ایک عہد جو تمام ہوا


مولانا نور عالم خلیل امینی رحمۃ اللہ علیہ


ابن مالک ایوبی

 آسمانِ ادب و بلاغت کے خورشیدِ جہاں تاب، علم و عمل اور گفتار و کردار کے حسین امتزاج، نفاست و نزاکت اور خوش سلیقگی و خوش ذوقی کی عجیب و عمدہ مثال اور صاف گوئی اور حق گوئی کے ساتھ صفاۓ باطن و ظاہر کے قابلِ تقلید پیکر حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی، شیخ الادب دارالعلوم دیوبند و مدیر "الداعی" ہم سے رخصت ہوگئے۔ 

 مولانا مرحوم زبان و قلم اور ادب و بلاغت کے وہ ماہر شاہ سوار تھے، جس کے بغیر ان فنون کا ذکر ادھورا ہے، خاص طور سے علومِ عربیت اور عربی انشاء کے حوالے سے مولانا ایک تابندہ عہد اور زریں ورق تھے، جو ان کی وفات سے تمام ہوا۔

آ عندلیب! مل کے کریں آہ و زاریاں

تو ہاۓ گل پکار، میں چلاؤں ہاۓ دل

مولانا کی شخصیت برصغیر کی سطح پر خصوصاً علمی حلقوں میں کسی تعارف کی محتاج نہیں، لیکن راقم کے لیے ان کی ذات توجہ کا مرکز اس وقت بنی، جب ایک شفیق استاذ نے، مولانا کی کتاب "حرفِ شیریں" کا ذکر کیا، یہ کتاب اپنے نام کی طرح انتہائی شیریں اور سبق آموز ہے، آج کل لوگ خطابت و گفتگو کے متعلق پرسنالٹی ڈیولپمنٹ کورس منعقد کراتے ہیں، جس کو صحافت و قلم کاری کے حوالے سے اپنی پرسنالٹی ڈیولپ کرنی ہو، وہ اس کتاب کو ضرور دیکھے۔

بہرحال.! اس کتاب کے ذریعے حضرت کی شخصیت سے اولین تعارف حاصل ہوا، جس کے بعد حضرت کی جو اردو کتب سامنے آئیں، انہیں پڑھنے کی کوشش کی، "فلسطین کسی صلاح الدین کے انتظار میں" مولانا مرحوم کی ایک ایسی کتاب ہے، جس کو تسلسل کے ساتھ عرصۂ دراز تک پڑھتا رہا، اس میں عالمِ اسلام کے سینے پر اسرائیل کے نام سے سلگتے ناسور، قضیۂ فلسطین کے عمومی پسِ منظر و پیش منظر اور اس کے ارد گرد گھومتے مختلف کرداروں کو مولانا نے انتہائی خوش اسلوبی سے بیان کیا ہے، یہ در اصل عربی مجلہ "الداعی" میں فلسطین کے حوالے سے لکھے گئے حضرت کے اداریوں اور مضامین کا مجموعہ ہے، جو بعد میں حضرت کے ہی گہر بار قلم سے اردو کے قالب میں بھی آ گیا تھا۔ 

اب تک مولانا کو ان کی تحریروں میں دیکھا تھا، یا ایک آدھ بار دور سے زیارت کی تھی، لیکن پھر اللّٰہ کے لطف و کرم سے نالائقی و کم ظرفی کے باوجود وہ وقت بھی آیا، جب حضرت کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنے کا شرف حاصل ہوا، عربی زبان و ادب کے حوالے سے مولانا کی ذات ایک ادارہ و انجمن کیا، ایک کہکشاں تھی، جس کا ہم اب تک فقط دور سے نظارہ کرتے رہے تھے، لیکن اب اس کہکشاں کو قریب سے دیکھنے، سننے اور اس سے کچھ سیکھنے کا موقع مل رہا تھا، جس میں زبان کی لطافت و شیرینی، ادب کی جادو بیانی، کردار و عمل کی بلندی، نفاست و نزاکت کی پاکیزگی، جرات و بے باکی کی دولت، قادر الکلامی و محتاط گوئی کی ثروت، تعبیرات و تراکیب کی ندرت اور اخلاص و ایثار کی وسعت موجود تھی، اور اس کہکشاں کا ہر جزء اپنے آپ میں ایک دمکتا ستارہ تھا۔

اور ایک لفظ میں اگر کہا جائے تو حضرت ایک مکمل انسان تھے، جس پر آدمیت کا ہر پہلو جچتا تھا...

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں   

حضرت کا ایک نمایاں وصف یہ تھا کہ وہ علم و فن کے بحرِ بے کراں ہونے کے ساتھ رجال سازی و ارتقاء آفرینی کے ماہر تھے، چھوٹی چھوٹی نصیحتوں سے ذہنوں میں انقلاب برپا کر دیتے، بے ساختہ جملوں سے دلوں کی کایا پلٹ دیتے۔

ماضی قریب کے علماء و اکابر میں انضباط اوقات اور وقت پر معمول کی پابندی ایک ایسا وصف ہے، جس میں حضرت تھانوی رحمہ اللہ سب سے زیادہ معروف ہیں، مولانا امینی اس معاملے میں حضرت تھانوی کی ہو بہو تصویر تھے، اور سب سے زیادہ جس شخصیت سے متاثر تھے، یا موجودہ زمانے کے لحاظ سے سب سے زیادہ جس کو قابلِ تقلید سمجھتے تھے، وہ حضرت تھانوی کی ہی ذات تھی، یہی وجہ ہے کہ تعلیمی سال کے آغاز میں ہی اپنے اصول بیان کر دیتے، جس سے انحراف نہ ان کی جانب سے ہوتا اور نہ طلبہ کی جانب سے پسند کرتے۔

ان اصولوں میں سب سے اہم دو اصول تھے اور دونوں ہی وقت کے تعلق سے... ایک تو یہ کہ درسگاہ میں دفتری وقت سے دس منٹ قبل حاضری، دوسرے درسگاہ کی بلا ناغہ مسلسل حاضری...ان اصولوں پر خود بھی پابندی سے عمل کرتے، اور شاگردوں سے بھی کراتے۔ 

ویسے عمومی نظر میں مولانا کی شخصیت دو عظیم ہستیوں کا پرتو تھی، اصول پسندی اور انضباط اوقات میں حضرت تھانوی کی، اور عربیت سے محبت اور اس کی ترویج و اشاعت میں مولانا وحید الزماں کیرانوی کی.... مولانا وحید الزماں رحمہ اللہ حضرت کے لیے کس قدر اہم اور متاثر کن تھے، حضرت کی کتاب "وہ کوہ کن کی بات" میں دیکھا جا سکتا ہے، اور حضرت تھانوی کے تعلق سے مولانا کے عربی تراجم قابلِ ذکر ہیں، جن میں سے کئی ایک حضرت تھانوی کی کتابوں کے ہیں۔ 

مولانا کی شخصیت کا ایک قابل ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حوالے سے بہت حساس تھے، اور ماضی قریب میں اس حوالے سے مختلف حضرات سے ہونے والی لغزشوں کو بہت مہلک سمجھتے تھے، اسی لیے حضرت نے اپنی مختلف تحریروں میں اس پر توجہ دلانے کے علاوہ مستقل ایک کتاب "الصحابة و مكانتهم في الإسلام" تصنیف فرمائی تھی۔

مزید یہ کہ انہیں منہجِ قاسمی سے عشق تھا، دیوبندیت کو عظیم علمی و فکری تحریک خیال کرتے تھے، اور اپنی تحریروں اور تقریروں میں اسی کی ترجمانی کرتے، شاید یہی وجہ تھی کہ انہیں اپنے عہدِ طالب علمی کے مہتمم دارالعلوم حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ سے بے انتہا عقیدت تھی، مذکورہ بالا دو شخصیات کے علاوہ قاری صاحب کے شخصی اثرات بھی حضرت کی ذات کا حصہ بنے، اور بعد میں حضرت قاری صاحب کی شخصیت پر ایک کتاب "العالم الهندي الفريد، الشیخ المقری محمد طیب قاسمی" تحریر فرمائی تھی۔

ہمیں مولانا مرحوم سے دیوان متنبی اور دیوان حماسہ کا باب الادب پڑھنے کا موقع ملا، اور اگرچہ دیگر ترتیبوں (اسی درجے کی دیگر کلاسوں) میں ان کتابوں کے اساتذہ علم و ادب میں کسی درجے کم نہ تھے، جیسے مولانا عبد الخالق مدراسی صاحب اور مولانا مصلح الدین صاحب اور مولانا عبد الخالق سنبھلی صاحب، لیکن ہمارا خیال تھا کہ مولانا امینی اس باب میں سب سے جدا ہیں، کیوں کہ وہ لغت و ترجمہ اور تشریح و وضاحت کے علاوہ اور کئی گوشوں پر روشنی ڈالتے تھے، جیسے شاعر کا ذہنی پس منظر، اس کا ادبی و لسانی معیار، ادبِ جدید کے ساتھ قدیم تراکیب کی مماثلت و مطابقت، شعری ترکیب کے ہیر پھیر سے ہونے والی معنوی تبدیلی کی نشان دہی اور شاعر کی تعبیر اور اس کے انداز میں مشق کرنے کے مختلف طریقے... 

وقت اور ماحول کے موافق ان گوشوں پر کبھی لمبی گفتگو کرتے، کبھی مختصر جملوں میں نتیجے و خلاصے بیان کر دیتے۔

مولانا مرحوم نے ایک درد مند دل پایا تھا، جو ہر مسلمان کے غم میں دھڑکتا تھا، عالم اسلام کے مختلف حوادث و واقعات (جو گزشتہ ایک صدی سے ہمارے حق میں منفی ہی رہے ہیں) ان کی ٹریجڈی اور المیے کا حصہ تھے، اور ان کا یہ غم و الم ان کی زبان و قلم سے ہمیشہ لہو کی صورت ٹپکتا رہا، جس نے بعد میں مختلف کتابوں کی شکل اختیار کی، جیسے "صلیبی صہیونی جنگ"، "کیا اسلام پسپا ہو رہا ہے" وغیرہ... ان کے قلم کی طرح زبان بھی انتہائی فصیح اور ادبی تھی، چنانچہ ادبی پیراۓ میں اکثر و بیشتر اپنے رنج و کرب کا اظہار کرتے، جو طلبہ کے لئے علم افروز بھی تھے اور مشعلِ راہ بھی... 

گزشتہ دو دہائیوں سے مجلہ "الداعی" اور مولانا کی ذات لازم و ملزوم سے ہو گئے تھے، ایک کے ذکر سے دوسرے کا خیال آنا لازمی بات تھی، اور یقیناً "الداعی" کو موجودہ مقام تک پہنچانے میں مولانا کا بہت بڑا ہاتھ تھا، اس مجلے میں مولانا کی دو نگارشات انتہائی اہم ہوتی تھیں، اداریہ اور اشراقہ... اداریہ حضرت کے دلِ دردمند اور زبانِ ہوشمند کا آئینہ دار تھا تو اشراقہ حضرت کے فکری تنوع اور ذہنی بلندی کا ترجمان، مؤخر الذکر تحریر کا مجموعہ "من وحی الخاطر" کے نام سے شائقین کی تسکین کا سامان اپنے جلو میں لیے دعوتِ مطالعہ دے رہا ہے۔ 

آج ہم سے حضرت کی ذات جدا ہو گئی، حضرت اکثر فرمایا کرتے تھے، کہ "موجودہ حالات میں عقلمند آدمی کبھی سکون سے نہیں رہ سکتا، اسے موت ہی سکون دے سکتی ہے"، گزشتہ کئی دہائیوں کے جہدِ مسلسل اور بے قراری کے بعد حضرت کو بھی قرار و سکون نصیب ہو گیا، لیکن وہ ہمارے لیے بہت کچھ قلمی و سوانحی سرمایہ چھوڑ گئے، جس میں ہمارے لیے روشنی کے مینار بھی ہیں اور حوصلے و جرات کا سامان بھی.. 

لیکن حضرت کی وفات پر شاید ہمیں تسلی دینے والا کوئی نہیں، کیوں کہ وہ اسلام کا سرمایہ اور ملت  کے سچے فرزند تھے، جس کی جدائی کا غم ہر ایک کو لاحق ہے۔


تیری جدائی پہ مرنے والے، کون ہے جو حزیں نہیں ہے

مگر تیری مرگِ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے


اللّٰہ سے دعا ہے کہ رمضان کے مبارک مہینے اور مغفرت کے عشرے کی برکت سے حضرت کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی خدمات اور محنتوں کا بہترین بدلہ عطا فرمائے، حضرت کے اہل خانہ اور علمی و فکری فرزندان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور ملت اسلامیہ اور دارالعلوم دیوبند کو حضرت کا نعم البدل عطا فرمائے، آمین۔ 



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے