جديد مضامين

Thursday, June 11, 2020

کورنٹائن سینٹر کی کہانی، احمد شجاعؔ کی زبانی: قسط 6


کورنٹائن سینٹر کی کہانی، احمد شجاعؔ کی زبانی: قسط 6


گزشتہ سے پیوستہ
قسط ششم
...............

میں جلدی سے یہ کہتے ہوئے بستر سے اٹھا کہ ان سے کہہ دیجیے میں ابھی آرہا ہوں! جلدی جلدی آنکھوں سے نیند دور کی اور چینر (Channer) کے پاس آکر علیک سلیک کے بعد گفتگو شروع کردی۔ آج تو صلاح الدین بھائی کے ساتھ دوسرے تائے ابو کے بیٹے : برادرم حافظ ظہیر اور ایک عزیز جناب شفیع  صاحب  بھی آئے تھے۔ انہوں نے گھر سے میرا منگایا ہوا ضروری سامان مجھے دیا اور خیر خیریت معلوم کرنے لگے۔ ابھی مختصر سی گفتگو ہی ہوئی تھی کہ ادھر سے پولیس والوں نے بولنا شروع کردیا کہ "تم تو روز ہی آجاتے ہو"۔

جب اُدھر سے بھائیوں پر اس جملے کے ذریعے حملہ کیا گیا تو میں نے ان کو الوداع کہنا مناسب سمجھا۔ اور اس مختصر سے پیغام کے ساتھ رخصت کیا کہ اگر یاد رہے تو سب سے سلام بول دیجیے گا۔ اللہ حافظ

رخصت کرنے کے آداب نبھانے ہی تھے
بند آنکھوں سے ان کو جاتا دیکھ لیا ہے

سلام کے بھی آداب ہوتے ہیں


سلام بولنے کے ساتھ میں نے یہ الفاظ "اگر یاد رہے تو" اس لیے زائد کیے کہ بعض مرتبہ انسان بھول جاتا ہے کہ آپ نے جس شخص کو سلام بولنے کے لیے کہا تھا اسے سلام بولنا ہے ؛حالاں کہ آپ کے بولنے کی وجہ سے اس پر ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ آپ کا سلام اس شخص کو پہنچائے۔ اس طرح جانے انجانے میں اس شخص کو آپ کا واجبی سلام نہ پہنچانے کی وجہ سے گناہ مل گیا ؛اس لیے ایسے طریقے سے سلام پہنچانا چاہیے کہ انسان آپ کے ذریعے بھیجے گئے سلام کو نہ پہنچانے کی وجہ سے گنہگار نہ ہو جائے۔!

زندگی کا پہلا خط


کمرے پر آکر سامان دیکھا جس میں اہلِ خانہ کی بے انتہا اپنائیت و محبت  محسوس ہوئی۔  اور دل خود بہ خود سب کو ہمیشگی کے آرام اور دونوں جہان کی سعادتوں کی دعا دینے لگا۔ ایک کاپی بھی ملی جس میں چھوٹی ہمشیرہ کی جانب سے انگلش، رومن اردو اور اردو رسم الخط میں لکھا ہوا مختصر سا خط ملا، جس میں دعاؤں کے ساتھ ساتھ اس بات کی تاکید کی گئی تھی کہ اپنا خیال رکھیے گا اور ہم سب آپ کو بہت یاد کر رہے ہیں۔ آپ جلدی سے گھر آجائیں۔" خط پڑھتے ہوئے آنکھیں اشک بار ہوگئیں اور ٹپ ٹپ کرکے آنسو دامن کو تر کرنے لگے۔۔۔۔! نیز اس خط کے ہر ایک لفظ سے بے پناہ محبت محسوس ہوئی۔ آنکھیں اس وجہ سے بھی زار زار تھیں کہ زندگی میں پہلی بار اہلِ خانہ میں سے کسی کی طرف سے ایسا محبت بھرا خط موصول ہوا۔ 
میری ہمشیرہ اس پر کیا تبصرہ کروں۔ میرے الفاظ ساکت کھڑے ہیں۔ اس لیے عزیزہ ہمیشہ خوش رہو! رب کریم آپ کو دونوں جہاں میں سکون و اطمینان کی زندگی عطا کرے! نیز ام رمشاء جو  میرے تئیں صادق جذبہ رکھتی ہیں اور غم خواری و دلداری کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہتی ہیں، خداوند قدوس ان کو بھی بے پناہ نوازے۔ اولاد کو صالح بناکر، ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے اور مزید خوش بو دار مہکتے ہوئے پھولوں سے آپ کا آنگن مہکائے رکھے۔ اور باقی ابو امی اور آپ سب کے کے لیے ڈھیر ساری آرزوئیں، دعائیں اور تمنائیں!
نیز سبھی بہنیں، دوست و احباب، اعزا و اقربا اور متعلقین کے لیے ہمیشہ کی طرح پر خلوص دعائیں۔ اشک بار و نم ناک آنکھوں کے ساتھ جزاکم و جزاھم اللہ احسن الجزاء فی الدارین۔

جتنے لچکوگے اتنے ابھروگے


‌ظہر بعد پڑوس کے کمرے میں جانا ہوا تو دیکھا وہاں امیر صاحب اہلِ کمرہ کو سمجھا رہے ہیں۔ اس وقت وہ حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ سنا رہے تھے۔ جیسے ہی میں پہنچا فورا خاموش ہوگئے اور کہنے لگے: مفتی صاحب! آپ بتائیں آپ زیادہ بہتر بتائیں گے" چوں کہ وہ عمر میں والد محترم کے ہم عمر تھے ؛اس لیے میں نے احتراما اصرار کے ساتھ کہا کہ "آپ ہی بتائیں آپ میرے بڑے ہیں!"۔ خیر انھوں نے تعلیم مکمل کی مگر  عشا بعد جب  وہ صحن میں "اذا تَعَشَّ تَمَشَّ" پر عمل کرتے ہوئے چہل قدمی کر رہے تھے۔ میں بھی نیچے پانی لینے پہنچ گیا۔ انہوں نے مجھے اپنے ہم راہ کیا اور گیلری میں چہل قدمی کرتے ہوئے بڑے خلوص اور اپنائیت کے ساتھ درخواست کرنے لگے کہ: "دوپہر میں نے جو واقعہ سنایا تھا اس میں کوئی خامی یا غلطی وغیرہ محسوس ہوئی ہو تو مجھے بتائیں، تاکہ میں آیندہ احتیاط کروں" اولا تو میں نے منع کرنا چاہا لیکن وہ  ہاتھ پکڑ کر کہنے لگے کہ آپ کو بتانا پڑے گا! خیر جو باتیں مجھے محسوس ہوئی تھیں میں نے آگاہ کردیا لیکن اصلاح کے دوران میں نے اس چیز کا پاس ولحاظ رکھا کہ انداز تخاطب ایسا رہنا چاہیے کہ سامنے والے کو برا نہ لگے؛ چناں چہ میں نے اصلاح کے دوران  خطاب کا صیغہ بالکل استعمال نہیں کیا مثلا یہ  کہ آپ نے یہ بات غلط کہی تھی ؛بل کہ یہ انداز اختیار  کیا  کہ میں نے حضرت یوسفؑ کے متعلق تفسیر میں ایسا پڑھا ہے۔ ہمیں اساتذہ نے دورانِ سبق یہ بتایا تھا۔ یا معتبر کتاب میں حضرت کا واقعہ اس طرح مذکور ہے۔ بہ راہِ راست حملہ نہیں کیا کہ آپ نے وہ بات غلط کہی تھی۔ یہ بات ایسے نہیں ایسے ہے۔ وغیرہ وغیرہ ؛ کیوں کہ یہ اصلاح کا طریقہ نہیں ہوتا۔ اس میں توہین کی آمیزش ہوتی ہے نیز ہم نے اساتذہ کی تربیت میں یہ بات بھی سیکھی تھی کہ اگر کوئی بڑا  غلطی کردے تو اسے متنبہ کرنے کا کیا طریقہ کار ہونا چاہیے۔ اس لیے اساتذہ کے بتائے ہوئے طرز پر ان کے سامنے بہت ادب کے ساتھ میں نے اپنی بات رکھ دی۔ 

بھول کو بزرگوں کی بھول ہی کہا جائے
ساتھ ہی ؛مگر ان کا احترام واجب ہے

قصہ حضرت یوسفؑ اور من گھڑت روایتیں


یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بازاروں اور گھروں میں حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق کافی کتابیں ایسی ہیں جن میں اسرائیلی روایات اور عاشقی و معشوقی کی باتیں بھی ہیں اسی طرح حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کے متعلق بھی کافی من گھڑت واقعات زبان زد خاص و عام ہیں۔ اس لیے ہمیں علماے کرام سے معلوم کرکے معتبر کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے اور بے سند کوئی قصہ نقل نہیں کرنا چاہیے
    لیکن مشکل یہ ہے ہمارے کچھ علما خصوصا خطبا حضرات اس طرح کے واقعات مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں، اور کچھ تو ان جیسے واقعات کے ذریعے عوام میں اپنی قابلیت کی دھاک بٹھانے کی فکر میں رہتے ہیں، یہ ہماری بہت بڑی غلطی ہے اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے

آمدم بر سر مطلب

  
  حدیث نبوی '"من تواضعَ للہ رَفَعہ اللہ" کے مطابق جو شخص چھوٹا بن کر زندگی گزارے، رب اس کو بہت بلند مقام پر فائز کرتا ہے۔
جب میں نے وہ باتیں بتائیں تو انھوں نے خندہ پیشانی سے تمام باتوں کو قبول کیا او ان کی  پیشانی پر ایک بل تک نہ آیا۔ 
اسی طرح جب وہ مجھے نَل چلاتے ہوئے دیکھتے ہیں تو فوراً خود چلانے کے لیے مُصِر ہوجاتے ہیں اور جب میں کسی طرح ان کو موقع نہیں دیتا تو آس پاس موجود  لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ مفتی صاحب ہیں۔ ان کا بہت بڑا مقام ہے۔ ان سے نَل مت چلواؤ! جس پر حد  درجہ شرمندہ ہوجاتا ہوں، ان کے اس عمل کی وجہ سے میری نظر میں ان کا مقام مزید اونچا ہوجاتا ہے اور سوچتا ہوں کہ "بڑے لوگوں کی باتیں بھی بڑی ہوتی ہیں" فاعتبروا یا اولی الانصار!
   بعد میں مجھے احساس ہوا کہ کہ رب کریم نے انھیں بہت عزت سے نوازا ہے اور اس کی بڑی وجہ یہی تواضع سمجھ میں آئی۔ ؛اس لیے یہ عاجزی و انکساری، چھوٹا پن اور تواضع اختیار کرنے کی از حد ضرورت ہے۔ ؛مگر آج کل لفظ تواضع بھی خود تواضع کا محتاج ہوگیا ہے ؛کیوں کہ دو باتیں ہیں جو میری سمجھ میں آتی ہیں ایک تو یہ کہ

پستئ کردار کا رونا کہاں تک روئے
ہر طرف بکھری ہوئی کردار کی لاشیں ملیں

اور دوسری طرف یہ بھی نظر آیا


بڑے لوگوں کو نہ جانے کیوں برا محسوس ہوتا ہے
نظر آتے ہیں جب آثار چھوٹوں میں بڑائی کے

اس لیے ہر ایک کو دوسرے سے پہلے اپنے آپ میں جھانک کر اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔ چراغ سے چراغ جلانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کا چراغ پہلے سے روشن ہو

رودادِ غمِ پنہاں کیا رقم کروں صفحوں پر


آج 28 گھنٹوں میں  بہ مشکل 28/ منٹ لائٹ آئی ہوگی۔ یہ طویل وقت کس کرب و بے چینی میں گزارا ہے بس خدا ہی جانتا ہے اور دوسروں کے علم میں لانے کا فایدہ بھی کیا سوائے اس کے کہ وہ بھی پریشان ہو جائیں گے۔ اب تو عادت سی ہوگئی یہاں اس طرح وقت گزارنے کی۔۔۔تاریکیوں میں رہنے سے روشنی کہاں ختم ہوتی ہے۔ روشنی تو خود تاریکی کے آنے پر پھوٹتی ہے اور اسی میں انسان کندن بنتا ہے ، وہ کسی نے کہا ہے نا :
  
رات جتنی بھی تاریک ہوگی 
صبح اتنی ہی نزدیک ہوگی

اس لیے

ہار مانی ہی نہیں میں نے اندھیروں سے کبھی
آج تک بر سر پیکار ہوں ظلمات کے ساتھ

جی تو بہت چاہتا ہے کہ کورنٹائن سینٹر کی تاریک عمارت میں خون دل کو قلم کی سیاہی میں تبدیل کردوں۔۔۔مگر اکثر و بیشتر جب بھی ڈائری لکھ رہا ہوتا ہوں ایک طرف تو تیز تیز قلم چل رہا ہوتا ہے اور دوسری طر ف اس سے تیز رفتار میں آنکھوں سے آنسو لڑی کی شکل میں گرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سر میں درد ہونے لگتا ہے اوربہت  تھوڑا لکھ پاتا ہوں۔ اور اس وقت یہ سطور بھی لکھتے ہوئے یہی حالت ہے۔ نیز تلاوت کلام اللہ، اور دیگر مشغولیات کی وجہ سے بھی ڈائری لکھنے کا اتنا وقت بھی نہیں ملتا۔ رات اپنی ہوتی ہے ؛مگر رات میں روزانہ احباب دین کے تعلق سے جمع ہوجاتے ہیں ، اس لیے کچھ دیر سیکھنے سکھانے کی باتیں ہوجاتی ہیں۔ اس کے علاوہ اکثر و بیشتر لائٹ نہیں ہوتی اور اوپر سے گرمی ستاتی رہتی ہے۔۔۔تو کس طرح رقم کروں سب۔۔۔بس یہ کہہ کر آج کی تحریر ختم کرتا ہوں

میرا احساس جو کہتا ہے کرو تم محسوس
اپنے احساس کو لفظوں میں ادا کیسے کروں

اور

خون دل سے مری تحریر کی رگ رگ تر ہے
زخم جو سینے میں پوشیدہ ہیں وا کیسے کروں


جاری۔۔۔۔

No comments: