کل عید ہے ۔۔۔۔۔ عیدکل ہے۔ Kal Eid hai, Eid kal hai


Kal Eid hai, Eid kal hai

کل عید ہے ۔۔۔۔۔  عیدکل ہے۔

Kal Eid hai, Eid kal hai

تحریر : الدكتور الشیخ عائض القرنی حفظہ اللہ
ترجمہ : وصی اللہ سدھارتھ نگری

رمضان کے قیمتی لمحا ت ختم ہونے میں اب چند لمحے اور ہیں ۔۔۔۔۔۔  کل عید ہے۔۔۔۔  عید کل ہے۔۔۔۔۔  عید کی حقیقت کیاہے؟ ۔۔۔۔ عید کیسے ہو تی ہے؟ ۔۔۔۔۔ کس کے لیے ہو تی ہے؟
عید اس شخص کے لیے نہیں جوعمدہ لباس زیب تن کر ے ۔۔۔۔۔۔ اس کے لیے بھی نہیں جو سا ما نو ں او رافرا د پر فخر کرے ۔۔۔۔۔۔۔ عیداس کے لیے ہے جو وعدے کے دن سے ڈرے ۔۔۔۔۔۔ زبر دست عر ش کے ما لک سے خو ف کرے ۔
عید گا نے بجانے کا نام نہیں ۔۔۔۔۔۔  عیدمسرور کن کھیلوں کانام نہیں ۔۔۔۔۔۔ خو ش کن مناظر اور افر تفر ی کا نا م بھی عید نہیں ۔۔۔۔۔ عید تو رب العزت کے انعا مات کا شکر یہ ہے، اس کے احسا نا ت کے اعترا ف کا نا م عید ہے، اظہا رنعمت کا نا م عید ہے، دین کے اعزاز اور دشمنوں کی تذلیل کی خاطر اہل ایما ن کے قا فلہ میں چلنے اور سفر کرنے کا نا م عید ہے۔
عیدکے تعلق سے چند با تیں :Eid ke talluq se chand batein 
( ۱)عید الفطرکے دن نمازِ عید سے پہلے صبح کو کچھ کھانا : خو ا ہ کچھ کجھو ریں ہی کیو ں نہ ہوں ، تاکہ جس طر ح روزہ کی با بت ہم نے اللہ کی اطا عت کی ، افطا ر (روزہ نہ رکھنے اور کچھ کھانے )کے حو الے سے بھی اس کی فر ما ں بر دا ری کر سکیں ۔
(۲) صدقۂ فطر کی ادائیگی : اہل ایمان کولغویا ت سے محفوظ رکھنے کے لیے ،غریبوں کی دلجوئی ، مسلما نوں کے مابین آپسی تعاون ،شفقت کی روح زندہ کر نے اور حرص وطمع کے خا تمہ کے لیے صدقۂ فطر کی ادا ئیگی ضروری ہے۔
(۳) نئے کپڑے پہننا : عید کے دن رب العالمین کے احسا نا ت کے اعتراف میں نئے کپڑے پہننا ، خو شبو لگا نا ، اسی طرح عطا کردہ نعمتوں کا اظہار بھی ضروری ہے،  کیو ں کہ ایک حدیث میں اللہ کے رسو ل ؐ ارشا د فرما تے ہیں کہ :اللہ جب کسی بندے کو نعمتوں سے نو ازتے ہیں ،تو اس پر اپنی نعمتوں کو ظاہر ہو تا ہوا دیکھنا بھی چا ہتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ دل میں یہ با ت ملحو ظ ہو نی چا ہیے کہ اللہ جمیل ہے جما ل کو پسند کر تے ہیں۔
(۴) عید کے دن ایک دوسرے سے سلام وملا قا ت او راظہا رتعلق بھی ہونا چاہیے !
(۵) عید کے مو قع پر رشتوں کی پا سداری ، والدین کے سا تھ حسن سلو ک ،غر با ء کے سا تھ لطف ومہر با نی اور پڑوسیوںکے سا تھ رحم و کرم کا معاملہ کر نا چا ہیے !
(۶)عید کے مو قع پر مسلما نوں کے یہا ں شر عی حدود اور ادب کے دا ئرہ میں رہ کر ایما نی فر حت و مسر ت کا اظہا ر ہو تا ہے، لہذا سنجیدہ مزا ج ،لطیفا نہ خو ش طبعی ، دل آزاری سے خا لی چٹکلے،خو ش کن مسکرا ہٹ ، مبا ح تفریح اور انو کھے قصے کہا نیوں میں کوئی مضا ئقہ نہیں۔
عید کے دن سب سے بڑ ااجتما ع ہو تا ہے، !مال د ار، غریب ، بڑے ، چھو ٹے ، حاکم ،محکو م ، نیک بخت ، بد بخت ، خو ش دل ، اور غمگین ، غر ضیکہ ہزارو ں، لا کھو ں لو گ ایک جگہ عید کے لیے اکٹھا ہو تے ہیں ۔
عید کا دن انعام کا دن ہے: لہذا جس نے رحمت ِخداوندی کی امید میں ایمان خالص کے سا تھ روزہ رکھا، اس کے لیے بڑے انعام ،بڑی کا میا بی اور بڑے ثوا ب کا اعلا ن ہے، اس کے بر خلا ف جس نے  کو تا ہی بر تی ، پر وردگا ر کے حکم کے سا منے سرتسلیم خم کر نے میں کسل مندی ظا ہر کی ، حدو د سے تجا وز کیا، اس کے لیے حسر ت و افسوس اور ندا مت کے سوا کچھ اور نہ ہوگا ۔
 عید گا ہ سے جب لو گ لو ٹتے ہیں تو ان میں دو طر ح کے لو گ ہو تے ہیں :
(۱)ایک تووہ لوگ جنہیں اللہ اجرو ثو اب سے نو ازتے ہیں ، رمضا ن میں ان کی جا نب سے کی گئی جدو جہدکی قدر کر تے ہیں ، ان کے لیے مغفرت اور رضا مندی کا اعلا ن کرتے ہوئے فر ما تے ہیں : ’’إِنْصَرِفُوْا مَغْفُوْرًا لَکُمْ، فَقَدْ أَرْضَیْتُمُوْنِيْ وَرَضِیْتُ عَنْکُمْ ‘‘۔
(۲)دوسر ی جما عت ان لو گو ں کی ہو تی ہے: جو خسا رے او رنقصا ن میں ہو تے ہیں ، افسو س اور محرومی کے سا تھ عید گا ہ سے واپس لو ٹتے ہیں ۔
ایک بزرگ عید کے دن کچھ ایسے لو گوں کے پاس سے گز رے جو لہو ولعب اور لغوکا مو ں میں مشغو ل تھے تو انہوں نے ان لو گو ں سے کہا کہ !اگر تم نے رمضا ن میں نیک کا م کیا ہے تو احسا ن کا شکر یہ یہ نہیں ، اور اگر تم نے برا کا م کیا ہے تو جس نے رحمن کے ساتھ بر ا کیا ہے وہ اس کے سا تھ تو اس طرح نہیں کر تا ۔
عمرابن عبد العزیز ؒنے کچھ لو گوں کو غروب کے وقت عر فا ت سے گھو ڑوں اور اونٹوں پرجلدی جلدی لو ٹتے ہوئے دیکھا تو کہا :کہ سبقت کر نے والا وہ نہیں جس کا گھوڑا یا اونٹ آگے بڑ ھ جا ئے ، سبقت کر نے والا وہ ہے، جس کے گنا ہ معا ف کر دیے جائیں ! مسلما نو!ذرا غور کرو ! ان لو گو ں کے با رے میں جن کے ساتھ گذشتہ سا لو ں میںآپ نے عید کی نما زیں پڑھی ہیں ۔۔۔۔۔۔  تمہارے آبا ئو اجداد ۔۔۔۔۔ ، دوست احباب ۔۔۔۔۔۔ ، کہاں ہیں وہ سب؟ ۔۔۔۔۔۔۔  کس جگہ چلے گئے ؟
سچ ہے کہ ! مو ت اور زما نے نے بہتو ں کے والدین کو خا موش کر دیا ! کتنے ہی شریف نو جوا ن ایسے تھے جو شریف خاندانوں میں ہو تے ہوئے رخصت ہو گئے! علیحدگی نے ان کو تیر ما را !اب تو وہ رخت سفر باندھنے والی جماعت کے سا تھ ہو لیے، جتنے بھی لو گ غفلت میں ہیں یو ں معلوم ہو تاہے کہ ان کے دل بیکار پڑگئے ہیں ، انہو ں نے اللہ کی رضا مندی کے بدلے دنیا خرید لی، جب کہ انہیں معلوم ہے کہ دنیا ہلا ک و برباد ہو نے والی ہے۔
روزہ دارو!کل عیدہے ۔۔۔۔۔ کل تمہیں انعام ملے گا ۔۔۔۔۔۔۔ کل تمہارے نامۂ اعمال میں اجر لکھ دیا جائے گا ۔۔۔۔۔۔ دعا کرو کہ خیر ہی لکھا جائے !اب تو بس بڑی عید کے دن کا انتظار کرو !جس دن اللہ تعالی اپنی مغفر ت او ر خو شنو دی کا اعلا ن کریں گے ’’فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ، وَمَا الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُوْرِ‘‘ (آل عمران: ۱۸۵)جس کو دوزخ سے بچا کر جنت میںداخل کر دیا گیا وہی کامیا ب ہے ،یہ دنیو ی زندگی تو محض دھو کے کا سا مان ہے،
خدایا !ہما ری عبا دتو ں کو قبو ل فر ما !ہماری ریا کو اخلا ص سے بد ل دے ’’ربنا تقبل منا إنک انت السمیع العلیم ، وتب علینا إنک أنت التو اب الرحیم، ۔۔۔۔۔۔۔ آمین

خا تمہ
ہما ری طر ف سے آپ کو مبا رک با د ہو ، اب ہما رااور آپ کا معا ملہ اللہ کے سپرد ہے، دونوں کا انجا م اسی کے ہا تھ میں ہے، ہر ایک کو اپنے کیے کا اجر ملنا ہے، رمضان میں روزہ ، عبا دت ، تلا وت ، تر ا ویح ، وغیر ہ دیگر اعما ل صا لحہ کی عمدگی اور اس کے حسن کے متعلق بس اللہ کو علم ہے، وہی ہم سب کا کار سا زہے، دعا ء ہے کہ ہم سب کی جد و جہد ریا ء سے پا ک و صا ف ہو ، رب العا لمین کی با رگا ہ میںشر ف قبولیت سے ہمکنار ہو ، ’’إِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِنَّا الْحُسْنٰی أَوْلٰئِکَ عَنْہَا مُبْعَدُوْنَ لاَ یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَہَا وَہُمْ فِیْہَا اشْتَہَتْ أَنْفُسَہُمْ خَالِدُوْنَ‘‘۔
خدا یا !ہم سب کو اُن نیک بندو ں میں شا مل فرما !جن کی جہنم سے خلا صی اور جنت میں داخلے کے متعلق آپ نے دنیا ہی میں اعلا ن کر دیا ہے۔
’’ اللہم صل علی محمد وآلہ وصحبہ ‘‘
                                                                                عا ئض بن عبد اللہ القر نی

Comments