جديد مضامين

Tuesday, July 28, 2020

حضرت ناظم صاحب مظاہر العلوم سہارنپور کی رحلت



حضرت ناظم صاحب مظاہر العلوم سہارنپور کی رحلت

حضرت ناظم صاحب مظاہر العلوم سہارنپور کی رحلت


              از: محمد شاہد اختر کھرساوی 

ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا
آنکھ حیران ہے کون شخص زمانے سے اٹھا

حضرت مولانا محمد سلمان صاحب مظاہری رحمۃاللہ علیہ ناظم اعلیٰ مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور  28 ذیقعدہ 1441ھ مطابق 20جولائی 2020 ء روز دو شنبہ پانچ بجے شام مختصر علالت کے بعد اپنے مالک حقیقی سے جاملے ، 
اناللہ واناالیہ راجعون. 

حضرت مولانا محمد سلمان صاحب مظاہری نوراللہ مرقدہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی نوراللہ مرقدہ کے چھوٹے داماد اور تلمیذ رشید تھے، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ حضرت مولانا خانقاہ خلیلیہ کے ذمہ دار تھے،حضرت نے اکابر کے سامنے آنکھیں کھولیں اور تربیت پائ، پلے بڑھے،ان کی زندگی کو آنکھوں سے دیکھا اور اپنایا. 
حضرت مولانا رحمۃاللہ علیہ ایک قابل تقلید عالم دین تھے، آپ کی ذات مرجع الخلائق تھی،  پوری زندگی تعلیم وتدریس، قال اللہ وقال الرسول اور مدرسہ کی چہار دیواری میں گزاری، آپ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی رحمۃاللہ علیہ کے عزیز تھے، علمی لیاقت قابلیت اور ٹھوس استعداد  میں اپنی مثال آپ تھے،آپ کی وفات سے مدرسہ مظاہر علوم کی مسند نظامت سونی پڑ گئی،  آپ کی وفات سے مدرسہ کے نظام تعلیم میں جو خلا پیدا ہوا ہے اس کا بظاہر پر ہونا مشکل نظر آرہا ہے. 

رفتہ رفتہ علماء کا اس دار فانی سے رخصت ہونا افسوسناک اور نسل نو کے لیے لمحہ فکریہ ہے، اور حضرت مولانا کا اچانک دنیا سے رخصت ہو جانا انتہائی تکلیف دہ امر ہے، حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیم وتربیت ان ہی برگزیدہ ہستیوں کی آغوش میں ہوئی جو اپنے زمانے کے علم وفن کے شہسوار تھے اور ہر فن میں ید طولی رکھتے تھے، آپ کی وفات صرف ملک ہندوستان اور مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور کے لیے  سانحہ نہیں ہے  بلکہ مسلک دیوبند اور عالم اسلام کے لیے ایک افسوس ناک المیہ ہے. 

چند سال قبل حضرت شیخ الحدیث  حضرت مولانا محمد یونس صاحب جونپوری  نور اللہ مرقدہ کی رحلت اور اب حضرت مولانا محمد سلمان صاحب رحمہ اللہ کی  وفات جس سے مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور کی علمی فضاء میں زلزلہ آگیا ہے، 

حضرت مولانا اپنے اساتذہ و اکابر کے علم ومعرفت کے سچے جانشین تھے، آپ  نے شروع سے آخر تک تعلیم مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور میں حاصل کی اور تربیت بھی پائ، فراغت کے بعد تدریسی خدمات کا آغاز بھی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور ہی سے کیا اور زندگی کی آخری لمحہ تک تدریسی خدمات اور فرائض انجام دیتے رہے،  مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور  میں آپ کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی تھی، نظام تعلیم کو بہت مضبوطی سے سنبھالے ہوئے تھے اور امانت داری سے کام کرتے تھے، منظم ماحول قائم فرمایا، 
زمانے تعلیم ہی سے آپ کی علمی لیاقت کا چرچا ہونے لگا تھا حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ نے آخری زمانے میں الابواب والتراجم اور حاشیہ بذل المجہود کا کام آپ اور حضرت مولانا محمد عاقل صاحب شیخ الحدیث مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور کے سپرد کر دیا تھا  آپ اور حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد عاقل صاحب مدظلہ العالی نے حضرت شیخ الحدیث کے متعین کردہ امور کو بحسن وخوبی انجام دیا، 


انتظامی امور میں اللہ تعالی نے آپ کو خوب ملکہ عطاء فرمایا تھا، 
طلبہ کے مزاج سے آشنا تھے، نظم ونسق کا بہترین سلیقہ تھا، آپ کو مدرسہ میں تعلیمی ماحول کس طرح پیدا کیا جائے تعلیم کی نوعیت کیا ہو  ان سب چیزوں سے آپ بخوبی واقف تھے، مظاہر علوم کی خدمات میں آپ کا تیس سالہ عہدہ نظامت آپ کی زندگی کا عظیم شاہکار ہے  جس اعتبار سے آپ نے تعلیمی نظام کو سنبھالا  اور معیاری بنانے و ترقی دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے وہ تاریخ کا ایک زریں باب ہے، تعلیم و تربیت دونوں اعتبار سے خوب محنت کرتے،     خصوصی دلچسپی لیتے اور توجہ فرماتے تھے، درس میں غیر حاضری آپ کو قطعاً برداشت نہیں تھی ، 
آپ کا مزاج علمی تھا وہ چاہتے تھے اور طلبہ سے کہتے بھی تھے کہ جب گھر سے آگئے ہو تو اپنے آپ کو حصول علم میں کھپادو، تربیت کا بھی انوکھا انداز تھا بے مثال مربی تھے مدرسے کا تعلیمی نظام آپ کے دم سے قائم و دائم تھا، 

راقم الحروف نے بارہاں لوگوں سے سنا کہ حضرت مولانا محمد سلمان صاحب (ناظم صاحب) تعلیم کے معاملے میں سخت ہیں ، اصول وضوابط کے مکمل پابند تھے، خلاف ضابطہ نہ کوئی کام کرتے اور نہ ہی برداشت کرتے  تھے ایک نظام کے تحت کام کرنا آپ کو پسند تھا ، 


جب بھی میں سہارنپور گیا تو حضرت ناظم صاحب کو قریب سے دیکھا  اور ایک دفعہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عاقل صاحب مد ظلہ العالی، قاری ضیاء الدین صاحب اور حضرت مفتی محمد صالح صاحب کے توسط سے آپ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، لیکن  ملاقات مختصر رہی،  اس وقت محسوس یہ ہوا کہ حضرت مولانا کم گو انسان ہیں اور کام میں لگے رہتے ہیں، وقت پر دفتر میں تشریف لاتے اور گھنٹہ لگتے گھر کو روانہ ہو جاتے ، 

با رعب انسان، سر پر دو پلی ٹوپی، بھرا ہوا گول چہرہ، سفید کرتا  پائجامہ، سادہ انسان، جسم پر معمولی سا کپڑا، ہاتھ میں عصاء، اور بالکل اکابر کے طرز پر سادہ زندگی بسر کرنے کا معمول تھا،  اتنے بڑے عالم تھے لیکن اس کے باوجود سادگی  کا یہ عالم تھا کہ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر گھر تشریف لے جاتے، گھنٹہ سے پہلے ایک صاحب  حضرت مولانا کے انتظار میں باہر کھڑے رہتے  حضرت ناظم صاحب دفتر سے باہر نکلتے اور جیسے تیسے سوار ہو جاتے،  
عجیب سادگی تھی، 
اللہ ہمیں بھی ان حضرات کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، 


بیک وقت آپ مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور میں مسلم شریف، طحاوی شریف اور موطاامام مالک کا درس دے رہے تھے اور طالبان علوم نبوت کو سیراب کر رہے تھے، فضلاء کی ایک بڑی تعداد آپ سے کسب فیض کیا ،

اللہ تعالی حضرت والا کی خدمات کو قبول فرمائے، درجات کو بلند فرمائے، مغفرت فرمائے ، تلامذہ متعلقین و متوسلین اعزاءواقربا اور جملہ پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے، مدرسہ مظاہر علوم اور خانقاہ خلیلہ کو حضرت مولانا کا نعم البدل عطاء فرمائے آمین ثم آمین 

یہ ہجرتیں ہیں زمین و زماں سے آگے کی 
جو جاچکا ہے اسے لوٹ کر آنا نہیں

بوقت شب ١ بجے ٣ ذی الحجہ ١٤٤١ ھجری مطابق ٢٥ جولائی ٢٠٢٠ عیسوی بروز ہفتہ

No comments: