جديد مضامين

Sunday, September 13, 2020

آتی ہی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو


آتی ہی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو

الحاج حضرت مولانا معزالدین قاسمی:
آتی ہی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو

 جو بھی آیا ایک دن دنیا سے رخصت ہوگیا۔ آج بتاریخ 13 ستمبر 2020ء بروز اتوار امارت شرعیہ ہند کے ناظم، آل انڈیا جمعیت رؤیت ہلال کمیٹی کے جنرل سکریٹری، ادارہ المباحث الفقہیہ کے صدر محترم، جمعیت علماء کی مجلس عاملہ کے موقر رکن الحاج حضرت مولانا معزالدین صاحب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ عمر کی 59 بہاریں دیکھ کر اس دار فانی سے دار بقا کی طرف یہ کہتے ہوئے کہ سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گا۔ میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا۔رحلت فرما گئے۔ انا لللہ وانا الیہ راجعون۔
*آنے والی ٹالی کس سے جائے گی*
*جان ٹھہری جانے والی جائے گی*
*روح رگ رگ سے نکالی جائے گی*
*تجھ پہ اک دن خاک ڈالی جائےگی*
مرحوم کے سانحہ ارتحال سے یوں محسوس ہورہا ہے کہ جیسے محفلیں سونی اور مجلسیں ویران ہوگئی ہوں۔ ہر سو اداسی اور ھر سمت غموں کے سیاہ بادل منڈلا رہے ہوں۔ کائنات کا ذرہ ذرہ محو ماتم اور ہر در و دیوار نوحہ خواں ہو۔
*تم کیا گئے کہ رونق محفل چلی گئی*
موضع دتلو پور ضلع گونڈہ کے ایک علمی خاندان میں 1961ء میں مولانا مرحوم پیدا ہوئے۔ والد ماجد حضرت مولانا عبد الحمید صاحب مدظلہ العالی علاقے کے ایک بافیض اور قدیم عالم دین ہیں۔ علاقے کے مختلف اداروں میں تعلیم کے حصول کے بعد مادر علمی دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا، جہاں سے اعلی نمبرات سے 1985 میں آپ نے سند فراغت حاصل کی۔ پھر ایک سال تک مادر علمی دارالعلوم دیوبند میں معین مدرس بھی رہے۔ دورانِ طالب علمی اپنی خداد داد استعداد و صلاحیت اور محنت ولگن کی بنیاد پر حضرات اساتذہ کے بھی منظور نظر رہے۔ فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی ایما پر جمعیت سے وابستہ ہوئے اور تا دمِ واپسیں وابستہ رہے۔ کچھ دنوں تک مدرسہ حسین بخش دہلی میں بھی آپ نے حسبتا للّٰہ تدریس کے فرائض انجام دیئے فقہ وفتاوی، تاریخ وسیر نیز درس نظامی میں کامل دسترس رکھتے تھے۔ تدریسی سلسلہ کے منقطع ہو نے کے باوجود آپ کو درس نظامی کی تمام کتابیں ازبر تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے مزاج میں سادگی رکھی تھی، ہٹو بچو، ریا وسمعہ، نام و نمود، شھرت اور دکھاوے سے یکسر گریزاں اور خلوص و للہیت، یکسوئی وانھماک، سخت کوشی وجاں سوزی کے پیکر مجسم تھے۔ مولانا مرحوم  نفیس طبیعت کے مالک اور تحقیقی ذوق  کے حامل تھے۔ مرحوم عہد کے ایک نامور اور ولی کامل عالم دین حضرت مولانا سید محمد سلمان منصورپوری صاحب ادام ظلالہ کے دیرینہ رفیق تھے، چونکہ آپ کا قیام دہلی میں تھا ؛ اس لیے عام طور پر دینی مدارس اور تصنیف و تالیف سے وابستہ حضرات علماء کرام کا آپ کے پاس کثرت سے آنا جانا تھا، ہر ملاقاتی کو نہ صرف وقت دیتے بلکہ مفید مقصد مشوروں سے بھی نوازا کرتے۔ طلبہ عزیز کو محنت، جد وجہد اور مکمل یکسوئی کے ساتھ مقصد بنا کر تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کرتے۔ دور اندیشی، فھم وتدبر اور معاملہ فھمی میں اپنی مثال آپ تھے۔ اعلی اخلاق و کردار کے مالک تھے۔ آپ تو ہمیں داغ مفارقت دے گئے؛ مگر اپنی یادوں کی خوشبو کا جھونکا ماحول کو معطر بنانے کے لیے چھوڑ گئے۔
*آتی ہی رہے گی ترے انفاس کی خوشبو
*گلشن تری یاد وں کا مہکتا ہی رہے گا
دعا ہے کہ اللہ رب العزّت آپ کو اعلیٰ علیین میں مقام ، بھشت بریں میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق بخشے۔ آمین
شریک غم
محمد ساجد سدھا رتھ نگری
جامعہ فیض ہدایت رام پور یوپی
سابق رکن مدنی دارالمطالعہ دارالعلوم دیوبند

No comments: