جديد مضامين

Thursday, April 9, 2020

Shabe bara-at barkaat ke nuzool ki raat hai gab shap ki nahi :شب برات برکات کے نزول کی رات ہے، گپ شپ کی نہیں۔


۔
Shabe bara-at barkaat ke nuzool ki raat hai gab shap ki nahi



 محمد مدثر اعظمی 
 یہ بات تو متیقن ہے کہ اسلامی دنوں میں چند مخصوص ایام کو دیگر ایام پر افضلیت حاصل ہے اور ان کی ایک علاحدہ انفرادیت ہے؛ شب براءت بھی ان خاص ایّام کا ایک حصہ ہے۔ شب براءت اسلام کے آٹھویں مہینے شعبان کی ١۵ ویں رات کو کہتے ہیں۔ اس رات کو شب براءت اس لئے کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اس رات کو اللہ تعالی بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں اس رات کولا تعداد جہنمیوں کو جہنم سے رہاکیاجاتاہے۔

 یہ رات مسلمانوں کے لئے آہ وگریہ وزاری اور عبادات کی رات ہے، رب کی کثرت سے عبادت کرنے کی رات ہے، اس کے سامنے اپنے گناہوں سے معافی مانگنے کی رات ہے، توبہ کرنے کی رات ہے، اسے منانے کی رات ہے؛ لیکن افسوس کہ آج ہم نے اس بابرکت رات کو کھیل وتماشہ کی رات بنا رکھا ہے؛ ہم آتش بازی، پٹاخے، لہو ولعب اور دیگر لغویات میں مبتلا رہتے ہیں اور اپنا قیمتی وقت مبذول کرتے ہیں، جبکہ اس رات کو ہمیں اپنے رب کے حضور گڑگڑانے اورزیادہ سے زیادہ توبہ واستغفار کی ضرورت ہے۔
 مسلمانوں کو اس رات میں قران کریم کی تلاوت، تسبیحات کا ورد اوردیگر نفلی عبادتوں کا اہتمام کرناچاہئیے؛ لیکن وہ اس رات میں قبرستان کی زیارت کرنا واجب سمجھتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ یہ ایک طرح عبادت ہے، جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف ایک مرتبہ قبرستان جاناثابت ہے۔ اسلئے اگر کوئ پوری زندگی میں ایک دو مرتبہ اس رات قبرستان چلاجائے تو کوئ حرج نہیں ہے؛ لیکن اسکا معمول بنانا، اسے لازم سمجھنا اور اسے عبادت قرار دینا خلاف شرع اور بدعت ہے؛ اسی طرح اس رات حلوے پکانا، محفلیں منعقد کرنا، مخصوص نماز کے لیے اکٹھا ہونا، مخصوص دعائیں کرنا،(مثلا: اللہم یا ذا المن ولا یمن ....الخ)، مردوں کی روحوں کی طرف سے صدقات وخیرات کرنا، اس رات سے ایک دو دن قبل قبروں کو درست کرنا، اس پر چراغاں روشن کرنا، قمقمہ جلانا، پھول پتیاں چڑھانا، اگربتیاں جلانا وغیرہ؛ یہ تمام بدعات وخرافات ہیں، ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کو ان خرافات اور بری رسموں سے محفوظ فرماے؛ یہ بے بنیاد باتیں ہیں اور شریعت کے ساتھ مزاق ہے۔ اللہ رحم فرمائے۔ اسی طرح بعض حضرات یہ خیال کرتے ہیں کہ اس رات میں ایک مخصوص طریقے سے دو رکعت نماز پڑھ لی جائے تو جو نمازیں قضا ہوگئیں وہ سب معاف ہوجائیں گی۔ یہ بالکل بے اصل اور بے بنیاد ہے، جس کی کوئ حقیقت نہیں ہے، بدعت ہے، بدعت۔ ایسے لوگوں کے لیے سخت وعیدیں آئی ہیں، حدیث شریف میں آتا ہے: "فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا، وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ ؛ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ". (سنن أبي داود | أَوْلُ كِتَابِ السُّنَّةِ | بَابٌ : فِي لُزُومِ السُّنَّةِ ، رقم الحدیث 4607) ترجمہ : مسلمانو! تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے ہی کو اختیار کرنا اور اسے مضبوطی سے تھامے رکھنا اور دین میں اضافہ شدہ چیزوں سے اپنے کو بچاکررکھنا اس لئے کہ دین میں نیا کام ( چاہے وہ بظاہر کیسا ہی ہو) بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔ 
عہد خیرالقرون، یعنی صحابہ کرام کا دور ، تابعین کا دور، تبع تابعین کادور؛ ان ادوار میں اس رات خصوصی عبادات کا اہتمام ضرور کیا گیا ہے؛ لیکن وہ عبادات تھیں؛ آج کی رسومات وخرافات نہیں تھیں، ان عبادات میں تو بدعات وخرافات کا شائبہ تک نہیں تھا۔ اور جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اس رات عبادت کی کوئی فضیلت نہیں، یہ بے اصل ہے؛ چوں کہ ان کا خیال ہے اس عنوان کی روایت سندا کمزور ہیں؛ بیشک کمزور ہیں؛ لیکن حضرات محدثین اور فقہاءکا یہ فیصلہ ہے کہ اگر ایک روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہو؛ لیکن اس کی تائید دیگر کئی احادیث سے ہوجائے تو اسکی کمزوری دور ہوجاتی ہے اور تقریبا دس صحابہ کرام سے اسکی فضیلت میں روایات موجود ہیں؛ چنانچہ اسی شب براءت كےمتعلق دس صحابہ سے روایات مروی ہیں تو اس صورت مین اسے بے  بنیاد اور بے اصل کہنا بہت غلط ہے۔ تو ثابت ہوا: یہ لاریب حقیقت ہے کہ اس رات عبادت کرنا باعث اجر وثواب ہے اور اس رات میں برکات کا نزول ہوتا ہے، اس کی ایک خاص اہمیت ہے۔ (اصلاحی خطبات(٢٦٦/۴) البتہ عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں کہ فلاں طریقہ سے عبادتیں کی جائیں؛ البتہ اس سلسلے میں چند باتیں پیش نظر رہنی ضروری ہیں
  
(1)
نفلی عبادت تنہائی میں اور اپنے گھر میں ادا کرنا افضل ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ
  حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اِجْعَلُوْا فِیْ بُیُوْتِکُمْ مِنْ صَلَاتِکُمْ وَلَا تَتَّخِذُوْہَا قُبُوْرًا“ (بخاری شریف ۱/۱۵۸) اپنی نماز کا کچھ حصہ اپنے گھروں میں بناؤ یعنی نوافل گھر میں ادا کرو اور ان کو قبرستان نہ بناؤ کیونکہ قبرستان میں نماز نہیں پڑھی جاتی (تحفة القاری ۳/۵۰۷
(2)
اس رات میں عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں: نفلی نمازیں، تلاوت، ذکر واذکار اور صلاة التسبیح وغیرہ؛ کوئی طریقہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے؛ مقصود اللہ رب العزت کی عبادت ہے۔ 
(3)
 اپنی ہمت اور طاقت کے مطابق عبادت کرنی چاہیے، اتنا بیدار رہنا صحیح نہیں ہے کہ آدمی بیمار ہوجائے۔ 
(4
 اگلے دن روزہ رکھنا مستحب ہے، رکھنا چاہیے۔ خلاصہ یہ کہ یہ رات برکات کے نزول کی رات ہے، رب کی عبادت کرنے کی رات ہے، اس رات دعائیں قبول ہوتی ہیں؛ کثرت سے توبہ واستغفار کرنا چاہیے۔ اس رات فضول گپ شپ، شب بیداری کرنا، گلیوں، چوراہوں اور ہوٹلوں میں وقت گذارنا بالکل بے سود؛ اور بے مقصد ہے۔ اللہ ہم سب کو اس بابرکت رات کی برکت نصیب فرما، آمین۔

No comments: