جديد مضامين

Thursday, July 2, 2020

اسلامی ‏مکاتب : ‏موجودہ ‏صورت ‏حال ‏، ‏چیلینجز ‏اور ‏مستقبل ‏کے ‏خاکے (قسط ‏چہارم)

اسلامی ‏مکاتب : ‏موجودہ ‏صورت ‏حال ‏، ‏چیلینجز ‏اور ‏مستقبل ‏کے ‏خاکے (قسط ‏چہارم)

ڈاکٹر فخرالدین وحید قاسمی
ڈائریکٹر الفاروق اکیڈمی, عمران گنج, صبرحد, جونپور
+91 9838368441

اپنی مادری زبان کی تعلیم اور نصاب تعلیم کے تعلق سے ہم کس قدر سنجیدہ ہیں, اس کا اندازہ ہم اپنے سماج, نسل نو, تعلیمی ادارے اور اصحاب فکر وقلم کے رشحات سے لگاسکتے ہیں. اردو کی پیدائش سے لے کر اب تک اردو زبان کے نصاب تعلیم پر جو کتابیں سرکاری وغیر سرکاری طور پر تیار کی گئی ہیں, انہیں انگلیوں کے پوروں پر گنا جاسکتا ہے. بہرکیف انہی کتابوں کی دین ہے کہ اردو زندہ بھی ہے اور پائندہ بھی.
حالیہ برسوں میں کچھ تو بڑھتی مصروفیات اور کچھ زبان کے تعلق سے ہماری عدم دلچسپی کی وجہ سے ہماری نسل نو کو گھر اور سماج دونوں جگہوں پر اردو سننے اور بولنے کے مواقع کم میسر ہوتے ہیں, جس کی وجہ سے ان کے ذہن کے کینوس پر لسانی ذہانت کے وہ رنگ نہیں چڑھ پاتے جن کی ابتداء عمر میں ضرورت ہوتی ہے. ہمارے بچپن میں دادی ماں اور نانی ماں کی راتوں میں سنائی جانے والی کہانیاں, دراصل اردو کو سننے, سمجھنے اور بولنے کا ایک اہم موقع تھا مگر نسل نو اس سے محروم ہوگئی.
یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ بچہ کم سنی میں سب سے زیادہ سننے اور دیکھنے سے سمجھنا اور بولنا سیکھتا ہے. جب ہم اس نقطہ نظر سے اردو کلاس کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جو بچہ اپنے گھر میں روز مرہ کے تمام جملوں کے سننے, سمجھنے اور بولنے کی صلاحیت رکھتا تھا, اسے اردو کی پہلی کلاس میں صرف پڑھنے اور لکھنے کے ابجد سکھائے جاتے ہیں. مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ پڑھنے اور لکھنے کی شروعات حروف تہجی ہی سے ہوتی ہے مگر یہی بچہ سننے, بولنے اور سمجھنے میں اردو زبان کی کئی منزلیں طے کرچکا ہے. کیا یہ بات قرین عقل ہے کہ اردو زبان کی کلاس میں اس کی صرف دو صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جائے اور بقیہ تین صلاحیتوں کو علی حالہ چھوڑ دیا جائے کیونکہ گھر اور سماج میں اس کی ان تین صلاحیتوں کو مزید آگے بڑھانے کے لیے اب بہت کچھ نہیں بچتا. ایسے میں اگر اسکول میں بھی صرف پڑھنا اور لکھنا سکھایا گیا, تو بچے کی عقل وشعور کے لیے کوئی دلچسپی باقی نہیں رہتی. نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ کم اعتمادی, عدم تجسس اور عدم دلچسپی کا شکار ہوجاتا ہے. ذہن وشعور کو پروان چڑھانے کا کردار صرف مادری زبان ادا کرسکتی ہے. دوسری زبانیں اور مضامین اسی کی تیار کردہ ذہانتوں اور صلاحیتوں کے سہارے آگے بڑھتی ہیں. چنانچہ بچہ اگر کسی ایسے لفظ کو پڑھ رہا ہو جس سے اس کی سماعت, بصارت اور فہم بالکل نا واقف ہو تو اسے سمجھانا بہت مشکل ہوتا ہے. اسی لیے اردو زبان کی کلاس کا مرکزی کردار یہ ہے کہ اس کے ذریعہ بچہ کی ذہانتوں کو پروان چڑھایا جائے. لہذا اردو کلاس میں جہاں مہذب گفتگو کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش ہو, وہیں سائنسی توجیہات, فطرت اور کائنات کے حقائق, روز مرہ زندگی کے مسائل کے ساتھ مثبت مزاج کی تشکیل کی فکر ہو.
اردو کی کتاب میں دینی فرائض وعبادات پر مضامین بالکل نہ لائے جائیں. اسلامیات ایک مستقل مضمون ہے اور مکتب میں اس کے لیے مستقل کلاس ہونی چاہیے. زبان کی کلاس میں سیکولر اسلوب ہی مستحسن ہے. البتہ اخلاق وکردار اور مزاج واطوار کو تشکیل دینے والی کہانیاں اردو زبان کی کتاب کا لازمی حصہ ہیں. اس تعلق سے مادری زبان کا رول سب سے اہم ہے.
اردو زبان کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں Retroflex الفاظ (ٹ ڈ ڑ) بھی ہیں جنہیں زبان پیچھے کی طرف موڑ کر ادا کیا جاتا ہے. دنیا کی تقریبا بیس فی صد زبانیں Retrolex الفاظ پر مشتمل ہیں. نوخیز عمر میں عربی واردو زبان کے حروف تہجی کی پختہ مشق سے بچہ Retroflex اور Non_retroflex دونوں طرح کی زبانوں کے تلفظ کو بآسانی سیکھ سکے گا. تلفظ کے معاملے میں یہ بہت اہم ہے. جس نے بچپن میں کوئی retroflex زبان نہ سیکھی ہو, اس کے لیے پختہ عمر میں ایسی زبان کی ادائیگی دشوار ہوتی ہے جیسے عرب ٹی صحیح طرح نہیں ادا کر پاتے. اسی طرح اردو زبان میں Aspirated یعنی پھٹی آواز کے لیے دو چشمی کا اضافہ ہے. ان دو اضافوں کے علاوہ پ چ گ جیسے حروف کے اضافے سے اردو زبان ایک ایسا گہوارہ بن گئی ہے کہ جس میں دنیا کی کسی زبان کا لفظ اردو ساخت میں یوں ڈھل جاتا ہے کہ نہ تو تسلسل وروانی میں فرق محسوس ہوتا ہے اور نہ ہی طبیعتوں پر کوئی گرانی اور اجنبیت کا اثر ہوتا ہے.
مختصر یہ کہ مکاتب میں اردو کی معیاری تعلیم لازمی ہے. یہ ہماری مادری زبان ہے. اسی سے ہماری متعدد ذہانتیں اور صلاحیتیں پروان چڑھیں گی. اردو زبان سے ہماری لسانی ذہانت میں ایک اہم اضافہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے بہتر تلفظ سے دنیا کی کسی بھی زبان کا تلفظ سیکھا جاسکتا ہے. اردو کی کلاس میں صرف پڑھنے اور لکھنے کی تعلیم کے موجودہ معیار کو بہتر کرنا ہوگا اور اس میں بچہ کے سننے, بولنے اور سمجھنے کے خصوصی اور دل چسپ مواد کو شامل کرنا ہوگا. کلاس کے متعینہ وقت کو مندرجہ بالا پانچوں صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنا ہوگا. یہ جان لیں کہ اردو کے موجودہ بے جان تعلیمی نظام سے ہماری نسل نو نہ صرف اردو سے نابلد ہورہی ہے بل کہ اسلامیات کے پورے ورثے سے محروم ہو رہی ہے. اس پر مستزاد یہ ہے کہ مادری زبان کی کمزوری کے سبب ان کی متعدد ذہانتیں زنگ آلود ہو رہی ہیں. یہی وجہ ہے کہ مکاتب سے نکلنے والی پود بن کھلے مرجھائے جارہی ہے. ضرورت ہے کہ اسے بہتر تبدیلیوں سے ہم کنار کیا جائے. بقول شاعر

تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر
جو ہوسکے تو ابھی انقلاب پیدا کر

جاری.......

No comments: