جديد مضامين

Thursday, May 21, 2020

بچھڑا کچھ اس ادا سے کی رت ہی بدل گئی

بچھڑا کچھ اس ادا سے کی رت ہی بدل گئی

آہ  حضرت الاستاذ و ترجمان دارالعلوم

بندہ ناچیز  ٢٥/رمضان المبارک ١٤٤١ ھجری مطابق ١٩/ مئ ٢٠٢٠ عیسوی  کو سحری کے وقت بیدار ہوا اور نماز وغیرہ سے فارغ ہوکر، آرام کرنے کے ارادے سے لیٹ گیا، 6:45منٹ پہ آنکھ لگ گئی، پھر 9:45 منٹ پر آنکھ کھلی تو اچانک برادر مکرم رفیق محترم مولوی محمد احمد بجنوری  فاضل دارالعلوم دیوبند کا میسج دیکھا کہ حضرت الاستاذ اب دنیا میں نہیں رہے انا لله وانا اليه راجعون
ميسج دیکھ کر احقر چیخ پڑا آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، والدہ صاحبہ نے کہنے لگیں کہ کیا ہوا؟ میں نے بتایا کہ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث عالم اسلام کی ممتاز شخصیت میرے قابل قدر استاذ حضرت مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری  اللہ کو پیارے ہوگئے، والدہ نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انا لله وانا اليه راجعون پڑھا اور کہنے لگیں کہ یہی مقدر تھا اسی دن حضرت کو ان دینا سے رخصت ہونا تھا انکے حق میں دعا کرنی چاہیے. 
دارالعلوم کے مخلص سفیر، مولانا محمد اسجد صاحب مد ظلہ العالی کٹک( اڑیسہ ) کا فون آیا کہ ایسی ایسی بات ہے میں نے کہا جی جی بہت تکلیف ہوئی، بعدہ حضرت الاستاذ مفتی ریاست علی صاحب سے فون پر بات کی تاکہ دلی سکون محسوس کر سکوں حضرت الاستاذ مدظلہ العالی نے فرمایا کہ کیا کرسکتے ہیں ، یہی وقت تھا ان کا، اللہ نے حضرت کو اپنے یہاں بلا لیا، ان کے حق میں دعاء مغفرت کرو ایصال ثواب کرو انکے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرو،  پھر حضرت والا نے حضرت الاستاذ کے لئے دعائیں کی اور فرمایا کہ اللہ دارالعلوم دیوبند اور ملت اسلامیہ کو حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا نعم البدل عطا فرمائے - آمین، 
دونوں حضرات سے بات کر کے کسی قدر سکون محسوس ہوا. 

پتہ نہیں کیا وجہ ہے اللہ رب العزت ہمارے درمیان سے ایک ایک بڑے کو اٹھاتے چلے جا رہے ہیں اللہ تعالیٰ ہم پر خصوصی رحم وکرم معاملہ فرمائے. 
آمین ثم آمین، 
اسی لاک ڈاؤن میں ہم کئی علمی شخصیت سے محروم ہو گئے جن کی جدائی کا زخم ابھی ہرا ہی تھا کہ حضرت الاستاذ  حضرت اقدس مفتی سعید احمد پالن پوری ہمیں داغ مفارقت دے گئے.
*شعر*! 
*زندگی ہے اپنے قبضہ میں نہ اپنے بس میں*
*آدمی مجبور ہے کس قدر مجبور ہے*

حضرت مفتی صاحب کی وفات پوری ملت اسلامیہ، دارالعلوم دیوبند اور ان کے تلامذہ کے لئے بہت بڑا حادثہ اور نقصان عظیم ہے، افسوس تو یہ ہے کہ جنازہ میں شرکت نہیں، مزید برآں کہ قبر پر فاتحہ بھی نہیں سچ میں بلکل یہ امید نہیں تھی کی حضرت مفتی صاحب اتنی جلدی ہم سے جدا ہو جائیں گے، لیکن خدا وند قدوس کا یہی فیصلہ تھا ہم لاچارو مجبور ہیں، انتہائی رنج و غم کی باعث، الم ناک اور درد انگیز خبر ہے، سوشل میڈیا کا زمانہ ہے حضرت کی وفات کی خبر پوری دنیا میں مختصر وقت ہی میں پھیل گئی،
*شعر*!
*زمانہ بہت شوق سے سن رہا تھا*     *ہمیں چھوڑ گئے داستان کہتے کہتے*

آپ علوم و لی اللہی کے امین وشارح، علوم و فکر نانوتوی کے علمبردار، فخر المحدثین کے یک لخت، علامہ بلیاوی کے چہیتے، حضرت مفتی مہدی حسن صاحب شاہجہاں پوری  سابق صدر مفتی دارالعلوم دیوبند کے نور نظر، شارح بخاری، ملت اسلامیہ کا دھڑکتا ہوا دل، منبع علم و عرفاں ، بے مثال فقیہ،  رئیس المحققین، سلطان المحدثین، عالم اسلام کے ممتاز محدث، بلند پایا عالم دین تھے.
 بے شمار علماء کے استاذ، درجنوں کتابوں کے مصنف، علماء و اکابر کے سچے جانشین، اپنے اساتذہ کرام کے پیروکار، فقیہ العصر، یادگار اسلاف،  ام المدارس دارالعلوم دیوبند کے باوقار و ممتاز استاذ ، دارالعلوم دیوبند کے شیخ  الحدیث وصدر المدرسین ورکن شوری  مدرسہ عربیہ جامع مسجد امروہہ کے رکن شوری تھے. 
حضرت الاستاذ کا شمار ان باوقار و ممتاز ہستیوں میں ہوتا ہے، جن کی پوری زندگی خدمت حدیث اور طالبان نبوت کی سیرابی میں گزری، جن کے فیض سے پورا عالم منور ہے جن عظیم المرتبت ورفیع الشان شخصیت کا تذکرہ ہر عوام وخواص طلبہ اور اساتذہ کے درمیان ہوتا ہے دارالعلوم دیوبند کے چند قدیم اساتذہ کے علاوہ تمام ہی اساتذہ حضرت کے شاگرد ہیں، آپ کی رائے میں علمی مضبوطی اور پختگی ہوتی تھی، حق گو اور بے باک عالم دین تھے، آپ کو شرک و بدعت سے سخت نفرت تھی، اس کے قلع قمع کے لئے ہر  ممکن کوشش کی، شریعت اسلامیہ کا صحیح رخ ان کے سامنے پیش کیا، آپ دیوبندیت کے حقیقی اور سچے ترجمان تھے. 
حضرت رحمۃاللہ علیہ نے اپنی مکمل زندگی قرآن وحدیث کی ترویج و اشاعت، بدعات و خرافات کی تردید اور اپنی تمام تر علمی لیاقت و قابلیت اور استعداد و صلاحیت کو خدمت دین میں لگایا، جماعت اہل حق پر ہونے والے اعتراضات کو دلائل وشواہد کی بنیاد پر ختم فرمایا اور ان کا دندان شکن جواب دیا. 
وعظ ونصیحت سے حضرت کو خاصی دلچسپی تھی، اس کے لئے حضرت نوراللہ مر قدہ نے  اصلاحی اسفار بھی کئے اور بے شمار افراد آپ کی نصائح سے فیض یاب ہوئے. 
تلامذہ پروانہ وار آپ پر ٹوٹ پڑتے تھے، آپ کے دیدار سے ہر شخص لطف اندوز ہوتا.
ایک مرتبہ ہمارے علاقہ کے چند افراد کا جماعت میں وقت دیوبند کے قرب وجوار میں لگا تو ان حضرات نے دارالعلوم دیوبند کی زیارت کے لئے بھی دیوبند تشریف لائے ، اور برکت کے طور پر حضرت مفتی صاحب کے درس میں شریک ہوئے، تو انہوں نے اپنا تاثر کچھ اس انداز سے بیان کیا کہ کمال کے عالم ہیں ہر بات سمجھ میں آ رہی ہے چہرے سے نور ٹپک رہا ہے فرشتہ صفت انسان ہیں.

طبقہ علماء میں آپ کی بڑی قدر و منزلت ہے ہر شخص آپ کو اپنا رہنما و رہبر سمجھتا ہے خاص کر تدریسی تصنیفی و تالیفی میدان میں تو لوگ زیادہ تر  مشورہ کرتے ہیں. 
آہ! درس و تدریس کے شہسوار اب کہاں ہمیں یہ نعمتیں نصیب؟ 
       *تعلیم وتربیت*
حضرت مفتی صاحب رحمۃاللہ علیہ شمالی گجرات موضع کالیٹرہ ضلع بنارس کانٹھا میں پیدا ہوے جو پالن پور سے تقریباً تیس میل فاصلے پر واقع ہے، 
قدیم روایت کے مطابق مکتب کی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی بعدہ دارلعلوم چھاپی پالن پور تعلیم حاصل کی اس کے  بعدمدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور میں داخلہ لیا اور تین سال تک رہ کر منطق وفلسفہ اور دیگر علوم وفنون کی کتابیں پڑھیں بعدہ ۱۳۸۰ ہجری میں ازہر ہند دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا اور اپنے زمانے کے کبار اساتذہ کرام محدثین عظام و مفسرین کرام سے فیضیاب ہوکر ١٣٨٢ہجری   میں سند فراغت حاصل کی، 

آپ کے اساتذہ دارالعلوم دیوبند کے اسماء ذیل میں ملاحظہ فرمائیں 
(١) حضرت مولانا سید فخر الدین احمد صاحب مرادآبادی
(٢) حضرت مولانا ابراہیم صاحب بلیاوی
(٣) حضرت مولانا بشیر احمد خان صاحب بلند شہری
(٤) حضرت مولانا فخر الحسن صاحب مرادآبادی
(٥) حضرت مولانا قاری طیب صاحب سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند
(٦) حضرت مولانا ظہور صاحب دیوبندی
(٧) حضرت مولانا سید حسن صاحب دیوبندی 
(٨)حضرت مولانا عبد الجلیل صاحب کیرانوی 
(٩) حضرت مولانا اختر حسین صاحب دیوبندی
(١٠) حضرت مولانا اسلام الحق صاحب آعظمی
(١١) حضرت مولانا نصیر خان صاحب بلند شہری
(١٢) حضرت مولانا عبدالاحد صاحب دیوبندی
(١٣) حضرت مولانا حسن صاحب شاہ جہاں پوری
(١٤) شیخ محمود عبد الوباب صاحب مصری
رحمہم اللہ وغیرہم

سہارنپور مظاہر العلوم کے آپ کے قابل قدر اساتذہ میں امام النحو حضرت مولانا صدیق صاحب جموی کا نام نمایا ہے جن کا آپ بار بار تذکرہ فرماتے تھے. 
اسی زمانے کا واقعہ ہے کہ آپ اپنے علاقہ میں پڑھ کر آئے تھے نحو میں کمزور تھے  استاذ پڑھاتے تو آپ کو سبق سمجھ میں نہیں آتا تھا، کسی ساتھی نے کہا کہ تمہارا نحو کمزور ہے اس لئے نحو کی ابتدائی کتاب پڑھو تو نحو مضبوط ہو جائے گا تو حضرت والا اسی روز سے بعد نماز عصر کتب خانہ یحییٰ سے نحو میر خرید کر لائے اور اپنے ایک ساتھی سے پڑھنا شروع کی تو پھر نحو میں پختگی آگئی پھر کتابیں سمجھ میں آنے لگیں. 
حضرت الاستاذ نے بارہاں یہ واقعہ دارالعلوم دیوبند کے انعامی جلسہ میں بیان فرمایا ہے حضرت الاستاذ کے اس واقعہ کو سنانے کا مقصد یہ تھا کہ جو کسی فن میں کمزور ہو وہ اس طرح کمزوری کو دور کرے حضرت باریک بیں باتیں بتا کر ترغیب دیتے اور حوصلہ فر ماتے
دورہ حدیث شریف سے فراغت کے بعد ١٣٨٣ _١٣٨٢ہجری میں آپ کا دارالافتاء میں داخلہ ہوا اور دو سال دارالافتاء میں رہے اور وقت کے فقہی کلیات و جزئیات کے تمام پہلوؤں پر نگاہ رکھنے والے، فقہی تصریحات و تشریحات سے آشنا، وقت کے فقیہ بے مثال، سابق صدر مفتی دارالعلوم دیوبند حضرت مفتی مہدی حسن صاحب شاہ جہاں پوری رحمۃ اللہ علیہ کی زیر سرپرستی  ونگرانی فتویٰ نویسی کے تمام مراحل طے کئے
1439ہجری ماہ شوال میں بعد نماز عصر حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مجلس میں فرمایا کہ میں حضرت مولانا مفتی مہدی حسن صاحب شاہجہاں پوری رحمۃ اللہ علیہ سے رسم المفتی اس طرح پڑھی ہے پھر حضرت الاستاذ نوراللہ مرقدہ نے بیان فرمایا کہ ہم طلبہ بعد نماز عشاؑ دارالافتاء کے پاس جمع ہو جاتے اور حضرت مفتی مہدی حسن صاحب چارپائی پر لیٹ جاتے احباب خدمت میں لگ جاتے ایک طالب علم عبارت پڑھتا اور حضرت الاستاذ سنتے اور ضروری تشریحات کے بعد آگے بڑھ جاتے اور شریعت وفقہ کی ایسی ایسی باتیں بتاتے کہ  ہم حیران وسشدر رہ جاتے اسی طرح ہم نے پوری کتاب پڑھ ڈالی، 

حضرت فرمایا کرتے تھے کہ کسی مفتی کے پاس کم از کم بیس سال رہوگے تب جا کر فقہ کے نشیب و فراز کو سمجھ سکو گے وہ مفتی تمہیں فقہ کی ایسی باریک باریک اور کانٹے کی بات بتائگا کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے اور کتابوں میں تلاش کروگے تو ملے گی بھی نہیں. 
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور مقولہ تھا کہ خوب پڑھو پڑھنے سے علم آتا ہے  پڑے رہنے سے نہیں، 

        *تدریسی دور*

فراغت کے بعد ارباب دارالعلوم دیوبند نے اپ کو معین مفتی کی حیثیت سے تقرر فرمایا بعدہ حضرت العلام علامہ بلیاوی رحمۃ اللہ علیہ کی ایماء پر آپ دارالعلوم اشرفیہ راندیر(سورت) تشریف لے گئے اور تقریباً مختلف علومِ وفنون کے علاوہ  حدیث کی اعلیٰ چار کتابیں آپ کے زیر درس رہیں، 

1393ہجری میں آپ کا دارالعلوم دیوبند میں تقرر ہوا اسی وقت سے لے آخری دم تک درس تدریس ہی کو اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا اور پوری زندگی حضرت والا نے اسی میں صرف کی.
دارالعلوم دیوبند میں بھی ہر فن کی کتابیں خواہ وہ معقولات سے متعلق ہوں یا منقولات کے ساری پڑھائیں. 
ہر فن میں ید طولی رکھتے تھے کوئی سی بھی کتاب ہو آپ بہت محنت اور شوق ولگن  کے ساتھ پڑھایا کرتے تھے طلبہ کا حق مکمل طور پر اداء کرتے تھے ان حقوق کے خاطر ہی آپ بہت کم سفر کرتے.
حضرت دیوبند میں مقیم ہوں اور سبق ناغہ ہو جائے یہ ممکن نہیں تھا، الا یہ مجلس شوری یا مجلس عاملہ کا اجلاس ہو یا پھر کوئی مانع پیش آجائے یا حضرت بیمار ہوں. 
حضرت مفتی صاحب نے کامل مدرس بننے کے لئے اپنے آپ کو اسی میدان کے لئے وقف کر دیا  اور آپ کو اسی میدان میں نمایاں کامیابی ملی تدریس کے راہ سے آپ کی شہرت ملک وبیرون ملک میں ہوئی اور خوب ہوئی، 
لفظ؛ مفتی صاحب کہنے سے ذہن آپ کی طرف منتقل ہوتا ہے. 
فن حدیث میں بھی آپ کی گہری نظر تھی تدریسی میدان میں آپ کا طوطی بولتا تھا خالص جہاں تدریس کی بات آجاتی تو حضرت مفتی صاحب کا تذکرہ نہ ہو یہ ممکن ہی نہیں، 

          *تصنیف وتالیف*

حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے تصنیفی میدان میں علماء دیوبند کی جانب  سے(موجودہ دور میں) فرض کفایہ ادا کیا حجۃ اللہ البالغہ کی شرح رحمۃ اللہ الواسعہ لکھ کر وہ خوب مقبول ہوئی خوب پذیرائی ہوئی جس سے آج علمی حلقوں میں حجۃ اللہ پڑھنے پڑھانے والوں کے راہ آسان ہو گیا، 
اسی وجہ سے آپ کو شارح علوم ولی اللہی کہا جاتاہے، 
علوم نانوتوی پر کامل دسترس حاصل تھی آپ نے اسکی تسہیل کے لئے بڑی محنت کی شروحات حدیث کے علاوہ مختلف کتابوں کی شروحات اور فن منطق اور دیگر فنون میں بھی علمی یادگار چھوڑی ہیں جو آپ کے لئے ذخیرہ آخرت ہے 
اور آپ کی ہر تصنیف قابل مبارک باد اور تسلی بخش ہے، 


اخیر میں بس اللہ سے دعا ہے کہ اللہ حضرت والا کی خدمات کو قبول فرماۓ  اور آپ کے درجات کو بلند فرماۓ اور ہم شاگردوں کو آپ کے علوم کی نشرو اشاعت کا ذریعہ بناۓ، 

آمین ثم آمین، 
محمد شاہد اختر کھرساوی     
(جھارکھنڈ)



*بوقت شب   12:50  26/رمضان المبارک  1441 ھجری مطابق 20 /مئی 2020 عیسوی بروز منگل*

No comments: