Posts

Maulana Abul Kalam Azad's ideology of education.مولانا ابوالکلام آزادؒ کا نظریہ تعلیم

Image
مولانا ابوالکلام آزادؒ کا نظریہ تعلیم۔  ⁦✍️⁩⁦✍️ ⁩وقار احمد غالب پوری۔


1947 تقسیم ہندوستان کا مسئلہ مولانا ابوالکلام آزاد کے لیے بہت ہی بڑا صدمہ تھا: ان کے خواب ، ان کی خواہشیں اور ان کی درد بھری آواز چکنا چور ہو رہی تھیں؛ لیکن پھر بھی انہوں نے ہمت اور بلند ارادی سے کام لیا۔ تقسیم ہند کے بعد بھی بہت ساری عظیم خدمات انجام دیں، اپنی پوری حیات کو ہندوستان کے لیے وقف کردیا اور بڑے نمایاں کارنامے انجام دیے، انہیں کارناموں میں ایک اہم باب "آزاد ہندوستان کی تعلیمی پالیسی" کا بھی تھا، وزیر تعلیم ہونے کی حیثیت سے وہ اس کے ذمہ دار تھے۔ ابوالکلام آزاد بیک وقت ایک عالم دین ، بلند مرتبت صحافی، عظیم سیاست داں ، بے مثال خطیب اور مفسر قرآن تھے؛ اگر چہ مولانا آزاد سیاست میں آل انڈیا کانگریس کے ہمنوا تھے؛ لیکن ان کے دل میں مسلمانوں کا درد ضرور تھا۔ 
شاید ہی ہندوستان کی کسی زبان میں ابوالکلام محی الدین احمد آزاد دہلوی جیسا کم عمر صحافی پیدا ہوا ہو، جس نے اس راہ کی پہلی منزل میں قدم رکھتے ہی اپنی فکری بلندی ، اپنی ادبی صلاحیت، اپنے مذہبی رجحان، اپنے قومی خیالات، اپنے تعلیمی نظریات، اپنے اصلاحی …

پر کیا کریں وہ کل تھا Par kya karein wo kal tha

?Par kya karein wo kal tha  پر کیا کریں وہ کل تھا؟
از : وقار احمد غالب پوری۔
انسان کی زندگی ایک حدود میں گھری ہوتی ہے، جس کی ابتدا بچپنے سے شروع ہوکر بوڑھاپے پر مختتم ہوجاتی ہے۔ ان حدود میں سب سے خوشگوار وقت بچپنے کا ہوتا ہے، جس میں اگر چند چھوٹی یا بڑی غلطیاں بھی ہو جاتی ہیں ، تو انسان ایک دو دن کے بعد ان تمام غلطیوں کو بچے کی غلطی سمجھ کر بھلا دیتا ہے ۔ کاش یہ غلطیاں بھولنے بھولانے کا معاملہ کسی عمر کے ساتھ خاص نہ ہوتا؛ بلکہ ایک جوان اور تجربہ کار شخص بچے کی غلطی کو جس طرح بھول جاتا ہے ، اسی طرح سمجھ داروں سے ہوئی غلطیوں کو بھی بھول جاتا ، تو کیا ہی خوب ہوتا ؛ چوں کہ ہر شخص کے کچھ نہ کچھ جذبات ہوتے ہیں ۔ ان جذبات کو اتنی چوٹ نہ پہنچاؤ کہ آپ کا خیال جب بھی اسے آئے، تو اسے تکلیف ہو۔ پر افسوس کہ ایک لڑکا اگر بچپنے میں کوئی غلطی کر دیتا ہے ، تو لوگ اسے بھلا دیتے ہیں اور ایسا ہونا بھی چاہیے؛ لیکن اگر وہی لڑکا سمجھداری آجانے کے بعد کوئی لغزش کر بیٹھتا ہے، تو یہ عوام الناس ، جو خود کو اشرف المخلوقات کہتی ہے، وہ کم عقلوں اور بے عقلوں جیسی حرکتیں کرنے لگتی ہے کہ ہمیشہ ہمیش کے لیے اس شخص پر ن…

Ashrae Zill Hajj kaise guzarein عشرہ ذي الحج کیسے گزاریں؟

Image
عشرہ  ذي الحج کیسے گزاریں؟    ✍️ تحریر:  محمد شاہد قاسمی کبیر نگری 



اللہ تعالیٰ نے فضیلت وثواب کے ایام کا جو سلسلہ رمضان سے شروع فرمایا ہے  وہ ذی الحجہ کے مہینے تک پہنچتا ہے.  کیونکہ اس میں خاص عبادت اور ارکان اسلام کا ایک اہم رکن حج بھی ادا کیا جاتا ہے اس مہینے کو کئی اعتبار سے دیگر مہینوں پر فوقیت و  افضلیت حاصل ہے۔۔ ایک حج کی ادائیگی دوسرے مہینے میں نہیں دوسرے قربانی دیگر ایام میں نہیں وغیرہ  وغیرہ   جہاں پر اس مہینے کو اشہر حرم  میں شمار کیا گیا ہے وہیں پر  اس کے پہلے عشرے کو کافی فضیلت کا مقام بھی حاصل ہے اس لیے کہ اللہ تعالی نے اس کی قسم کھائی  جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: والفجر وليال عشر (سورۃ الفجر آیت نمبر 1 ) a ترجمہ: قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی. مفسرین کے ایک بڑی جماعت  ولیال عشر سے عشرہ ذی الحجہ کی دس راتوں کو مراد لیا ہے۔ اللہ تعالی کو اپنی مخلوقات میں سے کسی کی قسم کھانے کی چندا حاجت نہیں، لیکن  اس کے باوجود اگر اللہ تعالی کسی کی قسم کھاتے ہیں تو اس کی اہمیت اور اس کی شان کے عظمت کا پتہ معلوم ہوتا ہے .  نیز ایک حدیث کے اندر نبی پاک  صلی اللہ علیہ وسلم نے نے بھی…

کل عید ہے ۔۔۔۔۔ عیدکل ہے۔ Kal Eid hai, Eid kal hai

Image
کل عید ہے ۔۔۔۔۔  عیدکل ہے۔Kal Eid hai, Eid kal haiتحریر : الدكتور الشیخ عائض القرنی حفظہ اللہ ترجمہ : وصی اللہ سدھارتھ نگری
رمضان کے قیمتی لمحا ت ختم ہونے میں اب چند لمحے اور ہیں ۔۔۔۔۔۔  کل عید ہے۔۔۔۔  عید کل ہے۔۔۔۔۔  عید کی حقیقت کیاہے؟ ۔۔۔۔ عید کیسے ہو تی ہے؟ ۔۔۔۔۔ کس کے لیے ہو تی ہے؟ عید اس شخص کے لیے نہیں جوعمدہ لباس زیب تن کر ے ۔۔۔۔۔۔ اس کے لیے بھی نہیں جو سا ما نو ں او رافرا د پر فخر کرے ۔۔۔۔۔۔۔ عیداس کے لیے ہے جو وعدے کے دن سے ڈرے ۔۔۔۔۔۔ زبر دست عر ش کے ما لک سے خو ف کرے ۔ عید گا نے بجانے کا نام نہیں ۔۔۔۔۔۔  عیدمسرور کن کھیلوں کانام نہیں ۔۔۔۔۔۔ خو ش کن مناظر اور افر تفر ی کا نا م بھی عید نہیں ۔۔۔۔۔ عید تو رب العزت کے انعا مات کا شکر یہ ہے، اس کے احسا نا ت کے اعترا ف کا نا م عید ہے، اظہا رنعمت کا نا م عید ہے، دین کے اعزاز اور دشمنوں کی تذلیل کی خاطر اہل ایما ن کے قا فلہ میں چلنے اور سفر کرنے کا نا م عید ہے۔ عیدکے تعلق سے چند با تیں :Eid ke talluq se chand batein ( ۱)عید الفطرکے دن نمازِ عید سے پہلے صبح کو کچھ کھانا : خو ا ہ کچھ کجھو ریں ہی کیو ں نہ ہوں ، تاکہ جس طر ح روزہ کی با بت ہم…

Ramzan: Rozah daaron ki khidmat mein chand tohfe رمضان : روزہ داروں کی خدمت میں چند تحفے

Image
انتیسواں روزہ انتیسواں سبق:
رمضان : روزہ داروں کی خدمت میں چند تحفے Ramzan: Rozah daaron ki khidmat mein chand tohfe 

آج ہم اپنے مو من بھائیوں کی خدمت میں کچھ تحفے پیش کر نا چا ہتے ہیں ایک مسلما ن کے لیے ہم سب کے مقتدا، رہنما اور نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیما ت وہدایا ت سے اچھا تحفہ اور کیا ہو سکتا ہے؛ بطورخاص رمضا ن کے ا س با بر کت مہینہ میں ، ہمارے روزہ دا ربھائیو ں کے لیے تو اس سے بہتر کوئی اور چیز ہو ہی نہیں سکتی ، اس لیے عملی زندگی سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ احا دیث کی خو شبوؤں سے آپ کو معطر کر نا چا ہو ں گا ،یقین جانئے کہ اگر عمل ہما را رفیق بن گیا تو یہ احا دیث دنیا اور آخر ت میں ہمارے لیے خیروفلا ح کے راستے اور سعا دت ونیک بختی کے دروازے کھو لنے میں معا ون ثا بت ہوں گی ، ذیل میں احا دیث پیش خدمت ہیں ۔
(۱)آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشا د فر ماتے ہیں کہ جس شخص نے صبح سو یرے ’’لا الہ الا اللہ، وحدہ لا شریک لہ ، لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شییٔ قدیر‘‘پڑھا !تو حضر ت اسما عیل علیہ السلام کی گردن کے برابر اس کو اجر ملے گا ، دس نیکیا ں لکھ دی جا ئیں گی ، دس گنا…

عید کیسے منائیں ؟ Eid kaise manayein

Image
عید کیسے منائیں ؟ Eid kaise manayein تحریر: مولوی محمد شاہد کبیر نگری متعلم دارالعلوم دیوبند


رمضا ن اور روزہ دا رکی دعا Ramzan aor Rozah dar ki Dua

Image
اٹھائیسواں روزہ اٹھائیسواںسبق: رمضا ن اور روزہ دا رکی دعاRamzan aor Rozah dar ki Dua 


رسو ل اکر م صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں روزہ دا رکی دعا کے متعلق یہ ارشا د فر ما یا ہے کہ ’’لِلصَّائِمَ دَعْوَۃٌ لاَ تُرَدُّ ‘‘ یعنی روزہ دا رکی دعا رد نہیں کی جا تی ہے، جب ہم اس کے اسبا ب جا ننے کی کو شش کرتے ہیں ، تو پتہ چلتا ہے کہ روزہ کی وجہ سے انسا ن کی طبیعت میں انکسا ری پیدا ہو تی ہے، خو اہشا ت سے دوری ہوتی ہے، تکبر ٹو ٹ جا تا ہے، خو د سر ی ختم ہو تی ہے، رب سے قر بت اور اس کی اطا عت کا جذبہ پیدا ہو تا ہے، پر ور دگا ر کے خو ف کی وجہ سے کھا نا پینا تر ک کر دیتا ہے، لذات سے اجتنا ب کر تا ہے، اوریہ اوصا ف اللہ کوپسندہیں ، ایک دوسری حدیث میں آپ ؐ نے دعا کو عبا دت قرار دیا ہے، فرما یا: ’’الدُّعَائُ ہُوَ الْعِبَادَۃُ‘‘؛ لہٰذا اگر کو ئی انسا ن دعا میں اللہ رب العزت کے سا منے آہ وزا ری کرتا ہے تو اس کامطلب ہے کہ وہ اللہ سے قر یب ہے، ایک مر تبہ صحا بہ ٔکر امؓ نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریا فت کیا کہ ’’کیا پروردگا ر ہم سے قریب ہیں کہ ہم اس سے مناجات کریں ، یا دور ہیں کہ ہم اس کو پکا ریں؟…