جديد مضامين

Sunday, June 7, 2020

خلوص ہو تو کہیں بندگی کی قید نہیں :آپ بیتی


خلوص ہو تو کھیں بندگی کی قید نہیں :آپ بیتی


گذشتہ سے پیوستہ
قسط سوم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی ریاست چاچا آدھا گھنٹے سے زیادہ میرے پاس  بیٹھ کر گئے ہیں۔  اس دوران انھوں نے اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی کی تکلیف دہ داستان سنائی جس کو سن کر میں ظالم سماج  کی بربریت اور معاشرے میں رائج رسومات کی قباحت کے متعلق دیر تک سوچنے لگا کہ معاشرہ کس قدر سطحیت کی جانب گامزن ہے اور میں من ہی من میں سوچنے لگا  کہ شریعت کی مکمل اتباع میں کتنا سکون ہے ؛لیکن ہمارا اچھا پڑھا لکھا طبقہ چاہے وہ مذہبی ہی کیوں نا ہو ،حیلوں کی آڑ میں اس صنف پر کتنا ظلم و ستم کرجاتا ہے کہ احساس تک نہیں ہو پاتا اور اس کا وبال یہاں نا سہی کل قیامت میں ضرور آئے گا

چاچا کی اکلوتی بیٹی

وہ بڑے پرسوز لہجے میں بتانے لگے کہ میری اکلوتی بیٹی ہے۔ ہم نے اس کی شادی 2017ء میں کافی دیکھ بھال کر کی تھی ؛لیکن کیا بتاؤں مولانا صاحب بڑے عجیب لوگ ملے ہیں۔ رشتہ پکا ہونے پر ایک لاکھ پانچ ہزار روپیے دیے اور شادی کے وقت دو لاکھ نقد۔ مزید یہ کہ لڑکے والوں نے کہا تھا کہ ہمیں جہیز میں ایک چمچ بھی نہیں چاہیے اور صرف 40 آدمی آئیں گے ؛لیکن وہ 80 آدمیوں کا لشکر لے کر بارات کی شکل میں ہم پر حملہ آور ہوئے۔ خیر ان کی خاطر اچھے سے اچھا جتنی ہماری ہمت تھی کھانے پینے کا نظم کیا ؛لیکن اب زندگی ناسور بن چکی ہے۔ میری ایک پوتی بھی ہے۔ آئے دن جھگڑے ہوتے ہیں۔ لاک ڈاؤن سے  پہلے میری بیٹی گھر آگئی تھی اور میرا داماد لے کر جانے کو تیار نہیں۔۔

سوچیں ذرا رسومات کو ہم نے کتنا بڑھاوا دیا ہے۔ شادی کی رسومات کو ہم نے کتنی اہمیت دے دی ہے کہ ایک مذہبی شخص بھی مکمل سادگی کے ساتھ شادی کرنے کو تیار نہیں ؛اگر کچھ کہا جائے تو آگے سے جواب دیا جاتا ہے کہ ہم نے کون سا کہا تھا  جہیز وغیرہ دینے کو۔ انہوں نے خود دیا ہے ؛لیکن ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں اگر وہ آپ کے سرسری طور پر منع کرنے کو جسے آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ "ہم نے تو نہیں کہا تھا کچھ دینے کو" حقیقی سمجھ کر آپ کو کچھ بھی نا دیتے تو کیا آپ یا آپ کے گھر والے ان کی بیٹی کو کبھی جہیز نہ لانے پر طعنہ نہ دیتے۔؟ ٹھنڈے دل سے سوچیے۔ ہاں بات تو اس وقت تھی آپ صاف کہہ دیتے کہ مکمل شرعی طریقے سے شادی کرنی ہے تو کروں گا ورنہ نہیں۔۔۔!!

اس ظلم کا  ذمے دار کون ہے؟

ریاست چاچا بھی بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک اور شخص نے ان کی بیٹی کی داستان سن کر اپنی بہن پر ہوئے ظلم وستم کی داستان چھیڑ دی ۔ انھوں افسردہ لہجے میں کہا  ہماری ایک بہن مطلقہ ہے۔ 6 سال ہوچکے ہیں گھر بیٹھے ہوئے ؛لیکن ابھی تک ان کی شادی نہیں ہوسکی۔ وجہ یہ بنی کہ تایا زاد بھائ سے شادی ہوئی تھی تو انہوں نے شادی کے اگلے دن ہی زمین کے بٹوارے کی بات کردی اور لڑائی جھگڑے پر آمادہ ہوگئے نیز اس لڑکے کا کہیں اور چکر تھا۔ صرف والدین کی وجہ سے شادی کرلی تھی جس کا خمیازہ میری بہن کو بھگتنا پڑا اور اسے دو مہینے کے اندر ہی طلاق مل گئی۔

یہ سب کیا ہے۔۔۔؟ والدین کو ذمے ڈار ٹھہرایا جائے یا اس لڑکے کو؟ کس کا رونا جائے؟ کس کے سامنے نالہ و فریاد کی جائے؟ کس کے سامنے معاشرے میں رائج برائیوں کا تذکرہ کیا جائے۔ اپنی اصلاح کرنا کوئی نہیں چاہتا۔ سب دوسروں کے سر تھوپ دیتے ہیں۔ اور سب کو دوسروں میں برائیاں نظر آتی ہیں۔
 مذکورہ بالا سطور میں دو باتیں سمجھ میں آتی ہیں کہ والدین کو اپنی اولاد کی جائز خواہشات کا  بھی مان رکھنا چاہیے خاص کر شادی کے موقع پر اپنی پسند کو ناک کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔ علاوہ ازیں اپنی اولاد کو صحیح تربیت سے آراستہ کرنا چاہیے 
اور اولاد کو اولا غلط لائن میں نہیں جانا چاہیے اور اگر بری صحبت کی وجہ سے غلط راستے پر چل پڑیں تو ماں باپ کی باتوں پر بھی غور کرنا چاہیے۔ اور ان کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔!
ان شاءاللہ اگر والدین اولاد کے حقوق اور ان کے جذبات کو سمجھیں اور اولاد والدین کے حقوق کا پاس و لحاظ کریں، تو کل کسی کی بیٹی اس طرح طلاق کا داغ لے کر اپنے گھر نہیں بیٹھی رہے گی ورنہ اس کا وبال اولاد کے ساتھ ساتھ والدین پر بھی پڑے گا۔ 

اے کاش کہ میں تم سا بن سکوں۔۔۔!

آج صبح کے وقت ایک خواب دیکھا کہ یہ حقیر بندہ اور والد محترم -حفظہ اللہ- کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہمارے سامنے ایک میز پر کچھ کتابیں ادھر ادھر رکھی ہوئی ہیں۔ اور دوسری سمت کوئی حضرت چشمہ لگائے مطالعے میں مصروف ہیں۔ ابو نے حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی کسی کتاب کے متعلق کچھ وضاحت طلب کی۔ میرے علم میں وہ بات نہیں تھی اس لیے میں نے حضرت کو کال کی۔ کسی اور نے کال اٹھائی تو میں نے اپنا نام بتایا اور حضرت سے بات کرنے کی اجازت طلب کی۔ پھر میں نے حضرت سے والد صاحب کے سوال کے متعلق دریافت کیا۔۔حضرت نے مختصرا جواب دیا، جس پر میں ہاں ہاں کرتا گیا اس کے بعد کال منقطع ہوگئی۔ 
تھوڑی دیر بعد جو حضرت ہمارے سامنے بیٹھے مطالعے میں مصروف تھے انہوں نے اپنا چشمہ اتارا اور مجھے اپنے ساتھ کرلیا۔ 
معلوم ہوا کہ یہ تو شیخ الاسلام حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ ہی ہیں۔ 
میں ادبا پیچھے  پیچھے چلنے لگا پھر حضرت نے بغیر میرے کچھ کہے فون پر پوچھے گئے سوال کی از خود  چلتے ہوئے وضاحت کی۔
خواب کا بقیہ حصہ یاد نہیں۔ نہ والد صاحب کا سوال یاد ہے اور نا ہی مفتی صاحب کا  جواب۔ بس حضرت کا مبارک چہرہ بہت اچھے سے یاد ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے آج کل حضرت کی تصویریں آتی ہیں۔ 
اللہ پاک سے دعا ہے کہ حضرت کی عمر میں خوب برکت عطا فرمائے اور اس حقیر بندے کو حضرت جیسا بننے کی توفیق بخشے اور آپ کے علم میں سے وافر حصہ مجھے بھی عطا فرمائے آمین

اب قفس بھی آشیانہ ہوگیا

دیر رات آج یہ سطور لکھنے بیٹھا ہوں۔ جب تنہائی، شب کی تاریکی، اہلِ خانہ سے دوری، اور سلاخوں کے پیچھے بے بسی و بے کسی ہوتی ہے تو ایک طالب علم کا کاپی قلم اور کتاب کے علاوہ بہترین ساتھی اور کیا ہوسکتا ہے 
؛اس لیے خون جگر سے کچھ صفحات سیاہ کرنے بیٹھا ہوں

آو! قفس میں کچھ بات دین کی کریں

آج ظہر بعد کئی سارے ساتھی مفتی صاحب مفتی صاحب کرتے ہوئے کمرے میں آکر بیٹھ گئے۔ ان سے کافی دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ اور بحمد اللہ سیرت طیبہؐ، سیر صحابہؓ اور شیخ الہند و شیخ الاسلام و دیگر اکابر رحمہم اللہ کی تاریخ میں جو پڑھا تھا کہ انہوں نے قید خانے کو ہی دین کا مرکز بنادیا تھا اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنی بساط کے مطابق ان لوگوں کی ذہن سازی کی اور بہت ساری دین کی باتیں بتانے کا موقع میسر آیا۔

خلوص ہو تو کہیں بندگی کی قید نہیں
صنم کدے میں طواف حرم بھی ممکن ہے

بس رب کریم مجھے بھی اور ان سب ساتھیوں کو بتائی ہوئی باتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے

دل پھر سے بھر آیا

تراویح بعد ریاست چاچا سے موبائیل لے کر آیا اور گھر پر بات کرنے کے بعد ہمشیرہ ام سارہ کو کال کی۔ دوران گفتگو وہ رونے لگیں۔ ان کو صبر کی تلقین کی اور کافی دیر تک سمجھایا۔ اور اخیر میں ان کے یہاں موجود سبھی افراد کو سلام عرض کرنے اور اپنے لیے دعا کے لیے کہا۔ 
جب اس طرح کال پر کوئی اپنا روتا ہے تو دل بھر آتا ہے اور جی چاہتا ہے کہ خوب بلند آواز سے روؤں۔ بس طبیعت پر انقباض طاری ہوجاتا ہے اور بہ مشکل خود کو سمجھا کر آنسوؤں کو اندر ہی اندر پی جاتا ہوں 
میرے مولا مرے اہلِ خانہ کو صبر عطا فرمائے اور انہیں اس محبت کا بے پایاں اجر عطا فرمائے آمین

رات کافی ہوچکی ہے اس لیے آج بس اسی پر بس کرتا ہوں اب تھوڑا سا مطالعہ کرکے پھر ان شاءاللہ سونا ہے۔

چھٹا روزہ۔۔۔۔۔۔بہ روز جمعرات

"سحری کا ٹائم ختم ہوگیا ہے،  سبھی حضرات روزے کی نیت کرلیں" 
ریاست چاچا کے اس اعلان پر ہڑبڑاتے ہوئے آنکھ کھلی۔ اٹھ کر کمرے کا جائزہ لیا۔ تو چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا۔ یعنی آج بغیر سحری کے ہی روزہ رکھنا ہوگا، رفقاے کمرہ بھی مکمل نیند میں ہیں۔ ان کو جگایا اور دیگر ساتھیوں سے معلوم ہوا کہ رات ساڑھے بارہ بجے سے لائٹ غائب ہے۔ لائٹ جانے کا تو مجھے علم تھا کیوں کہ اس کے بعد ہی بستر پر دراز ہوا تھا۔ 
نماز فجر بعد بھی لائٹ نے اپنا کوئی پتہ نہیں دیا اور تقریبا چھے بجے اپنا دیدار کرانے کے لیے تشریف لے آئی
پورے دن یہی صورت حال رہی جب کہ سورج چاچا آج پورے غصے میں لگ رہے تھے۔ پوری تمازت سے سب کو پسینے میں شرابور کیے رکھا۔ 

وقت اپنی سست رفتاری سے چلتا رہا تا آں کہ ظہر کی نماز ادا کی اور نماز بعد مطالعے کے لیے بیٹھا ہی تھا کہ ایک ایک کرکے ہردوئی، شاہ جہاں پور، نویڈا اور دیگر جگہ کے تقریبا آٹھ افراد یکے بعد دیگرے مفتی صاحب کہتے ہوئے کمرے میں جمع ہوگئے۔ ان سے مختلف دینی موضوعات پر گفتگو کا سلسلہ جاری رہا اور یہ سلسلہ کافی دراز ہوگیا حتی کہ شام کے چار بج گئے۔ اور صبح کے وقت سے لائٹ جو ہمارے ساتھ چھپا چھپی کھیل رہی تھی 4 بجے آئی۔ جس کے تھوڑی در بعد ساتھی آرام کرنے چلے گئے۔ 
افطاری کا وقت ہوا۔ افطاری کی لیکن الحمد للہ آج تمام دنوں سے زیادہ کھایا گیا فللہ الحمد والمنہ

دین سے اس قدر دوری

تراویح کے بعد ہمارے کمرے سے متصل کمرے کو چھوڑ کر دوسرے کمرے میں چند اشخاص سے ملاقات ہوئی۔ سبھی بچوں دار کچھ عمر رسیدہ۔ 
ان کا تعارف کیا کراؤں بس آپ اس سے اندازہ لگائیں کہ ان میں ایک شخص ایسا بھی تھا جسے یہ تک معلوم نہیں کہ استنجا کرنے بعد بھی وضو کیا جاتا ہے جب کہ وہ صاحب اولاد تھے ۔ ان کے ذہن میں علما اور جماعت کے متعلق اعتراضات اور طرح طرح کی خرافات بھری ہوئی تھیں جن میں ایک شخص کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ علما، ائمہ اور جماعت سے بد ظنی کی وجہ سے مستقل اپنے گھر میں نماز ادا کرتے ہیں اور اپنے آپ کو بہت بڑا اللہ والا تصور کرتے ہیں۔
اور ایک عمر دراز شخص ایسا کہ اگر آپ ملو تو کہو یہ بندہ تو مسلم ہی نہیں ہے۔ شکل و صورت اور لباس و حلیے سے ایک جاٹ غیر مسلم معلوم ہوتا۔ نماز روزے سے کافی دور اور ایک طرح کا بیر۔ 
ان سے تقریبا 2 گھنٹے تک گفتگو ہوتی رہی لیکن بحمداللہ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک شخص نے گفتگو کے اختتام پر یہ کہا کہ "میں اپنے بیٹے کو حافظ بناؤں گا، کون سا مدرسہ ٹھیک رہے گا؟"۔
اللہ پاک ان کے جذبے کو سلامت رکھے اور باقی سب کو ہم سمیت ہدایتِ تامہ نصیب فرمائے اور ہمیں علمِ دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 

آج یہ سبق سیکھا کہ دین کو صحیح اور مثبت طریقے سے پھیلانے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اور اس کے لیے سب سے زیادہ ضرورت ہے علم سے زیادہ صحیح تربیت سے لیس ہونے کی، کیوں کہ کردار سے جتنا انسان آپ کا اثر قبول کرتا ہے اتنا آپ کے علم سے نہیں ؛اس لیے ہمیں اپنی اصلاح کی فکر کرنے کی چاہیے! 
اللہ پاک توفیق دے اور ہمیں حسن اخلاق کی دولت سے نوازے آمین۔
کمرے میں آکر تھوڑی دیر ایک ساتھی سے بات ہوئی اور سوا بارہ بجے بستر پر دراز ہوگیا
اللہم باسمک اموت واحیا۔۔۔۔۔الخ

جاری۔۔۔۔۔

No comments: