جديد مضامين

Sunday, July 19, 2020

مولانا اسامہ قاسمی ملت کا بیش قیمت اثاثہ تھے:مفتی عنایت اللہ مظاہری

مولانا اسامہ قاسمی ملت کا پیش قیمت اثاثہ تھے:مفتی عنایت اللہ مظاہری
مولانا اسامہ قاسمی ملت کا پیش قیمت اثاثہ تھے:مفتی عنایت اللہ مظاہری


مولانا اسامہ قاسمی ملت کا بیش قیمت اثاثہ تھے:مفتی عنایت اللہ مظاہری



گودھنا،سیتاپور: ملک کے ممتاز عالم دین، صوبہ اتر پردیش کی ہردلعزیز شخصیت،بزرگوں کی روایات کے امین، شعلہ نوا خطیب، مجاہد ختم نبوت، محافظ ناموس صحابہ اور بے شمار دینی واصلاحی تحریکوں کے سرگرم رکن رکین مولانا متین الحق اسامہ قاسمی صدر جمعیۃ علماء اترپردیش  گزشتہ روز انتقال فرماگئے،ان کی وفات پر تعزیت کا سلسلہ تاہنوز جاری ہے ،مفتی عنایت اللہ مظاہری صدرالمدرسین مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ گودھنا سیتاپور نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا مولانا اسامہ قاسمی ملت کے ان باشعور علماء میں سے تھے جو دینی غیرت و حمیت ،ایثاروہمدردی،تواضع و سادگی ،عاجزی و انکساری، تحمل و بردباری کی صفات سے متصف تھے  ان کے سینہ میں ایک تڑپتاہوا دل تھا جو قوم وملت کی بے لوث  خدمات کے جذبات سے پر تھا،ایسی شخصیتیں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں، ان کی زندگی ایمان پرور اور مجاہدانہ زندگی تھی، اسلامی افکار کی ترویج فرق باطلہ کے تعاقب اور صحیح عقائد کی حفاظت واشاعت کے لئے مولانا کی ذات نشان منزل سمجھی جاتی تھی، اور خطابت کے ذریعہ اس مشن کو آگے بڑھانے میں کارہائے نمایاں انجام دیا ہے مولانا قاسمی یوں تو پورے ملک میں پیار ومحبت امن وآشتی آپسی رواداری ویکجہتی کے تئیں فکر مند تھے اور ملک کے تمام طبقوں میں انہیں یکساں مقبولیت حاصل تھی لیکن خاص کر مسلم قوم کےلئے دینی ،ملی ،اصلاحی اور تعلیمی لحاظ سے کئی محاذوں پر کام کررہے تھے، اور اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں ان کی یہ روشن خدمات ان کے لئے ذخیرہ آخرت ثابت ہوں گی۔مولانا مظاہری نے کہا کہ مولانا اسامہ قاسمی جہاں ہندومسلم ودلت اتحاد کے داعی وعلمبردار تھے اور اس کےلئے جدوجہد کررہے تھے وہیں فرقہ پرستوں کے مکروہ چہروں کو بھی طشت از بام کرنے میں مثالی کردار ادا کیا ہے۔آپ جمعیۃ علماء اور اکابر دیوبند کے جانشین اور ان کی روایات کے امین تھے اور ان سے انہیں والہانہ عشق تھا۔تادم آخر آپ نے درس وتدریس ،وعظ وتقریر اور دینی وتحریکی پلیٹ فارم سے بے مثال قومی وملی خدمات انجام دی ہیں۔ مولانا مظاہری نے تمام مسلمانوں سے ایصال ثواب کی اپیل کی ہے

No comments: