جديد مضامين

Tuesday, July 28, 2020

سوشل میڈیا نعمت یا زحمت

'سوشل میڈیا نعمت یا زحمت"

سوشل میڈیا نعمت یا زحمت


از: عبد السلام قاسمی گونڈوی 
 سابق رکن مدنی داالمطالعہ  دارالعلوم دیوبند  
وحال امام وخطیب مسجد دارالسلام بابو پوروہ کانپور                      
8887889267

ہر زمانے  کے فتنےالگ الگ روپ اختیار کر کے
 سامنے آتے ہیں، برائی وبےحیائ کی شکلیں مختلف ہوتی ہیں، کوئی فتنہ اسلامی عقائد  پر حملہ آور  ہوتا ہے،تو کوئی ارکان اسلام سے متعلق شکوک وشبہات کا دروازہ کھول دیتا ہے، کوئی فتنہ باطل نظریات کےحامیین کی ترجمانی کرتا ہے، توکوئ مسلک پرستی کے آڑ میں، فروعی اور جزئی  مسائل کو لیکر ،صحابہ کرام کو طعن وتشنیع کا نشانہ بنا تاہے؛غرض یہ کہ خارجی و داخلی فتنے ہر دور میں پنپتے رہے ہیں
    آج کا سب سے بڑا فتنہ اور سب سے بڑی خدائی نعمت "موبائل اور سوشل میڈیا" ہے

 فتنہ  کیسے ہے؟ 

فتنہ اس اعتبار سے کہ ایک انسان کھلے طورپر جوحرکت  نہیں کر سکتا ہے، وہ تنہائی میں پہنچ کر ،سوشل میڈیا کے ذریعہ بند کمرہ میں  آسانی سے کرلیتا ہےیہی نہیں؛ بلکہ اس میں ایمان سوز، اخلاق سوز، اورحیاسوزجیسے میوزک، فحش فلمیں بدکرداری،دھوکہ بازی، ضیاع وقت اور ناجائز تعلقات کو فروغ دیا جارہاہے، اسلامی معاشرے کو بدل ڈالنے میں جتنی چیزیں کارگر ثابت ہو سکتی ہیں سب اس میں انڈیل دیاگیا ہے ، موبائل کا استعمال تقریبا سبھی  کرتے ہیں، بچے ،جوان تو ہیں ہی، بڑے بوڑھے بھی کسی سے کم نہیں ہیں، اب ہرآن ،ہر لمحہ،ہر طرف،  مذکورہ برائیوں کی تشہیر ہے بیک وقت خارجی و داخلی گمراہیوں سے مقابلہ ہوتا ہے،  ایسے  میں اپنے آپ کو بچانا کسی فتنہ اور آزمائش سے کیا کم ہے؟؟؟
جہاں اسلام کا یہ حکم ہے "  ان الذین یحبون ان تشیع  الفاحشة  فی الذین آمنولہم عذاب الیم فی الدنیا ولہم فی الاخرة، ( سورہ نور ۲۴  آیت ۱۹) ترجمہ: جولوگ اہل ایمان کے درمیان برائی پھیلانا پسند کرتے ہیں، ان کے لیے دنیا میں عذاب ہے اور آخرت میں بھی قرآن کریم کی اس آیت سے جہاں یہ بات ثابت ہے  کہ برائی وبےحیائ بہت بڑا گناہ ہے، وہیں یہ بھی ثابت ہے کہ برائی کو پھیلانا ،شئیر کرنا بھی بہت بڑا گناہ ہے ۔ 
اسی طرح سوشل میڈیا جھوٹی خبروں کو پھیلانے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے ؛جب کہ فرمان نبوی ہے:"کفی بالمرء کذباان یحدث بکل ماسمع  ترجمہ :آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے بس  اتنا ہی کافی ہے کہ سنی سنائی باتوں کو بیان کر ے" 
سوشل میڈیا پر یہ عام ہے کہ ،جس کے من  میں جوآتا ہے وہ لکھتا، بیان کرتاہے، یا پھر  ایسے لوگوں کی تائید کرتاہے، جو بغیر سر، پیر کی باتیں لکھتے اور سناتے ہیں اس اعتبار سے یہ "فتنہ" ہے-


 سوشل میڈیا خدائی نعمت کیسے ہے؟ 


قرآن کریم میں ایک جگہ اللہ تعالی نے  حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان الفاظ میں خطاب فرمایا ہے: "یایھا الرسول بلغ ماانزل الیک من ربک

ترجمہ: اےرسول جو جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے، سب پہنچا دیجئے"
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ،"حجہ الوداع" کے موقع پر موجودصحابہ کرام سے بطور شہادت  دریافت کیا "الا ھل بلغت؟ مرتین" کیا میں نے حق رسالت ادا کردیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  دومرتبہ یہ جملہ ارشاد فرما یا، اس کے بعد آپ نے امت کو ذمہ داری دی :"الا فلیبلغ الشاہدالغائب  خبردار! جو موجود ہے  وہ دوسروں تک پہنچادے"  بخاری کتاب العلم: حدیث نمبر  105 اس حدیث کی رو سے ایک مومن کا یہ فریضہ بنتا ہے کہ اسلامی تعلیمات کو عام کرے، 
اب سوچئے اسلام کا پیغام ہر فرد بشر تک کیسے پہنچا یا جا سکتا ہے؟ ایک طریقہ تویہ کہ  گھر گھر جا کر دعوت دیں ، تبلیغ کریں، لٹریچرتقیسم کریں؛ اور دوسراطریقہ سوشل میڈیا ہے،  اس کے ذریعہ ہرگھر ہرفرد، بلکہ برادران وطن ، سرحد پار،اور اسلام سے  نا آشنا لوگوں تک پیغام پہنچانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے، سوشل میڈیا شرور و فتن کا مجموعہ ہے ؛لیکن مومن اسی میں خیر تلاش کرلیتا ہے ، اس پلیٹ فارم سے اسلام کی صحیح ترجمانی کی جاسکتی ہے۔ اس اعتبار سے سوشل میڈیا کو  خدائی نعمت  سمجھنا چاہیے
آئیے! ہم سب اس کا بھر پور استعمال کریں ،خوب لکھیں اور بولیں  چاہے فیسبک، وہاٹس ایپ ہو یا انسٹاگرام ،ٹویٹر ہو یا یوٹیوب۔اور یہ بتادیں کہ "میرا پیغام محبت ہے، جہاں تک پہنچے"
اللہ تعالی ہم تمام مسلمانوں کو وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے، ترویج اسلام کے لیے،ذرائع ابلاغ کے تمام تر وسائل کوصحیح استعمال  کی توفیق دے آمین

No comments: