جديد مضامين

Friday, June 12, 2020

کورنٹائن سینٹر کی کہانی، احمد شجاعؔ کی زبانی: قسط 7


کورنٹائن سینٹر کی کہانی، احمد شجاعؔ کی زبانی: قسط 7

گزشتہ سے پیوستہ
قسط ہفتم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گیارہواں روزہ۔۔۔۔۔بہ روز منگل۔۔۔۔5/مئی/2020ء

رضوان بھائ شاہ جہاں پوری نے آکر بیدار کیا کہ مفتی صاحب اٹھ جائیے! اندھیرے کے سبب ٹائم پوچھا تو معلوم ہوا کہ سحری کا وقت ختم ہونے میں بائیس منٹ باقی ہیں۔ جلدی سے وضو کرکے تہجد پڑھی اور جب تیرہ منٹ رہ گئے تب سحری شروع کی۔ تاخیر کے سبب جو چائے سحری میں آتی تھی وہ آج نصیب نا ہوسکی۔ نیز اس وقت لائٹ بھی نہیں تھی۔ دوسرے ساتھی بتانے لگے کہ تین گھنٹے کے قریب لائٹ آئی تھی بس۔ پھر اس کے بعد پوری رات لائٹ نہیں آئی۔ فجر بعد بھی ڈرامے کرتی رہی۔ وقتِ تحریر آٹھ بج کر بیس منٹ پر آئی ہے۔ فللہ الحمد 
اللہ پاک ہم سب کو قبول فرمائے اور ان پریشانیوں سے نجات عطا فرمائے۔ آمین 

شفاھا اللہ شفاء عاجلا لا یغادر سقما

پونے گیارہ بجے گھر کال کی۔ بحمد اللہ سب بہ خیر ہیں ؛البتہ تایا زاد بھتیجی کی طبیعت خراب ہے۔ اس پر شیطانی اثرات ہیں۔ شادی سے پہلے علاج کرایا تھا۔ ٹھیک ہوگئی تھی؛مگر شادی بعد پھر ان لوگوں نے پریشان کرنا شروع کردیا ہے اور اس وقت کافی پریشانی ہو رہی ہے۔ خیر دعا دینے کے ساتھ ساتھ علاج معالجے کے متعلق مکمل رہنمائی کردی۔ شفاھا اللہ شفاء لا يغادر سقما۔ اللهم اشفها الشفاء العاجل من السحر والجن والشياطين. 

قفس کی قید کے شب و روز

یہاں میرے پاس موبائیل وغیرہ تو کچھ ہے نہیں جس میں ضیاع وقت ہو اور نا ہی یہاں پر کوئی فضول مشغلہ اپنے ساتھ لگا ہوا ہے کہ گپ شپ میں مشغول ہوگئے یا ادھر ادھر بیٹھ کر ایران توران ،انقلابات زمانہ اور دنیا کا نقشہ بدلنے کی باتیں کرنے لگے۔ جس کا سوائے کانوں کی عیاشی کے کوئی حاصل نہیں ؛کیوں کہ

؂گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

زیست کے یہ قیمتی لمحات بہت غنیمت ہیں۔  زندگی کا چکر مسلسل  گھوم رہا ہے جس طرح موبائیل میں 3G، 4G، اور 2G کے نیٹورک ہوں یا نیٹورک بالکل نا ہوں لیکن Buffering ہوتی رہتی ہے۔ اسی طرح اچھے حالات ہوں یا برے ، ہر لمحہ زندگی کا چکر گھوم رہا ہے۔ اسے کسی کی کچھ پرواہ نہیں۔

گزر رہی تھی، گزر رہی ہے زندگی
نشیب کے بغیر بھی، فراز کے بغیر بھی

اس لیے رب کے فضل سے یہاں پورا وقت، دینی اعتبار سے بہت اچھا گزر رہا ہے۔ اور پھر ہمارے اکابر و اسلاف کی سوانح زندگی میں یہی سب کچھ مذکور ہے۔ کہ انھوں نے زنداں کو کس طرح قال اللہ و قال الرسول کا منارہء نور بنادیا۔ 
میں تو ان کی خاکِ پا کے ذرے کی بھی حیثیت نہیں رکھتا ؛مگر جو کچھ بن رہا ہے کر رہا ہوں۔ رب قبول فرمائے بس۔ اور ہمیشہ اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے 

دینی تعلیم کی ادنی سی کوشش

چناں چہ یہاں کورنٹائن سینٹر میں روزانہ دو گھنٹے کم و بیش دینی حلقات کا نظم رہتا ہے  زیادہ تر ہمارے کمرے کو یہ شرف ملتا ہے۔ جس میں کوئ خاص موضوع متعین نہیں ہوتا بس تفسیری باتیں، سماجی موضوعات،اور دیگر دینی باتوں کے ساتھ ساتھ مسئلے مسائل کا حل اور نماز و دعاؤں کے سیکھنے سکھانے  کا اہتمام۔ 
نیز دو دن سے دو ساتھی قاعدہ سیکھنے اور قرآن پاک صحیح کرنے بھی آرہے ہیں۔
اس کے علاوہ یومیہ بیس پارے پڑھنے کا معمول بحمداللہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ رب کریم اسے جاری ہی رکھے۔ آمین
بقیہ روزانہ کی متعینہ نوافل کے اہتمام کے ساتھ ساتھ تسبیحات، اوارد و وظائف اور تفسیر قرآن کا مطالعہ اور اس کے علاوہ خارجی کتب کا بھی مطالعہ بھی چل رہا ہے۔ بس دن بھر یہی کرنا ہے اور اس کے علاوہ اوقات میں آرام۔ 

چراغ حسن یوسف جب ہو روشن
رہے پھر کس طرح زنداں اندھیرا

بس رب کریم سے دلی التجا ہے کہ جلد از جلد پوری دنیا کے حالات سازگار ہوجائیں۔ خاص کر ہمارے ملک  اور جہاں کہیں بھی مسلم سماج پریشان ہے سبھی کی پریشانیاں دور ہوجائیں اور وہ اپنے گھر بہ صحت و عافیت اہلِ خانہ کے پاس پہنچ جائیں!! آمین یا رب العالمین۔ 


بات ہو ؛مگر سلیقے سے

دھرم نگری کے کورنٹائن سینٹر میں نو دن مکمل ہوچکے ہیں
بحمداللہ یہاں کے شب و روز فقط دینی مشغولیات  اور اشاعت دین میں صرف ہو رہے ہیں۔ اس پر رب کریم کا جس قدر شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ دل سے دعا ہے کہ بقیہ ایام بھی اس سے زیادہ یادِ الہی میں صرف ہوں۔

        دین محمدی کی بات اگر مثبت طریقے سے بالکل سادہ انداز میں عوام الناس کے سامنے رکھی جائے تو ان میں عمل کرنے کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔ 
آج دوپہر بھی یہی کچھ دیکھنے کو ملا۔ نیچے کی منزل کے بائیں جانب والے تین کمروں میں بندے کی تعلیم مشورے میں طے کردی گئی۔ چار بجے کے قریب" انیس بھائی جہان آبادی" بلانے کے لیے آئے کہ "مفتی صاحب تعلیم کے لیے تشریف لے آئیں"۔
وہاں پر اپنے سوال و جواب اور عام آپسی بول چال کے انداز میں گفتگو شروع کردی۔ قرآن کریم سے اپنا رشتہ مضبوط کرنے پر خاص زور دیا۔ اور اس کے بعد حقوق العباد میں میراث اور بیٹی کے رحمت  یا زحمت ہونے پر سوال و جواب کی شکل میں مذاکرہ ہونے لگا۔ کافی دیر تک ان کو تسلی کے ساتھ سمجھایا اور بحمد اللہ گفتگو کا تاثر یہ دیکھنے میں آیا کہ ایک عمر دراز شخص بھی وہاں پر موجود تھے۔ جنھوں نے ابھی تک اپنی اہلیہ کا مہر فاطمی ادا نہیں کیا تھا۔ دوران گفتگو ان کی پیشانی پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ چناں چہ انھوں نے اس کا حل معلوم کیا کہ ابھی تک تو نہیں دیے اب بتائیں کس طرح ادا ہوں گے۔ کیسے ادا کیے جائیں گے یعنی وہ اس حوالے سے اتنے فکر مند ہوگئے کہ کس طرح یہ بوجھ اپنے سر سے اتاروں۔ اور کہنے لگے کہ یہاں سے جانے کے بعد ضرور ادا کردوں گا۔
اسی طرح وہاں پر موجود کچھ اشخاص نے اپنی بہنوں اور پھوپھیوں کو میراث میں حصہ دینے کا عزم ظاہر کیا۔

چراغ سے چراغ جلتا ہے

نیز میں نے اس بات پر کافی زور دیا کہ ہمیں دوسروں سے پہلے خود  کو بدلنے کی فکر کرنی  چاہیے۔ کیوں کہ بار بار یہ بات سامنے آتی ہے کہ "فلاں مولانا تو ایسا کر رہے ہیں!" "فلاں مفتی صاحب نے ایسا کیا ہے!" "فلاں بڑے عالم نے جہیز لیا ہے اور اپنی بہنوں کو اب تک میراث میں حصہ نہیں دیا وغیرہ وغیرہ۔" اس پر میں نے کہا۔ یہ مت سوچیے کہ فلاں نے کیا کیا ہے ؛بل کہ اس لفظِ "فلاں" کو اپنی زندگی سے نکال دیجیے۔ کیوں آج سماج، معاشرے اور سوسائیٹی کو بدلنا ہر کوئ چاہتا ہے ؛مگر خود کو بدلنا کوئی نہیں چاہتا۔ یاد رکھیے! چراغ سے چراغ جلتا ہے۔ پہلے ہم اپنا چراغ تو روشن کریں۔! ان شاءاللہ بہت جلد میں معاشرے کا نقشہ بھی بدل جائے گا
نیز یہ بھی کہا کہ ہم  آخر کب اِس کو اور اُس کو نشانہ بنانا چھوڑ کر خود کو دیکھیں گے۔۔ یہ چیزیں بڑی تکلیف دہ ہیں

جگہ جگہ سے ہے صد چاک دامنِ ہستی
رفو کریں بھی تو کیفیؔ کہاں کہاں سے کریں


گانوں کا شوقین جب نعتیں سننے لگا

تراویح بعد رفیق کمرہ شمس الدین بھائی سے معلوماتِ عامہ کے موضوع پر کافی دیر تک گفتگو ہوئی۔ جس میں بہت سی قیمتی باتیں ہاتھ آئیں! مثلا ایک نوجوان جن سے شب و روز ملاقات رہتی ہے ان کے متعلق معلوم ہوا کہ ان صاحب کو ظلمت بھری دنیا --جس میں گانا سننا، گالی دینا اور جھوٹ بولنا وغیرہ تھا-- چھوڑے ہوئے تادمِ تحریر پچیس ماہ اور پانچ دن ہوچکے ہیں۔ جب کہ اس نوجوان کو گانے سننے کا اس قدر شوق تھا کہ صبح دس بجے سے دیر رات تک   کانوں میں ایر فون رہتی تھی ، کھانا ہو یا دکان کا کام سب گانا سنتے ہوئے کرتا تھا۔ لیکن جب انقلاب آیا اور رب نے ان کی زندگی راہِ مستقیم پر لانی چاہی تو اس قدر ان چیزوں سے نفرت ہوگئی کہ دکان میں موجود کوئی بھی ملازم ان کے سامنے گانا نہیں چلاسکتا تھا ۔ اور اب صرف انھیں بیانات، نعت وغیرہ سننے کا شوق ہے باقی کچھ نہیں۔

آہ۔۔۔دِلِّی کے پرانے قلعے کی مسجد۔!

نیز شمس بھائی بتانے لگے کہ مجھے سیر و سیاحت کا بہت شوق ہے۔ ایک مرتبہ دلی کے پرانے قلعے جانا ہوا تو وہاں کی مسجد کی حالت اتنی خستہ دیکھی کہ پوچھو مت۔۔۔بتانے لگے کہ اتنا برا حال ہے وہاں کا کہ مسجد کے اندر بدکاری تک ہوتی ہے۔۔۔ہائے افسوس۔! وہ دلی، جہاں کی مساجد اولیاء اللہ سے آباد رہا کرتی تھیں، کیا ان کی اس حالتِ زار کا کسی کو علم ہے؟ میری تو آنکھیں اشک بار ہوگئیں۔۔۔!کچھ دیر تک لبوں پر سکوت طاری ہوگیا۔۔۔اے مرے مولا ہماری مساجد کی حفاظت فرمادیجیے!

قطب مینار اور آیاتِ قرآنی کی حرمت!

نیز یہ بھی بتایا کہ میرا قطب مینار جانا ہوا تو وہاں پر دیکھا کہ بہت سے مقامات پر آیاتِ قرآنی لکھی ہوئی ہیں۔ 
جن ستونوں اور مینار وغیرہ پر نیچے تک آیات لکھی ہوئی ہیں، نیم برہنہ کپڑوں میں لڑکے لڑکیاں ان سے لگ کر سیلفیاں لیتے ہیں اور بہت سی جگہوں پر سطحِ زمین سے تھوڑی اوپر تک بھی آیات لکھی ہوئی ہیں تو ان پر پیر رکھ کر بھی لوگ تصویریں لیتے ہیں۔ کیوں کہ وہ تو سب عربی میں لکھا ہوا ہے۔ بیرونی ممالک سے بھی لوگ آتے ہیں۔ انھیں کیا معلوم کیا لکھا ہوا ہے۔ بس یہ سب ہو رہا ہے۔ حتی کہ خود شمس بھائی اپنے بارے میں بتانے لگے کہ اسی طرح ایسے ہی ایک جگہ میں کھڑے ہوکر فوٹو کھنچوانے لگا تو فورا احساس ہوا کہ یہ تو قرآن کی آیت ہے میں فورا وہاں سے استغفار کرتے ہوئے ہٹ گیا۔۔۔اور میں خود وہاں کے یہ سب حالات دیکھ کر کافی دیر تک رویا۔
کہ ہمارے اجداد کی نشانیوں کا کیسا برا حشر ہوچکا ہے۔۔شمس بھائی کے بتانے پر میرا  دل بھی شکستہ ہوگیا۔ بس رب کریم ان سب مقامات کی حفاظت فرمائے آمین۔!

سید القومِ خادمھم

گفتگو کا یہ سلسلہ دراز ہوگیا اور اس کا رخ ذاتی موضوعات کی طرف چلا گیا جس میں خود کی اصلاح بھی مقصود تھی۔ کبھی گھریلو باتیں۔ تو کبھی کالج کی گفتگو۔ کبھی مادرِ علمی دار العلوم دیوبند کی چہار دیواری کا تذکرہ تو کبھی جماعت کے ساتھیوں کے حال و احوال۔ اس طرح رات کے پونے دو بج گئے۔ اس لیے جب باتیں جاری رکھنا دشوار ہوگیا تو تھوڑی دیر کے لیے سونا غنیمت جانا۔ ہاں البتہ تھوڑی دیر پہلے بارہ بجے کے بعد بیت الخلاء جانا ہوا تو دیکھا ایک باشرع شخص تنِ تنہا تمام بیت الخلاء  صاف کر رہا ہے اور چہرے پر ذرا بھی ناگواری کے آثار نہیں۔ اور یہ کام دیر رات اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ کوئی دیکھ نا لے۔ کیا ہی بلند اخلاق ہیں یا رب۔ لوجہ اللہ کس قدر اخلاص کے ساتھ یہ بندہ یہ سب کر رہا ہے۔ وہاں سے آکر فورا میرا خیال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر چلا گیا کہ ایک یہودی صرف اس وجہ سے دامنِ اسلام میں آگیا تھا کہ آپ بستر پر سے اس کی غلاظت کو صاف کر رہے تھے۔۔
اے کاش کہ ہم سب اعلی اخلاق والے بن جائیں!۔ 
اللہ پاک ہم سب کو اعلی اخلاق کا حامل بنائے۔ آمین!

جاری۔۔ ۔

No comments: