جديد مضامين

Tuesday, July 21, 2020

عشرہ ذی الحجہ کی ممتازحیثیت اور قابل قدراعمال

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عشرہ ذی الحجہ کی ممتازحیثیت اور قابل قدراعمال



عشرہ ذی الحجہ کی ممتازحیثیت اور قابل قدراعمال
از : مفتی محمد شبیرانورقاسمی
                            نائب قاضی شریعت واستاذمدرسہ بدرالاسلام ،بیگوسرائے(بہار)
عشرہ ذی الحجہ سال کے دیگر ایام کے مقابلے بڑی ممتازحیثیت رکھتاہے۔ ان میں نیک اعمال کرنے پر بہت بڑے ثواب کاوعدہ ہے۔ سورہ فجرکی ابتدائی آیات ''والفجرولیال عشر'' میں اللہ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے۔مفسرین کی ایک بڑی جماعت نے کہاہے کہ اس سے مراد ذی الحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں۔اس سے ان دس راتوں کی عظمت وحرمت کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اورخود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طورپرفرمایا:'' اللہ تعالی کوعشرہ ذی الحجہ کی عبادت سب سے زیادہ پسندہے۔''خواہ عبادت نفلی نمازہو،ذکریاتسبیح ہویاصدقہ وخیرات ہو۔(بخاری کتاب العیدین،باب فضل العمل فی ایام التشریق)اورایک حدیث میں یہ بھی فرمایاکہ ''ان ایام میں ہردن کاروزہ ایک سال کے روزوں کے برابرہے اورہررات کی عبادت شب قدرکی عبادت کے برابرہے۔'' (سنن ترمذی حدیث :٧٥٨،ابن ماجہ حدیث :١٧٢٨،الترغیب ص:٢٧١)یعنی اگرکوئی شخص ان ایام میں سے ایک دن روزہ رکھے تو ایک روزہ ثواب کے اعتبارسے ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور اگر ان راتوں میں سے کسی بھی ایک رات میں عبادت کی توفیق ہوگئی توگویااس کو شب قدر میں عبادت کی توفیق ہوگئی۔اس عشرہ کواللہ نے اتبابڑادرجہ عطا فرمایاہے۔اوران ایام کی اس سے بڑی اور کیافضیلت ہوگی کہ وہ عبادتیں جو سال بھرکے دوسرے ایام میں انجام نہیں دی جاسکتیں ان کی انجام دہی کے لیے اللہ نے ان ایام کو منتخب فرمایاجیسے حج اور قربانی ۔یہ ایسی عبادتیں ہیں جو دیگر ایام میں انجام نہیں دی جاسکتیں۔اسی لیے علماء نے ان احادیث کی روشنی میں یہ لکھا ہے کہ رمضان المبارک کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والے ایام عشرہ ذی الحجہ ہیں۔ان میں عبادات کاثواب بڑھ جاتا ہے اور اللہ کی خاص رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔
قربانی کرنے والابال اور ناخن نہ کاٹے:
ذی الحجہ کاچانددیکھتے ہی جوحکم سب سے پہلے ہماری طرف متوجہ ہوتاہے وہ ایک عجیب حکم ہے ۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ارشادفرمایا:''جب ذی الحجہ کامہینہ شروع ہوجائے اور تم میں سے جو قربانی کرنے کاارادہ کرے تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔
عن ام سلمۃ قالت:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ''اذادخل العشروارادبعضکم ان یضحی فلایمس من شعرہ وبشرہ شیأا''وفی روایۃ ''فلایاخذن شعراولایقلمن ظفرا'' وفی روایۃ ''من رای ھلال ذی الحجۃ واراد ان یضحی فلایاخذہ من شعرہ ولامن اظفارہ۔'' رواہ مسلم(مشکوۃ المصابیح ط:بیروت ١/٣٢٧،سنن ترمذی:٤/٢٠١،ابن ماجہ حدیث نمبر:٣١٨٧)
اس حدیث اور دیگراحادیث کی روشنی میں قربانی کرنے والے مردو خواتین کے لیے مستحب یہ ہے کہ ذی الحجہ کاچاند نظر آنے کے بعدسے قربانی کاجانورذبح ہونے تک اپنے ناخن یابال نہ کاٹے،بشرطیکہ ان کو تراشے ہوئے چالیس دن نہ ہوئے ہوں۔اور اگرچالیس دن ہوگئے توپھران چیزوں کی صفائی ضروری ہے۔اسی لیے اگربال یاناخن وغیرہ کاٹنے کی ضرورت ہوتو ذی قعدہ کے آخرمیں فارغ ہوجائے۔ اسی طرح اگرمذکورہ چیزوں کی صفائی کوابھی چالیس دن نہیں ہوئے تھے لیکن ذی الحجہ کاچاندنظرآنے کے بعدکسی نے ناخن یابال وغیرہ کاٹ لئے تواس پرکوئی گناہ نہیںاورنہ قربانی پرکوئی اثرپڑے گاکیوں کہ مذکورہ حکم کی حیثیت صرف استحباب کی حدتک ہے۔نیزجن پرقربانی واجب نہ ہوان کے لیے یہ عمل مستحب تو نہیں ہیں ؛لیکن اگروہ بھی بال اور ناخن کاٹنے میںقربانی کرنےوالوں کی مشابہت اختیارکرتے ہیں تواللہ کی رحمت سے امیدہے کہ وہ ثواب سے محروم نہ ہوں گے
چانددیکھ کربال اور ناخن نہ کاٹنے کاحکم بظاہر بڑا عجیب معلوم ہوتاہے؛لیکن دراصل بات یہ ہے کہ ان ایام میں عشق و دیوانگی کامظہر حج کی عظیم عبادت کے لیے اللہ نے ہزاروں بندوں کوسفر حج کی سعادت بخشی ،جوحرم شریف میں جمع ہوتے ہیں۔ ان حضرات کے لیے حکم ہے کہ جب وہ بیت اللہ کی طرف جائیں تووہ بیت اللہ کی وردی یعنی احرام پہن کرجائیں اورپھراحرام کے اندر بہت سی پابندیاں ہیںمثلا یہ کہ سلاہواکپڑانہیں پہن سکتے، خوشبونہیں لگاسکتے، منھ نہیں ڈھانپ سکتے وغیرہ ،ان میں سے ایک پابندی یہ ہے کہ بال اورناخن نہیں کاٹ سکتے۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر اوران لوگوں پر جوحج کی عبادت میں شریک نہیں ہیں،اللہ کے فضل وکرم کومتوجہ فرمانے اور ان کی رحمت کا مورد بنانے کے لیے یہ فرمایاکہ ان حجاج کے ساتھ تھوڑی سی مشابہت اختیارکرلو،ان کی شباہت اپنے اندرپیداکرلو،ان کی طرح بال اورناخن مت کاٹو۔ تاکہ ان اللہ کے بندوں پرجب رحمت کی بارشیں برسیں ،اس کی بدلی کاکوئی ٹکڑا ہم پربھی رحمت برسادے۔تویہ شباہت پیداکرنابھی بڑی نعمت ہے۔چنانچہ علامہ انورشاہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:'' ومسألۃ حدیث الباب مستحبۃ والغرض التشاکل بالحجاج واماحدیث عائشۃ فلایعارض ماذکرت لانہ بعث الھدی فی غیرذی الحجہ وماذکرمافی ذی الحجہ۔(العرف الشذی للکشمیری:٣/٢٠٠)
یوم عرفہ کاروزہ:
ان ایام میںدوسراعمل خاص طورپر یوم عرفہ کاروزہ رکھناہے۔عشرہ ذی الحجہ میں ہر دن کاروزہ ایک سال کے روزوں کے برابر اور ہررات کی عبادت شب قدرکی عبادت کے برابر ہے۔لہذان ایام میں خصوصیت کے ساتھ نیک اعمال اور عبادتوں کااہتمام کرناچاہئے ،تاہم نویں ذی الحجہ کادن عرفہ کادن ہے،اس دن خاص طورپر روزہ رکھنے کی بڑی فضیلت ہے۔ اس روزہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:''عرفہ کے دن جوشخص روزہ رکھے تومجھے اللہ تعالی سے یہ امید ہے کہ اس کے ایک سال پہلے اور ایک سال بعدکے گناہوں کاکفارہ ہوجائے گا۔ (ابن ماجہ حدیث نمبر:١٧٣٤،الترغیب ص:٢٢٨)
تکبیرتشریق:
ان ایام میں تیسراعمل تکبیرتشریق ہے۔یہ تکبیرعرفہ کے دن یعنی نویں تاریخ کی نمازفجرسے تیرہویںتاریخ کی نمازعصرتک ہرفرض نمازکے بعد ایک مرتبہ پڑھناواجب ہے ،سب ٢٣نمازیں ہوئیں جن کے بعد تکبیر واجب ہے۔وہ تکبیریہ ہے:اَللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ لاَاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ وَلِلّٰہِ الْحَمَدُ۔صاحبین رحمہ اللہ کے نزدیک منفرد،مقتدی،امام،مسافر،مقیم ،مرد اور عورت سب پرواجب ہے۔مردوں کے لیے متوسط بلندآواز سے اس تکبیرکاکہناواجب ہے، اور آہستہ آوازسے کہنا خلاف سنت ہے۔ہاں عورتیں آہستہ آوازسے کہیںگی۔نمازکے بعدفوراتکبیرکہناچاہئے۔عیدالاضحی کی نمازکے بعد بھی تکبیرکہہ لینابعض کے نزدیک واجب ہے۔
تکبیرتشریق شوکت اسلام کامظاہرہ:
معاشرے میں ہرچیزمیںالٹی گنگابہنے لگی ہے۔ جن امورمیں شریعت نے کہا ہے کہ آہستہ آواز سے کہو وہا ں تولوگ شورمچاکربلندآوازسے پڑھتے ہیں۔مثلادعاکے بارے میں قرآن کریم میں فرمایا:ادعوربکم تضرعا وخفیۃ(سورۃ الاعراف:٥٥) ترجمہ: آہستہ اور تضرع کے ساتھ اپنے رب کو پکارویعنی آہستہ دعاکرو۔چنانچہ عام اوقات میں بلندآوازسے دعاکرنے کے بجائے آہستہ آوازسے دعاکرناافضل ہے۔البتہ جہاں زورسے دعامانگناسنت سے ثابت ہو وہاں اسی طرح مانگناافضل ہے ۔اوراسی دعاکاایک حصہ درودشریف بھی ہے ،اس کو بھی آہستہ آواز سے پڑھنازیادہ افضل ہے ۔اس میں تو لوگوں نے اپنی طرف سے شورمچانے کاطریقہ اختیارکرلیا۔اورجن امورکے بارے میں شریعت نے کہاتھا کہ بلند آواز سے کہومثلا تکبیرتشریق جوہرفرض نماز کے بعد بلند آواز سے کہنی چاہئے لیکن اس کے پڑھنے کے وقت آوازہی نہیں نکلتی اور آہستہ سے پڑھناشروع کردیتے ہیں۔حالاں کہ تکبیر تشریق مشروع ہی اس لیے ہوئی ہے کہ اس سے شوکت اسلام کامظاہرہ ہو،اس کاتقاضہ ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد مسجد اس تکبیر سے گونج اٹھے،لہذا اس کو بلندآوازسے کہناضروری ہے۔ اسی طرح عیدالاضحی کی نمازکےلئے جاتے ہوئے بھی مسنون یہ ہے کہ راستے میں بلندآوازسے تکبیرکہیں،البتہ عیدالفطر میں آہستہ آوازسے کہنی چاہئے۔
تکبیرتشریق خواتین پربھی واجب ہے:
تکبیرتشریق کاکہناخواتین کے لیے بھی مشروع ہے؛لیکن اس میں عام طورپربڑی کوتاہی ہوتی ہے۔خواتین کوتکبیرتشریق پڑھنایادنہیں رہتابلکہ اس کارواج بہت کم ہے۔اگرچہ تکبیرتشریق خواتین پرواجب ہونے کے بارے میں علماء کے دوقول ہیں ۔بعض واجب اور بعض مستحب کہتے ہیں؛لیکن ظاہر ہے کہ احتیاط اسی میں ہے کہ خواتین بھی ان ایام میں تکبیرکہیں۔لہذاخواتین کوبھی اس کی فکرکرنی چاہئے۔اورانہیں یہ مسئلہ بتاناچاہئے۔خواتین اپنے گھروں میں جس جگہ نمازپڑھتی ہیں وہاں پریہ دعالکھ کر لگالیں،تاکہ نمازسے سلام پھیرنے کے بعد فورایادآجائے۔
قربانیـ اور اس کافلسفہ:
اورچوتھااورسب سے افضل عمل جواللہ نے ایام ذی الحجہ میں مقررفرمایاوہ ''قربانی '' ہے،جیساکہ پہلے عرض کیاجاچکاہے کہ قربانی ایک اہم عبادت اور شعائراسلام میں سے ہے۔ یہ عمل سال کے دوسرے ایام میں انجام نہیں دیاجاسکتا،صرف ذی الحجہ کی ١٠/١١/١٢ تاریخ کوانجام دیاجاسکتاہے۔ان کے علاوہ دوسرے اوقات میں آدمی چاہے کتنے جانور ذبح کرلے لیکن قربانی نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح ان ایام میں قربانی کے بجائے صدقہ وخیرات اور دیگر اعمال قربانی کابدل نہیں ہوسکتے۔اورقربانی کی بجائے قربانی کی قیمت صدقہ کرنے سے واجب ذمہ سے ساقط نہ ہوگا۔ صاحب استطاعت کے لیے جب تک مقررہ وقت کے اندر قربانی کرنے کی قدرت اور امکان باقی ہو قربانی کرناہی لازم ہے۔ جوشخص گنجائش رہنے کے باوجود قربانی نہ کرے اس کے متعلق حدیث میں سخت وعید وارد ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جوشخص وسعت کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے(الترغیب:٢٥٦) نیزآپ نے فرمایا:قربانی کے ایام میں کوئی عمل اللہ تعالی کو خون بہانے (قربانی) سے زیادہ پسندنہیںہے۔(ابن ماجہ)لہذاہرعاقل ،بالغ،مقیم، صاحب نصاب مسلمان مردوعورت پران ایام میں قربانی کرناواجب ہے۔
قربانی درحقیقت یہ سبق سکھاتی ہے کہ ہماری پوری زندگی اللہ اور اللہ کے رسول کے حکم کے تابع ہو،اورپوری زندگی اتباع کانمونہ۔چاہے ہماری سمجھ میں آئے یانہ آئے۔ہماری عقل قبول کرے یااباکرے،ہرحالت میں اللہ کے حکم کے آگے سرجھکاناہے۔ جوبھی عمل ہووہ اللہ اور اللہ کے رسول کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہو۔بس قربانی کاسارافلسفہ یہ ہے ۔اگریہ بات ذہن نشین ہوجائے تو ساری خرافات اور بدعات کی جڑکٹ جائے ۔اللہ تعالی اپنی رحمت سے قربانی کے اس فلسفے کوسمجھنے کی توفیق اور اس کی برکات عطافرمائے ،اپنی زندگی میں اس سبق کویادرکھنے اور اس کے مطابق زندگی گذارنے کی توفیق دے ۔آمین یارب العالمین

No comments: