جديد مضامين

Sunday, June 14, 2020

کرنے کے کچھ کام

کرنے کے کچھ کام

حبیب الرحمن سلطان پوری 


مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے، جس کی بنا پر لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع کے امکانات بھی بڑھتے جا رہے ہیں، ایسے میں ہر تعلیمی ادارے، اسکول، کالجز آن لائن پڑھائی کی بات کر رہے ہیں، مگر یہ مدارس اور اہل مدارس کے لیے بہت بڑا چیلنج ہوگا کہ وہ تمام طلبہ کو آن لائن کلاسیز فراہم کر سکیں، عموماً طلبہ مدارس کی ایک بڑی تعداد ایسے گھرانے سے تعلق رکھتی ہے جو کسی نہ کسی درجے میں مالی کمزوریوں کے شکار ہوتے ہیں، ایسے میں اگر لاک ڈاؤن جیسے بحرانی دور میں انھیں اپنے بچوں کے لیے موبائل مہیا کرانے کی نوبت آجائے تو یہ ان کے لیے ایک اور بڑا چیلنج ہوگا.لیکن ان سب کے باوجود طلبہ کو ناخواندگی سے دور رکھنا، انھیں زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہمارا قومی و ملی فریضہ ہے،

 اب تک کے جو ایام گزر گئے وہ مدارس میں چھٹیوں  کے دن تھے، گیارہ بارہ شوال کے بعد جو دن گزر رہے ہیں وہ تعلیمی ایام کے ہیں، یقیناً غیر متعینہ مدت تک مدارس کا بند رہنا طلبہ کے لیے خسارے کا سبب ہوگا، جس کی تلافی سالہا سال میں نا ممکن سی معلوم ہوتی ہے، اس لیے علماء حضرات اور قوم کے ذمہ داروں کو چاہیے کہ وہ کوئ ایسا لائحہ عمل تیار کریں جس سے قوم کے نو نہالوں کو ناخواندگی جیسے کوڑھ پن سے بچایا جا سکے.اور انھیں تعلیمی امور میں مشغول کرکے ان کے مستقبل کو چار چاند لگایا جاسکے.
اس سلسلے میں سب سے کم درجہ یہ ہوگا کہ ایسے گاؤں اور قصبات جہاں پڑھے لکھوں کی کثرت ہو ، علما اور معلمین کی خاصی تعداد موجود ہو، انھیں چاہیے کہ صبح شام اپنے پاس پڑوس کے بچوں کو کسی گھر یا ہال میں اکٹھا کر کے ان کے متعلقہ مضامین کو پڑھایا جائے اور انھیں تمام تر درسی امور پر کاربند رہنے کا مکلف بنایا جائے.حفظ کے طلبہ کا کم سے کم پڑھا ہوا سنا جائے،اور اسی کے مطابق انھیں ترقی دی جائے، فارسی اور عربی کے متعلمین کو ایسے کام بتلائے جائیں جو ان کی صلاحیت کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہو سکے، اسکول اور کالجز کے طلبہ کو انگلش زبان کی بول چال اور اس کے بنیادی گرامر کا اجرا کرایا جائے، ریاضی اور سائنس کے بیسک پر توجہ دلائی جائے،
ان تمام کاموں سے طلبہ کی ایک بڑی تعداد کو دانشور نہ سہی مگر صاحب ذوق اور اہل فہم ضرور بنایا جا سکتا ہے. انہیں اس حد تک لایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے نفع و ضرر، کھرے اور کھوٹے کو پہچان کر اپنا ایک ہدف متعین کرنے میں کسی کے محتاج نہ ہوں گے، اور ان کا یہ خالی وقت ان کے روشن مستقبل کی ضمانت کا سبب بن سکے گا.

No comments: