جديد مضامين

Monday, June 15, 2020

کورنٹائن سینٹر کی کہانی، احمد شجاعؔ کی زبانی: قسط 10

کورنٹائن سینٹر کی کہانی، احمد شجاعؔ کی زبانی: قسط 10

گزشتہ سے پیوستہ 
آپ بیٹی : احمد شجاع 
پندرہواں روزہ۔۔۔۔بہ روز ہفتہ۔۔۔۔9/مئی/2020ء

روزانہ سحری میں دو تین ساتھی جگانے آجاتے ہیں ؛اس لیے کتنی ہی شدید نیند کا خمار آنکھوں میں اترا ہوا ہو، سحری کے لیے اٹھنا ضروری ہوتا ہے۔ جیسے ہی بستر سے اٹھا معلوم ہوا چائے آچکی ہے۔ ساتھیوں کو آواز لگاکر ایک خالی پلیٹ اٹھائی اور رفقاے حجرہ کے لیے چائے لینے چلا گیا۔ چائے لا کر وضو وغیرہ سے فارغ ہوکر چار رکعت پڑھ کر مختصرا دعا کی اور سحری کے لیے بیٹھ گیا

گرمی کی شدت اور شام کا کھانا

پہلے بھی یہ بات ڈائری میں رقم کرچکا ہوں کہ یہاں پر سحری میں صرف چائے آتی ہے اور باقی شام کا کھانا بچا کر رکھنا پڑتا ہے ؛لیکن تین چار روز سے گرمی کچھ زیادہ ہونے لگی ہے۔ اور ہمارے علاقے میں مئی جون کی گرمی تو سبحان اللہ ماشاء اللہ ہوتی ہی ہے۔ اس وجہ سے مسلسل سبزی میں عجیب سی بو آنے لگی ہے جس کی وجہ سے سبزی روٹی نہیں کھائی جارہی ہے۔ بس ما بقیہ سے سحری کھاکر روزہ رکھ لیتے ہیں۔

آپ کے پیپر تیار ہو رہے ہیں

آج پورا دن معمولات کی پابندی کے ساتھ گزرا۔ البتہ "S.D.M" سے بات ہوئی تھی۔ جناب نے کل بہ روز اتوار گھر بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ دیکھو کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ ویسے نویڈا کی جماعت کے پندہ ساتھیوں کو آج پندرہ دن مکمل ہوچکے ہیں۔ اور آج بھی انہیں یہ کہہ کر دلاسا دے دیا گیا کہ آپ کے پیپر تیار ہو رہے ہیں۔

سوچ ہی ساری الجھن ہے

اسی جماعت میں ایک ساتھی ہیں انہوں نے ایک دن یہ شکایت کی کہ مجھے وسوسے بہت آتے ہیں۔ طرح طرح کے خیالات آتے رہتے ہیں۔ کیا کروں میں۔ میں نے ان سے کہا کہ اولا تو ان خیالات کو بالکل بھی خاطر میں نہ لاؤ۔ خیالات و وساوس کا کام تو آنا ہے۔ آپ ان کو نظر انداز کرتے رہا کریں اور استغفار کی کثرت کے ساتھ ساتھ رب سے دعا بھی کریں۔ 
اس سلسلے میں ایک بات یاد رکھیے گا کہ برے خیالات کا آنا برا نہیں ہے۔ برے خیالات کا لانا برا ہے۔ اس لیے حتی الامکان ایسی چیزوں سے دور رہنا چاہیے جو برے خیالات کا سبب بنتی ہیں


کٹھ پتلی ہے یا جیون ہے، جیتے جاؤ! سوچو مت!
سوچ ہی ساری الجھن ہے۔ جیتے  جاؤ! سوچو مت!

اگر تلاش نہ رزقِ حلال کیا

نیز انہوں نے ایک شکایت یہ بھی کی کہ میری شادی کو نو سال کا عرصہ بیت گیا ہے۔ ابھی تک کوئ اولاد نہیں ہوئی۔ میری اہلیہ بہت پریشان رہتی ہے۔ اور پھر سکون بھی میسر نہیں آتا۔

ڈھونڈتا پھرتا ہوں دنیا کے بھرے بازار میں
ایک معمولی سی شے جس کو سکونِ دل کہیں

باتوں میں باتوں میں ان کے کاروبار کے متعلق پوچھ لیا۔ تو بتانے لگے کہ پنیر وغیرہ کا کام ہے۔ اور پنیر بنانے اور بیچنے کے متعلق جب مزید سوال کیے تو معلوم ہوا کہ اس میں تو ملاوٹ بھی ہوتی ہے۔ اور ملاوٹ کا کاروبار شریعت میں جائز نہیں ہے۔ ان کو کافی سمجھایا اور حرام روزی کے نقصانات بتا کر حلال و پاکیزہ روزی کے فوائد سے آگاہ کیا۔ کہ ان شاءاللہ اولاد بھی ہوجائے گی۔ اور بتایا کہ آج کل حرام و حلال کی کوئ پرواہ نہیں کر رہا بس مال چاہیے جیسے بھی آئے۔ یہ تو سب سوچتے ہیں کہ ہمارے مرنے کے بعد اولاد کا کیا ہوگا ؛لیکن یہ کوئ نہیں سوچتا کہ اولاد کے مرنے کے بعد اولاد کا کیا ہوگا ؛اس لیے سبھی حلال و حرام کے امتیاز کے بغیر دنیا کے پیچھے دوڑے چلے جارہے ہیں۔ اور یہ حقیقت ہے کہ

مری نسل کے تن پر عذاب اتریں گے
اگر تلاش نہ رزقِ حلال میں نے کیا

تو بحمد اللہ انہوں نے عہد کیا ہے کہ جاکر ملاوٹ کا کاروبار خود بھی ختم کروں گا اور دوسروں کو بھی اس سے منع کروں گا۔ اللہ پاک استقامت و ہمت عطا فرمائے۔ آمین!
آج دوپہر وہ ساتھی میرا نمبر لے کر گئے ہیں کہ جاکر آپ کو اس کی اطلاع دوں گا اور آپ سے رابطے میں رہوں گا۔

موم بتی اور ہمارا رشتہ

یہاں آکر  موم بتی سے کافی گہرا رشتہ ہوگیا ہے۔ اکثر و بیشتر رات کی تنہائی میں اسی کی روشنی مونس ثابت ہوتی ہے۔ کیوں کہ اس کے بغیر تو یہ سطور بھی اپنی ڈائری پر رقم نہیں کرسکتا تھا۔۔۔

خدا نے بخشا ہے کیا ظرف موم بتی کو
پگھلتے رہنا مگر ساری رات چپ رہنا

بڑے اور اچھے انسان بھی ایسے ہی ہوتے ہیں جو اپنے وجود سے اپنے ماحول کو روشنی دے کر خود کو جاں بلب کردیتے ہیں اور دین کی خدمت کے لیے خود کے  آرام کو تج دیتے ہیں۔ اس موم بتی نے بڑا کچھ سکھایا ہے کورنٹائن کی کال کوٹھڑی میں۔ کہ خود کی ذات پر حملے ہوں، یا آپ کے رہن سہن پر،  آپ کے خلاف مکر و فریب اور دسیسہ کاریاں ہوں، یا آپ کو نقصان پہنچانے کے لیے جال بُنے جائیں یا آپ کو لوگ  اسفل السافلین میں پہنچانے کے لیے کتنے ہی کوشاں ہوں ؛مگر آپ کو پلٹ کر کوئ جوابی کاروائی نہیں کرنی۔ توکل علی اللہ کرتے ہوئے روشنی فراہم کرتے رہنا ہے۔ اپنے دشمنوں کو دعائیں دیتے رہنا ہے چاہے اس کے لیے خود کے وجود کی شمع  پگھلانی پڑی ۔ کیوں  کہ اگر آپ کا مقصد نیک اور اچھا ہوا تو ضرور آپ عند اللہ ماجور ہوں گے۔

آج بھی  یہ ڈائری اس وقت لکھ رہا ہوں جب گھڑی رات کے ایک بجے کا پتہ دے رہی ہے۔ لائٹ غائب ہے۔ موم بتی کی روشنی اور قفس کی قید کا سناٹا مجھے لکھنے میں تعاون کر رہا ہے۔ گرمی کی وجہ سے پیشانی پسینے میں شرابور ہے۔ مچھروں سے حفاظت کے لیے موٹین اور اگر بتی والی موٹین جلائی ہوئی ہے۔ اور قلم چلا جا رہا ہے۔

زندگی کو گنگنانا چاہیے

واقعتا زندگی پانی کے بلبلے کی طرح ہے۔ جس کو بقا نہیں ہے۔ ہر لمحہ نیا حباب وجود میں آتا ہے اور چند ثانیے ٹھہر کر خود کو ختم کردیتا ہے ؛مگر وہ اُس عرصے میں اپنی زندگی کو خوشی خوشی گنگنا بھی لیتا ہے۔
اسی طرح ہم لوگوں کو بدلتے حالات کے باوجود زندگی کو خوشی خوشی جینا چاہیے اور رب کی رضا جوئ میں صرف کرکے وقت کو کام یاب بنانا چاہیے۔ یہاں تو ہر لمحے کچھ سے کچھ نیا ہوتا رہتا ہے۔ میرے ساتھ بھی کورنٹائن کے ان ایام میں بہت سے ایسے ہی تجربات ہو رہے ہیں۔ مثلا موم بتی کی روشنی میں لکھنا پڑھنا۔ ماہِ رمضان میں اتنے عرصے تک اہلِ خانہ سے دور رہنا۔ عموما انسان کی جیب میں کچھ نہ کچھ ہوا کرتا ہے ؛مگر یہاں کرتے کی جیب اکثر و بیشتر خالی رہتی ہے یا ماسک یا پھر رومال۔ اسی طرح یہاں پر وقت کا پتا ہی نہیں چلتا کہ کیا وقت ہو رہا ہے۔ بار بار جو بھی پاس میں ہوتا ہے اس سے پوچھنا پڑتا ہے کہ بھائ بتانا کتنا ٹائم ہوگیا ہے؟ یا نماز میں کتنا وقت رہ گیا ہے؟
موبائیل کے بغیر اتنا طویل عرصہ۔ مجھے تو یاد نہیں پڑتا کہ میں اس طرح رہا ہوں۔
اس قدر ریت ملا ہوا پانی کہ شاید انسان کبھی نا پیے۔ لیکن یہاں کریں بھی تو کیا کریں۔ جینا ہے تو پینا بھی پڑے گا۔ اسی سے احساس ہوتا ہے کہ انسان بھوک اور پیاس میں کچھ نہیں دیکھتا ؛کیوں کہ بھوک پیاس انسان کو بے بس کردیتی ہے۔

یہی زندگی مصیبت یہی زندگی مسرت
یہی زندگی حقیقت یہی زندگی فسانہ

اور ان سب باتوں سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ خداوند قدوس نے یہ بتانا چاہا ہے کہ میں بھی ہوں جو سب کو بے بس کر دیتا ہوں۔ تم جس خوش عیش زندگی میں پڑ کر ابدی حیات کو بھول جاتے ہو میں اِس طرح کے بھی حالات لے آتا ہوں تاکہ تم غور و فکر کرو اور آخرت کا سامان تیار کرلو! اور تمہیں یہ تو معلوم ہو کہ مجھ سے زیادہ طاقت ور کوئ نہیں۔ اور اب تم یہ دنیا کے حالات دیکھ کر جہاں موت کا بازار آج کل بہت زیادہ گرم ہے اور بہت تیزی سے اموات ہو رہی ہیں پچھلی زندگی کو چھوڑ کر اچھی زندگی گزارنا اور ماضی میں جو کچھ کیا اس سے توبہ کرکے مستقبل کو کام یاب بنانے کی سعی کرنا۔ اور نئے سال کے کیلینڈر کو خود پر چڑھا کر پرانے سے خود کو پاک و صاف کرلینا

چہرے سے جھاڑ پچھلے برس کی کدورتیں
دیوار سے  پرانا کلینڈر____اتار دے

کورنٹائن کے کچھ ذاتی تجربات

کورنٹائن میں آنا یہ رب کریم کی آزمائش کے ساتھ ساتھ میرے لیے ایک انعام بھی ہے۔ جس پر میں رب کریم کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں ؛کیوں کہ یہاں آکر بہت کچھ سیکھا اور بہت کچھ محسوس کیا۔ اور جو تجربات کیے وہ سب بہت حسین ہیں۔ جنہیں چاہ کر بھی الفاظ نہیں دے سکتا ؛لیکن کچھ رقم کر رہا ہوں تاکہ آیندہ کی زندگی میں میرے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوں۔
رب کریم اور حضور پاکؐ سے ایک خاص تعلق جو میرے لیے سب سے حسین اور سرور بخش کیفیت ہے۔ اللہ پاک اسے ہمیشہ باقی رکھے اور یہاں سے جانے کے بعد بھی اس میں مزید تقویت عطا کرے۔

خدمت خلق ایسا جذبہ ہے جس کی فضیلت احادیث میں جا بجا آئی ہے۔ اور اس پر ایک کہاوت مبنی بر حقیقت ہے کہ " خدمت سے خدا ملتا ہے" اور ایسا ہی ہے۔ اس میں جو سکون اور لذت پنہاں ہے اس کا کوئ جواب ہی نہیں۔ اور خدمت کا دائرہ بہت وسیع ہے جس کا علم کتابوں کے مطالعے سے بہ آسانی حاصل ہوسکتا ہے

صبر و تحمل اور شکوہ سنج ہونے سے گریز۔ یہ بھی بہت شان دار صفت ہے۔ ہمارے اسلاف  اس کا جیتا جاگتا نمونہ تھے۔ رب سے دعا ہے کہ اس صفت سے متصف فرمادے۔

ایک چیز اور محسوس کی کہ اخلاص و للہیت کے بغیر زندگی بے معنی ہے۔ خلوص کے بغیر کچھ حاصل نہیں سوائے وقتی واہ واہ کے۔
نیز نظم و نسق سے انتظام بہت اچھا چلتا ہے چاہے ہم زندگی کی کسی بھی سنگین گھڑی اور کیسے ہی مشکل حالات میں ہوں۔ اس لیے اس نظم و نسق کا نظم و اہتمام لازمی ہونا چاہیے۔

ہم جہاں کہیں بھی ہوں۔ اگر ساتھ کوئ ایک فرد بھی ہے تو دونوں میں سے ایک کو لازمی طور پر امیر و ذمے دار منتخب کرلینا چاہیے اس سے بہت سی مشکلات حل ہوجاتی ہیں۔ ذاتی طور پر میرا یہاں تجربہ ہوا ہے اور امسال مادر علمی دارالعلوم دیوبند کی سالانہ ہنگامی تعطیل کے موقع پر گھر آتے وقت۔ میرے مخلص ساتھی اس کے گواہ ہیں۔

ان سب کے علاوہ ایک اور چیز کہ انسان اگر اخلاق حمیدہ سے متصف ہو تو رب کریم اس کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا کردیتے ہیں۔ یا کم از کم اس میں اُن اعلی اخلاق سے اتصاف کا سچا جذبہ ہو اور اخلاص و للہیت کے ساتھ ساتھ خدمت خلق کی بھی صفت ہو تو پھر واقعتا انسان کی طرف رب کریم لوگوں کی توجہات کر دیتا ہے۔

بس اللہ پاک ان مذکورہ بالا صفات  کے ساتھ تمام صفات حسنہ سے متصف فرمادے اور خدمت کے ساتھ ساتھ قبولیت بھی عطا فرمائے۔ آمین!

جاری۔۔۔۔۔

No comments: