جديد مضامين

Saturday, July 25, 2020

قربانی کا فلسفہ عقل کی روشنی میں

قربانی کا فلسفہ عقل کی روشنی میں

قربانی کا فلسفہ عقل کی روشنی میں


از: محمد سہیل ابن نعیم الدین ممبئی
سابق رکن مدنی دارالمطالعہ

قربانی کے لفظ سماعتوں کے حوالے ہوتے ہی ذہن و دماغ ایک خاص عبادت کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے، جو ذی الحجہ کے مہینے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی شکل میں ادا کی جاتی ہے، اور ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ قربانی صرف جانور کا خون بہانے یا اس کی گردن پر چھری چلانے کا نام نہیں ہے؛ بل کہ قربانی در اصل حکم خداوندی کے سامنے خواہشات نفسانی کو مٹانے اور اس کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کرنے کا نام قربانی ہے۔

 قربانی پر اعتراض کیوں؟ : 

اٹھارہویں صدی کے اخیر میں جب مغربی ملک گیری کا سیلاب ایک طوفان کی طرح عالم پر امنڈ آیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیائے اسلام پر بھی چھاگیا؛ جس کی بنا پر مغربی لباس، معاشرت، آداب واطوار، شائستگی، طرز زندگی، رہن سہن، یہاں تک کہ عبادت پر بھی مغربی اثرات رونما ہونے لگے، جس کے نتیجے میں مسلمانوں ہی میں کچھ ایسی ذہنیت کے لوگوں کا ظہور ہوا جو اسلامی تعلیمات اور عبادات سے  لوگوں کے دلوں میں نفرت پھیلانے لگ گئے، یہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کے بجائے "لبرل یا سیکولر" کہلانا پسند کرتے ہیں، اور یہی طبقہ آج بھی اسی کام میں سرگرم ہے ؛چناں چہ قربانی کے نام پر جانور ذبح کرنے کے متعلق لوگوں کے ذہنوں میں وسوسہ ڈالنے اور تشویش پیدانے کرنے میں اسی طبقہ کا بڑا کردار ہے۔
‌اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ قربانی ضروری کیوں ہے، اس کا فلسفہ کیا ہے؟
‌جب ہم کائنات کے ذرے ذرے میں غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر ذرہ دو چیزوں سے مرکب(مل کر بنا) ہے، ایک کو جسم اور دوسرے کو روح کہا جاتا ہے، یعنی ہر چیز کی ایک ظاہری صورت ہوتی ہے اور ایک اندرونی، ان دونوں کے بغیر کائنات میں کوئی بھی چیز وجود میں نہیں آسکتی، اور پھر یہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر رہ بھی نہیں سکتی ؛چناں چہ انسان اپنی ذات میں غور کرے تو اسے خود بہ خود سمجھ میں آتا ہے کہ ہمارا ظاہر (جسم) ہمارے باطن (روح) کے بغیر نہیں رہ سکتا، اسی طرح چرند پرند اور دیگر نباتات اور جمادات میں بھی غور کرے تو سمجھ میں آئے گا کہ ہر چیز کی ایک ظاہری خصوصیت ہوتی ہے اور ایک باطنی، اور ایک دوسرے کے بغیر دونوں باقی بھی نہیں رہ سکتے؛ لیکن ان سب میں سب سے اہم یہ ہے کہ باطن تک پہنچنے کے لیے ظاہر کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے، روح تب ہی درد محسوس کرتی ہے جب جسم کو کوئی تکلیف پہنچے، جسم کے واسطے کے بغیر روح تک کوئی اثر ممکن نہیں ہے۔
‌یہاں یہ بات بھی ذہن نشیں رہے کہ ایسا صرف تکوین ہی میں نہیں؛ بل کہ شریعت میں بھی ہوتا ہے کہ ہر عمل کا ایک ظاہر ہوتا ہے، اور ایک باطن، اور باطن تک پہنچنے کے لیے ظاہر کی مدد ضروری ہے، جیسا کہ نماز سے بارگاہ خداوندی میں اپنے آپ کو ذلیل کرنا اور اپنی بے بسی کا اظہار کرنا ہے، اور یہ نماز کی روح ہے؛ لیکن اس مقصد تک پہنچنے کے لیے نماز کے مخصوص طریقہ پر عمل ضروری ہے، اس کے بغیر چاہے دل میں کتنی بھی نیت کرلیں، اس مخصوص عبادت کی ادائیگی نہیں ہوسکتی۔
اب آئیے قربانی کے فلسفے کو بھی اسی طرح سمجھتے ہیں کہ قربانی کا ظاہر "جانور ذبح کرنا" ہے اور باطن یعنی حقیقت "ایثار نفس کاجذبہ اور اپنی سب سے زیادہ محبوب شئی کو قربان کرنا" ہے، چناں چہ ارشاد باری ہے لن تنالوا البر حتي تنفقوا مما تحبون کہ دل کے قریب رہنے والی سب سے محبوب چیز راہ خداوندی میں قربان کرنا اصل نیکی ہے، اور مشاہدے سے یہ بات سمجھ میں آئی ہے کہ انسان کے لیے سب سے محبوب ترین چیز جان اور مال ہوتی ہے، لہذا قربانی کا جانور ذبح کرنے سے دونوں چیزیں حاصل ہوجاتی ہیں (مال تو سمجھ میں آتا ہے، اور چوں کہ شریعت نے یہاں جانور کو انسان کا بدل قرار دیا ہے، اس لیے وہ بھی حاصل ہے) اب اس عبادت کی روح ("اخلاص") باقی رہ گئی ہے جیسا کہ فرمان خداوندی ہے لن ينال الله لحومها ولا دما ئها ولكن يناله التقوي منكم اور اس اخلاص کا اثر دیکھنے کے لیے ظاہر (جانور) کا قربان کرنا ضروری ہے۔

لہذا اب اگر کوئی لبرل یہ کہے کہ ہمارے پاس اخلاص اور ایثار کا جذبہ موجود ہے؛ اس لیے ہم قربانی نہیں کریں گے( جیسا کہ شریعت کے ہر حکم میں یہی ڈھونگ رچاتے ہیں مثلا پردے کے متعلق وہ یہ کہتے ہیں کہ اصل میں دل کا پردہ ہے، آنکھوں کے کرنے سے کیا ہوگا وغیرہ وغیرہ) تو انہیں یہ بتلایا جائے کہ دیکھو جس طرح دھویں کے لیے آگ ضروری ہے، جس طرح تمہاری اور تمہارے نسل کی پیدائش کے لیے ماں باپ کا ملن ضروری ہے، اسی طرح اخلاص کی تاثیر اور جذبے سے سرشار ہونے کے لیے جانوروں کی قربانی ضروری ہے، تاکہ یہ معلوم پڑے کہ واقعتا اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے تئیں اخلاص اور فرمابرداری موجود ہے؛ اور اگر دل میں کھوٹ ہے تو یقیناً اس کی خلاف ورزی نظر آہی جائے گی۔
خلاصہ یہ نکلا کہ قربانی کا مقصد اپنے آپ کو جذبہ خداوندی سے سرشار کرنا، اخلاص و للہیت پیدا کرنا، خواہشات کو بالائے طاق رکھ کر اللّٰہ اور رسول کے احکام بجالانا ہے اور یہ اس کے وسائل جانور ذبح کرنے سے ہی حاصل ہوسکتی ہے۔

اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قربانی کے ظاہر وباطن کے ساتھ اس کو بہ حسن وخوبی انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے، اور شریعت کے اسرار و رموز پر بے جا اعتراض کرنے والے لبرلز کو راہ راست پر آنے کی توفیق نصیب فرمائے۔
آمین یارب العالمین


محمد سہیل ابن نعیم الدین ممبئی
فاضل دارالعلوم دیوبند

موبائل نمبر: 7060582788

No comments: