جديد مضامين

Sunday, June 14, 2020

کورنٹائن سینٹر کی کہانی، احمد شجاعؔ کی زبانی: قسط 9


کورنٹائن سینٹر کی کہانی، احمد شجاعؔ کی زبانی: قسط 9


گزشتہ سے پیوستہ
قسطِ نہم
آپ بیتی: احمد شجاع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیرہواں روزہ۔۔۔۔بہ روز جمعرات۔۔۔۔7/مئی/2020ء

بسترِ مرض پر

تین بجے اٹھ کر "سویا بین" کی سبزی سے سحری کی اور فجر بعد وظائف سے فارغ ہوکر بستر پر دراز ہوگیا۔ اس کے بعد نو بجے کے قریب بیدار ہوکر قرآن پاک کا روزمرہ کا نصاب مکمل کیا ؛لیکن آج طبیعت کافی مضمحل تھی ؛اس لیے قرآن کا آدھا نصاب لیٹ کر مکمل کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ طبیعت گرتی چلی گئی۔ آج نہ جانے کیوں متلی اور معدے کی خراب کی شکایت ہوگئی۔ دن بھر بہت زیادہ کمزوری کا احساس رہا۔ اور آج تو جو ساتھی پڑھنے یا بہ غرض تعلیم آئے ان کو بھی زیادہ تر لیٹ کر تعلیم دی۔ عصر بعد احمد بھائی کو کال کی کہ یار کمزوری بہت زیادہ ہو رہی ہے۔ کچھ حل بتاؤ۔ افطاری میں کیا کھاؤں اور کیسے کروں۔ دوا تو آئے گی نہیں اور اس وقت منگائیں تو یہ لاکر نہیں دیں گے۔ اور صبح سے یہ سمجھ لیں نقاہت وکم زوری کی وجہ سے بس بستر سے چپک کر رہ گیا ہوں۔ تو انہوں نے افطاری میں فقط پپیتا کھانے کو بتایا۔ میں نے کہا بھائی یہ کورنٹائن سینٹر ہے اپنا گھر نہیں۔ کہنے لگے تو پھر چینی نمک اور لیموں کا پانی پی لینا اس سے کمزوری دور ہوجائے گی۔ عصر بعد گلفام بھائی سے کہا کہ تمہارے پاس چینی نمک مل جائے گا۔ کہنے لگے: جی مل جائے گا۔ میں نے کہا لیموں تو یہاں ہے نہیں آپ یہ بوتل لے جاؤ اور دو گلاس چینی نمک کا اس طرح پانی بنا کر لیتے آنا۔ اور ہاں ایک گلاس رضوان بھائی شاہ جہاں پوری کو بھی دے دینا ان کی بھی طبیعت خراب ہے۔ بل کہ طبیعت کی خرابی کی وجہ سے  انہوں نے آج روزہ بھی قضا کردیا۔ 

افطاری میں ایک کھجور اور تین عدد کیلے چینی نمک پانی کے ساتھ  ہاتھ سے نرم کرکے کھائے ۔
نیز اب وقت تحریر یعنی بعد نماز تراویح پڑوس میں دو غیر مسلم نوجوان بھائی ہیں ان سے دوا لے کر کھائی ہے۔ اور مغرب بعد سے یہ پانی دو مرتبہ گلفام بھائی سے بنوا کر منگا چکا ہوں۔ اور اب بھی عشا بعد بھوک کی شدت  کے باوجود صرف کیلے کھائے۔ یا رب شفاے کلیہ عطا فرما۔!

کورنٹائن سینٹر میں بھوک ہڑتال کی مہم

قبل از ظہر پورے ہاسٹل کے ہر ایک کمرے سے ایک ذمے دار ساتھی کو لے کر نیچے کے کمرے میں مجلس مشاورت منعقد ہوئی اور باہمی رضامندی سے بھوک ہڑتال کا فیصلہ ہوگیا۔
وجہ یہ بنی کہ ریاست چاچا اور کچھ دیگر افراد کے سترہ دن مکمل ہوچکے ہیں اور اب تک کافی کوششوں اور اِدھر اُدھر رابطے کے باوجود ان کی رہائی کی کوئ صورت سامنے نہیں آئی۔ اس وجہ سے سب نے  بھوک ہڑتال کا فیصلہ کیا یہاں تک کہ غیر مسلم بھائیوں نے بھی دوپہر کا کھانا لینے سے انکار کردیا ۔  یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح  پھیل گئی جس کے باعث عصر بعد خود چیرمین شمشاد انصاری یہاں آئے اور انہوں نے اطمینان دلایا کہ کل تک ان ستائیس افراد کی رہائی ہوجائے گی۔ آپ بھوک ہڑتال مت کرو ویسے بھی روزے سے ہو۔ اس لیے ایک دن اور صبر کرلو۔ جب یہ اطمینان ہوگیا کہ کل تک چھٹی مل جائے گی تو یہ بھوک ہڑتال کا فیصلہ کل تک کے لیے ملتوی کردیا گیا کہ کل دیکھیں گے۔ اگر چھوڑدیا تو ٹھیک ورنہ دھرنے پر بیٹھ جائیں گے۔ اس طرح آج کی بھوک ہڑتال قبل از ظہر تا عصر رہی۔ اللہ پاک تمام کی رہائی کا انتظام فرمائے۔ آمین

لیکن ریاست چاچا بھوک ہڑتال ختم کرنے پر کسی طرح راضی نہیں تھے۔ افطار سے تھوڑا قبل امیر صاحب اور فرید ماما اور بندہء ناچیز نے کافی منت سماجت کی کہ جب اتنا صبر کرلیا تو تھوڑا اور سہی۔ تب جاکر وہ راضی ہوئے۔ اس کے بعد ہمارے کمرے میں ہی افطار کیا۔

    آج ریاست چاچا اپنی بیٹی کے مسئلے  کو لے کر بھی پریشان تھے۔مغرب بعد بھی داماد سے کافی نوک جھونک ہوئی اور وہ داماد اپنے خسر صاحب سے کال پر ہی گالیوں کے ذریعے بات کرنے لگے۔ اب کیا کریں۔ بیٹی کی شادی غلط جگہ ہوگئی ہے۔ داماد بھی بد اخلاق ہے اور فحش گو بھی۔ اللہ پاک ان کی بیٹی اور نواسی "رِیْفہ" کے لیے خیر کے فیصلے فرمائے۔ آمین!

نعمتوں کی قدر کیجیے

جماعت کے ایک ساتھی نے بتایا کہ میرا بائیک سے کافی خطرناک ایکسڈینٹ ہوگیا تھا جس میں کافی چوٹیں بھی آئیں اور میرے پاؤں میں لوہے کی راڈ بھی ڈالی گئی تھی۔ اُس وقت میرا چودہ دن تک پیشاب بند رہا۔ اس وقت احساس ہوا کہ یہ بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ بل کہ انسان کے جسم کی ہر ایک چیز بہت بڑی نعمت ہے۔ ان کے یہ بتانے پر میرے دل میں یہ بات آئی کہ انسان کے معدے میں پائی  جانی والی غلاظت جس کا انسان نام لیتے ہوئے بھی گِھن کرتا ہے اس کا خروج بھی کتنا بڑا انعام ہے ؛مگر اس قدر نعمتوں کے باوجود انسان بڑا ناشکرا  ہے۔ فورا کہہ دیتا ہے کہ کہاں سکون ہے۔ بڑی پریشانیاں ہیں۔ آپ سے کیا بتائیں زندگی کتنی مشکل ہوچکی ہے۔ 
اے کاش کہ وہ شکر کرتا اور خود کے وجود پر غور کرلیتا کہ سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخن تک ہر ایک چیز نعمت ہے۔ 
اس لیے ہمیں اپنی زبان کو ہر وقت شکر سے تر رکھنا چاہیے کہ اللہ پاک کا شکر ہے۔ ہر حال میں اللہ کا شکر ہے۔ ارشاد باری ہے :لئن شكرتم لأزيدنكم".
اللہ پاک ہمیں صابر و شاکر بنا دے۔ آمین!

چودھواں روزہ۔۔۔۔بہ روز جمعہ۔۔۔۔8/مئی/2020ء

آج رات کافی دنوں بعد پوری رات لائٹ آتی رہی۔ معمول کے مطابق سحری کے وقت نیند سے بیدار ہوئے؛لیکن چوں کہ طبیعت پورے دن سے خراب تھی اور گرتی ہی چلی جا رہی تھی ؛اس لیے صرف تین کیلے نرم کرکے کھانے پر اکتفا کیا۔ ساتھ میں صرف دو گھونٹ چینی نمک کا پانی پی کر "نویت ان اصوم غدا للہ تبارک و تعالی" پڑھ کر روزہ رکھ لیا۔

جمعے کے دن جمعہ نہیں

آج یہ میری زندگی کا دوسرا ایسا جمعہ ہے کہ جمعے کا دن ہوتے ہوئے بھی جمعے کی جگہ ظہر کی نماز ادا کی ؛کیوں کہ دھرم نگری ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ جہاں پر جمعے کی شرائط نہیں پائی جاتیں ؛اس لیے مجبورا ظہر پڑھنی پڑی۔ اللہ پاک جلد از جلد رہائے کے فیصلے فرمائے۔ آمین!

"دھرم نگری" کورنٹائن سینٹر سے رہائی کا آغاز

آج بحمداللہ کئی دنوں کی محنت و مشقت کے بعد یہاں سے ستائیس ساتھی مغرب سے پون گھنٹہ قبل اپنے گھر کے لیے روانہ کردیے گئے۔ اور جاتے وقت راشن کی ایک کِٹ بھی دی گئی۔ میجک (magic) سواری سے ان کے جانے کا نظم کیا گیا۔ جاتے وقت کئی سارے احباب نے اس حقیر بندے کا موبائیل نمبر بھی لیا ، میں نے سب کو الوداعی مصافحے کے ذریعے  رخصت کیا۔

ایک دن کہنا ہی تھا اک دوسرے کو الوداع
آخرش سالمؔ جدا اک بار تو ہونا ہی تھا

یہ رِیت بھی بہت پرانی ہے

جانے والوں کو رخصت کرنے اور الوداع کہنے کی رِیت بہت پرانی ہے۔   کورنٹائن کی اس مختصر سی مدت میں بہت سے لوگوں سے اس طرح کی شناسائی ہوگئی ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے مدتوں کا یارانہ ہو جیسے۔ اپنائیت و ہمدردی، بے غرض و بے مطلب خالص لوجہ اللہ تعلق۔ اب ایسوں کو رخصت کیا جائے تو ماحول اداس، فَضا سوگوار اور آنکھیں نم ہونی تو لازمی ہیں۔

کتنے اچھے لوگ تھے کیا رونقیں تھیں ان کے ساتھ
جن کی رخصت نے ہمارا شہر سونا کر دیا

رجوع الی اللہ کا مظہر

ایک بات لائق تقلید دیکھنے میں آئی کہ جب تمام ساتھی ہاسٹل سے باہر ہوئے تو گاڑی میں سوار ہونے سے قبل سبھی ساتھیوں نے پولیس و پرشاسن کے سامنے ہی بارگاہِ رب صمد میں ہاتھ اٹھاکر بلند آواز سے اجتماعی دعا کی جس میں رہائی پر شکر اور پورے عالم میں امن و سکون کی بحالی کے لیے خاص دعا کی۔ اور اس موقع پر ایک غیر مسلم پولیس والے نے بھی دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے تھے ؛بل کہ سبھی دعا کے وقت ادب و احترام کے ساتھ کھڑے ہوگئے تھے۔

ریاست چاچا بھی چلے گئے

نام: ریاست علی۔ عمر: 42/سال۔ ساکن: موضع: بھوگن والا۔ حال سکونت: موضع: گنج۔ پیشہ: دودھ کا کاروبار۔ اپنے ساتھ تُرْک کا لاحقہ چسپاں کرتے تھے۔ بہت زیادہ ہنس مکھ، مزاح فطرت کی دین۔ سچائی و راست گوئی و صاف گوئی ان کی طبیعت۔ علماے کرام کے تئیں بے پناہ عقیدت۔ کورنٹائن سینٹر کے مؤذن۔ سادگی پسند ؛لیکن خوش لباس۔ صدری اور واسکٹ ہر وقت زیب تن کیے ہوئے۔ جو بھی شخص تھوڑی دیر محو گفتگو ہو اس کو اپنی مزاحیہ باتوں اور دیسی زبان کا اسیر کرلینے والے۔ دو معذور بیٹوں، ایک بیٹی، ایک نواسی اور دو صحیح و تندرست بیٹوں کے والد محترم جناب ریاست چاچا آخر کار بڑی پریشانیاں اٹھاکر ہمیں الوداع کہہ کر گھر چلے گئے اور پورے ہاسٹل کو سونا کرگئے۔

تمہارے بعد اجالے بھی ہو گئے رخصت
ہمارے شہر کا منظر بھی گاؤں جیسا ہے

سب سے پہلے اس ہاسٹل میں آنے والے تین افراد میں ایک ریاست چاچا بھی تھے۔ یہاں پر انہوں نے چار کمرے بدلے۔ اور ہمیشہ تنِ تنہا کمرے میں رہے۔اور تنہا ہی کھانا پینا کیا ؛البتہ مجھے اپنے کمرے میں ٹھہرانے کے لیے تیار تھے۔ جس بھی کمرے میں ٹھہرے اس میں جگہ جگہ "خوش آمدید، 786" اور گیٹ کے باہر "یا اللہ، یا محمد" لکھ دیتے اور کہتے کہ معلوم تو ہونا چاہیے کہ یہاں کوئی اللہ کا بندہ آیا تھا۔ اور جس کمرے میں وہ ہمارے ساتھ نماز ادا کرتے تھے یعنی کمرہ نمبر اٹھارہ تو اس کے دروازے پر "اوقات اذان و نماز" بھی لکھ رکھے تھے۔ جب بھی کوئی نیا شخص آتا تو اس کا استقبال کرتے اور تسلی آمیز کلمات سے اسے حوصلہ دیتے

میری آمد کے متعلق ایک دن بتانے لگے کہ "جب آپ آئے تو میں نے دور سے پہچان لیا کہ ان میں کوئی خاص بات ہے اور ان میں اُلْمَاے کرام (علماے کرام) والی سِفْتْ (صفت) ہے ؛اس لیے میں نے سوچا کہ انہیں کوئی اور اپنے کمرے میں نہ بلالے ؛کیوں کہ آپ کے خریدار تو کافی سارے تھے ؛اس لیے میں آپ کو اپنے ساتھ جلدی سے اوپر بلاکر لے آیا"۔

جن غلطیوں پر میں نشان دہی کرتا اکثر فورا ماں لیتے اور کبھی تھوڑی بہت حجت بھی کرتے۔ اور جب میں معلوم کرتا کہ اچھا یہ بتاؤ یہ بات کہاں سے معلوم ہوئی ہے تو بولتے: "سُنا۔ میں نے تو سنا ایسا سنا" جس پر ہم تینوں یعنی شمس بھائ، قمر بھائ اور میں ان سے کافی مزاح کرنے لگے کہ کوئ بھی بات ہوتی ہم فورا کہتے کہ یہی کہہ دو "سُنا"!۔

ایک مرتبہ مزاحیہ گفتگو کے دوران میں نے معلوم کرلیا کہ ہماری چاچی جب ناراض ہوجاتی ہیں تو کیسے مناتے ہو اور کیسے اظہارِ محبت کرتے ہو۔ تو کہنے لگے میں یہ کہتا ہوں:

ہم تمہیں چاہتے ہیں__ایسے
مرنے والا زندگی چاہتا ہو جیسے
روٹھ جاؤ ہو تم اگر تو ایسا لگے
جسم سے جاں نکلنے لگے جیسے

نیز میرے بارے میں اکثر و بیشتر کہتے رہتے کہ: 

"مفتی صاحب ایسے ہیں جیسے نیو ماڈل گاڑی ؛لیکن ماڈل چودہ سو سال پرانا"

بہت سے مزاحیہ چٹکلے اور 1985ء کے اپنی تعلیم کے دوران کے واقعات سناتے رہتے۔ اور جہاں بیٹھتے محفل کو اپنی گفتگو سے زعفران زار بنا دیتے۔ اکثر یہاں پر جوتے موزے پہنے رہنا۔ اسی طرح بغیر شیشے کی عینک لگانا ان کا معمول تھا۔
خیر ان کی رفاقت بہت اچھی رہی اور ایسی رہی کہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں۔ خاص طور سے تراویح کی دعا میں ایک لفظ "والعظمة" آتا ہے جس کو وہ بسکون الظاء پڑھتے اور میں روزانہ ٹوکتا اور وہ خوب ہنستے۔ اسی طرح روزہ رکھنے کی دعا میں "من شھر رمضان" آتا ہے تو رَمْضان یعنی ض پر سکون پڑھتے اور میں ٹوک دیتا۔ تو پھر اپنی لے یعنی مخصوص انداز میں یہ دعا دہراتے اور خوب ہنستے کہ مفتی صاحب بھی یہ سب دعائیں ٹھیک کرا کر ہی چھوڑیں گے۔ اس لیے ان دونوں دعاؤں پر وہ ہمیشہ یاد رہیں گے۔ ویسے تو ان کے جانے کے بعد ہر کوئ یہی کہہ رہا ہے ہاسٹل سونا پڑ گیا ہے۔ اور انہوں نے جاتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے تمہارا نمبر لے لیا جب تم گھر چلے جاوگے تو تم سے ضرور رابطہ رہے گا اور ایسا ہی ہوا اب تک ان کی کال آتی رہتی ہے۔ اللہ پاک اس رشتہء بے غرض کو جنت تک باقی رکھے اور ریاست چاچا کو دنیا و آخرت میں  خوب نوازے ۔ آمین!۔

واقعی جس وقت ان کو رخصت کیا تو عجیب حالت تھی میری

آب دیدہ ہو کے وہ آپس میں کہنا الوداع
ان کی کم میری سوا آواز بھرائی ہوئی

جاری۔۔۔۔۔

No comments: