جديد مضامين

Tuesday, July 28, 2020

حج اسلام کا ایک اہم رکن


حج اسلام کا ایک اہم رکن

حج اسلام کا ایک اہم رکن

 از: محمد ساجد سدھارتھ نگری 
جامعہ فیض ھدایت رام پور یوپی 
09286195398. 
 Email mdsajidqasmi869@gmail.com

نحمده و نصلی علی رسوله الکریم اما بعد!
 حج اسلام کے ارکان خمسہ میں سے ایک اهم ترین رکن ہے جو زندگی میں ایک بار هر اس عاقل بالغ مسلمان پر فرض ہے جو کہ بیت اللہ تک رسائی کی استطاعت رکھتا ہو حج کی فرضیت کے بعد خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک جم غفیر کے ساتھ مدینہ طیبہ سے سفر کر کے اس اھم فریضے کو ادا فرمایا اس مھتم بالشان عبادت کی ادائیگی پر شرع میں بے شمار اجر  وثواب کا وعدہ کیا گیا ہے،  اور بغیر کسی عذر کے اسے ترک کرنے پر سخت وعید سنائی گئی ہے۔ 
قابلِ مبارک باد اور خوش نصیب ہیں وہ سعید روحیں جنہیں حضرت حق جل مجدہ نے اپنے پاک گھر کی زیارت کا شرف  بخشا اور ابر رحمت کی  برستی ہوئی رم جھم بارشوں سے  سیاہ کا ریوں کی جمی ہوئی پرت در پرت اور تہ بتہ کائیوں کو  دھل کر کسی نو مولود کی طرح اپنے مقدس گھر سے واپس لوٹایا،اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: ﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ [آل عمران: 97]  اور اللہ کے لیے لوگوں کے ذمہ اس مکان کا حج کرنا هے ہر اس شخص کے ذمہ جو وہاں تک رسائی کی استطاعت رکھتا ہو ۔ دوسری جگہ ارشاد ہے :﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾ [البقرة: 196] اور تم حج اور عمرے کو مکمل کرو،  اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اے لوگو اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض قرار دیا ہے لھذا تم حج کیا کرو(مسلم شریف کتاب الحج) ایک مرتبہ آپ نے تقریر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض فرمایا ہے،  (نسائی شریف)۔
 جمہورعلماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حج کا منکر کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ چونکہ حیات مستعار کے لمحوں کا کوئی بھروسہ نہیں ہے، اس لیے جس آدمی پرحج فرض ہواورظاہری کوئی رکاوٹ نہ ہو تو اسے اس مقدس فریضہ کی ادائیگی میں بالکل تاخیرنهیں کرنا چاهئے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جوشخص حج کا ارادہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ جلدی کرے ( ابو داؤد شریف)۔
 اسی طرح ایک جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج کرنے میں جلدی کرو  کیوں کہ کچھ نهیں معلوم کہ کیا امر پیش آجائے  (کنزالعمال)   کنز العمال کی ہی ایک روایت ہے کہ حج نکاح سے مقدم ہے۔ 
 حج کے فضائل :  حج کے بے شمار فضائل کتب احادیث میں وارد ہوئے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ عمرو تجھے یہ بات معلوم نھیں کہ اسلام ان تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے جو حالت کفر میں صادر ہوئے ہوں، هجرت ان سب لغزشوں کو ختم کر دیتی ہے جو هجرت سے پہلے واقع ہوئیں، اور حج ان سارے قصوروں کا خاتمہ کر دیتا ہے جو حج سے پہلے کیے گئے ہوں، (  مسلم شریف،  صحیح ابنِ خزیمہ)۔
   حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کرتے هیں کہ آپ سے سوال کیا گیا کہ کون سے اعمال افضل ہیں آپ نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان پھر سوال کیا گیا اس کے بعد تو آپ نے فرمایا:  جهاد ،پھر پوچھا گیا کہ اس کے بعد تو آپ نے فرمایا حج مبرور،   حج مبرور وہ حج جو شریعت اور سنت کے مطابق ہو اور جس میں گناہ کی ذرا بھی آمیزش نہ  ہو جس کی علامت یہ ہے کہ حج کے بعد حاجی کی زندگی کا رخ بالکل تبدیل ہو جائے،  گناہوں سے تنفر اور معاصی سے سخت اجتناب کا مزاج بن جائے، ایک جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ کے لیے حج کرے یعنی ریا کاری اور دکھا وا یا کوئی اور دنیوی غرض نہ هو اس طرح کہ اس حج میں نہ رفث هو یعنی فحش بات اور نہ فسق یعنی حکم عدولی وہ حج سے اس طرح واپس هوگا جیسے کہ اس دن تھا جس دن وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا یعنی گناہوں سے بالکل پاک و صاف۔ بخاری و مسلم  صحاح میں اس مضمون کی اور بھی بهت سی روایات موجود ہیں۔  
 ایک جگہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج میں جو کچھ خرچ ہوتا ہے وہ جهاد میں خرچ کرنے کے برابر ہے کہ ایک ریال کا ثواب سات سو ریال کے برابر ہے ۔  (مسندِ احمد، بیهقی) 
ایک حدیث میں ہے کہ حج وعمرہ لگا تار کیا کرو کیوں کہ یہ دونوں فقر وفاقہ  تنگ دستی اور گنا ہوں کو اس طرح دور کر دیتے ہیں جیسے کہ بھٹی لوہے اور سونے چاندی کی گندگی یعنی زنگ کو دور کر دیتی ہے۔  (ترمذی شریف)
   اسی طرح آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ  حج مقبول کا بدلہ تو بس جنت ہی هے۔ (بخاری و مسلم  ) ایک جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حاجی کی سفارش چار سو گھرانے کیلئے مقبول ہوتی ہے (مسندِ بزار)۔  ایک حدیث میں آیا ہے کہ وفد تین هیں :مجاهد حاجی اور عمرہ کرنے والا (نسائی شریف)۔ اسی لیے آپ نے فرمایا کہ جب کسی حاجی سے ملاقات ہو تو اس کو سلام کرو اور اس سے مصافحہ کرو اور قبل اس کے کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہو، اس سے دعائے مغفرت کی درخواست کرو، کیونکہ وہ اپنے گناہوں سے بالکل پاک ہوکر آیا ہے۔
(مسندِ احمد)
 ایک حدیث میں ہے کہ حاجی کبھی فقیر نہیں ہوسکتا (طبرانی )، دوسری حدیث میں اس کی وجہ بیان کی گئی ہے کہ حج اور عمرے کی کثرت فقر وفاقہ سے روکتی ہے اور برے خاتمہ سے بھی حفاظت کا سبب هے، (کنزالعمال بحوالہ فضائل حج از حضرت شیخ)
  ایک حدیث میں آپ نے فرمایا کہ جو شخص حج یا عمرے کے ارادے سے گھر سے نکلے اور راستے میں ہی اس کا انتقال ہو جائے تو قیامت تک اس کو حج اور عمرے کا ثواب ملتا رہے گا   (الترغیب) ۔     
 تلبیہ کی فضیلت :
   لبیک اللهم لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنعمت لک والملک لا شریک لک پڑھنے کو تلبیہ کہا جاتا ہے دوران حج حاجی کیلئے اسے کثرت سے پڑھنے کا حکم ہے  حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک ارشاد ہے کہ حاجی جب لبیک کہتا ہے تو شجرو حجر ڈلے اور پتھر بھی اس کے ساتھ لبیک کہتے ہیں۔  ترمذی شریف۔ ایک صحابی نے سوال کیا کہ حاجی کی کیا شان ہونی چاہئے تو آپ نے فرمایا کہ اس کے بال میلے کچیلے اور پراگندہ ہوں ایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور سوال کیا کہ یارسول اللہ حج کون سا افضل ہے  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس میں لبیک کی کثرت اور خوب خوب خون بہایا جا ئے (مشکاة شریف )   ایک جگہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب حاجی حلال مال کے ساتھ حج کے لیے روانہ ہو تا ہے اور سواری پر سوار ہو کر لبیک  اللهم لبیک کہتاہے تو فرشتہ بھی جواب  میں لبیک وسعدیک کہتا ہے جو بارگاہ ایزدی میں لبیک کے مقبول ہونے کی نشانی ہے، فرشتہ کہتا ہے کہ تیرا توشہ بھی حلال اور تیری سواری بھی حلال ہے اور تیرا حج بھی مقبول ہے، (طبرانی)
    یوم عرفہ کی فضیلت : حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدر  کے دن کے علاوہ کوئی دن ایسا نہیں جس میں اس دن سے زیادہ شیطان  ذلیل اور غصے میں ہو اس وجہ سے کہ اس دن اللہ کی رحمت بهت کثرت سے نازل ہوتی ہے اور بندوں کے بڑے بڑے گناہ معاف ہوتے ہیں ۔ (مشکاة)    
شیطان کے رنج و غم اور حسرت و افسوس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی زندگی کی ساری محنت اس دن کریم آقا کے لطف ومہربانی کے جھونکوں سے اکارت هوجاتی ہے ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایسا کوئی دن نهیں جس میں عرفہ کے دن کے برابر لوگوں کو آ گ سے رستگاری کا پروانہ عطا ہوتا ہو ،( شرح السنہ) آپ نے فرمایا کہ عرفہ کے دن کی سب سے بہتر دعا اور کلمات جو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام نے کہے وہ یہ ہیں لا إله إلا الله وحده لا شریک له، له الملک وله الحمد، وهو علی کل شيء قدیر (ترمذی شریف کتاب الدعوات)
    ایک جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر تشریف لاتے ہیں اور بطورِ فخر فرشتوں سے فرماتے کہ میرے بندوں کو دیکھو میرے پاس اس حال میں آئے ہیں کہ ان کے بال بکھرے ہوئے اور ان کی حالت پراگندہ ہے، ان کی زبانوں پر لبیک اللهم لبیک کی صدائیں ہیں انہوں نے بڑی لمبی مسافت طے کی ہے تم گواہ رہو میں نے ان کے سارے گناہ معاف کیے ، مشکاة شریف۔
  حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کرتی هیں کہ آپ نے فرمایا کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے زیادہ بندوں کو جھنم سے آزاد کرتے ہوں، ( مسلم شریف)۔
  حج کے مختلف افعال کا ثواب :
  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے حج کے ارادے سے گھر سے نکلنے کے بعد تمہاری اونٹنی جو ایک قدم رکھتی ہے اس پر تمهیں ایک نیکی ملتی ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے اور طواف کے بعد دو رکعت نماز کا ثواب ایک عربی غلام آزاد کرنے کے برابر ہے، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا ثواب ستر غلاموں کو آزاد کرنے کے برابر ہے  اور شیطان کو کنکریاں مارنے پر ایک بڑا اور مهلک گناہ معاف ہوتا ہے،  اور قربانی  کابدلہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ذخیرہ ہے، نیز احرام کھول کر سر منڈانے پر ہر بال کے عوض ایک نیکی ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے، اس کے بعد جب آدمی طواف زیارت کرتا ہے ایسے حال میں طواف کرتا ہے کہ وہ گناہوں سے بالکل پاک ہوتا ہے، چنانچہ ایک فرشتہ مونڈھوں کے درمیان هاتھ رکھ کر کہتا ہے آیندہ از سرِ نو اعمال کر کیوں کہ تیرے سارے گزشتہ گناہ معاف کردئیے گئے۔  (  ترغیب، از فضائل حج  از حضرت شیخ رحمہ اللہ)۔ 
 لیکن یہ فضائل ومناقب اسی شخص کیلئے ہیں جس نے حلال مال سے حج کیا ہو کسی کا حق دبا کر یا حرام مال سے حج کرنا نہ کوئی فضیلت کی چیز ہے اور نہ کمال کی بات بلکہ الٹا عتاب الہی کا مؤجب ہے سچ کہا ہے کسی نے کہ خانہ کعبہ کا چکر لگا نے سے دوسروں کو دیے ہوئے چکر معاف نہیں ہوتے، خیال رہے کہ کسی کو اذیت نہ پہونچے کسی کے آب گینہء دل کو ٹھیس نہ لگ جائے یاد رہے کہ یہ وہ جگہ جہاں سلاطین زمانہ سر بخم آتے ہیں ورنہ کہیں ایسا نہ ہو سارا سفر بے کار ہو جائے۔      
استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے پر وعید  جس طرح فریضہ حج کی ادائیگی پر بے شمار اجر و ثواب کا وعدہ اسی طرح استطاعت کے باوجود محض سستی اور غفلت کی وجہ سے اسے نہ ادا کرنا عتاب خداوندی اور سخت نقصان و خسران کا سبب هے ۔ چنانچہ  حضرت علی رضی اللہ عنہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص زاد راہ اور سواری جو اسے حرم محترم تک پہنچائے مگر پھر بھی وہ حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ یہودی مرے یا نصرانی۔ (ترمذی شریف) 
 حدیث شریف کا مطلب حضرت امام  غزالی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ قدرت کے باوجود حج  کا تارک   گمراہی میں یہود ونصاریٰ کے برابر ہے  اس مضمون کی اور بھی بہت سی روایات کتب احادیث میں موجود ہیں طوالت کے خوف سے پہلو تہی کی جاتی ہے، ایک حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص قدرت کے بعد بھی حج نہ کرے یا صاحب نصاب ہونے کے باوجود بہی زکوٰۃ نہ ادا کرے وہ مرتے وقت دنیا میں واپس آنے کی  تمنا کرے گا۔ اللہ سے دعا ہے کہ امور شرعیہ کی ادائیگی میں سستی غفلت اور کوتاہی سے پوری امت کی حفاظت فرمائے آمین۔
محمد ساجد سدھارتھ نگر ی 
سابق رکن مدنی دارالمطالعہ

No comments: