رپورٹ پوزیٹو آئی ہے اس لیے ان کو بھی کورنٹائن کرنا پڑے گا۔ یہ ظلم نہیں تو کیا ہے؟ یہاں سینٹر میں اکثر لوگ وہ تھے جن کا کوئ عذر نہیں۔ بس ظلماً یہاں قید کردیا گیا) نے آکر نیند سے یہ کہتے ہوئے جگایا کہ مفتی صاحب آپ سے  ملنے کچھ لوگ آئے ہیں۔۔۔

جاری۔۔۔۔

No comments: