جديد مضامين

Tuesday, July 28, 2020

جسے آشناؤں کا پاس تھا وہ وفا شعار چلا گیا


جسے آشناؤں کا پاس تھا وہ وفا شعار چلا گیا

جسے آشناؤں کا پاس تھا وہ وفا شعار چلا گیا 

                                  
   محمد شاہد اختر کھرساوی
سابق رکن مدنی دار المطالعہ 

حضرت مولانا سید محمد متین الحق اسامہ صاحب  قاسمی نوراللہ مرقدہ جمعیۃ علماے صوبہ اترپردیش کے صدر نشین، قاضی شہر کان پور، مدرسہ جامعہ محمودیہ اشرف العلوم جاجمئو کے بانی ومہتمم، کئی مدارس ومساجد کے سرپرست، ایک ہفتے سے بخار کے عارضے میں مبتلا تھے، شوگر کے مریض تھے، ہاسپٹل میں داخل کیے گئے، شہر کے ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں علاج و معالجہ کا سلسلہ شروع ہوا، آخری گھڑی آ پہنچی تھی ؛چناں چہ مختصر علالت کے بعد ٢٧/ ذی قعدہ ١٤٤١ ھجری مطابق ١٨ / جولائی ٢٠٢٠ عیسوی جمعے  کی شب تقریباً دو بجے ٥٢ سال کی عمر میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے، 
انا للہ وانا الیہ راجعون،
اللہ تعالیٰ جمعیۃ علماے ہند کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے!

سنہ ٢٠١٣ عیسوی میں دارالعلوم دیوبند میں سال سوم میں راقم الحروف زیر تعلیم تھا، حضرت مولانا کے خانوادے کا ایک فرد رفیق مکرم محمد ذکوان حسنی فتح پوری بھی بندے کے ساتھ پڑھ رہے تھے، ان سے میرا تعلق ہو گیا تھا ، جو اب بھی برقرار ہے، رفیق محترم کے گھر والے بھی اس ناچیز سے شفقت و محبت کا معاملہ فرماتے ہیں، اللہ اس حسن تعلق کو مرتے دم تک قائم ودائم رکھے، آمين!

میں رفیق مکرم سے حضرت مولانا کے اوصاف وکمالات، خوبیاں، خدمات، حسن اخلاق، معاملات کے بارے میں برابر سنتا رہا، اس وقت سے حضرت مولانا کی عظمت میرے دل میں بیٹھ گئی، حضرت مولانا محمد متین الحق اسامہ صاحب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ رفیق مکرم کی والدہ کے پھوپھی زاد بھائی تھے، اس واسطے سے حضرت رحمۃ اللہ علیہ رفیق مکرم کے ماموں تھے،
اس خانوادے سے مجھے بے انتہا محبت اور تعلق ہے، اللہ تعالیٰ اس خاندان کو سر سبز وشاداب رکھے،

یہ سال عام الحزن ہے، این آر سی، سی اے اے، کورونا جیسی مہلک بیماری، علما کا ایک ایک کر کے رخصت ہونا، علمی لوگ اور ملت کے زخم پر مرہم پٹی کرنے والے افراد آخرت کی طرف رواں دواں ہیں، یہ ایک افسوس ناک امر ہے، کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ حضرت والا اتنی جلدی ہمیں داغ مفارقت دے جائیں گے، حضرت کی وفات کو آج کئی روز ہو گئے ہیں ؛لیکن بالکل یقین نہیں آ رہا ہے، کیا کیا جائے خدا کو یہی منظور تھا، حضرت مولانا کی وفات سے حزن وملال کی کیفیت میں شدت بھی ہے، اچانک آپ کی رحلت سے  عام وخاص دونوں مغموم ہیں، آپ کی وفات جمعیۃ علماے ہند کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے

       
   رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی 
    تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی

 (  کیفی اعظمی) 

حضرت مولانا سے میری ملاقات جمعیۃ علماے ہند کے دفتر میں ہوئ تھی ؛لیکن مل بیٹھ کر گفتگو کا موقع نہیں ملا، 
آپ کا شمار دارالعلوم دیوبند کے نمایاں فضلا اور جانشین شیخ الہند حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ کی قائم کردہ "بزم شیخ الاسلام مدنی دارالمطالعہ" کے خاص مستفیدین میں ہوتا ہے، 

      تعلیم وتربیت اور تدریسی خدمات 


آپ کا خان دان شروع ہی سے علمی  رہا ہے، آپ کی تعلیم و تربیت میں آپ کے والد ماجد حضرت مولانا مبین الحق صاحب رحمہ اللہ کا بڑا دخل رہا ہے، مشکاۃ تک کی تعلیم آپ نے کان پور کے قدیم و تاریخی ادارہ مدرسہ جامع العلوم پٹکاپور (جہاں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اور مفتی اعظم دارالعلوم دیوبند فقیہ الامت حضرت مفتی محمود الحسن صاحب گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے تدریسی خدمات انجام دی ہیں) میں اپنے والد ماجد کی نگرانی و سرپرستی میں حاصل کی، یہیں آپ کے والد ماجد تدریسی فرائض انجام دے رہے تھے، بعدہ ازہر ہند دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا اور سنہ ١٤٠٩ ھجری مطابق ١٩٨٩ عیسوی میں دارالعلوم دیوبند کے کبار اساتذہ کرام سے کسب فیض کیا اور سند فراغت حاصل کی،

 مدرسہ جامع العلوم ہی سے آپ نے تدریس کا آغاز کیا اس کے بعد مدرسہ اشاعت العلوم قلی بازار میں بھی آپ نے تدریسی فرائض انجام دیے، تدریس کے ساتھ ساتھ قومی، ملی اور رفاہی خدمات کو بھی اپنے لیے اوڑھنا بچھونا بنایا، ٢٠٠٣ عیسوی میں مولانا مرحوم نے جامع مسجد جاجمئو کان پور میں فقیہ الامت حضرت مفتی محمود الحسن صاحب گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے مدرسہ جامعہ محمودیہ اشرف العلوم کے نام سے ایک دینی ادارے کی بنیاد ڈالی، جو قلیل عرصے میں ایک مرکزی، دینی ادارے کے نام سے شمار کیا جانے لگا، حضرت والا کی نگرانی میں مدارس ومکاتب چلتے تھے، اور آئندہ بھی اسی طرح ان شاءاللہ چلتے رہیں گے ، جامعہ محمودیہ کے آپ روح رواں، سرپرست، بانی و مہتمم تھے، حضرت والا کا آبائی وطن فتح پور ہے ؛لیکن کان پور جیسے تاریخی، علمی، دینی ،تجارتی وصنعتی شہر آپ کا مسکن رہا، اور یہیں سے علمی فیضان بھی پھیلایا، حضرت مولانا "محکمہ شرعیہ" کے صدر اور کان پور شہر کے قاضی تھے، عصر حاضر اور نئے پیش آمدہ مسائل کے حل کے لیے آپ نے مضبوط استعداد والے نوجوان مفتیان کرام  پر مشتمل ایک کمیٹی اور فقہی مجلس  کی بھی بنا ڈالی جس کے ذریعہ جدید مسائل پر غور و خوض کیا جاتا تھا، حضرت مولانا کی یہ خدمات آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔
آپ کا لگایا ہوا تناور درخت ہمیشہ سر سبز وشاداب رہے، 
کان پور والوں کے لیے آپ کی حیثیت بہت بڑی تھی، ہر شخص آپ کا گرویدہ اور قریب تھا، آپ کی ذات سے کان پور والوں کو خوب فائدہ ہوا، ہر شخص اپنی پریشانیاں اور مشکلات آپ سے بیان کرتا اور اس کے لیے آپ کوشش میں لگ جاتے، علاقے میں آپ کی حیثیت مسلم تھی، غیر معمولی مقبولیت سے اللہ نے آپ کو نوازا تھا، کم وقت میں بہت سارا کام کر کے چلے گئے، سرکاری افراد اور غیر مسلموں سے بھی آپ کے روابط  مضبوط تھے، یہ لوگ بھی آپ کی قدر کرتے اور محسن سمجھتے تھے، 

    

    حضرت مولانا اور ذوق خطابت 


حضرت مولانا کو خطابت سے طبعی دلچسپی تھی، زمانہ طالب علمی میں بھی آپ نے مدنی دارالمطالعہ سے بھرپور استفادہ کیا، خطابت میں محنت کی اور خطابت کو میدان بنایا، بے مثال و شیریں بیاں اور جوشیلے مقرر تھے، فراغت کے بعد شہر کے قرب وجوار اور مضافات میں بہ حیثیت مقرر آپ کی آمد ورفت شروع ہوئی، اور خوب شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی، 
زبان میں مٹھاس تھی، دینی، دعوتی، اصلاحی  مواعظ و نصائح کے لیے آپ کے اسفار برابر ہوتے تھے، بولی میں صفائی تھی، معاشرے کی اصلاح کے لیے آپ فکر مند رہتے، آپ کی تقاریر عام و خاص میں مقبول تھی، پرمغز اور پر کشش خطاب سے لوگ لطف اندوز ہوتے، تقریر میں اثر تھا، آپ کی تقاریر قرآن وسنت اور افادات اکابر کے دائرے میں ہوا کرتی تھیں، قرآن و حدیث سے استدلال کرنا لوگوں کو قرآن وحدیث سے آشنا کرانا، نظریہِ جمعیۃ اور مسلک دارالعلوم دیوبند سے واقف کرانا آپ کا محبوب مشغلہ تھا، لوگوں میں  بیداری پیدا کرنے کے لیے آپ راتوں رات سفر کیا کرتے تھے، آپ کی مؤثر تقریر اور انداز خطابت سے لوگ آپ کے گرویدہ ہو گئے تھے، پورے ملک میں آپ ایک زبردست خطیب کے نام سے یاد کیے جاتے تھے،  

      حضرت مولانا اور دارالعلوم دیوبند 


دارالعلوم دیوبند سے آپ کو گہری عقیدت ومحبت تھی، رابطہ مدارس اسلامیہ مشرقی یوپی زون: (1) کے صدر تھے، رابطہ مدارس اسلامیہ کے اجلاس اور رابطہ مدارس اسلامیہ کے مجلس عاملہ کی میٹنگوں میں آپ پابندی سے شریک ہوا کرتے تھے، اکابر واساتذہ دارالعلوم دیوبند سے آپ کو قلبی لگاؤ اور محبت تھی، اکابر دارالعلوم دیوبند سے لوگوں کے استفادے کو آسان بنانے کے لیے آپ نے بے پناہ کوشش کی، یوں کان پور اور قرب وجوار کے لوگوں کے دلوں میں علماے کرام اور دارالعلوم دیوبند کی عظمت و خدمت گھر کر گئی، اللہ والوں سے بہ راہ راست تعلق کا راستہ ہم وار ہوا، حضرت فرقہ باطلہ کے تعاقب، تحفظ ختم نبوت، تحفظ صحابہ، مدارس کی اہمیت و خدمات، رد بدعات ، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر موضوعات پر کام یاب پروگرام اور جلسے کرواتے اور لوگ خوب مستفیض ہوتے، اور ہر جلسے میں ملک کے مؤقر و نام ور علماے کرام اور بے مثال خطبا کو مدعو فرماتے، 
جن میں حضرت الاستاذ مولانا مفتی ابو القاسم صاحب نعمانی مدظلہ العالی مہتمم دارالعلوم دیوبند، استاذ گرامی قدر امیرالہند حضرت مولانا و قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری دامت برکاتہم العالیہ استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند وصدر جمعیۃ علماے ہند، استاذ محترم حضرت اقدس مفتی محمد راشد صاحب اعظمی استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند، حضرت مفتی محمد سلمان صاحب منصورپوری دامت برکاتہم العالیہ استاذ حدیث مدرسہ قاسمیہ شاہی مرادآباد ،حضرت الاستاذ مولانا محمد سلمان صاحب بجنوری دامت برکاتہم العالیہ استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند، حضرت مفتی اشرف عباس صاحب استاد دارالعلوم دیوبند، استاذ گرامی قدر حضرت مفتی محمد عفان صاحب منصورپوری دامت برکاتہم العالیہ استاذ حدیث وصدرالمدرسین مدرسہ اسلامیہ جامع مسجد امروہہ وغیرھم خاص طور پر قابل ذکر ہیں، مسلک دارالعلوم دیوبند اور نظریات دیوبند سے خوب واقف تھے، اور لوگوں کو دارالعلوم دیوبند کے نظریات اور خدمات سے واقف کرانے کے لیے مسلسل جد وجہد، کوشاں اور فکر مند رہتے تھے، مسلک حق کی ترجمانی اور مسلک دارالعلوم دیوبند کی ترویج و اشاعت میں آپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جسے لوگ فراموش نہیں کر سکتے، 


     حضرت مولانا اور جمعیۃ علماے ہند 



       جمعیۃ علماے ہند سے آپ کو خصوصی تعلق تھا، آپ کے والد صاحب حضرت مولانا مبین الحق صاحب بھی جمعیۃ علما سے وابستہ تھے، جمعیۃ علما صوبہ اتر پردیش کے آپ صدر تھے، خدمت خلق کے لیے جمعیۃ علما کو اپنا پلیٹ فارم بنایا، اور اپنی زندگی کو جمعیۃ علماے ہند کے لیے وقف کر دی، اس پلیٹ فارم سے آپ نے بے لوث خدمات انجام دی ہیں، جمعیۃ کے اصول و ضوابط، طریقہ کار اور جمعیۃ کے نشیب وفراز سے بھی واقف تھے، مجلس عاملہ کے رکن رکین تھے، حضرت فداے ملت مولانا اسعد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی نگاہ آپ پر ٹکی، ان کے زمانے میں آپ مدعو خصوصی ہوا کرتے تھے ؛لیکن حضرت کی وفات کے بعد سن ٢٠٠٨ عیسوی میں آپ کو جمعیۃ علماے ہند کے مجلس عاملہ کا رکن بنایا گیا، بعدہ آپ جمعیۃ علما صوبہ اترپردیش کے ناظم اور نائب صدر کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے، بالآخر آپ ٢٠١٦ عیسوی میں باضابطہ جمعیۃ علماے صوبہ اترپردیش کے صدر منتخب ہوئے، قومی، ملکی، ملی اور رفاہی خدمات کا جذبہ آپ کی ذات میں رچ بس گیا تھا، جمعیۃ علما کے جاں باز سپاہی تھے، جمعیۃ کے منجھے ہوئے کارکن تھے، ہر فرد یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ مولانا متین الحق اسامہ قاسمی نوراللہ مرقدہ نے صحیح معنی میں کام کر دکھایا ، احقر نے اکابر سے بارہا سنا کہ حضرت مولانا سید محمد متین الحق اسامہ صاحب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ ایک فعال ومتحرک اور نیک عالم دین ہیں، یہ کوئ مبالغہ آرائی نہیں ؛بل کہ حقیقت ہے، آپ کا کوئی مخالف ہو یا حامی اسے اعتراف کرنا پڑے گا کہ آپ نے مختلف تحریکوں، رفاہی خدمات، ملی خدمات اور حب الوطنی کے سلسلے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، بھائی جان یعنی جانشین فداے ملت حضرت مولانا محمود اسعد مدنی دامت برکاتہم العالیہ کے دست راست و بازو تھے، جمعیۃ علماے ہند کے تمام پروگراموں، جلسوں اور سیمیناروں میں آپ شریک ہوا کرتے تھے، خواہ وہ پروگرام اور کانفرنس کسی بھی نوعیت کی ہوں؛ آپ کی حاضری لازمی تھی، اور دور دراز سے سفر کرکے اسٹیج کی زینت بنتے، جمعیۃ کے روشن چراغ تھے، راقم الحروف نے  سیمنار میں حضرت والا کو بہت قریب سے دیکھا، آپ شریک ہوئے اور اختتام دعا تک موجود رہے،  خدمات جمعیۃ، بانیان و معماران جمعیۃ، اور اکابر کے حالات زندگی پر مختصر روشنی ڈالی اور اپنا تاثر پیش کیا، مختصر وقت میں  قیمتی اور وقیع معلومات سے ہمیں روشناس کرایا وہ قابل تحسین ہے، مقالہ نگار حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حوصلہ افزائی فرمائی، 
ایک دفعہ دیوبند میں جمعیۃ علماے ہند کا تاریخ ساز اجلاس ہوا اس اجلاس میں حضرت مولانا بھی شریک تھے، مرد زیادہ تر طلاق جس وجہ سے دیتے ہیں وہ شراب نوشی ہے؛ اس موضوع پر حضرت والا نے مفصل تقریر فرمائی جو عام و خاص میں کافی پسند کی گئی، آپ کی خدمات کی وجہ سے آپ کا تذکرہ لوگوں کی نوک زبان پر رہتا تھا، اور آیندہ ان شاءاللہ رہے گا، اور آپ اپنے نمایاں خدمات کی وجہ سے ہمیشہ یاد کیے جائیں گے، حضرت مولانا موجودہ لاک ڈاؤن میں تبلیغی حضرات کی رہائی کے لیے مسلسل کوشاں تھے، غریب، مسکین، محتاج، ضرورت مند، بے بس وبے کس لوگوں میں راشن کٹ تقسیم کرنا ان کی پل پل کی خبر رکھنا آپ اپنا دینی فریضہ سمجھتے تھے، لوگوں کو راحت و آسانی پہنچانے کے لیے آپ نے ہر ممکن کوشش کی، فساد زدہ علاقوں کا دورہ، سیلاب سے متاثر افراد کے لیے تعاون، مظلوموں کی امداد کے لیے اپنی جان نچھاور کرتے تھے، قومی یک جہتی، ہندو مسلم اتحاد اور نفرت کےخاتمہ کے لیے فکر مند رہتے تھے، حقیقی معنی میں آپ نظریہ جمعیۃ کے علم بردار تھے،

    

عصری تعلیم کی ترویج و اشاعت


عصری تعلیم سے بھی آپ آگاہ تھے، خصوصاً مدارس اسلامیہ کے طلبہ کے لیے آپ نے اپنے یہاں دو سالہ انگریزی تعلیم کا معقول انتظام مرکز المعارف کے طرز پر "حق ایجوکیشن ٹرسٹ"کے نام سے کیا،  اس ادارے میں خالص دینی ماحول اور مزاج کے مطابق تعلیم دینے کا نظم ہے، مدارس کے طلبہ کو اوپر اٹھانے اور میدان عمل میں لانے کے لیے خصوصی طور پر کوشش کرتے اور فکر مند رہتے، اور اس سلسلے میں آپ نے خوب دلچسپی لی، حضرت مولانا یہ چاہتے تھے کہ ہمارے فضلا بہ یک وقت دونوں قسم کی تعلیم اور ہتھیار سے لیس ہو کر میدان عمل میں نمایاں خدمات انجام دیں،

عادات و اوصاف


حضرت مولانا بے شمار خوبیوں کے مالک تھے، اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، کشادہ پیشانی، خوبصورت و پر رونق چہرہ، صورت وسیرت میں یکسانیت، سر پر دھاگے والی ٹوپی، کاندھے پر سفید رومال، سفید کپڑوں میں ملبوس، مسکراتا چہرہ، احقاق حق کی ترویج و اشاعت، باطل افکار و نظریات کی تردید و بیخ کنی، مخلوق کا درد، خدمت خلق کا جذبہ، نظریہ جمعیۃ سے ہم آہنگی، امانت ودیانت داری، زہد و ورع، صوم و صلاۃ کے پابند، سنت نبوی سے عشق و محبت، سخاوت و فیاضی میں ضرب المثل، اخلاق وکردار میں یگانہ روز گار، ملنسار، متواضع ، پرہیز گار، رفتار و گفتار، چال ڈھال میں میانہ روی، نرم دل، مزاج میں سنجیدگی، سادگی، استغنا و بے نیازی ، خطابت کے شہسوار، انداز گفتگو نرالا اور پیارا،  مصیبت زدہ کے غم میں شریک ہونا، یہ وہ خوبیاں تھیں جن سے آپ کی زندگی عبارت تھی،  طلبہ کے ساتھ حسن معاملہ، علماے کرام  کی عزت اوران کا ادب و احترام کرتے، اہل علم حضرات کی آپ کے یہاں بڑی قدر تھی، حضرت الاستاذ مولانا مفتی محمد عفان صاحب منصور پوری دامت برکاتہم العالیہ استاذ حدیث و صدرالمدرسین مدرسہ اسلامیہ جامع مسجد امروہہ کے ساتھ آپ کا تعلق و ربط گہرا تھا، چھوٹوں کے ساتھ شفقت کا معاملہ فرماتے، چھوٹوں کی حوصلہ وہمت افزائی فرماتے، داد و تحسین سے نوازتے، علمی میدان میں آگے بڑھانا اپنا فریضہ سمجھتے تھے، 
حضرت مولانا فضیل ناصری صاحب نے راقم الحروف سے فرمایا کہ جمعیۃ کے سیمینار میں مولانا سے ملاقات ہوئی ،میں نے نام بتایا اور یہ سمجھا کہ مجھے نہیں پہچانتے ؛لیکن پہچان گئے اور فرمایا کہ آپ کے مضامین خوب شوق سے پڑھتا ہوں اور استفادہ کرتا ہوں اور دعاؤں سے نوازا،
یہ تھا حضرت مولانا کا خوردوں کے ساتھ معاملہ!!
       
ایک روشن دماغ تھا نہ رہا
      شہر میں ایک چراغ تھا نہ رہا

     ( الطاف حسین حالی) 

میں دعا گو ہوں کہ اللہ حضرت مولانا کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، اعلی علیین میں جگہ عطا فرمائے، خدمات کو قبول فرمائے، متعلقین، متوسلین، اعزا و اقارب، اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے، بندہ اہل خانہ خصوصاً مولوی امین الحق عبداللہ سے تعزیت مسنونہ پیش کرتا ہے،،

                  شعر 
  سنے کون قصہ درد دل میرا غم گسار چلا گیا
 جسے آشناؤں کا پاس تھا وہ وفا شعار چلا گیا، 


       بہ وقت شب: ١١:٤٥، بہ تاريخ: ١/ذی الحجہ/١٤٤١ھ مطابق ٢٢/جولائی/٢٠٢٠ عیسوی، بہ روز جمعرات

No comments: