جديد مضامين

Saturday, April 11, 2020

ننّھا معلّم

ننّھا معلّم


ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی 

   کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کو  18 دن ہوگئے ہیں، اس عرصہ میں میرا زیادہ تر وقت گھر میں ہی گزرا ہے،ان دنوں میں میں نے اپنے ننّھے سے پوتے ' ابراہیم ' سے (جس کی عمر ابھی صرف ڈیڑھ برس ہے) جتنا کچھ سیکھا ہے اتنا بڑوں کی مجالس میں بیٹھ کر اور ضخیم کتابیں پڑھ کر نہیں سیکھ سکا تھا،چند مثالیں ذیل میں پیش کرتا ہوں،ابھی وہ روانی سے چل نہیں پاتا، زمین ناہموار ہو تو گر پڑتا ہے، گھر کے اندر بھی دن بھر میں بیسیوں ، پچاسوں مرتبہ گرتا ہے، گھٹنوں،ہاتھوں پیروں، سر میں چوٹ لگتی ہے، لیکن اس کا چلنا بند نہیں ہوتا،گرنے پر ذرا دیر رویا ، پھر چلنا شروع کردیا،اس سے میں نے یہ سیکھا کہ زندگی کی دوڑ میں اسی طرح ہر دم رواں دواں رہنا چاہیے، ناکامیاں ہماری راہ کھوٹی نہ کرنے پائیں، ہر ٹھوکر ہمارے عزم کو پختہ کرے ، اس لیے کہ جہاں جدّو جہد کرنے والے کی ہمّت ٹوٹنے لگتی ہے اس کے اگلے قدم پر منزل ہوتی ہے،

ننّھا معلّممیرے گھر کا بیرونی دروازہ تھوڑا اونچا ہے،ابراہیم اس پر چڑھ نہیں پاتا تھا،وہ چڑھنے کی کوشش کرتا رہا،بار بار کی ناکامی کے بعد ایک بار خود سے چڑھنے میں کام یاب ہوگیا، مگر واپس کیسے اترے؟ اس کی سمجھ میں نہیں آیا _ تھوڑی دیر کھڑا دیکھتا رہا ،دفعۃً میں نے دیکھا کہ وہ پلٹا ، زمین پر لیٹ گیا ، پھر پیر لٹکائے ، کھسکتے کھسکتے پیر زمین سے لگے تو اسے اطمینان ہوا اور وہ آہستہ آہستہ کھڑا ہوگیا، پھر تو اسے چڑھنے اترنے کی مشق ہوگئی،اس سے میں نے سیکھا کہ کوئی کام مشکل نہیں ،ہر آسان کام مشکل ہے ، اگر ہم اسے کرنے کی ہمّت نہ کریں اور ہر مشکل کام آسان ہے ، اگر ہم اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا تہیّہ کرلیں ، کسی کام کی انجام دہی سے قبل اس کی منصوبہ بندی اہم ہے، یہ اندازہ لگانا بہت ضروری ہے کہ اسے کیسے بہتر طریقے سے انجام دیا جاسکتا ہے؟
ابراہیم کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر کام وہ خود انجام دے _ اپنے ہاتھ سے کھانا کھانا ، پانی پینا ، دودھ پیتے وقت گلاس خود پکڑنا ، اسی طرح دوسرے کام وہ خود کرنے کی کوشش کرتا ہے،کوئی دوسرا کھلانے لگے یا دودھ پیتے وقت گلاس پکڑ لے تو اس کا ہاتھ ہٹا دیتا ہے،اس سے میں نے یہ سیکھا کہ اپنے کام خود کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے، ان کی انجام دہی کے لیے دوسروں کی محتاجی اچھی چیز نہیں، دوسروں پر انحصار سے کاہلی اور تن آسانی پیدا ہوتی ہے،
  ابراہیم اپنے بہت سے کام روکر نکال لیتا ہے،اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھے نہیں جاتے،جہاں اس نے رونا شروع کیا کوئی نہ کوئی دوڑ کر اٹھالیتا ہے اور چپ کرانے کی کوشش کرتا ہے، اس کی ماں کی توجہ ہر وقت اس کی طرف رہتی ہے ،وہ ایک لمحہ بھی اس سے غافل نہیں رہتی ،اس کے رونے کی ذرا سی آواز آئی ، فوراً بھاگ کر جاتی ہے اور اٹھا لیتی ہے ،اس سے میں نے سیکھا کہ بہت سے کام رو کر نکالے جا سکتے ہیں، ہم کسی پریشانی ، مصیبت ، تکلیف میں مبتلا ہوں ، فوراً روئیں ، گڑگڑائیں،اللہ تعالٰی ضرور سنے گا اور پریشانی کو دور کرے گا،ایک ماں اپنے بچے سے جتنی محبّت کرتی ہے اس سے کہیں زیادہ محبت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کرتا ہے 
      ابراہیم ہر کام کی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے، مجھے موبائل چلاتا دیکھ کر اسے چھین لیتا ہے اور کِی بورڈ پر انگلیاں مارنے لگتا ہے ،اس میں پاس ورڈ لگا ہوا ہے موبائل آن کرکے پاس ورڈ کھولنے کی کوشش کرتا ہے، مجھے کتابوں کی ورق گردانی کرتے دیکھ کر اسے کتاب پڑھنے کا شوق ہوگیا ہے،کوئی کتاب پکڑادوں،اسے کھول کر غوں غاں کرنے لگتا ہے،آج کل گھر میں سب کو باجماعت نماز پڑھتا دیکھ کر اسے بھی اللہ اکبر کرنا اور نیت باندھ کر کھڑا ہونا آگیا ہے،اس سے میں نے سیکھا کہ بچے ماحول کا زبردست اثر قبول کرتے ہیں ، گھر میں جیسا ماحول ہوگا ، بچوں پر ویسا ہی اثر پڑے گا، ہر وقت ٹی وی چلے گا ، فحش سیریل دیکھے جائیں گے ، لڑائی جھگڑا ، ڈانٹ ڈپٹ اور گالم گلوچ ہوگی تو بچے وہ سب سیکھیں گے،نماز پڑھی جائے گی،قرآن مجید کی تلاوت ہوگی ،کتابوں کا مطالعہ کیا جائے گا، پیار و محبت کی باتیں ہوںگی تو بچے ان سب کی نقل کرنے کی کوشش کریں گے،ابراہیم ابھی ایک لفظ بھی صاف نہیں بول پاتا ، لیکن وہ ہر بات سمجھ لیتا ہے اور اپنی ہر ضرورت کا اظہار کرلیتا ہے،جا نماز اٹھا لاؤ ، کھانے کی پلیٹیں لے آؤ ، گلاس اٹھا دو ، پانی کی بوتل دے دو،سنتے ہی ہر کام دوڑ دوڑ کر کرتا ہے، اسی طرح اسے بھوک لگی ہے ، پیاس لگی ہے، پیشاب یا پاخانہ لگا ہے، اپنی ہر ضرورت وہ بتا دیتا ہے،اس سے میں نے سیکھا کہ اللہ اور بندے کا تعلق اسی طرح الفاظ کا محتاج نہیں ہے، مسنون دعائیں یاد کرنی چاہیں، لیکن اللہ تعالیٰ ہر زبان کی دعائیں سنتا ہے،بلکہ وہ تو بے زبانوں کی بھی سن لیتا ہے،ہم اس کے آگے ہاتھ تو پھیلائیں ، اس سے اپنی ضرورتیں تو بیان کریں،
 میں گھر میں داخل ہوا ، کسی کام میں لگ گیا، ابراہیم کی طرف توجہ نہیں دی تو وہ ناراض ہوجاتا ہے، ناراضی کا اظہار کرنے کے لیے وہ ایک طرف جاکر ایک گال زمین پر رکھ کر لیٹ جاتا ہے اور اس کی ناراضی اس وقت تک دور نہیں ہوتی جب تک میں جاکر اسے اٹھا نہ لوں اس سے میں نے سیکھا کہ کہ رضا حاصل کرنے کے لیے توجہ دینی پڑتی ہے، ہم نمازیں بے خیالی میں پڑھتے ہیں، بسااوقات یہ تک یاد نہیں رہتا کہ کتنی رکعتیں ہوئیں ، نماز کے دوران ہمارا ذہن اِدھر اُدھر  بھٹکتا رہتا ہے ، ہم دعا مانگتے ہیں تو ہمیں یہ نہیں معلوم ہوتا کہ ہم نے کیا دعا مانگی ہے؟ اس کے باوجود ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوگی اور وہ ہماری دعائیں سنے گا،
    میرا پوتا ابراہیم ہے تو ابھی ننّھا سا ، لیکن وہ میرا معلّم بنا ہوا ہے، روزانہ اس سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے طویل زندگی دے ،آمین

No comments: