جديد مضامين

Friday, April 24, 2020

رمضان؛ رب کی جانب سے عظیم تحفہ





رمضان؛ رب جانب سے عظیم تحفہ

رمضان؛ رب کی جانب سے عظیم تحفہ

ازقلم: محمد مدثر شیروانی
کس قدر تسکین بخش اور.  روح پرور ماحول (رمضان) آرہا ہے اور ماہ شعبان المعظم تشریف لے جا رہاہے ۔ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ، ہرمسلمان میں اس کے تئیں اظہار مسرت ہے ۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہےجس کا مومن بےصبری سے انتظار کرتاہے کیونکہ یہ نیکی، برکت، بخشش، عنایت، توفیق، عبادت، زہد، تقوی، مروت، خاکساری، مساوات، صدقہ وخیرات،رضائے مولی،جنت کی بشارت،جہنم سے نجات وخلاصی کا مہینہ ہے ۔۔
رمضان کورمضان کہنے کی وجہ  
یہ قمری مہینوں میں سے نواں مہینہ ہے اس کی وجہ تسمیہ حدیث میں ائ ہے( فانھا تمرض الذنوب ) 
یہ رمض سے مشتق ہے رمض کے معنی لغت عربیہ میں جلادینے کے ہیں چو نکہ اس مہینے میں یہ خصوصیت ہے کہ مسلما نوں کو گناہوں سےپاک صاف کردیتاہے  اس لئے اس کو رمضان کہتے ہیں  
(روزہ کی فرضیت کے بارے میں)
  قران پاک میںﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : يأَيُّهاَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَيْکُمُ الصِّيَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ( البقرة، 2 : 183) ’’اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے 
تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ"۔
( ماہ رمضان میں روزہ فرض ہونے کی وجہ ) 
ماہ رمضان میں روزہ رکھنے کی وجہ اللہ تعالی نے یہ فرمائ ہے 
( شھررمضان الذانزل فیه القران )  
ماہ رمضان وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں قران کریم نازل ہوا،
لہذا یہ مہینہ برکات الہیہ کےنزول کاموجب ہے اس لئے اس میں روزہ رکھنے سے اصل غرض ومقصد جو(  لعلکم تتقون) میں مذکور ہے بو جہ اکمل حاصل ہو جاتی ہے 
( رمضان شریف میں امت پر پانچ خصوصی انعام)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ انحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ رمضان شریف کےمتعلق میری امت کو خصوصی طورپرپانچ چیزیں دی گئ ہیں جوپہلی امت کو نہیں ملیں 
(۱) روزہ دارکےمنہ کی بدبو ( جوبھوک کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ) اللہ تعالی کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے ،
(۲)ان کےلئے دریاکی مچھلیاں تک مغفرت کی دعاکرتی ہیں اور مسلسل افطارتک کرتی رہتی ہیں ،
(۳) جنت ہرروزان کے لئے سجائ جائ جاتی ہے ،
(۴) اس ماہ مبارک میں سرکش شیاطین قید کردئے جاتے ہیں کہ وہ رمضان میں ان برائیو ں تک نہیں پہنچ سکتےجن کی طرف وہ غیررمضان میں پہنچ سکتےہیں (۵) رمضان کی اخری رات میں روزہ دار کے لئے مغفرت کا اعلان ہوتاہے،
انسان کےلئے روزہ مقرر ہونے کےوجوہات، 
فطرت کایہ تقاضہ ہے ھیکہ انسان کی عقل کااس کے نفس پر غلبہ رہے مگر بباعث بشریت بسااوقات اس کانفس اس کی عقل پرغالب اجاتاہے اس لئے تہذیب وتزکیہ نفس کے لئے السلام نے روزہ کو اصول میں سے ٹھرایاہے ، 
(۱)روزہ کی وجہ سے انسان کی عقل کونفس پرپوراپورا غلبہ حاصل ہوجاتاہے،
(۲)روزہ سے خشیت اورتقوی کی صفت انسان میں پیدا ہو جاتی ہے ,
(۳) روزہ رکھنے سے انسان کو اپنی عاجزی ومسکنت اورخداکے جلال اوراس کی قدرت پر نظر پڑتی ہے،
(۴) روزہ چشم بصیرت کھلتی ہے ،
(۵) دور اندیشی کا خیال ترقی کرتا ہے،
(۶) کشف حقائق الاشیاء ہوتاہے ،
(۷) درندگی وبھیمیت سے دوری ہوتی ہے،
(۸) ملائکہ الہی سے قرب حاصل ہوتاہے ،
(۹)خداتعالی کی شکر گزاری کاموقع میسر ہوتاہے،
(۱۰) انسانی ہمدردی کاجزبہ دل میں پیدا ہوتاہے 
(روزہ کے چند فوائد ) 
روزہ گناہوں اور منکرات سے بچنے کے لیے ڈھال ہے ،روزہ سے روحانیت کی آبیاری ہوتی ہے، دل کی صفائ اور تقرب ایزدی کے لیے بھی روزہ اہم وسیلہ ہے،
جنت کے اٹھ دروازے ہیں 
(۱) باب الجہاد  (۲) باب الصلوة،(٣) باب الصدقة،(٤)  باب الضحی ،(۵)باب التوبة،(۶) باب الرضاء  ،(۷) باب العفو، (۸) باب الریان  ،
باب الریان،روزہ داروں کے لئے مخصوص ہے اس دروازے سے صرف روزہ دار ہی جنت میں داخل ہو نگے ان کے کوئ بھی اس دروازے سے جنت میں داخل نہیں ہوگا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ رجب کے آغاز میں یہ دعا اکثر فرمایا کرتے تھے: عن انس بن مالک قال: کان رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم اذا دخل رجب قال: اللهم بارک لنا فی رجب و شعبان و بلغنا رمضان.
( مسند احمد بن حنبل‘ 1: 259)
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا جب رجب کا مہینہ شروع ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے۔ اے اللہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان بابرکت بنا دے اور ہمیں رمضان نصیب فرما۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک سے اتنی زیادہ محبت فرمایا کرتے تھے کہ اس کے پانے کی دعا اکثر کیا کرتے تھے۔جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دریافت کرتے: ما تستقبلون ؟وماذایستقبلکم؟)(ثلاث مرات). 
تم کس کااستقبال کررہےہواورتمہاراکون استقبال کرنے والے ہے،(یہ الفاظ اپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا) 
اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیایارسول اللہ کیا کوئ وحی اترنے والی ہے یا کسی دشمن سےجنگ ہونے والی ہے ایسی کوئ بات نہیں ہےبلکہ تم رمضان شریف کااستقبال کررہےہوجس کی پہلی رات تمام اہل قبلہ کو معاف کردیاجاتاہے
یقینا یہ اللہ کا فضل ہے کہ اس نے ہم جیسے گنہگاروں کو رمضان جیسا اہم اور مبارک مہینہ عطا کرکے گناہوں سے اجتناب کی ترغیب دی؛ اس لیے ہم کو ماہ رمضان کی عظمتوں اور اس کی رفعتوں کو سلام کرنا چاہیے، اپنی الفتوں اور چاہتوں کے پھول نچھاور کرتے ہوے پورے جذبہ ایمانی اور دلی خوش گواری سے اس معزز ومکرم مہینے کا استقبال کرنا چاہیے اور اس کے فیوضات وبرکات سےخوب فیض  یاب ہونا چاہیے۔ اللہ تعالی اس عظیم الشان بابرکت ومعززمہینے کو ہماری زندگی میں بار بار لائے امین ثم امین

No comments: