جديد مضامين

Saturday, June 13, 2020

کورنٹائن سینٹر کی کہانی، احمد شجاعؔ کی زبانی: قسط 8

کورنٹائن سینٹر کی کہانی، احمد شجاعؔ کی زبانی: قسط 8


گزشتہ سے پیوستہ
قسطِ ہشتم
آب بیتی: احمد شجاعؔ

بارہواں روزہ۔۔۔۔بہ روز بدھ۔۔۔۔6/مئی/2020ء

     آج بحمد اللہ سوا تین بجے اٹھ کر سحری وغیرہ سے قبل از وقت فارغ ہوگئے۔ گزشتہ شام کھانے میں مسور چاول اور سویا بین کے کوفتے آئے تھے۔ چوں کہ کھانا ایک ہی وقت کا ہوتا ہے اس لیے اس میں سے تھوڑا بہت سحری کے لیے بچا کر رکھ لیتے ہیں۔ اور پھر رات تاخیر سے باسمک اللہ اموت واحیا پڑھی تھی اس لیے سحری میں گزارے لائق کھایا گیا۔

شکریہ در شکریہ

     فجر بعد معلوم ہوا کہ بڑے بہنوئی مفتی ظہیر صاحب کی کال آئی ہوئی ہے۔ انھوں نے کافی معلوم کیا کہ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔ اسی طرح ہمشیرہ ام معاذ نے بھی کافی اصرار کے ساتھ معلوم کیا۔ لیکن میں نے منع کردیا کہ اگر ضرورت ہوگی تو میں آپ کو اطلاع دے دوں گا۔ ویسے بھی یہاں پر دس دن تو ہو ہی چکے ہیں ۔ 
بہت خوشی ہوتی ہے جب باجی کی کال وقتا فوقتا آتی رہتی ہے۔ ویسے تو میں گھر کے علاوہ کہیں کال نہیں کرتا ؛لیکن  بڑی باجی خود کال کرکے خیر خیریت لیتی رہتی ہیں۔ اللہ پاک ان کو سلامت رکھے اور سبھی بچوں کو نیک و صالح بنائے۔ آمین! جزاھم اللہ احسن الجزاء۔

اس ذرہ نوازی کو کیا نام دوں

     دوپہر ظہر بعد میرے قدیم ترین، آٹھ سالہ رفیقِ درس و رفیق حجرہ و دسترخوان برادرم مولانا عامر صدیقی بجنوری کی کال آئی۔ ان کی کال ریاست چاچا کے موبائیل پر آتی ہے ؛اس لیے وہ زیادہ کال نہیں کرتے کہ نہ جانے اس وقت بات ہو پائے گی یا نہیں۔ آج بھی اپنے معمول کی طرح کافی اصرار کے ساتھ معلوم کیا کہ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔ میرا جواب ہمیشہ کی طرح نفی میں تھا۔ ؛اس کے باوجود وہ کہنے لگے کہ شام میں والد صاحب ملنے آئیں گے ان شاءاللہ۔
     
     عصر بعد عامر بھائی کے والد محترم اور خود عامر بھائی ملاقات کے لیے آئے اور ساتھ میں ایک کافی وزنی تھیلا بھی۔ بہت مختصر  ملاقات ہوسکی اور ملاقات بھی کیا بس دور سے علیک سلیک اور خیر خیریت۔ مزید جاتے ہوئے ان سے دعا کے لیے کہا۔ کمرے پر آکر ان کا لایا ہوا تھیلا کھولا۔ جس میں عمدہ قسم کی کھجور کا ڈبہ، 2درج ن کیلے، چیکو اور امی جی کے ہاتھ کی بنی ہوئی بہت لذیذ اور خوش ذائقہ میٹھی مٹری۔ جو دار العلوم دیوبند کے ایام طالب علمی میں وہ گھر سے لایا کرتے تھے۔ ان سب سے بڑھ کر اس میں والدہ محترمہ کی محبت کا خمیر، والد صاحب کی شفقت کا جذبہ اور ایک دوست کا خلوص شامل تھا۔ اس میٹھے احساس کے اظہار کے لیے سوائے دعا کے میرے پاس الفاظ نہیں۔ رب کریم والدین کا سایہ بہ صحت و عافیت تادیر قائم رکھے اور آپ کو خوشیوں سے نوازے۔ آمین
     
     نیز عامر بھائی کو جب میں نے یہاں آنے کی اطلاع دی تھی تو کافی حوصلہ دینے کے ساتھ ساتھ ہم دونوں کے خاص دوست مفتی عمران صاحب قاسمی مظفر نگری اور مفتی شاہ جہاں صاحب قاسمی مدن پلی کو بہ طور خاص کال کرکے میرے کورنٹائن ہونے کی اطلاع دی جس پر ان دونوں نے بھی بہت افسوس کا اظہار کیا اور مسلسل میرے لیے دعا کرنے کے ساتھ ساتھ میرے احوال کے متعلق عامر بھائی سے رابطہ بھی کرتے رہے۔ اور موصوف مذکور نے میرے لیے اپنی جانب سے یہاں سے جلد رہائی کی مکمل کوشش کی۔ والد محترم سے بھی جگہ جگہ رابطے کے لیے کہا ؛لیکن کوئ سبیل نہیں نکلی۔
     المختصر! حقیقی دوستی، قدیم رفاقت کا خیال، اور بے مطلب و بے غرض تعلق کا احساس وہ ہے جس کے اظہار کا مندرجہ بالا سطور میں اپنائیت سے پُر ایک مختصر سا قصہ ہے۔ اللہ پاک اس رشتہء بے مطلب کو سدا باقی رکھے۔ فجزاھم اللہ احسن الجزاء فی الدارین!

پاوں قبر میں اور زبان گناہ کی دلدل میں

      اولاد کو بچپن سے ہی اچھے اخلاق کا خوگر بنانا چاہیے۔ اگر اس کی زبان یا کردار گندا ہوجائے تو بڑھاپا بھی اس کی سرشت نہیں بدل پاتا۔ یہاں کورنٹائن میں بھی  ایک سن رسیدہ شخص ہیں جن کی سفید ڈاڑھی میں سیاہ بال معدودے چند ہوں گے۔ عصر بعد کمرے میں آکر جماعت کے ساتھیوں اور دیگر اشخاص کو برا بھلا کہنے کے ساتھ ساتھ فحش فحش گالی بھی دینے لگے۔ بڑی مشکل سے ضبط کرکے خود پر قابو کیا۔ اور بعد میں جب ان کو صحیح صورت حال -جس کی وجہ سے وہ اول فول بولے جا رہے تھے- سے آگاہ کیا تو بات تسلیم کرنے پر راضی ہی نہیں ہوئے۔
    اس وقت مجھے شدت کے ساتھ یہ احساس ہوا اور دل میں یہ بات آئی کہ واقعتا بچوں کو بچپن میں ہی انسان بنا دینا چاہیے۔ اور ان کو حسن اخلاق کے زیور سے آراستہ کردینا چاہیے۔ اس بات کی اس  قدر ضرورت اس وجہ سے ہے کہ اگر ابھی اس کو اچھے اخلاق نہیں دیے گئے تو بچپن میں پڑی ہوئی گندی اور بری عادتیں۔ بڑھاپے میں بھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑیں گی۔ اللھم احفظنا من کل البلایا والمحن!

اے ماں! ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

     گلفام بھائ" گریٹرنویڈا" (Greater Noida) والے عادت و اطوار میں بہت اچھے اور انتہائی سادہ طبیعت کے انسان ہیں۔ سادگی کی وجہ سے میں ان سے بہت مزاح کرتا رہتا ہوں۔ اور میں جب کہتا ہوں۔ گلفام بھائی برا تو نہیں لگا۔ تو کھلکھلا کر ہنستے ہوئے کہتے ہیں: کیسی بات کر رہے ہو مفتی صاب!!"
    کیوں کہ گلفام بھائی بھی میرے پاس پڑھنے آتے ہیں ؛اس لیے ان سے کافی قربت ہوگئی ہے۔ وہ گھریلو حالات بتانے لگے جسے سن کر آنسو تھم نہ سکے اور میں تنہائی میں بہت رویا۔ ایسے درد بھرے حالات کہ اللہ اکبر۔ میرے پاس تو کچھ ہے بھی نہیں سوائے  چند آنسوؤں کے ساتھ خونِ جگر کو سیاہ نقوش دینے کے ۔

بتانے لگے: "میری والدہ "بہار" میں "کٹیہار" کی ہیں۔ والد صاحب دلی کے رہنے والے تھے۔ وہ نشے کے عادی تھے۔ نشے کی وجہ سے انہیں "ٹی بی" کا مرض بھی لاحق ہوگیا۔ اتنا پیسہ تو تھا نہیں کہ علاج کراتے ؛مگر یہ گندی عادت بھی نہ چھوڑ سکے۔ غرض میرے بچپن ہی میں ایک دن اسی بُری لَت کے ساتھ وہ اس دنیا سے چلے گئے۔ 

میں نے پوچھا کہ والد صاحب کی وفات کے بعد آپ ضرور ننہیال چلے گئے ہوں گے؟
   کہنے لگے مفتی صاحب ننہیال تو دور ، ہم آج تک  ددھیال بھی نہیں گئے۔  اللہ جانے کیا بات تھی کہ والد صاحب کبھی زندگی میں بھی ہمیں ددھیال لے کر نہیں گئے، پھر وفات کے بعد کیا جاتے"۔

تو گھر کا خرچ کیسے چلتا تھا ابو کے بعد؟

والدہ ہفتے میں ایک دن درگاہ پر جاکر لوگوں کے جوتوں اور چپلوں کی رکھوالی کرتی تھیں، جس پر ایک روپیے، دو روپیے ملتے تھے اور بعض لوگ پانچ روپیے، دس روپیے بھی بھی دے جاتے تھے۔ جس سے گزر بسر ہوجاتی تھی۔

گھر پر کوئی کمانے والا بھی نہیں تھ ہم دو بھائی ہیں۔ چھوٹا بھائی  ابھی بھی  پندرہ سولہ سال کا ہے۔ جو وقت پر تعلیم نہ ملنے کے سبب  آوارہ لڑکوں میں بیٹھنے لگا ہے۔  اب نہ پڑھنے جاتا ہے اور نہ کام میں اس کا دل لگتا ہے ہاں کبھی کبھی پینٹ یعنی کلر کے کام پر چلا جاتا ہے۔

    خرچوں کا بوجھ اتنا رہتا ہے کہ ہماری والدہ ذہنی اضطراب کی وجہ سے نڈھال ہوچکی ہیں ہم کرائے کے گھر میں رہتے ہیں۔ گھر کیا بس ایک کمرہ ہے۔ اسی میں گزر بسر ہو رہی ہے۔ اور گھر کا کرایا دوہزار روپیے ہے۔
     اب کچھ سالوں سے میں ماں کو سہارا دے رہاہوں۔ میں نے آٹو رکشہ (auto rickshaw) کرائے پر لے رکھا ہے۔ جس کا روز کا کرایا چار سو روپیے ہے۔ اس میں دوسو روپیے کی C.N.G بھروانی پڑتی ہے اور تقریبا سو روپیے اوپر کا خرچ رہتا ہے۔ جو مجھے بچتا ہے اس سے صرف گھر کا گزارا ہوپاتا ہے۔

کرائے کی الجھن سے بچنے کے لیے کچھ دن پہلے میں اپنا آٹو رکشہ خریدنے والا تھا ؛مگر ایک دن کرائے کا رکشہ چوری ہوگیا۔ جس کی وجہ سے جو جمع پونجی تھی  سب مالک کو دینی پڑی۔

یہ ان کے گھر کے کچھ حال واحوال تھے جن پر کچھ تبصرہ کرنے کی مجھ میں سکت نہیں ہے۔ ماں کی ممتا، محبت اور بچوں کے تئیں اس قدر محنت اور جذبہ جاں نثاری۔۔۔۔اللہ اکبر! اس پر آہ و زاری اور اشک باری سے ہی تبصرہ ممکن ہے۔ رب کریم ان سب کی حفاظت فرمائے اور انہیں خوب نوازے۔ اللہم آمین!

والدہ ایثار کا دوسرا نام ہے

      جب ماں کا تذکرہ چھڑ گیا ہے تو میں اس ماں کو کیسے بھول جاؤں  
جس کا ایک معذور بیٹا ہو، شوہر شہر "سنبھل" میں آئی سولیٹ ہو۔ دو جواں بیٹے قمر الدین اور شمس الدین اور دو جوان بیٹیاں "دھرم نگری" میں کورنٹائن ہوں۔ نیز تین بڑے بھائی اور اکلوتے بہنوئی بھی یہاں سینٹر میں ہوں۔ غرضیکہ کل کائنات اس سے چھن گئی ہو۔ اس کے دکھ، درد اور تکلیف کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ اس کے باوجود ضروریات کی چیزیں یہاں بھیجتے رہنا اور سب کی باتیں سننا اور سہنا، یہ سب کتنا دشوار ہے۔

     چناں چہ چند روز قبل کھانا بنا کر بھیجا تھا ؛لیکن آج تو کچھ زیادہ ہی پریشانی اٹھائی اور مجھ سمیت نو افراد کے لیے اِسٹو، خشک دال کی سبزی، بھنڈی کی سبزی، اچار اور روٹی بنا کر بھیج دی۔ یہ سب دیکھ کر ہزار بار ایسی ماں کو سلامی دینے کو جی چاہتا ہے۔ 

     یہ ہوتا ہے خود پر ایثار۔ یہ ہوتی ہے بچوں سے محبت۔ یہ ہوتی ہے ماں کی ممتا۔ یہ ہوتا ہے صبر و امتحان میں پورا اترنا۔ کہ کل کائنات یعنی اہل خانہ پاس میں نہیں ؛مگر اللہ سے دعا کرنے کے ساتھ ساتھ اس طرح اولاد کا خیال رکھنا کہ بچوں کے لیے اپنی جان وار دے اور زبان پر شکوہ و شکایت بھی نا ہو۔ 
یقینا ماں لاجواب و بے مثال ہوتی ہیں۔اس کی محبت و ممتا کا اس کرہ ارضی پر کوئی ثانی نہیں۔ ایثار و جاں فشانی اور مشقت کا جذبہ خلاق دو عالم کی طرف سے اس کی سرشت و طبیعت میں رکھ دیا گیا ہے۔ 

     اس طرح کے واقعات دیکھ کر والدہ شدت سے یاد آنے لگتی ہیں اور دل زار زار رونے لگتا ہے۔ رب ارحمہما کما ربیانی صغیرا۔ اللہ پاک شمس بھائی کی والدہ کو اجر جزیل عطا فرمائے اور سبھی اہلِ خانہ بالخصوص سامنے موجود دونوں بہنوں کو جلد از جلد گھر پہنچائے اور ہمت و صبر عطا فرمائے آمین!

اسی کی لو ہے دنیا کے لہکتے سبزہ زاروں میں
اسی کا رنگ گلشن کی مہکتی نو بہاروں  میں
اسی کے نغمے جنت کے مچلتے آبشاروں    میں
اسی کا نور قدرت کی بہاریں جلوہ زاروں میں
نہیں وہ کبریا ؛مگر___شانِ کبریائی ہے
ہماری ساری عمر پر___اس کی خدائی ہے

جاری۔۔۔۔۔

No comments: