جديد مضامين

Sunday, June 7, 2020

آنسؤں سے لکھ رہا ہوں بے بسی کی داستاں: قسط دوم


آنسؤں سے لکھ رہا ہوں بے بسی کی داستاں: قسط دوم

گذشتہ سے پیوستہ
قسط دوم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سحری سے فراغت کے بعد باجماعت فجر کی نماز ادا کی اور تسبیحات پڑھتے ہوئے بستر پر دراز ہوگیا۔ نیند کی شدت کی وجہ سے آنکھیں بری طرح بوجھل تھیں۔ لیکن کوشش کے باوجود میں سو نہیں پارہا تھا ہلکی سی اونگھ آتی۔ پھر آنکھ کھل جاتی۔ بہت جتن کیے  ؛ لیکن ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔

احوال کیا بیاں میں کروں ہائے اے طبیب
ہے درد اس جگہ کہ جہاں کا علاج نہیں 

وقت گزر رہا ہے۔ گھڑی کی ٹک ٹک بہ دستور جاری ہے۔ ظہر ہوگئی۔ ظہر سے عصر کا وقت ہونے کو ہے۔ اور اب سہہ پہر کے چار بج چکے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے آج رمضان کا چوتھا روزہ ہے۔ سکون کسی طرح نہیں آرہا۔ قلب و دماغ پریشان ہے۔ اسی پریشانی کے عالم میں کبھی لیٹ جاتا ہوں۔ کبھی بیٹھ جاتا ہوں۔ کبھی خواب و خیالات میں گم بستر پر دراز ہوجاتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ مصائب آتے ہیں، پریشانیاں ڈیرہ ڈال دیتی ہیں۔ غم و الم در پر کبھی بھی دستک دے دیتے ہیں۔ حالات کا آنا زندگی کا جزوِ لاینفک ہے ؛مگر قرار پھر بھی نہیں آرہا۔ طبیعت بے چین ہے۔ یہاں کی تنہائی کاٹ رہی ہے۔ سوز دروں سے ٹیس اٹھ رہی ہے اور میں کہیں غم کی وادیوں میں گم ہوگیا ہوں

آرزو، ٹیس، کرب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تنہائی
خود میں کتنا سمٹ گیا ہوں میں

تھوڑی دیر پہلے ڈاکٹروں کی ٹیم آئی تھی۔ جو ہم سب کا لعاب اور ناک کے ذرات کرونا چیک اپ کے لے گئی  ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ سبھی ساتھیوں کی رپورٹ نارمل آئے۔ 

کچھ دیر قبل گھر بھی بات ہوئی تھی۔ ام رمشاء نے کہا رات سے آپ کی کال کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ آخر کہاں ہیں؟ کیسے ہیں؟ سب خیریت تو ہے نا؟ چیک اپ ہوا یا نہیں؟ 
میں نے کہا مجبور ہوں، اپنا موبائیل تو پاس میں ہے نہیں۔ دوسرے کا موبائیل لینا پڑتا ہے۔ نیز انھوں نے بتایا کہ بڑی ہمشیرہ ام حمزہ مستقل رو رہی ہیں، بار بار آپ کی فکر ستائے جا رہی ہے۔ ابو، بڑے بھائ اور دیگر اعزا سب پریشان ہیں۔ جب اہلِ خانہ  کے متعلق یہ سب باتیں سنیں تو آنکھیں اشک بار ہوگئیں۔ دل رندھ گیا۔ اور جذبات بل کھانے لگے۔ قریب تھا کہ چیخیں مار مار کر رونے لگوں ؛مگر خود کو بڑی مشکل سے سمجھایا کہ اگر میں کال پر رو پڑا تو امِ رمشاء بھی رونے لگ جائیں گی۔ اس لیے ہر طرح سے جھوٹی تسلی دینے کی کوشش کی کہ کوئی پریشانی نہیں، یہاں سب مزے میں ہیں۔ الحمد للہ بہت آرام ہے۔ اللہ پاک کا شکر ہے آپ بے فکر رہیں اور سب سے دعا کے لیے کہیں!

ان کے ستم بھی کہہ نہیں سکتے کسی سے ہم
گھٹ گھٹ کے مر رہے ہیں عجب بے بسی سے ہم

صیاد کے کرم سے قفس آشیاں ہوا

ہمارا یہ آشیاں 25 روم پر مشتمل ایک ہاسٹل ہے۔ ہر روم میں چار بندوں کے رہنے کے لیے پَلَنگ کا نظم ہے۔ دو دو پنکھے لگے ہوئے ہیں۔ درمیان میں ہال کافی کشادہ ہے۔ دوسری منزل میں کمروں کے باہر گیلری ہے جس میں آپ آزادی سے گھوم سکتے ہیں۔ نیچے دالان میں ایک سرکاری نَل ہے جس کا پانی اس قدر پیلا اور ریتیلا ہے کہ دس منٹ رکھنے کے بعد حلق سے نیچے نا اترے اور آپ اسے کسی طرح پینا گوارا نا کریں۔ پہلے پہل جب یہ پانی دیکھا تو اس کا رنگ دیکھ کر کسی بدمزہ مشروب کا گمان ہوا ، دل اس کے پانی ہونے کی گواہی دینے تیار نہیں تھا۔ آخر حقیقت کا انکاری کون ہوسکتا ہے، مجبورا تسلیم کرنا پڑا اور وہی پانی بہ طور آب حیات کے استعمال میں لانا مجبوری بن گیا
اوپر کی منزل میں ایک سمت کے بیت الخلا میں مستقل کرنٹ رہتا ہے۔ آج مجھے وہاں جانے سے منع کردیا تھا کہ اس طرف مت جانا ورنہ کرنٹ لگ جائے گا۔ جب کہ گذشتہ کل ایک بار جاکر میں کرنٹ کے جھٹکے سے محظوظ ہوچکا تھا ؛لیکن میں نے اس بات کا کسی سے تذکرہ نہیں کیا تھا کہ شاید یہ وقتی ہوگا ۔ 
بیت الخلا میں لوٹے وغیرہ کسی چیز کا نظم نہیں۔ ہم سے پہلے آئے ہوئے لوگوں نے پانی کی بوتل رکھی ہوئی تھیں۔ رات کے وقت بیت الخلا جانا ہوا تھا تو اس قدر دہشت طاری ہوئی کہ الاماں والحفیظ۔ وہاں کا ماحول جب کہ لائٹ بھاگی ہوئی ہو تو بھیانک منظر پیش کرتا۔ کیوں کہ اوپر کی سمت شیشے کی ونڈو (window) ہے جس سے متصل درخت ہے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی ابھی آجائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی بھیانک اور پرانی ٹائپ کی حویلی اور بھوتیہ گھر کا سا نقشہ ہے
خیر الحمد للہ علی کل حال۔ بس اللہ پاک میرے اہلِ خانہ اور سبھی اعزا کو صبر عطا فرمائے اور جلد از جلد ہم سب کو گھر پہنچائے آمین یا رب العالمین

عصر کا وقت ہونے کو ہے۔ بھوک کافی زور سے لگ رہی ہے۔ ذہن بھی پریشان ہے۔ اس لیے کافی کوشش کے باوجود دلجمعی سے مطالعہ نہیں ہو پا رہا ہے۔ اللہ پاک اس امتحان سے جلدی نکال دیں۔

آج بھی کچھ اور لوگ یہاں آئے ہیں۔ مجھے تو ابھی معلوم ہوا ؛کیوں کہ میں تو بس کمرے میں قید ہوکر رہ گیا ہوں۔ اور اب یہاں تقریبا 70 افراد ہوچکے ہیں۔ 
کورنٹائن سینٹر کا یہ دن بھی گرچہ 24 گھنٹے کا ہے ؛لیکن ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یہ لمحات اپنی متعینہ مدت سے کتنے طویل ہوگئے ہیں 

ایام مصیبت کے کاٹے نہیں کٹتے
دن عیش کے گھڑیوں میں گزرجاتے ہیں

جی تو کسی کا نہیں لگ رہا بس سب کے لبوں پر یہ دعا ہے رب کریم سبھی کو جلد از جلد اپنے اپنے گھر پہنچا دیجیے

کیوں گرفتاری کے باعث مضطرب صیاد ہوں
لگتے لگتے جی قفس میں بھی مرا لگ جائے گا

کورنٹائن میں دوسرا روزہ

پوری رات مچھروں کا ظلم و ستم سہتے سہتے گزری۔ نیند آتی بھی تو کیسے۔۔ مزید کرم یہ کہ لائٹ بھی کافی دیر تک غائب رہی۔ لیکن خیر تکان سے چور بدن کو تھوڑی بہت دیر آرام دینے کے لیے نیند مختصر سی آگئی تھی کہ

؂بستر پہ لیٹے لیٹے مری آنکھ لگ گئی

پھر تقریبا سوا تین بجے اٹھ کر تہجد وغیرہ سے فارغ ہوا اور آج، کل کی بہ نسبت سحری زیادہ کھائی اور حدیث نبوی  "تسحروا فان فی السحور برکة" کے مطابق زیادہ برکت حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اور آج تو چائے بھی وقت پر آگئی تھی۔ چائے کیا۔ نام تھا چائے ورنہ "دودھ کم، پانی زیادہ" کہا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ اور ابھی سحری سے فارغ ہوکر ریاست چاچا کا قرآن لے کر آیا ہوں۔ فجر سے قبل ایک پارہ پڑھ لیا ہے۔ اذان ہوچکی ہے اس لیے اب فجر کی نماز ادا کرنی ہے۔ ملتے ہیں تھوڑی دیر کے بعد 

مصائب میں الجھ کر مسکرانا مری فطرت ہے

آج 17 منٹ تک گھر بات کرتا رہا ؛لیکن اس دوران کسی سے ایک بھی  پریشانی کا تذکرہ نہیں کیا ؛بل کہ صبر کی تلقین کی اور دعا کے لیے کہتا رہا
یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ انسان کو ہمیشہ اپنی ذات سے جس قدر ہوسکے دوسروں کو خوشیاں دینی چاہیے۔ دوسروں کے لبوں پر مسکراہٹ لانے کی ہمہ وقت کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ گھر والوں کو یقین تھا کہ احمد کے ساتھ پریشانیاں ضرور ہوں گی۔ اگر میں بھی چاہتا تو مصائب کا ذکر کرکے انہیں شریک غم کرسکتا تھا لیکن اس کے نتیجے میں ایک دو نہیں میری پوری فیملی پریشان ہوجاتی۔ میرے والد محترم، عزیز بھائی سبھی بہنیں اور دیگر اعزا سب کو رنج و غم لاحق ہوتا۔ اس لیے خود سب برداشت کرکے انہیں یہ باور کرایا کہ میں بحمداللہ آرام سے ہوں آپ بس آرام سے رہیں۔

خوب صورت احساس

ابھی فجر بعد وظائف پڑھتے ہوئے جب درود کی تسبیح پڑھنے لگا تو ایک عجیب سی محویت اور سرور کی کیفیت محسوس ہوئی، خود کو ایسا لگا جیسے مدینہ طیبہ میں روضہ اقدس کے سامنے کھڑا ہوں۔ اور زباں پر درود کا ورد ہے۔ اور خود حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم بہ راہِ راست میرے درود پڑھنے کو سن رہے ہیں۔ یہ سب منظر بالکل سامنے ہے کہ اچانک سے یہ محویت ختم ہوگئی اور میں رب سے یہ التجا کرنے لگا کہ رب کریم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب فرمائے۔ اور اس موقع پر یہ تمنا بار بار دل میں جاگ رہی ہے کہ

؂ مرے پلکوں کی ہو جاروب رسول عربیؐ
اور
نبیؐ کے شہر میں مدفن ہے آرزو دل کی
اب اس کے بعد کوئ اور آرزو کیا ہے؟

جاری۔۔۔۔

No comments: