علامہ ناصر الدین البانی کی خدمات کے نتائج
محمد فہیم الدین بجنوری
21 ذی الحجہ 1445ھ 28 جون 2024ء
لہذا یہ بحث زائد ہے کہ علامہ ناصر الدین البانی متبحر عالم تھے، البانی ہی کیوں! ابن حزم ظاہری، ابن تیمیہ اور شوکانی جیسے اساطین علم وفن یا ہمارے دیسی ناموں میں مودودی، وحید الدین خان، ذاکر نائک، انجینئر مرزا اور غامدی وغیرہ وہ تمام نام جنھوں نے سلف اور اعتمادِ سلف کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا وہ سب استدلال، استنباط اور استنتاج کے بادشاہ ہیں، یہ مضمون خود اللہ رب العزت کا دیا ہوا ہے، وہ کہتے ہیں کہ آئمۂ زیغ وضلال کا مستدل بھی میرا یہی کلام یعنی قرآن کریم ہوگا: یضل بہ کثیرا۔
سلف کے متوازی راہ نکالنے والوں کی ایک بد نصیبی یہ ہے کہ وہ دین کی بیخ کنی کو دین کی آب یاری خیال کرتے ہیں اور گناہ کو ثواب سمجھ کر زندگی کا سوختہ غلط ہانڈی پکانے میں لگا بیٹھتے ہیں، قرآن کہتا ہے: ویحسبون أنھم یحسنون صنعا، صراط مستقیم سلف کی قربانیوں سے روشن اور منور تھی، احادیث مبارکہ کا وقار اور رتبہ دادِ تحسین وصول کر رہا تھا، باغِ رسول شاداب وپر بہار تھا کہ البانی صاحب ایک نئی کلہاڑی لے کر نمودار ہوے اور جس راہ راست کی شفافیت کا یہ عالم تھا کہ شب وروز یکساں تھے، اسے جگہ جگہ سے ٹھوک ٹھوک کر، کھردرا، داغ دار اور ناہموار بنا دیا۔
انھوں نے سلف کے ذخیرے پر ہاتھ صاف کرتے ہوے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ کے نام سے دین کا نیا انتخاب پیش کیا اور اپنے خاص رنگ وآہنگ سے یہ پیغام دیا کہ اس کے ماسوا دین میں اضافہ ہے اور اسے دین سمجھنے میں سلف سے غلطی ہوئی اور امت چودہ سو سال تک غیر دین کو دین خیال کرتی رہی۔
ناچیز کو اپنی علمی بے بضاعتی کا اندازہ خوب ہے اور لوح محفوظ کے رب کی قسم مجھے کسی علم وفن کی کوئی بات معلوم نہیں؛ لیکن اگر میرے دماغ میں شرارت جاگ جائے اور میں سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ پر البانی والی ہی کلہاڑی چلادوں تو ان کی بیان کردہ نو ہزار کی تعداد نئی حد بندی میں پناہ لیتی نظر آئے گی اور اس مبینہ ہندسے میں اکائیوں اور دہائیوں کے فقدان کا سلسلہ چل نکلے گا۔
پھر اگر خدا نہ خواستہ میں کسی اسلامی ستون پر نقب مار کر شہرت پاجاؤں اور چند پاگل میرے علم برادار بن جائیں تو وہ بھی باقی ماندہ احادیث صحیحہ کو اسی تفتیش وتحقیق سے گزاریں گے، یہاں بھی احادیث کی تعداد اپنے بعض ہندسوں سے محروم ہوگی، پھر یہ سلسلہ رکنے کیوں لگا؟ میزان الاعتدال اور لسان المیزان کس کے پاس نہیں ہے؟ اگر البانی ان چھنیوں سے احادیث کو چھاننے کی قواعد کر سکتے ہیں، تو دوسروں کے لیے کیا مانع ہے؟
آپ ہمیں فن رجال کی دھونس دیتے ہیں! کلمہ حق اور عزائم باطل! جس فن کی نزاکت متضاد تبصروں کی شاکی ہے، جہاں عالم اہل الارض یعنی امام مالک متکلم فیہ اور مجروح ہیں، جہاں ثقاہت کی سندیں عطاء کرنے والے یحیی بن معین پر کلام ہے اور خود یحیی بن معین امام شافعی، امام زہری، امام اوزاعی پر کلام کرتے ہیں، جہاں امام مالک تنقید حدیث کے سیاق میں علم کے ایک مستقل باب کے مدار محمد ابن اسحاق کو دجال کہتے ہیں؛ اس حساس چراگاہ میں آپ من مانی کریں گے اور چودہ سو سال بعد اسلام کے مراجع کی نئی حد بندی کریں گے؟؟؟؟
آپ نے ایک گہری سوچ کے تحت یہ نئی علامتیں بنائی ہیں، احادیث کی درجہ بندی آپ کا مقصد نہیں ہے، آپ امت کو سنت کے ایک بڑے حصے سے محروم کرنا چاہتے ہیں، فلاں حدیث ضعیف ہے؛ یہ آپ کی بات کا نصف اول ہے، اس کا نصف ثانی یہ ہے کہ اس حدیث پر عمل نہ کیا جائے، یہ باتیں آپ نے اور آپ کے حلقے نے مستقل بھی کہی ہیں؛ بل کہ اس رائے کو شعار بنا لیا ہے؛ حد یہ ہے کہ اگر وہ صرف آپ کے نزدیک ضعیف ہو تب بھی خارج دین قرار پاتی ہے۔
تصحیح وتضعیف کا عمل قدیم ہے؛ لیکن سلف نے اپنا عندیہ ظاہر کرنے پر اکتفا کیا، ضعیف احادیث کو کتابوں سے خارج نہیں کیا، غور وفکر کا دروازہ کھلا رکھا، ان سے حدیث نبوی کی حیثیت سلب نہیں کی، آپ نے ان احادیث کو در بدر کر دیا، وہ بھی اپنی متنازع تحقیق کی بنیاد پر! پھر آپ نے یہ بھی پیغام دیا کہ امت سند احادیث اور فقہ فقہاء؛ دونوں کو چھوڑ کر میرے انتخاب کو کافی سمجھے، میں نے انھیں سند ورجال کی بحث اور فقہ واستنباط کی زحمت سے مستغنی کر دیا ہے، اب یہ سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ ہی دین ہے اور یہی اسلام ہے!!!
احادیث سے متعلق سلف کی تحقیق آپ کے نزدیک ناکافی ہے؛ لیکن آپ کی تحقیق حرف آخر ہے! احادیث پر حکم بالاجماع ظنی واجتہادی ہے؛ اسی لیے ضعیف روایات کی حفاظت کی گئی، حتى کہ ایک نیا اور وسیع باب ایجاد کیا گیا، جس کو علل الحدیث کہتے ہیں؛ لیکن آپ اسے قطعی اور حتمی رنگ میں پیش کرتے ہیں اور امت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ آپ کے دیوان کو اسلامی آئین کے طور پر قبول کرلے، آپ مبینہ اور خود ساختہ دستور کی ترتیب میں فقہاء کا رنگ تو کیا دکھاتے، آپ سے تو محدثین کے ذوق کا بھی لحاظ نہ ہوا!!
0 تبصرے