جديد مضامين

Sunday, June 21, 2020

کورنٹائن سینٹر کی کہانی، احمد شجاعؔ کی زبانی: قسط 12


کورنٹائن سینٹر کی کہانی، احمد شجاعؔ کی زبانی: قسط 12
گزشتہ سے پیوستہ
قسط دواز دہم
آپ بیتی: احمد شجاعؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آخر قفس سے آزادی کب ملے گی

شمس بھائی نے .DM صاحب کو کال کی کہ ہم سب کو آئے ہوئے 14 دن ہوچکے ہیں۔ 27/اپریل کو ہم آئے تھے۔ آخر ہماری واپسی کب تک ہوگی ؟
انہوں نے جواب دیا: "پیر یا منگل تک چھٹی ملے گی۔ کنفرم ابھی کچھ نہیں ہے۔

قید کی مدت بڑھی چُھٹنے کی جب تدبیر کی
روز بدلی جاتی ہیں کَڑیاں__مری زنجیر کی

نہ جانے اس میں رب کی کیا حکمت مضمر ہے۔ یقینا اس کے ہر فیصلے میں خیر پوشیدہ  ہوتی ہے جس کا ادراک انسان کی کوتاہ نظر نہیں کرسکتی ۔ قرآن پاک میں رب کا ارشاد ہے: عَسَىٰۤ أَن تَكۡرَهُوا۟ شَیۡـࣰٔا وَهُوَ خَیۡرࣱ لَّكُمۡۖ 
    لیکن انسان کی فطرت بہت جلد باز واقع ہوئی ہے ، وہ ہمیشہ ہتھیلی پر سرسوں جمانے کی خواہش رکھتا ہے جس  کی طرف  قرآن کریم نے ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے: "وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا" کہ انسان بہت جلد باز ہے۔ ہر کام اپنی طبیعت کے  کے مطابق فی الفور چاہتا ہے۔ جب کہ رب جو کہ ستر ماؤں سے زیادہ رحیم و کریم اور مہربان ہے وہ  اس کے حق میں زیادہ بہتر سوچتا ہے۔ اگر رب پر مکمل بھروسہ اور اطمینان ہو تو پھر اس کے ہر فیصلے میں بھلائی نظر آتی ہے اور وہ بہ سر و چشم اس کے فیصلے کو قبول کرتا ہے۔ اور ایسے ہی بندے رب کے بے انتہا قریب ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر کسی کام میں دیری ہوجایے تو  ہمیں یہ کہنے کی عادت ڈالنی چاہیے کہ اس میں ضرور اللہ پاک کی کوئی مصلحت ہوگی۔

امیر صاحب سے گفتگو

حاجی مستقیم صاحب جو یہاں کے امیر ہیں۔ اور بجنور شہر کے جماعت کے بڑے ذمے داروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ بہت اچھے اور نیک انسان ہیں۔ نرم دل اور نرم طبیعت کے حامل ہیں۔ انکساری اور خدمت خلق کا جذبہ بہت زیادہ ہے۔ شہر بجنور کے محلہ بخارہ بخشی والا روڈ پر سکونت ہے۔ بعد نمازِ عشا بندے کے پاس آکر بیٹھ گئے۔ اور کافی دیر تک مدارس ، علماے کرام اور دینی حلقوں کے ذمے داروں سے متعلق باہم بہت سنجیدہ گفتگو ہوئی۔ اور بہت سی اہم چیزوں پر جو ہمارے دینی طبقے میں بہ کثرت پائی جا رہی ہیں، سنجیدگی کے ساتھ  بات چیت کی۔ کچھ اہم مشورے بھی دیے اور  ان کے  طویل تجربات سے بہت کچھ سیکھنے ملا۔ تمام باتیں تو ڈائری میں نہیں لکھ سکتا۔ البتہ جو بات بہت اہم ہے وہ یہ کہ ہم میں سے کوئ بھی انسان چاہے عام ہو یا خاص، وہ اگر دین کے کسی بھی شعبے سے منسلک ہوکر دین کی خدمت کرنے لگتا ہے تو اسے "میں" اور "انا"  جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا نا ہوکر خالص لوجہ اللہ خدمت کرنی چاہیے ؛کیوں کہ وہ جو کام کر رہا ہے چاہیے جس طریقے سے ہو اس میں اس کا کوئ ذاتی کمال نہیں ہے یہ تو رب اس سے کام لے رہا ہے ۔ ورنہ کہاں ہم وہر کہاں دین کا کام۔ رب کسی کا محتاج نہیں ہے۔ لیکن ہم میں ذرا بھی کوئ دین  کے کسی بھی کام میں شین قاف کرنے کیا لگ جائے وہ اپنے سے بڑا کسی کو سمجھتا ہی نہیں۔ اس کے بولنے کا انداز۔ چلنے کا ڈھنگ۔  لوگوں سے  سے ملاقات کا طریقہ۔ حتی کہ نشست و برخاست کی ہیئت تک بدل جاتی ہے اور وہ چلتے پھرتے "ہم چوں دیگر نیست" کی تسبیح ہلانے لگتا ہے جو در اصل پِندار اور تکبر کہلاتا ہے۔ اور اسے اس بیماری کے در آنے کا احساس تک نہیں ہوتا۔ اور یہ پندار وہی ہے جس نے شیطان کو مردود بنادیا تھا۔ قرآن کہتا ہے

"فَٱخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ"

شیخ سعدیؒ نے اسی کی ترجمانی یوں کی ہے

تکبر عزازیل را خوار کرد
بزندان لعنت گرفتار کرد

کہ اس مہلک مرض یعنی انا، انانیت، میں، کبر، نخوت، بڑائی اور تکبر نے فرشتوں کے مصاحب عزازیل کو بھی شیطان مردود بنادیا تھا اور طوقِ لعنت اس کے گلے میں ڈال دیا تھا ؛اس لیے ہم جو بھی دین کا کام کریں فقط اخلاص کے ساتھ اور اس خوف  کے ساتھ کریں کہ نہ جانے قبول ہوا بھی ہے یا نہیں۔ جیسے ہمارے کتنے اولیاء اللہ رات بھر تہجد پڑھنے کے بعد دن بھر رویا کرتے تھے کہ معلوم نہیں رات کی عبادت قبول ہوئی یا نہیں۔

اللہ تعالی ہم سب کو ریا کاری وتکبر سے محفوظ فرمائے اور اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ آمین

اس درمیان میرے پاس جو کچھ کھانے کو تھا اس سے ان کی خاطر مدارات کی۔ اس کے بعد ان سے دعا لیتے ہوئے اجازت چاہی 

عشا بعد جلد لائٹ آگئی تھی ؛لیکن ہم نے آج جلد سونے کا فیصلہ کیا۔ کیوں کہ نیند بہت آرہی تھی۔ اس لیے تقریبا بارہ بجے بستر پر دراز ہوگئے۔

پندرہواں روزہ۔۔۔۔بہ روز پیر۔۔۔۔11/مئی/2020ء

تین بجے بلال بھائ نے آکر نیند سے بیدار کیا۔ ضروریات سے فارغ ہوکر سحری کی اور اس دوران سحری سے متعلق اعلان بھی کرتا رہا کہ: 

"سحری کا وقت ختم ہونے میں اتنا وقت رہ گیا ہے۔ تمام حضرات جلد از جلد سحری سے فارغ ہوجائیں"۔

جب سے ریاست چاچا گئے ہیں پنج وقتہ اذان اور سحری و افطار کے اعلان کی ذمے داری میرے  سپرد کردی گئی ہے۔ فللہ الحمد۔ اذان کی جب ذمے داری سپرد ہوئی تو بہت خوشی ہوئی ؛کیوں کہ حقیقی زندگی میں کہیں مؤذن نہیں بنے تھے ؛لیکن قید کی چہار دیواری میں رب نے ہمیں یہ شرف بھی عطا کردیا۔ اور پھر اذان دینا تو حضرت بلالؓ و عبد اللہ ابن ام مکتومؓ جیسے جلیل القدر صحابہ کی سنت بھی ہے۔ 

سحری میں معمول کی طرح سبزی میں پھر سے بو آگئی جس کی وجہ سے ما بقیہ سے سحری کی اور روزہ رکھ لیا۔ اللہم لک الحمد ولک الشکر۔

موت آجائے قید میں صیاد
آرزو ہو اگر___رہائی کی

لائٹ جب رات میں نہیں رہتی تو بڑا دماغ خراب ہوتا ہے۔ کیوں کہ سکون کا وقت اور تنہائی کا بہترین وقت رات ہی ہے ؛مگر یہاں کی شب عموما تاریک رہتی ہے۔
ہم تو سراپا گنہگار ہیں ؛مگر کچھ یہاں اللہ والے ہیں جو شب کو شب زندہ دار ہونے کا ثبوت فراہم کرکے اسے روشنی بخشتے ہیں شب کو تاریک ہونے نہیں دیتے۔ 
ورنہ اس قید میں اتنے دن بعد جب رہائی کا کچھ معلوم نا ہو تو آزادی کے پروانے کے لیے کلمہ شہادت پر موت سے بہتر کوئی اور پروانہ سمجھ نہیں آتا اور ذہن ایسے ہی خیالات کی آماجگاہ بنا ہوا ہوتا ہے۔

آج رات بھی لائٹ تقریبا دو بجے سے گئی ہوئی تھی ؛اس لیے سحری و فجر اور دیگر معمولات سب موم بتی کی روشنی میں ہی ادا کیے۔ 

روشنی جب سے مجھے چھوڑ گئی
شمع روتی ہے__سرہانے میرے

فجر بعد نیند نہیں آرہی تھی تو سرہانے موم بتی جلائی اور تلاوت میں مشغول ہوگیا۔ اور تادم تحریر وہی سلسلہ جاری ہے۔ بس درمیان میں اشراق و چاشت کا وقفہ کیا تھا ؛کیوں کہ قرآن کا نصاب روز مرہ کا کافی ہے۔ 20 پارے میں پڑھنے میں کافی وقت درکار ہوتا ہے۔ اب بھی نصاب باقی ہے۔ اس لیے اب ہم چلتے ہیں۔ پھر کوئ اہم بات لے کر قلم کے ساتھ حاضر ہوں گے۔ تب تک کے لیے اللہ حافظ۔
وقتِ تحریر: 09:53/صبح

اسعد بھائی۔۔۔جزاک اللہ

نیچے صحن سے آواز آئی کہ کوئ آپ سے ملنے آیا ہے۔ میں گیلری میں قرآن پڑھنے کے لیے آیا تھا۔ ملاقات گاہ پر جانے سے معلوم ہوا کہ تایا زاد بھائ کے نسبتی بھائی جناب اسعد صاحب پیدے والے ملنے آئے ہیں۔ مختصرا گفتگو کے بعد تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کو رخصت کیا۔ اللہ پاک ان کو جزائے خیر عطا فرمائے اور خوب وسعت و فراخی عطا فرمائے۔ آمین

نویڈا کے ساتھی بھی چلے گئے

نویڈا کے پندرہ ساتھی آج بہ وقت ڈھائی بجے دوپہر بحمد اللہ اپنے گھروں کے لیے سولہ دن پورے کرنے کے بعد یہاں سے روانہ ہوگئے ہیں۔ اللہ پاک تمام کو بہ خیر  و عافیت ان کی منزل پر پنچائے۔ 
سبھی ساتھی ملنسار اور خوش اخلاق تھے۔ خاص طور سے گلفام بھائی۔ مزمل بھائی۔ فیضان بھائی۔ جاوید بھائی اور عبد القیوم بھائی۔ یہ تمام اکثر کمرے پر آتے رہتے اور مختلف دینی موضوعات پر سوال و جواب کی شکل میں نشست جاری رہتی۔ فجزاھم اللہ احسن الجزاء فی الدارین۔

موبائیل بھی مل گیا آخر

آتے وقت میرا موبائیل یہاں کے کارکنان نے ضبط کرلیا تھا۔ درمیان میں کئی ایک بار لینے کی کوشش کی ؛مگر ہر مرتبہ مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ 
آج صبح شمس بھائی کے ساتھ ایک مرتبہ پھر کوشش کی کہ بھائی ہمیں یہاں آکر پندرہ دن ہوچکے ہیں اب تو ہمیں موبائیل دے دو تو دربان نے کہا شام میں مل جائے گا۔
ظہر بعد نویڈا کی جماعت کو رخصت کرکے میں لیٹ گیا تھا کہ شمس بھائی نے آکر جگایا کہ جلدی چلو اس وقت وہاں دربان کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ آپ کا موبائیل مل جائے گا۔ خیر چار بندوں کے موبائیل تھے وہ سب مل گئے۔ الحمد للہ۔  
موبائیل کمرے پر آکر چارجنگ میں لگادیا۔ اور ابھی اوپن کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ اس لیے کل ان شاءاللہ جاتے وقت اوپن کریں گے اور تمام کو رہائی کی خبر دیں گے۔

ہردوئی و شاہ جہاں پور کے رفقا بھی منزل کی جانب روانہ ہوگئے

مغرب بعد ہردوئی و شاہ جہاں پور کے چار ساتھی سرکاری بس سے یہاں سے رخصت ہوگئے ہیں۔ چاروں ساتھی جن کا مختصرا ما قبل میں تذکرہ آچکا ہے۔ بہت اچھی عادت و اخلاق کے مالک تھے۔ کمرے پر اکثر و بیشتر آتے رہتے اور ان میں اِسْران بھائی تو قاعدہ بھی درست کرنے آتے تھے۔ اور اکثر بتایا کرتے کہ مفتی صاحب پہلے میں بھی دیگر عام جوانوں کی طرح زندگی گزارا کرتا تھا۔ لیکن جماعت میں آکر میری زندگی کا رخ بدل گیا ہے۔ آپ دعا کرنا کہ یہاں سے جاکر میں دینی ڈگر سے نہ ہٹ جاؤں۔ اللہ پاک سبھی ساتھیوں کو بہ خیر و عافیت منزل مقصود تک پہنچا دے۔ آمین

جہاں سے گزرو اثر چھوڑ جاؤ!

اچھے اخلاق اور عمدہ عادات انسان کو ہمیشہ کے لیے جاوداں بنادیتے ہیں اور انسان جہاں بھی جاتا ہے اپنی شناخت چھوڑ جاتا ہے اور لوگ اس کی اچھی صفات کے باعث ہمیشہ دلوں میں یاد رکھتے ہیں۔ 
آج ہمیں اپنے آس پاس چرب زبان اور لچر کردار کے بیشتر لوگ مل جائیں گے۔ شیریں سخن بھی بہت ہوں گے۔ لوگوں کو اپنا بنانے کا ہنر بھی ان میں بدرجہ اتم موجود ہوگا ؛مگر پھر بھی لوگ ان کے گرویدہ یا دوسری زبان میں عاشق نہیں ہو پاتے ؛کیوں کہ ایسوں کی تمام باتیں صرف زبان تک محدود رہتی ہیں۔ وہ خود ان کے حلق سے نیچے تو نہیں اترتیں تو دوسرے میں کیا خاک اثر چھوڑیں گی۔ یعنی اخلاص سے خالی اور عاری باتیں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوپاتا۔ 

آج بھی اس کاروبارِ حیات میں اچھے لوگ جنہیں دنیا اچھا سمجھتی ہے مل جائیں گے ؛بل کہ اب تو پیکج کی صورت میں ملتے ہیں کہ ایک ڈھونڈو تو ہزار ملتے ہیں ؛مگر احوال میں تبدیلی نہیں دیکھنے میں آتی۔ سماج میں بدلاو نظر نہیں آتا۔ سوسائیٹی میں کچھ انقلاب آتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ کلچر میں صداقت کی بو نہیں ملتی۔ اس کی ایک بڑی وجہ ہمارا تربیت سے کوسوں دور ہونا، اعلی اخلاق سے عاری ہونا۔ اسلاف و اکابر اور بزرگانِ دین سے سچی عقیدت کا نا ہونا اور اخلاص کو چھوڑ کر انانیت کی چادر اوڑھ لینا ہے۔ ورنہ اخلاص کا پودا اپنے وجود سے ماحول کو معطر کردیتا ہے۔

بہت ہی کم نظر آیا مجھے اخلاص لوگوں میں
یہ دولت بٹ گئی شاید بہت ہی خاص لوگوں میں

اے کاش کہ ہم خدمت اس انداز سے کرتے جس طرح سِیَر و تواریخ اور بزرگوں کی سوانح میں موجود ہے۔
اے کاش ہم دین کی خدمت لوجہ اللہ کرتے
اے کاش ہمارا ہر کام بہ غرضِ دین ہوتا
اے کاش ہمارے اصلاح کرنے کے انداز میں کسی کی حقارت نہ ہوتی
اے کاش ہمارے تربیت کرنے ڈھنگ میں سیرت کی جھلک ہوتی
اے کاش ہمارے دین بتانے کے انداز میں اکابر جیسی تواضع ہوتی
اے کاش ہم دین کے کام کو کسی ایک شعبے سے منسلک نا کرتے
اے کاش ہم دین کے کام کرنے والے یا کسی بھی کام کے کرنے والے میں اچھائیاں ہی تلاش رہے ہوتے
اے کاش دین سے مقصد ہمارا دین ہی ہوتا
اے کاش ہم بیمار سے نہیں بیماری سے الجھتے
اے کاش ہم گنہگار سے نہیں گناہ سے نفرت کرتے
اے کاش ہم مذہبی حلیہ اختیار کرکے مذہب فروشی کا کاروبار نا کرتے
اے کاش۔۔۔۔۔۔

عجب خلوص عجب سادگی سے کرتا ہے
درخت نیکی بڑی خامشی سے کرتا ہے

قلم کہاں سے کہاں لے گیا۔ بات چل رہی تھی ان چار ساتھیوں کی کہ ان میں رضوان بھائی واحد ایسے شخص ہیں جو اس پورے ہاسٹل میں سب سے منفرد تھے۔ اطوار و آداب اور اخلاق بہت اچھے۔ لب و لہجہ نہایت شیریں۔ سوچ حد سے زیادہ اچھی اور مثبت۔ صاف گو و حق گو۔ نشست و برخاست سب سے جداگانہ۔ میرے پاس اٹھنے بیٹھنے والوں میں سب سے زیادہ رضوان بھائی۔ اور کہتے کہ آپ کے پاس سے اٹھنے کو دل ہی نہیں کرتا۔ کیوں کہ میرے ذہن میں بہت سی باتیں تھیں وہ آپ کے پاس بیٹھنے سے حل ہوگئی ہیں۔ قرآن پاک بھی درست کرنے آئے تھے ؛لیکن طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے تسلسل باقی نہ رکھ سکے۔ غرضیکہ اسیر کرنے کا ہنر بہت اچھے سے جانتے۔ فطری طور پر روح میں کشش بدرجہ اتم موجود۔ ایسی سوچ و فکر کے حامل زندگی میں کم ہی میسر آتے ہیں۔ الغرض

؂جدھر سے بھی گزرتا ہے سلیقہ چھوڑ جاتا ہے


اللہ پاک پھر کبھی ملاقات کا موقع فراہم کرے۔ اللہ پاک ان کو خوب نوازے اور دونوں جہاں کی سعادتیں عطا فرمائے۔ آمین

شاید کل رہائی مل جائے

بعد نماز عصر ہاسٹل میں موجود تمام افراد کے دستخط لیے گئے ہیں۔ تاکہ کل سب یہاں سے چلے جائیں۔ اس وقت یہاں 31/افراد موجود ہیں۔ اللہ پاک جو بہتر چاہیں فیصلہ فرمائیں۔ اور ہم سب بہ خیر و عافیت گھر پہنچ جائیں۔

جاری۔۔۔۔۔

No comments: